Baaghi TV

Tag: کرغزستان

  • علاقائی دفاعی تعاون ناگزیر، پاکستان کا پرامن و محفوظ خطے کے عزم کا اعادہ: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    علاقائی دفاعی تعاون ناگزیر، پاکستان کا پرامن و محفوظ خطے کے عزم کا اعادہ: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی خطرات اور پیچیدہ ہائبرڈ چیلنجز کے تناظر میں باہمی فوجی تعاون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ’’مضبوط ربط، محفوظ امن‘‘ کے عنوان سے علاقائی چیفس آف ڈیفنس اسٹاف کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکا، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کانفرنس کے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے خطاب میں خطے میں امن، استحکام اور تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹجک مکالمہ اور باہمی اعتماد درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک پرامن، محفوظ اور خوشحال خطے کے لیے پرعزم ہے اور ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کانفرنس کے انعقاد کا مقصد علاقائی سطح پر دفاعی تعاون کو فروغ دینا، انسداد دہشت گردی میں اشتراک اور مشترکہ تربیتی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔کانفرنس کے دوران شریک ممالک نے علاقائی سلامتی، وسطی اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک حالات، انسداد دہشت گردی کے اقدامات، سائبر سیکیورٹی، پُرتشدد انتہا پسندی، اور انسانی ہمدردی پر مبنی مربوط ردعمل جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    بیان کے مطابق شرکاء نے دفاعی سفارت کاری کے فروغ، پاکستان کی مہمان نوازی اور کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں شریک ممالک نے باہمی تعاون، قومی خودمختاری کے احترام اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اسٹریٹجک ہم آہنگی، پاکستان کے اس مستقل عزم کی غماز ہے کہ وہ ایک ایسا علاقائی نظام تشکیل دے جو سلامتی، تعاون اور یکجہتی پر مبنی ہو۔

    افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں،علی امین گنڈا پور

  • کرغزستان،صدر نے وزیراعظم کو ہٹا دیا

    کرغزستان،صدر نے وزیراعظم کو ہٹا دیا

    کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف نے وزیرِ اعظم اکیل بیک جاپاروف کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کرغزستان کی صدارتی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اکیل بیک جاپاروف کو دوسرے عہدے پر منتقلی کے باعث ان کی وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اکیل بیک جاپاروف 2021 سے وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز تھے، اور ان کی برطرفی سے کرغزستان کی سیاسی صورتحال میں نئی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اکیل بیک جاپاروف کی حکومت کے دوران کئی اہم اقتصادی اور سیاسی فیصلے کیے گئے تھے، جن میں کرغزستان کی داخلی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں اہم موڑ آئے۔

    صدر جاپاروف کی جانب سے جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم کے عہدے کی ذمہ داری اب نائب وزیرِ اعظم عادل بیک قاسم مالیئیف کو سونپ دی گئی ہے۔ عادل بیک قاسم مالیئیف اس سے قبل نائب وزیرِ اعظم کے عہدے پر کام کر رہے تھے، اور اب انہیں وزارتِ عظمیٰ کے فرائض سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔

    کرغزستان میں حکومت کی تبدیلیاں اکثر سیاست اور معیشت پر اہم اثرات ڈالتی ہیں، اور اکیل بیک جاپاروف کی برطرفی کے فیصلے کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کی نظریں ملک کی آئندہ حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی اقدامات پر مرکوز ہیں۔

  • بشکیک میں طلبا کے لئے بھارتی سفارتخانے کا اعلامیہ،ہدایات جاری

    بشکیک میں طلبا کے لئے بھارتی سفارتخانے کا اعلامیہ،ہدایات جاری

    کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہنگامہ آرائی کے دوران طلبا کو نشانہ بنایا گیا،پاکستان ، بھارت سمیت کئی ممالک کے طلبا نشانہ بنے، پاکستانی طالب علم بشکیک سے واپس آ رہے تا ہم بھارت کی جانب سے طلبا کے لئے ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے

    بشکیک میں بھارتی سفارتخانے کی جانب سے طلبا کے لئے ہدایات جاری کی گئی ہیں، جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہر سال بڑی تعداد میں ہندوستانی طلباء مزید تعلیم کے لیے جمہوریہ کرغز میں میڈیکل اور دیگر یونیورسٹیوں میں داخل ہوتے ہیں۔ اس وقت تقریباً 17,000 ہندوستانی طلباء کرغزستان کے بہت سے شہروں میں ہیں جن میں سے زیادہ تر بشکیک میں ہیں۔ سفارت خانہ بشکیک میں غیر ملکی طلباء کے خلاف تشدد کے حالیہ واقعات پر تشویش کا شکار ہے۔ تاہم، کرغز حکام کی جانب سے فوری کارروائی کی وجہ سے بشکیک میں حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران بشکیک میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ ٹرانسپورٹ یا لوگوں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم، احتیاط کے طور پر، کلاسز کا انعقاد آن لائن موڈ میں کیا جا رہا ہے۔ سفارت خانہ ہندوستانی طلباء کے خدشات کو دور کرنے کے لیے یونیورسٹیوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے ساتھ فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ دو ہیلپ لائنیں 0555710041 اور 0555005538 24×7 کام کر رہی ہیں جہاں طلباء ہر قسم کی مدد کے لیے سفارت خانے سے رابطہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ طلباء اور ان کے اہل خانہ سے گزارش ہے کہ کچھ شرپسند عناصر کی طرف سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر توجہ نہ دیں۔

