Baaghi TV

Tag: کردار

  • ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم ایک ناقابل فراموش کردار تھیں،آصف زرداری

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم ایک ناقابل فراموش کردار تھیں،آصف زرداری

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹریز کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ملکہ الزبتھ دوئم کی وفات پر تعزیتی پیغام کے لئے برطانوی قونصل خانے گئے.

    سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملکہ برطانیہ کی وفات پر سفارت خانے کی یاداشت میں اپنے تاثرات درج کئے. سابق صدر آصف علی زرداری نے قونصل خانے کی یاداشت میں تاثرات میں لکھا کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم ایک ناقابل فراموش کردار تھیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.

    دوسری طرف نیوزی لینڈ نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر 26 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے 14 ستمبر کو لندن بھی جائیں گی۔

    یاد رہے کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 8 ستمبر کو انتقال کر گئیں تھیں، ان کی آخری رسومات ویسٹ منسٹر ایبے میں 19ستمبر کو ادا کی جائیں گی۔ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت اس وقت ایڈنبرا میں موجود ہے، عوام کو آج سینٹ جائلز کیتھیڈرل میں ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ملکہ کا تابوت کل لندن پہنچایا جائے گا جہاں آخری رسومات 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی۔

    علاوہ ازیں انیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں بھی یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آنجہانی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد وزارت خارجہ کی تجویز پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں یوم سوگ منانے کی منظوری دی ۔

  • ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت دو ایسے متضاد پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. جیت میں انسان اپنے آپ کو خوش قسمت انسان محسوس کرتا ہے اور بڑے جذبات اور جوش وخروش میں ہوتا ہے اور جب انسان ہارتا ہے تو اس کے سبب اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور ہار انسان کو بالکل کمزور کردیتی ہے. ہار اور جیت کھیل کا لازمی جز ہیں.

    لیکن اس مشکل مرحلے میں انسان کو ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو گرنے نہیں دیتی ہے. البتہ اس موقع پر لوگوں کا رویہ بالکل متضاد ہوتا ہے.

    وہ جیتنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہارنے والے کی دل شکنی کرتے ہیں. حالانکہ کسی ایک کی ہار تو لازمی ہے.

    اگر ضمنی الیکشن کی بات کریں تو دونوں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے جیت جیت ہی کی صدائیں بلند تھیں. اس دوران سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کررہا تھا.

    ہر ایک اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے پرجوش دکھائی دے رہا تھا.

    لیکن اب ہم ٹھہر کر یہاں اس چیز کا جائزہ لیں کہ ہمیں ہمیشہ جیت کی خوشیاں ہی مناتے رہنا چاہئے یا ہار کو کھلے دل سے قبول کرنے کے ساتھ ہارنے والے لوگوں کا ساتھ دینا بھی چاہیے. اس پہلو پر ہم یہ سوچیں کہ جب ہمیں الیکشن ہارنے پر خود اتنا افسوس ہے تو ہارنے والے کو کتنا غم ہوگا؟

    کرکٹ، فٹبال یا کبڈی جس کھیل کی بھی بات کرلیں اس میں کھلاڑی کے لئیے میدان میں اتر کر کھیلنا موت اور زندگی کے مترادف ہے اور کھیلتے ہوئے وہ کس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت اور مشقت میں ہوتے ہیں ایسے میں ان کو اپنے لوگوں کی اپنائیت اور حوصلے کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور اپنے لوگوں کا رویہ اور حوصلہ ہی ہوتا ہے جس سے انسان مضبوط ہوتا ہے.

    اس موقع پر ہمیں ایک ماں جیسا کردار ادا کرنا چاہیے کہ جب اس کا بیٹا یا بیٹی ہار کر اپنی ماں کی آغوش میں آتے ہیں تو وہ اپنے بچے کو سمیٹ لیتی ہے اسے حوصلہ اور دلاسہ دیتی ہے، جس سے اسے تقویت ملتی ہے اور وہ دوبارہ سے مضبوط ہوتا ہے. اسی طرح کھیلنے والے کے لیے اپنے لوگوں کا رویہ ایک ماں کے رویے کی طرح ہوتا ہے.

    اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جس طرح کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اسی طرح ہار پر ان کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی کریں تاکہ وہ دوبارہ مضبوط ہو کر اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں نہ کہ حوصلہ شکنی سے بالکل مایوس ہو جائیں یاد رہے حوصلہ شکنی انسان کو کمزور کر تی ہے اور حوصلہ افزائی انسان کو بہت مضبوط کرتی ہے.

  • اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر قسم کی آزادی دیتا ہے جو شخص اسلامی معاشرے کا فرد بن جاتا ہے وہ ہر قسم کی آزادی سے بہرہ ور ہو جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ جو معاشرتی لحاظ سے جامعیت رکھتا ہے یہ وہ معاشرہ ہے جس کی تشکیل نے عورت کو پستیوں سے نکال کر آسمان کا ستارا بنا دیا اس معاشرے نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا یہ وہ معاشرہ ہے جو پاکیزگی اور عزت سے مالا مال ہے اسلامی معاشرے سے پہلے جہالت کے معاشرے میں دیکھا جاۓ تو ہر قسم کے بے حیائی اور فحش کام کرنے کے لیے عورت کا انتخاب ہوتا تھا اگر تاریخ اٹھا کر دیکھا جاۓ تو کسی معاشرے کے مرد کو اس کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے اور اسے گمراہ کرنے کے لیے لوگ عورت کا استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں اسلامی معاشرے میں بھی خواتین کو ہی ان کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے لنڈے کے دیسی لبرلز نے عورتوں میں فحاشی اور عریانی کو رواج دیا۔ ان لبرلز نے خواہ وہ کسی کمپنی کی کمرشل ہو یا فیشن کے نام ہو مسلمان با حیاء عورتوں کے پردے اور ایمان کا جنازہ نکال دیا ہے یہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے ایجنٹوں نے میرے وطن عزیز میں بے حیائی اور عریانی پھلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کافر اور ملحدوں کی شدید خواہش ہے کہ میرے وطن عزیز کو عزت اور شرم حیاء والی سوچ سے خالی کر دیں اسلامی معاشرے میں بے حیائی کا پھیل جانا اللہ کے عذاب کو کھلم کھلا دعوت دینا ہے۔ فحاشی اور عریانی تو غیر مسلم کا شعار تھا لیکن افسوس یہ اسلامی معاشرے میں پھیل گیا۔ کبھی اے اسلامی معاشرے کی پاک بیٹیو جو تم پردے سے آزادی چاہتی ہو سوچا ہے کہ تم کس پاک نبیﷺ کی امت کی بیٹیاں ہو جس نے ایک یہودی عورت کی چادر چھن جانے سے پوری قوم یہود کو جنگ کے لیے للکارا تھا۔
    کسی بھی قوم کا ماضی اس کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ماضی میں دیکھیے جہاں انہوں نے عورت کو پردے کا پابند کیا جہاں ان عورتوں نے احکام الہی کو مانا ہے وہاں ان عورتوں نے وہ کام کر کھایا ہے جو اج کی مسلمان عورت پردے سے آزادی کی بات کرتی ہے پردے کے بےغیر بھی شاید نہ کر سکے۔ اصل میں پردہ عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ وہ باعزت مواقع فراہم کرتا ہے کہ تم پردہ کر کے پہچانی جاؤ گی اور تکلیف نہ دی جاؤ گی بلکہ آرام سے اپنا کام کرو گی۔ نبی پاکﷺ کے دور میں عورتوں نے وہ کام کر دکھایا جو آج کے لبرلز کےمنہ پر طمانچہ ہے کہ پردہ داغ نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں قیمتی چیز ہے۔ صحابیاتؓ نے جس جوش سے خدمت جہاد کی ہے آج کے دور میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ غزوہ احد میں جب کافروں نے عام حملہ کر دیا تو ام عمارہ سینہ سپر ہو گئیں انہوں نے کندھے پہ گہرے زخم کھائے لیکن ابن قیمہ کو نبی پاکﷺ کے پاس نہیں جانے دیا غزوہ خندق میں حضرت صفیہؓ کی بہادری اور تدبیر نے یہودیوں کو حملہ نہیں کرنے دیا غزوہ حنین میں ام سلیمؓ کا خنجر لے کر نکلنا بہت مشہور ہے جنگ یرموک میں اسماء بنت ابوبکرؓ جویریہؓ ہندؓ خولہؓ نے بڑی بہادری سے قبرص کی بحری جنگ میں قبرص کی فتح میں ام حرام بنت ملحانؓ اس میں شامل تھیں اس علاوہ زحمیوں کی مرہم پٹی کرنا شہداء کی لاشوں کو اٹھانا جنگی مجاھدین کے لیے کھانا بنانا جیسی خدمات قابل حیرت ہیں۔ یرموک میں جب مسلمان ہٹنے لگے تو ہند ؓاور خولہؓ نے اشعار پڑھہ کر غیرت دلائی صحابیاتؓ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتی تھیں حضرت شفاء بنت عبداللہؓ بہت بڑی صاحب الراۓ تھیں حضرت عمرؓ نے کئی بار بازار کا انتظام ان کے سپرد کیا تھا عورت کے پاس اتنا سیاسی اختیار تھا کہ وہ کسی بھی قیدی کو پناہ دے سکتی تھی اسلامی علوم میں خواتین بہت ماہر تھیں حضرت عائشہؓ ام ورقہؓ اور ام سلمہؓ نے پورا قرآن پاک حفظ کیا تھا ام سعد ؓدرس قرآن دیتی تھی حضرت عائشہؓ بہت ساری احادیث کی روای ہیں فقہ میں ان کے فتاویٰ بہت مشہور ہیں۔ اسلامی علوم کے علاوہ دیگر علوم میں بھی خواتین ماہر تھں ام سلمہؓ علم الااسرار سے پوری واقفیت رکھتی تھیں خطابت میں اسماء بنت یزیدؓ بہت مشہور تھیں۔ خوابوں کی تعبیر میں اسماء بنت عمیسؓ ماہر تھیں طب اور جراحی میں اسلمتہ ؓام مطاعؓ ام کبشہؓ حمنہ بنت جحشؓ ام سلیمؓ ام عطیہؓ کو مہارت حاصل تھی شاعری میں خنساءؓ ہندؓ خولہؓ ام ایمنؓ عاتکہؓ بنت زیدؓ بہت ماہر تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سی انصار عورتیں کاشتکاری اور کپڑا بننے کا کام کرتی تھیں بہت سی عورتیں پڑھنا لکھنا جانتی تھیں شفاء بنت عبداللہ ؓ نے دور جاہلت میں ہی پڑھائی لکھائی جان لی تھی۔ حضرت حفصہؓ اور بنت عقبہؓ ام کلشومؓ بھی پڑھنا لکھنا جانتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ پڑھنا جانتی تھی اس کے علاوہ خواتین تجارت بھی کرتی تھیں حضرت خدیجہؓ بہت بڑی تاجر تھیں۔ خولاءؓ اور ملکیہؓ عطر کی تجارت کرتی تھیں بنو امیہ میں رابعہ بصریؒ بہت بڑی زاہدہ خاتون تھی عباسی دور میں پردے کا عام رواج تھا تو عورتوں نے اس دور میں بھی بہت سی خدمات سر انجام دی ملکہ خزان ملکہ زبیدہ ملکہ بوران امور حکومت میں دلچسپی لیتی تھیں خلیفہ منصور کے عہد میں دو اسلامی شہزادیوں ام عیسی اور لبانہ نے بزنطیوں کے خلاف جہاد کیا تھا ہارون کے عہد میں کئی عورتیں سپہ سالار مقرر ہوئی تھیں خلیفہ مقتدر کی والدہ عدالت عالیہ میں اپیلوں کی سماعت کرتی تھی اور غیر ملکی سفیروں سے امور مملکت پر تبادلہ خیال کر تی تھی عباسی دور کی عورتیں بہت علم پرور تھیں وہ مردوں کے دوش بدوش علمی مجالس میں شریک ہوتی تھیں ملکہ زبیدہ ایک بلند پایہ شاعرہ تھی ایک خاتون شیخہ ادب اور تاریخ پر لیکچر دیتی تھی ایک خاتون زینب بہت بڑی قانون دان تھی درس گاہوں میں قانون کی تعلیم دیتی تھی صلاح الدین ایوبی کے دور میں ایک ترک عورت درس حدیث دیتی تھی ان عورتوں کے واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں لیکن ہم ان لبرل عورتوں کو کس طرح ان خرافات سے سمجھا سکتے یہ تو اس طرح ہے جس طرح کوڑے کے ڈھیر پورے ملک میں ہوں ان کی صفائی کے لیے چند لوگ تو نہیں درکار ہو سکتے نہ اس کام کے لیے لاکھوں لوگ درکار ہوں گے اسی طرح ان لنڈے کے لبرلز کو سمجھانے کے لیے ایسے کئی لوگ چاہئیں جن کی اپنی زندگی ایسی خرافات سے پاک ہو۔