Baaghi TV

Tag: کراچی چمبر

  • کراچی چیمبر کی سیلز ٹیکس ریٹرن کے لیے حلف نامہ جمع کرانے کی مخالفت

    کراچی چیمبر کی سیلز ٹیکس ریٹرن کے لیے حلف نامہ جمع کرانے کی مخالفت

    کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے سیلز ٹیکس ریٹرن کے ساتھ حلف نامہ جمع کرانے کی شرط کو بحال کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ جامع مشاورت اور موثر متبادل کے حصول تک حلف نامے کی شرط کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جاوید بلوانی نے کہا کہ کے سی سی آئی کی درخواست کے جواب میں ایف بی آر نے ستمبر 2024 کے لیے حلف نامے کی ضرورت کو بجا طور پر واپس لے لیا تھا اور اس اقدام کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے مطلع کیا گیا جس میں واضح طور پر ذکر کیا گیا تھا کہ ستمبر 2024 کے ٹیکس کے ریٹرن کے لیے حلف نامہ جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی جسے اکتوبر میں جمع کرانا تھا۔اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ 31 اکتوبر تک جعلی سیلز ٹیکس گوشواروں کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایف بی آر اسٹیک ہولڈرز سے فعال طور پر متبادل تجاویز طلب کرے گا اور اسٹیک ہولڈرز کے جائز خدشات کی روشنی میں ایف بی آر حلف نامے کی شرط میں ترمیم کرنے پر غور کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی قابل عمل متبادل حل تلاش کیا گیا ہے۔کاروباری برادری پہلے ہی بہت زیادہ دباؤ سے دوچار ہے اور یہ غیر تصور شدہ حلف نامے کی شرط صرف تاجر برادری کے لئے مشکلات بڑھانے کے ساتھ ساتھ دھمکیوں کے ماحول کو فروغ دے گی۔کراچی چیمبر کے صدر کے مطابق یہ حلف نامہ داخل کرنے کی ذمہ داری میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ٹیکس دہندگان اور ان کے ملازمین بشمول CFOs، ممکنہ طور پر ٹیکس کریڈٹس کے حوالے سے ایسی ضمانتیں یا یقین دہانیاں فراہم نہیں کر سکتے ہیں جو ان کے سپلائرز سے منسلک دھوکہ دہی یا فرضی رسیدوں اور سپلائی چین میں اس کے بعد کے درجات سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی ہفتہ وار رپورٹ میں مقدمات کی تعداد کم

    عوام کو 115پارکوں کا تحفہ ، کھیل کے میدانوں کو آباد کیا، ،جماعت اسلامی کراچی

    زاہد خان کا اے این پی چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہونے کا فیصلہ

  • کراچی چیمبر کا شرح سود میں نمایاں کمی پر زور

    کراچی چیمبر کا شرح سود میں نمایاں کمی پر زور

    کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد جاوید بلوانی نے ستمبر 2024 میں افراط زر میں نمایاں کمی کے ساتھ 6.9 فیصد کی سطح پر آنے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی میں پالیسی ریٹ میں کم از کم 300 سے 500 بیسس پوائنٹس کی کمی کا مشورہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاوید بلوانی نے گزشتہ تین اجلاسوں میں پالیسی ریٹ کو بتدریج 22 فیصد سے کم کرکے 17.5 فیصد کرنے پر اسٹیٹ بینک کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ستمبر میں مسلسل دوسرے ماہ مہنگائی میں سنگل ڈیجٹ تک کمی دیکھنے میں آئی لہٰذا مرکزی بینک کو اب پالیسی ریٹ کو مزید جارحانہ انداز میں کم کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ افراط زر اب قابو میں ہے اور اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کے ساتھ کم از کم 300 سی500 بیسس پوائنٹس کی پالیسی ریٹ میں کمی کاروبار پر دباؤ کو کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے بہت ضروری ہے نیزکم شرح سود بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں ترقی کو تقویت بخشے گی جس میں حالیہ مہینوں میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2021میں جب مہنگائی کی شرح9.2فیصد تھی اٴْس وقت ملک میں پالیسی ریٹ صرف 7.25فیصد تھا لہذا کراچی چیمبر کا شرح سود میں جارحانہ انداز میں کمی کا مطالبہ بالکل جائز ہے کیونکہ اب مہنگائی کی شرح اور زیادہ کم ہوچکی ہے ایسے حالات میں پالیسی ریٹ کو فوری طور پر سنگل ڈیجٹ پر لانا چاہئے۔