    طلبا کو مدد کی ضرورت ہو تو سفارت خانے سے رابطہ کریں، بھارتی سفارتخانہ
    بشکیک میں بھارتی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی سفیر نے 18 مئی 2024 کو جلال آباد اسٹیٹ یونیورسٹی اور آج بشکیک میں انٹرنیشنل ہائر اسکول آف میڈیسن کا دورہ کیا اور وہاں ہندوستانی طلباء سے بات چیت کی۔ سفارت خانے کے حکام نے 21 مئی 2024 کو انٹرنیشنل میڈیکل یونیورسٹی اور یوریشین میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ کیا اور آج رائل میٹرو پولیٹن یونیورسٹی اور ایویسینا یونیورسٹی کا دورہ کیا تاکہ طلباء کے ساتھ اس بات چیت کو جاری رکھا جا سکے اور ان کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔ بشکیک اور دہلی کے درمیان فضائی رابطہ برقرار ہے اور ہندوستان کے لیے پروازیں الماتی، دبئی، استنبول، شارجہ اور تاشقند کے راستے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ بشکیک کے مانس بین الاقوامی ہوائی اڈے تک مقامی ٹرانسپورٹ ہندوستانی طلباء کے لیے قابل رسائی ہے۔ چونکہ تعلیمی سال قریب آ رہا ہے، بھارت واپس جانے سے پہلے، تمام ہندوستانی طلباء کو اپنے امتحانات کی تکمیل کے لیے اپنی متعلقہ یونیورسٹیوں سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اگر کسی مدد کی ضرورت ہو تو طلباء سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ بشکیک میں ہندوستان کے سفارت خانے سے رابطہ کریں۔ سفارت خانہ ہندوستانی طلبہ برادری کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

    ہمارے بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، بشکیک میں پھنسے طلبا کے والدین کی دہائی

    اسلام آباد میں کرغزستان سفارتخانے کے باہر احتجاج،طلبا کو تحفظ کا مطالبہ

    طلبا ہمارے بچے،وزیراعظم کو مصروفیات ترک کر کے بشکیک جانا چاہئے،مبشر لقمان

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • غیر ملکی طلبا کو  سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہے، کرغز نائب وزیراعظم کا اعتراف

    غیر ملکی طلبا کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہے، کرغز نائب وزیراعظم کا اعتراف

    بشکیک: کرغزستان کے نائب وزیراعظم نے غیر ملکی طلبا پر حملے روکنے میں ناکامی کا اعتراف کرلیا،کہا کہ غیر ملکی طلبا کو سکیورٹی فراہم کرنا کرغز حکومت کی ذمہ داری تھی جس میں بری طرح ناکام ہوئے-

    کرغزستان میں پاکستانی سفیر حسن ضیغم نے بشکیک میں کرغز نائب وزیراعظم کے ساتھ غیرملکی طلبا کے ہاسٹل کا دورہ کیا ، بشکیک میں پاکستانی طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے کرغزستان کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی طلبا کو سکیورٹی فراہم کرنا کرغز حکومت کی ذمہ داری تھی جس میں بری طرح ناکام ہوئے۔

    کرغزستان کے نائب وزیراعظم نے بتایا کہ حملہ آوروں کی شناخت کرلی گئی ہے آج ایک فلائٹ پاکستانی طلبا و طالبات کو مفت پاکستان لے کر جارہی ہے، گرین چینل کھولنے کے لیے بھی کرغز حکام سے درخواست کی ہے، پروپیگنڈہ سے متعلق سوال پر سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ بات صرف زیادتی، قتل اور اغواکی افواہوں سے متعلق کی گئی ہے۔

    نواز شریف کا سیاسی ڈیرہ کامیاب ؟ تجزیہ ؛ شہزاد قریشی

    ایران کے مشہور پاپ گلوکار کو فحش مواد پھیلانے کے جرم میں …

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے قافلے میں ہیلی کاپٹر مشرقی آذربائیجان میں …

  • بشکیک سے پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کا عمل شروع

    بشکیک سے پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کا عمل شروع

    کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک سے پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کا عمل شروع ہوگیا-

    باغی ٹی وی : ابتدائی تفیصلات کے مطابق پہلی پرواز آدھے گھنٹے کی تاخیر سے 11 بجے لاہور ایئر پورٹ پہنچے گی،پہلی پرواز میں 30 پاکستانی طلبہ ہیں جو ہاسٹل سے باآسانی ائیرپورٹ پہنچ گئے جبکہ فلائٹ میں جگہ ہونے کے باعث انہیں باآسانی ٹکٹس مل گئے پرواز کے اے 571 لاہور ایئرپورٹ پر ساڑھے 10 بجے لینڈ کرنا تھی لیکن اب آدھے گھنٹے کی تاخیر سے لینڈ کرے گی وزیر داخلہ محسن نقوی لاہور ائیرپورٹ پر طلبہ کو ریسیو کریں گے۔

    ادھر ایئر پورٹ مینجر نے بتایا کہ مسافروں کیلئے بین الاقوامی آمد لاونج میں الگ کاونٹرز بنا دیے گئے ہیں اور طلبا کی تیز ترین امیگریشن کیلئے ایف آئی اے کو بھی احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

    وزیر اعظم کا وفاقی وزیر امیر مقام کو فوراً بشکیک جانے کا حکم

    واضح رہے کہ کرغزستان میں پاکستانی طلبہ پر حملوں اورانہیں ہراساں کیے جانے سے متعلق ویڈیوز مںظرعام پر آنے کے بعد پاکستان میں موجود طلبہ کے والدین نے اپنے بچوں کی بحفاطت واپسی کا مطالبہ شروع کردیا تھا وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سفیر کو طلبہ کی ہر ممکن مدد کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ جو طلبہ واپس آنا چاہیں، حکومتی خرچ پر فوری واپسی یقینی بنائیں گے اور طلبہ اور والدین کے مابین روابط کیلئے سفارتخانہ ہر قسم کی معاونت فراہم کرے۔

    میتھ میں بی اے کرنیوالا اگریڈ 17 کا افسرسندھ ہائیکورٹ میں میتھ کے سپیلنگ …

  • کرغزستان،پاکستانی طلبا پر حملہ،متعدد زخمی،اموات نہیں ہوئیں،سفارتخانہ

    کرغزستان،پاکستانی طلبا پر حملہ،متعدد زخمی،اموات نہیں ہوئیں،سفارتخانہ

    کرغزستان میں پاکستان طلبا مشکل میں، پاکستانی طلبا کے ہاسٹل میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے،متعدد طلبا زخمی ہیں، سوشل میڈیا پر اموات کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تا ہم پاکستانی سفارتخانے نے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،

    واقعہ بشکیک میں پیش آیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی کی ویڈیو رات گئے سے وائرل ہو رہی ہیں ، میڈیا رپورٹس کے مطابق کرغزستان کے مقامی طلبا اور مصری طلبا کا آپس میں تصادم ہوا لیکن الزام پاکستانی طلبا پر لگا دیا گیا جس پر مقامی طلبا نے پاکستانی طلبا کے ہاسٹل پر حملہ کر دیا، اس حملے میں درجنوں طلبا زخمی ہیں، حملہ آوروں نے ہاسٹل کے دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے ہیں،واقعے کے بعد پاکستانی طلبہ خوفزدہ ہو گئے ہیں،ہاسٹل میں پاکستانی طالبات کو ہراساں کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔بشکیک میں ہارون آباد سے تعلق رکھنے والے تقریباً 200 سے زائد طالب علم پھنس گئے جبکہ 1000طلباء کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے،طلباء کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ کرغزستان کے ساتھ سفارتی طور پر رابطہ کیا جائے،انکی مدد کی جائے اور تحفظ فراہم کیا جائے،

    کرغزستان میں پاکستانی سفارتکانے کو 500 کے قریب فون کالز موصول ہوئی ہیں،پاکستانی سفیر
    کرغزستان میں پاکستانی سفیر ضیغم حسین کا کہنا ہے کہ کل رات کو مقامی انتہا پسندوں نے طلبا کے 6ہاسٹلز پر حملہ کیا ، انتہا پسندوں نےہاسٹلز کےعلاوہ طلبا کی دیگر رہائشگاہوں پر بھی حملہ کیا، ان واقعات میں 14 غیر ملکی شہری زخمی ہوئے ، واقعات میں ایک پاکستانی بھی زخمی ہوا ، اسپتال میں زیر علاج ہے ،پاکستانی شاہزیب سے اسپتال میں ملاقات کی ، اب وہ خطرے سے باہر ہیں ، پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہے ہیں، کرغزستان حکومت کے مطابق حملوں میں ملوث کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، کرغزستان میں پاکستانی سفارتکانے کو 500 کے قریب فون کالز موصول ہوئی ہیں ،10شہریوں کا ان کے والدین سے رابطہ کرایا گیا ہے ،

    کرغزستان، ہنگامہ آرائی میں کسی پاکستانی کی موت نہیں ہوئی،سفارتخانہ
    کرغزستان میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں اس امرکی تصدیق کی گئی ہے کہ کرغزستا ن میں کسی پاکستانی طالب علم کی ہلاکت نہیں ہوئی،سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کرغز حکومت نے تصدیق کی ہے کہ عالمی طلبا کے خلاف ہجوم کے حالیہ تشدد میں کسی پاکستانی طالب علم کی موت نہیں ہوئی،کرغزستان کی وزارت داخلہ نے بھی پریس ریلیز جاری کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔

    بشکیک میں موجود ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ نہ صرف طلبا بلکہ طالبات کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، بشکیک میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے کوئی تعاون نہیں کیا جا رہا بلکہ جو نمبر طلبا کو دیا گیا ہے اس پر رابطہ نہیں ہو رہا، پولیس کی موجودگی کے باوجود مقامی افراد نے طلبہ پر حملے کیے، ہاسٹلز کے بعد انہوں نے اب گھروں پر بھی حملے شروع کر دیئے ہیں، یہاں پر ہزاروں کی تعداد میں طالب علم ہیں جن کے والدین پاکستان میں انتہائی پریشان ہیں، میری وزیر اعظم، چیف جسٹس اور دیگر ہائی اتھارٹیز سے ایپل ہے کہ ہماری مدد کی جائے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا بشکیک میں طلبا پر تشدد کا نوٹس،ہر ممکن مدد کی ہدایت
    بشکیک میں پاکستانی طلبا پر تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں پاکستانی سفیر کو پاکستانی طلبہ کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کی ہے،وزیراعظم نے کرغزستان میں پاکستانی اور دیگر ممالک کے طلبہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ وہ مسلسل اپنے آپ کو صورت حال سے آگاہ رکھے ہوئے ہیں، پاکستانی سفارت خانے نے ایمرجنسی نمبر فراہم کر دیے ہیں۔

    بشکیک،وطن واپس آنے کے خواش مند زخمی طلباء کی فوری واپسی کے انتظامات کی ہدایت
    وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں پاکستان کے سفیر حسن علی زیغم سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور پاکستانی طلباء کو مکمل مدد اور معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں پاکستانی سفیر سے تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی اور انہیں ہاسٹلز کا دورہ کرکے پاکستانی طلباء سے ملاقات کی ہدایت کی،پاکستانی سفیر نے وزیراعظم کو بتایا کہ واقعے میں کوئی پاکستانی جاں بحق نہیں ہوا، پاکستانی سفارت خانہ زخمی طلباء کی معاونت کررہا ہے،وزیراعظم نے سفیر کو طلباء کے والدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے، بروقت معلومات فراہم کرنے، زخمی طلباء کو ہرقسم کی طبی سہولیات فراہم کرنے اوروطن واپس آنے کے خواش مند زخمی طلباء کی فوری واپسی کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کرغیزستان میں صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں، اس صورتحال میں اپنے طلباء کو بالکل اکیلا نہیں چھوڑیں گے،حکومت کرغیزستان کی حکومت کے ساتھ بھی رابطے میں ہے

    بشکیک میں پاکستانی طلبا پر حملہ،کرغزستان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی
    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کرغزستان میں پاکستانی سفارتخانے کا پیغام موصول ہوا ہے، پاکستانی سفارتخانہ کرغز حکام سے رابطے میں ہے، پاکستانیوں کی حفاظت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان کرغیز جمہوریہ میں گزشتہ رات ہونے والے ہجومی فسادات کے پیش نظر خطرے میں پڑنے والے اپنے پاکستانیوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کرغیز حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے، کرغیز حکام نے گزشتہ رات بشکیک میں پاکستانیوں سمیت غیر ملکی شہریوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے،کرغیز حکام نے انکوائری کرانے اور قصورواروں کو سزا دینے کا بھی وعدہ کیا ہے،سفارت خانہ پاکستان نے ہنگامی ہیلپ لائنز کھول دی ہیں ،سفارت خانہ پاکستان نے طلباء اور ان کے اہل خانہ کے سوالات کے جوابات دیے ہیں،جمہوریہ کرغزستان کے سفیر حسن علی ضیغم اعلیٰ کرغیز حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں،کرغزستان کی وزارت صحت کے مطابق چار پاکستانیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر کے فارغ کر دیا گیا، ایک پاکستانی جبڑے کی چوٹ کے باعث زیر علاج ہے،آج، کرغز سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز مسٹر میلس مولدالیف کو ڈائریکٹر جنرل (ای سی او اور سی اے آرز) جناب اعزاز خان نے ڈیمارچ کے لیے دفتر خارجہ بلایا،انہیں کرغز جمہوریہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کے خلاف گزشتہ رات کے واقعات کی رپورٹس پر حکومت پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا، کرغزستان ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت کو پاکستانی طلباء اور کرغز جمہوریہ میں مقیم شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہییں،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان دنیا بھر میں اپنے ہم وطنوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے، حکومت پاکستان اپنے ہم وطنوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ کو صورتحال پر نظر رکھنے اور پاکستانی شہریوں کی مکمل مدد اور سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،

    بشکیک،پاکستان شہریوں کے اہلخانہ کی جانب سے معلومات کے لئے رابطہ نمبر جاری
    وزارت خارجہ نے اپنے کرائسز مینجمنٹ یونٹ کو فعال کر دیا، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی ہدایت پر یونٹ کو فعال کیا گیا، کرغزستان میں پاکستانی شہری اور ان کے اہلخانہ کےلئے رابطہ نمبر بھی جاری کر دیا گیا،پاکستانی شہریوں کے اہلخانہ ان نمبروں پر ابطہ کر سکتے ہیں
    0519203108
    0519203094