    جاوید بلوانی نے کہا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ انڈیکس (ایل ایس ایم آئی) جنوری 2024 کے مقابلے میں جولائی2024 کے دوران 19.2 فیصد کم ہوا جس سے نجی شعبے کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی ہوتی ہے جس کی وجہ زیادہ شرح سود، قرضوں تک کم رسائی اور بہت زیادہ زرِ ضمانت کی شرائط ہیں۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں زرِ ضمانت کی مالیت قرضوں کا اوسطاً 153 فیصد سے زیادہ ہے جس نے نجی شعبے کی فنانسنگ کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔
    انہوں نے ورلڈ بینک کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں نجی شعبے کا قرضہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں کم ترین سطح پر آ گیا ہے جو کہ 2023 تک جی ڈی پی کا صرف 12.0 فیصد تھاجبکہ بھارت کے نجی شعبے کو قرضے جی ڈی پی کا 50.1 فیصد، ترکی 50.3 فیصد اور بنگلہ دیش میں 37.6 فیصد ہے۔سرکاری اور نجی شعبے کے قرضوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق تشویش کا باعث ہے کیونکہ حکومت اور پبلک سیکٹر ادارے مجموعی طور پر 79.7 فیصد قرضے جذب کررہے ہیں جس کی وجہ سے نجی شعبہ بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ستمبر 2024 تک مجموعی قرضوں میں نجی شعبے کا حصہ کم ہو کر محض 20.3 فیصد رہ گیا جو مارچ 2022 میں 29 فیصد تھا جب پاکستان میں پالیسی کی شرح زیادہ سازگار تھی۔انہوں نے بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ وہاں مالی سال 2024 کے دوران سرکاری شعبے نے مجموعی قرض کا صرف 22.4 فیصد حاصل کیا جس سے ان کے نجی شعبے کو پنپنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی پر تو کامیابی سے قابو پالیا ہے تاہم اس کی سخت مانیٹری پالیسی غیر متوازن قرضوں کا ماحول پیدا کررہی ہے جو طویل مدتی ترقی کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے بلند شرح سود پر ملکی قرضوں پر انحصار بھی پاکستان کے ڈومیسٹک قرضوں میں اضافے کا سبب بنا ہے۔مالی سال2024 کے دوران حد سے زیادہ پالیسی ریٹ کی وجہ ملکی قرضوں پر مارک اپ4.8کھرب سے بڑھ کر7.2 کھرب تک جا پہنچا جو50.4 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

    معصوم بچیوں سے نازیبا حرکتیں ،ہراساں کرنے والا ملزم کو گرفتار

    سندھ پولیس کا بارودی مواد روک تھام کے لئے تربیت یافتہ کتوں کا استعمال شروع

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

  • کراچی چیمبر کا وزیراعظم سے 6 ورکنگ ڈے بحال کرنے کا مطالبہ

    کراچی چیمبر کا وزیراعظم سے 6 ورکنگ ڈے بحال کرنے کا مطالبہ

    کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد جاوید بلوانی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ماتحت تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کے لیے فوری طور پر 6 ورکنگ ڈے بحال کرے تاکہ معیشت کی بہتری کے ساتھ صنعت و تجارت کا حجم بھی بڑھ سکے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو بھیجے گئے خط میں کے سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ 2011 کے بعد سے وزارتوں، سرکاری محکموں، اسٹیٹ بینک، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، مالیاتی اور بینکنگ اداروں کی اضافی ہفتہ وار تعطیل کے باعث کاروباری و صنعتی برادری کو مسلسل شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    شپنگ کمپنیاں بھی بغیر کسی سروس کو مہیا کیے ہفتے کو چھٹی مناتی ہیں جس کی وجہ سے برآمدی و درآمدی کنسائنمنٹس کو سنبھالنے میں دشواری ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بھاری ڈیمررج اور ڈیٹینشن چارجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہفتے کو بینکنگ خدمات کی عدم دستیابی کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور جی سی سی ممالک کے ساتھ کام کرنے والے کاروباری افراد کو بھی بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ ممالک جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل کرتے ہیں لہٰذا ایسی صورتحال میں جی سی سی ممالک کے ساتھ ہفتے بھر چار دن مالی لین دین کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔صدر کراچی چیمبر نے کہا کہ ملک بھر کے تجارتی مراکز، ریٹیل اور ہول سیل کے نیٹ ورک کو بھی ہفتے کے روز بینکنگ سروسز کی عدم دستیابی کی وجہ سے نقد رقم جمع کرنے سے قاصر ہوتے ہیں جس سے سیکیورٹی کے خطرات لاحق ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں دو ہفتہ وار تعطیلات کے دوران اپنی رقوم کو محفوظ رکھنا پڑتا ہے اور یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ہفتے کے روز نقدی چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔جاوید بلوانی نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے 13اکتوبر 2011 کو فی ہفتہ پانچ ورکنگ ڈے کے فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کیونکہ اٴْس وقت ملک کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا تھا جس کے نتیجے میں طویل لوڈ شیڈنگ اور کئی گھنٹوں کے لیے بریک ڈاؤن ہوا کرتے تھے۔ 2024 میں ہمارے ملک میں اب توانائی کی کوئی کمی نہیں اور وفاقی وزارت برائے توانائی نے بھی وقتاً فوقتاً باور کیا کہ ملک کو ضرورت سے زیادہ بجلی میسر ہے جبکہ حکومت آئی پی پیز کو غیر فعال صلاحیت کی ادائیگیاں دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات صنعتوں، تجارتی گھروں اور تجارتی مراکز کو اپنی بہترین سطح پر چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ بجلی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن یہ عملی طور پر اس وقت ممکن ہوگا جب حکومت چھ ورکنگ ڈے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔جاوید بلوانی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے موجودہ پانچ ورکنگ ڈے کی بدولت سرکاری ملازمین بمشکل پورے ہفتے 40گھنٹے کام کرتے ہیں اور اکثر سرکاری ملازمین نماز جمعہ کے بعد اپنے دفاتر کا رخ ہی نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہفتہ وار کام کرنے کا دورانیہ مزید کم ہوکر 36گھنٹے رہ جاتا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہفتے میں چھ دن کام کرنے کو مطلع کیا جائے تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تمام وزارتیں، محکمے اور اتھارٹیز ہفتہ وار 48 گھنٹے خدمات پیش کریں۔

    کراچی کی خاتون پڑوسی کی مرغیوں کے شور سے تنگ ہائیکورٹ جا پہنچیں

    رئیر ایڈمرل فیصل امین نے کمانڈر کوسٹ کا عہدہ سنبھال لیا

    حریت وفد کی ہیومن رائٹس کونسل، ایم کیو ایم اور فلسطین فاؤنڈیشن کے عہدیداروں سے ملاقاتیں

    آئی جی سندھ کی زیرصدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں اہم اجلاس