    حالات معمول پر آنے تک پاکستانی طلبا گھروں میں رہیں، پاکستانی سفیر
    کرغزستان میں تعینات پاکستانی سفیر حسن ضیغم نے پاکستانی طلبہ کو حالات معمول پر آنے تک گھروں پر رہنے کی ہدایت کی ہے،پاکستانی سفیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طلبہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں ہیں، طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    کرغزستان میں پاکستانی سفارتخانے نے طلباء و طالبات کیلئے رابطہ نمبر جاری کیا ہے،پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں 00996507567667 پر رابطہ کریں۔

    بشکیک،عصمت دری یا موت کے بارے میں سوشل میڈیا پردعوے جھوٹ قرار
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مارخور کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بشکیک کرغستان میں صورت حال کا خلاصہ
    کرغستان میں بہت سے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس تعلیم حاصل کرتے ہے خصوصاً میڈیکل فیلڈ میں (اندازاً ایک لاکھ پچیس ہزار)۔ پاکستان سے تقریباً دَس ہزار جب کہ انڈیا سے تقریباً پندرہ ہزار اسٹوڈنٹس اس وقت کرغستان میں موجود ہیں۔ اِسی طرح باقی ملکوں سے بھی ہیں۔ ظاہری بات ہے کہ کرغس حکومت اس اہم معاملے کو سنجیدگی سے لیتی ہو گی اور نہیں چاہے گی کہ اس انڈسٹری کو کوئی نقصان پہنچے۔ تین چار دن سے مقامی طلباء اور مصری انٹرنیشنل سٹوڈنٹس میں چپقلش چل رہی تھی جو غزہ کے معاملے پر بحث سے شروع ہوئی۔ اس جھگڑے میں ایک دو طلباء زخمی ہوئے۔ کل یعنی 17/18 مئی کی رات کو 300 سے زائد مقامی طلباء یکدم اکٹھے ہوئے اور بدلے کی غرض سے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کے ہوسٹل (یا ہوسٹلز) پر حملہ شروع کیا۔ یاد رہے کہ بہت سے ممالک کےطلباء اکٹھے ہوسٹل میں ہوتے ہیں۔ اسلئے اس توڑ پھوڑ کی زد میں باقی ممالک کے طلباء بھی آ گئے۔ تقریباً 35 پاکستانی طلباء ہسپتال پہنچے، تاہم ان میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ عصمت دری یا موت کے بارے میں سوشل میڈیا پر دعوے جھوٹے ہیں اور ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔ بشکیک میں پاکستانی سفارت خانہ دو آفیسرز پر مشتمل ایک چھوٹا مشن ہے جو لگاتار پاکستانی طلباء کو سہولت فراہم کر رہا ہے اور طلباء کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے۔ ظاہر ہے ایسے حالات میں کافی لوگوں سے رابطہ نہیں / لیٹ ہوا ہو گا۔ کرغس حکومت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعینات کر دیا گیا ہے اور حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ تمام لوگوں حصوصاً سوشل میڈیا اور درخواست ہے کہ غلط خبریں مت پھیلائیں بلکہ تمام معلومات ویریفائی کریں اور دی گئی ہیلپ لائن اور ایمبیسی کے اکاؤنٹ پر فراہم کر کے حکومت، وزارت خارجہ، ایمبیسی، اسٹوڈنٹس، اور فیملیز کی مدد کریں۔

    https://twitter.com/MarkhorTweets/status/1791727391225852314

    وزارتِ خارجہ بشکیک میں پاکستانی طلبہ کے تحفظ کے لیے یقینی اقدامات کرے،بلاول
    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےبشکیک میں پاکستانی طلبہ کے خلاف پرتشدد واقعات پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان بشکیک میں پاکستانی طلبہ کو ہر قسم کی مدد و معاونت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،وزارتِ خارجہ بشکیک میں پاکستانی طلبہ کے تحفظ کے لیے یقینی اقدامات کرے،پاکستانی سفارتخانہ طلبہ سے رابطے اور ان کے اہلخانہ تک درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائے،ہمارے نوجوان کرغستان میں پاکستان کے سفیر ہیں، مشکل حالات میں تحمل و ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ کریں،پاکستان اور کرغستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں، کرغستان پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے،دونوں ممالک کے عوام باہمی دوستانہ تعلقات کے لیے ہمیشہ پرجوش رہے ہیں،پاکستان اور کرغستان کے باہمی احترام و بھرپور تعاون پر کھڑے دوطرفہ تعلقات ہر موسم میں آزمودہ ہیں،یقین ہے، حکومتِ کرغستان اپنی سرزمین پر پاکسانیوں کا ہمیشہ اسی طرح خیال رکھے گی جیسے وہ اپنے شہریوں کا رکھتی ہے

    ایاز صادق کا بشکیک میں پاکستانی طلباء کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر گہری تشویش کا اظہار
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں پاکستانی طلباء کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ،اسپیکر نے کرغیزستان میں حالیہ صورتحال میں پاکستانی سفارتخانے کو طلباء کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ طلباء ہمارا مستقبل کا قیمتی اثاثہ ہیں انہیں مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ بشکیک میں مقامی لوگوں سے جھگڑے کے نتیجے میں وہاں حملے ہورہے ہیں، خبریں آرہی ہیں کہ وہاں 3 پاکستانی طلباء شہید ہوچکے ہیں،حملوں کی روک تھام اور پاکستانی طلبہ کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں

    تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل وزیر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کرغستان کے شہر بشکیک میں خون ریز فساد جاری ہے غیر ملکی طلباء کو ہاسٹلز سے نکال نکال کر قتل کیا جا رہا ہے کرغستان میں پاکسانی سفارت خانہ کی مجرمانہ غفلت

    بشکیک میں پاکستانی طلبا کی حفاظت یقینی بنائی جائے،مشتاق احمد
    جماعت اسلامی کے رہنما، سابق سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ اطلاعات کیمطابق کرغیزستان کے شہر بشکیک میں بڑے پیمانے پر پاکستانی طلباء اور انٹرنیشنل یونیورسٹیوں کے طلباء کے ہاسٹلز پر لوکل طلباء/عوام کی جانب سے حملے اور کئی غیر ملکی طلباء کے جان بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،لوکل پولیس حملوں کو روکنے میں مکمل ناکام ہے،ہنگامے بڑے پیمانے پر پھیل چکے ہیں طلباء کے ہاسٹلز اور گھروں کو توڑ کر حملے کئے جا رہے ہیں
    حکومت پاکستان فوری طور پر پاکستان میں موجود کرغیزستان کے سفیر کو بلا کر بشکیک اور گرد ونواح میں پاکستان طلباء کو درپیش خطرات پر اپنی تشویش سے آگاہ کرے اور پاکستانی طلباء کی حفاظت کو یقینی بنائے درخواست کرے۔

    روایتی بیانات دینے کے بجائے فوری طور پر بشکیک ٹیم روانہ کی جائے،حافظ نعیم الرحمان
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ کرغزستان میں ہمارے بچوں پر حملے ہورہے ہیں، وڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جاسکتاہے کہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، پاکستانی سفارت خانہ بچوں کی کالز تک نہیں اٹھارہا۔میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتاہوں کہ محض روایتی بیانات دینے کے بجائے فوری طور پر بشکیک ایک ٹیم روانہ کی جائے اورہمارے بچوں کو محفوظ بنانے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ بشکیک میں زیر تعلیم ایک پاکستانی طالب علم سے ابھی رابطہ ہوا ، اصل صورتحال کافی تشویشناک ہے اور طلبا کے مطابق سفارتخانے کا ردعمل اب تک مایوس کن رہا ہے ، وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ معاملے کی نزاکت کو سمجھیں ، طلبا کی زندگیاں داو پر لگی ہیں ، انہیں مشکل سے نکالنے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

    کرغزستان چھوڑ دیں ورنہ روز شام تشدد ہوگا،پاکستانی طلبا کو دھمکی
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر محمد عمیر نامی صارف نے پوسٹ کی ہے جس میں انکا کہنا ہے کہ طلباء کے مطابق انکو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ کرغزستان چھوڑ دیں ورنہ روز شام تشدد ہوگا۔ یہ سکرین شارٹ بشکیک میں موجود ایک سٹوڈنٹ نے بھیجا ہے

    بشکیک،پاکستانی طلبا کی مشکلات میں اضافہ، لڑکیوں نے واش رومز میں چھپ کر اپنی جانیں اور عزتیں بچائیں
    بشکیک میں میں ہنگامہ آرائی جاری، طلبا کی مشکلات بڑھ گئیں، ہاسٹلز میں محصور، پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں ہاسٹلز سے باہر پانی اور کھانا لینے بھی نہیں جاسکتے، پاکستانی لڑکیوں نے واش رومز میں چھپ کر اپنی جانیں اور عزتیں بچائیں، طالب علموں کا کہنا ہے کہ، سفارتخانہ مدد نہیں کر رہا، حکومت سے بحفاظت واپسی کی اپیل کرتے ہیں،ایک طالبہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبات کو بھی ہراساں کیا گیا،لڑکیوں نے واش رومز میں چھپ کر اپنی جانیں اور عزتیں بچائیں،مناس انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر شرپسند کرغز نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں، ہمیں ہاسٹل اور رہائش گاہوں سے نہ نکلنے کا کہا گیا ہے،پاکستان واپس جانے کے لئے ایئر پورٹ جانے والے غیرملکی طلبہ پر بھی حملے کیےجارہے ہیں۔ہمیں یہ کہتے ہیں کہ ہوسٹل خالی کردو۔ ہمارے ساتھی زخمی ہیں باہر بارش ہو رہی ہے ہم کہاں جائیں گے؟ ایمبیسی والے بھی تعاون نہیں کررہے۔دوسری جانب کرغزستان کے شہر بشکیک میں پاکستانی طلبا و طالبات سے ہاسٹل خالی کرا لئیے گئے ہیں، پاکستانی طلبا سامان اٹھائے کھلے آسمان کے نیچے حکومت کی مدد کے منتظر ہیں

    پی ٹی آئی کا بشکیک سے پاکستانی طلبا کو بحفاظت پاکستان پہنچانے کے لئے اقدامات کا مطالبہ
    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے وزارت خارجہ سے کرغستان میں موجود پاکستانی طالب علموں کی حفاظت یقینی بناتے ہوئے بحفاظت پاکستان پہنچانے کے لئے اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ متعدد پاکستانی طلباء کرغستان میں مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں،پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والےخصوصاً التمیمی یونیورسٹی بشکیک سے طالب علموں نے رابطہ کیا ہے،پاکستانی طلباء نے کرغستان کی تشویشناک صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا ہے،ساری صورتحال کے پیش ِ نظر ہم وزارت خارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کرغستان میں موجود سفیر سے رابطہ کرے، وزارت خارجہ وہاں موجود طالب علموں کی حفاظت یقینی بناتے ہوئے ان کو بحفاظت پاکستان پہنچانے کے لئے اقدامات کرے،

    بین الاقوامی طلبہ کی حفاظت کرنا کرغز حکام کا فرض ہے،زلفی بخاری
    تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں صورتحال انتہائی پریشان کن ہے،بشکیک میں پاکستانی میڈیکل طلبہ مقامی انتہاپسند ہجوم کے شدید تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں،پاکستانی طلبہ میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے، کرغزستان کے اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو اٹھائیں، بین الاقوامی طلبہ کی حفاظت کرنا کرغز حکام کا فرض ہے

    بشکیک میں 13 مئی کو بودیونی کے ہاسٹل میں مقامی اور غیرملکی طلبہ میں لڑائی ہوئی تھی، جھگڑے میں ملوث 3 غیرملکی طلبا کو گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد 17 مئی کی شام چوئی کرمنجان دتکا کے علاقے میں مقامیوں نے احتجاج کیا، مقامی افراد نے جھگڑے میں ملوث غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ، بشکیک سٹی داخلی امور ڈائرکٹریٹ کے سربراہ نے مظاہرہ ختم کرنے کی درخواست کی، حراست میں لیے گئے غیرملکیوں نے بعد میں معافی بھی مانگی لیکن مظاہرین نے منتشر ہونے سے انکار کیا اور وہ مزید تعداد میں جمع ہوگئے، انہوں نے ملکر غیر ملکیوں کے ہاسٹل پر حملہ کر دیا، جس میں پاکستانی طلبا بھی زخمی ہوئے ہیں.

  • کرغزستان نےٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی

    کرغزستان نےٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی

    کرغزستان نے مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی ہے،جب وسطی ایشیائی ملک نے ایپ پر بچوں میں "نشے کا باعث” بننے اور ان کی ذہنی صحت کو متاثر کرنے کا الزام لگایا۔

    باغی ٹی وی: وسطی ایشیائی ملک کرغزستان کی جانب سے یہ فیصلہ مختلف اداروں کی جانب سے درخواست پر کیا گیاان اداروں کا کہنا تھا کہ بچوں کی ذہنی نشوونما اور مجموعی شخصیت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے باعث ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی جانی چاہیے،ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان کرغزستان کی وزارت ثقافت، انفارمیشن، اسپورٹس و یوتھ پالیسی کی جانب سے کیا گیا-

    بیان میں کہا گیا کہ معاملے کا جائزہ لینے کے بعد وزارت اس نتیجے پر پہنچی کہ پلیٹ فارم میں ایسے یوزر کنٹرولز موجود نہیں جن سے بچوں کو ممکنہ نقصان دہ مواد تک رسائی سے روکا جا سکے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے صارفین کی عمر کی تصدیق کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے۔

    ایلون مسک کا ایکس میں آڈیو اور ویڈیو کالز کا فیچر جلد متعارف کرانے کا …

    حکام کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک صارفین کو مختصر ویڈیوز کی ورچوئل دنیا میں لے جانے والی ایپ ہے اور کچھ افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں موجود ویڈیوز کی نقل کرنے کے لیے زندگی کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے اس طرح کے مواد سے نوجوان نسل کی جذباتی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    اس حوالے سے اب تک ٹک ٹاک کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا،برطانیہ اور فرانس سمیت بچوں پر ممکنہ اثرات کی وجہ سے متعدد ممالک نے سوشل میڈیا پر کنٹرول سخت کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ہزاروں سالوں سےدفن لاشوں میں سنہری زبانیں کیوں لگائی گئیں؟

  • محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    سائنسدانوں نے انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن وبا سیاہ موت یا ببونک طاعون کے آغاز کا معمہ لگ بھگ 700 سال بعد حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دی گارجئین کی رپورٹ کے مطابق محققین کا خیال ہے کہ انہوں نے بلیک ڈیتھ کی ابتدا کا تقریباً 700 سال پرانا معمہ حل کر لیا ہے، جو کہ ریکارڈ شدہ تاریخ کی سب سے مہلک وبا ہے، جو 14ویں صدی کے وسط میں یورپ، ایشیا اور شمالی افریقہ میں پھیلی تھی اور کروڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    ویسے تو طاعون اس سے بھی زیادہ پرانا مرض ہے مگر 14 ویں صدی میں اس کی ایک قسم ببونک طاعون نے تباہی مچائی تھی اور ممکنہ طور پرتجارتی راستوں کے ذریعے ایک سے دوسرے خطے تک پہنچی اس وقت سے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی تھی کہ اس وبا کا آغاز کہاں سے ہوا مگر ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث جواب نہ مل سکا۔

    مگر اب سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ہم نے وبا کے آغاز کے مقام کو تلاش کرلیا ہے جس کو انہوں نے حیران کن دریافت قرار دیا ہے لیپزگ میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات کے پروفیسر جوہانس کراؤس نے کہا کہ ہم نے بنیادی طور پر وقت اور جگہ میں اصل کا پتہ لگایا ہے، جو واقعی قابل ذکر ہے ہمیں نہ صرف بلیک ڈیتھ کا آباؤ اجداد ملا ہے، بلکہ طاعون کی اکثریت کا اجداد بھی ملا ہے جو آج دنیا میں گردش کر رہے ہیں۔

    سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے مل کر اس وقت کام شروع کیاجب اسٹرلنگ یونیورسٹی کےایک تاریخ دان ڈاکٹر فلپ سلوین نے کرغزستان کےایک علاقے میں 1330 کی دہائی کے اواخر میں جدید دور کے شمال میں اسیک کل جھیل کے قریب دو قبرستانوں میں اموات میں اچانک اضافے کے شواہد دریافت کیے۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    1248 اور 1345 کے درمیان 467 مقبروں کے پتھروں میں سے، سلاوین نے موت میں بہت زیادہ اضافہ کا پتہ لگایا، 118 پتھروں کی تاریخ 1338 یا 1339 تھی۔ کچھ مقبروں پر لکھی ہوئی

    لیک اسیک کول نامی علاقے کے 2 قبرستانوں میں 1248 سے 1345 کے درمیان کے 467 کتبوں کا مشاہدہ کرنے پر ڈاکٹر فلپ نے دریافت کیا کہ 1330 کی دہائی میں وہاں اموات کی شرح میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا 1338 یا 1339 صدی عیسوی کے 118 کتبے وہاں موجود تھے کچھ کتبوں پر تحریروں میں موت کی وجہ "موتنا” کے طور پر ذکر کی گئی تھی، جو کہ "پیسٹیلنس” کے لیے شامی زبان کی اصطلاح ہے-

    اس مقام پر مزید تحقیق سے انکشاف ہوا کہ 1880 کی دہائی میں اس علاقے میں کھدائی کے دوران 30 ڈھانچوں کو قبروں سے نکالا گیا تھا اس کھدائی کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دورانچھ باقیات کا سراغ لگایا اور انہیں نے ڈھانچوں کی کچھ باقیات کو دریافت کیا ڈائریوں کا مطالعہ کرنے کے بعد،قبرستانوں کے مخصوص مقبروں سے جوڑ دیا۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    اس کے بعد یہ تفتیش قدیم ڈی این اے کے ماہرین کے حوالے کر دی گئی، جن میں کراؤس اور جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبنگن میں ڈاکٹر ماریا سپائرو شامل ہیں جرمنی کے قدیم ڈی این اے کی جانچ پڑتال میں مہارت کرنے والے سائنسدانوں نے 7 ڈھانچوں کے دانتوں میں موجود جینیاتی مواد کا جائزہ لیا ان میں سے 3 میں Yersinia pestis نامی بیکٹریم کے ڈی این اے کو دریافت کیا گیا جو ببونک طاعون کا باعث بنتا ہے۔

    بیکٹریم کے جینوم کا مکمل تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اسی بیکٹریم سے طاعون کی وہ قسم بنی تھی جو کرغزستان سے 8 سال بعد دنیا بھر میں پھیل گئی تھی اس وبا کےنتیجےمیں براعظم یورپ کی 50 فیصد آبادی ہلاک ہوگئی تھی اب طاعون کی اس قسم سے ملتی جلتی قسم کرغز ستان کے چوہوں میں پائی جاتی ہےجبکہ لوگ اب بھی بوبونک طاعون سےمتاثر ہوتے ہیں، مگر اب بہتر حفظان صحت کی وجہ سے لوگوں میں اس جان لیوا بیماری کے کیسز کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔

    خیال رہے کہ دنیا بھر میں 2010 سے 2015 کے دوران اس بیماری کے 3248 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 584 مریض ہلاک ہوگئے تھے اس کو سیاہ موت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بیماری سے ہلاک ہونے والے افراد کے مختلف اعضا جیسے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں سیاہ ہوجاتے تھے-

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش