Baaghi TV

Tag: کرفیو

  • وانا میں 8 دسمبر کو مکمل کرفیو نافذ، نوٹیفکیشن جاری

    وانا میں 8 دسمبر کو مکمل کرفیو نافذ، نوٹیفکیشن جاری

    پشاور: خیبر پختونخوا کے علاقے وانا میں 8 دسمبر کو مکمل کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا میں 8 دسمبر کی صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک مکمل کرفیو نافذ رہے گاکرفیو کے دوران ہر قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہو گی۔ جبکہ متاثرہ علاقوں میں تمام بازار، مارکیٹس اور تجارتی مراکز بند رہیں گے۔

    کرفیو کے دوران وانا کے راستے پر داخلہ سختی سے ممنوع ہو گا اور صرف ایمرجنسی کی صورت میں پولیس یا سیکیورٹی فورسز کی اجازت سے، شناختی کارڈ اور ضروری کاغذات جمع کروانے کے بعد سفر کی اجازت دی جائے گی ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کرفیو کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔

    سندھ امن، تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی سرزمین ہے،مراد علی شاہ

    پاکستان ہماری ذات، انا اور سیاست سے مقدم ہے،خواجہ آصف

    اسموگ بڑھنے کا خطرہ،وزارت قومی صحت کی ایڈوائزری جاری

  • جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر میں کرفیو

    جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر میں کرفیو

    28 اگست 2025 کو ضلع جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے مختلف علاقوں میں صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق کرفیو کے دوران ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہوگی جبکہ تمام بازار اور مارکیٹس بند رہیں گی عوام سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے،کرفیو کے دوران تحصیل برمل اور شکئی میں داخلہ سختی سے ممنوع ہوگا۔ متاثرہ راستے درج ذیل ہیں، وانا،تیارزہ گیٹ،کرب کوتنائی،عزیز آباد چوک تا درگئی پل، شکئی، انزر چینہ تا وانا شامل ہیں۔

    جنوبی وزیرستان اپرمیں کرفیو کے دوران ضلع کی حدود میں درج ذیل راستوں پر داخلہ سختی سے منع ہوگا،سپینکئی رغزئی تا نظر خیل، آسمان منزہ- کانیگرم، شیرونگی، سپین جماعت تا توروام، درگئی پل، مدی جان، شین ورسک، مولا خان سرائے تا چگملائی، سرویکئی، مولا خان سرائے تا بروند شامل ہیں۔

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    نوٹیفکیشن کے مطابق ایمرجنسی کی صورت میں متاثرہ راستوں پر پولیس یا سیکیورٹی فورسز کی اجازت کے ساتھ، شناختی کارڈ اور ضروری کاغذات جمع کروا کر سفر کی اجازت ہوگی،سیکیورٹی فورسز کی گاڑی دیکھتے ہی اپنی گاڑی کو 100 میٹر فاصلے پر سڑک سے نیچے اتارنا لازمی ہوگا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک سے جنوبی وزیرستان اپر کا سفر کرنے والے مسافروں سے اپیل ہے کہ وہ اس دوران سفر سے گریز کریں۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات امن و امان کی بحالی اور سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔

    سیلابی صورتحال میں بالی ووڈ سے متاثرہ ہندوستانی فوج کاجعلی فوٹو شوٹ، ویڈیو

  • ٹارگٹڈ آپریشن: باجوڑ کی تحصیل لوئی ماموند کے 27 علاقوں میں 3 دن کیلئے کرفیو نافذ

    ٹارگٹڈ آپریشن: باجوڑ کی تحصیل لوئی ماموند کے 27 علاقوں میں 3 دن کیلئے کرفیو نافذ

    باجوڑ کی تحصیل ماموند کے 27 علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کےپیش نظر 3 روز کیلئے کرفیو نافذ کردیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق باجوڑ میں آج صبح 11 سے رات 11 بجے تک تحصیل ماموند میں کرفیو نافذ رہے گا، ٹارگٹڈ آپریشن کے پیش نظرتحصیل ماموند کے 27 علاقوں میں 3 روز کیلئے کرفیو نافذ کردیا گیا،تحصیل لوئی ماموند سے کثیر تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے، ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کے لیے 107 سرکاری اسکول اور کالجز خالی کروا دیے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے اپیل کی کہ شہری اپنی سرگرمیاں ختم کرکے کرفیو کے دوران گھروں تک محدود رہیں۔

    لنڈی کوتل: ویٹرنری ہسپتال، ڈاکٹرز غائب، عوام پریشان

    دوسری،جانب،مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے واضح کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں کرفیو کی خبریں من گھڑت اور افواہیں ہیں، کرفیو صرف باجوڑ اور میرانشاہ کے مخصوص علاقوں تک محدود ہے کرفیو کی خبریں سیاسی پروپیگنڈا ہیں، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، افواہ ساز مافیا صوبے کا امن اور ترقی کے سفر کو خراب کرنا چاہتا ہے، حکومت کی توجہ عوامی خدمت پر ہے اور مخالفین کی توجہ جھوٹ پھیلانے پر ہے۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نقل و حرکت مکمل آزاد ہے، تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری معلومات پر اعتماد کریں،سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، خیبر پختونخوا کے عوام باشعور ہیں، پروپیگنڈہ ناکام ہوگا۔

    عمران خان کے گھر کی نیلامی کی خبریں بے بنیاد ہیں، نیب ذرائع

  • سری لنکا میں کشیدگی:کولمبو میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا پریکٹس سیشن منسوخ

    سری لنکا میں کشیدگی:کولمبو میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا پریکٹس سیشن منسوخ

    کولمبو:: سری لنکا کے حالات بہت خراب ہوچکے ہیں‌ ملک میں کرفیو کے باوجود معاملات قابو سے باہرہوتے نظرآرہے ہیں ، یہ وجہ ہے کہ ملک کے صدر بھی فرار ہوچکے ہیں ، دوسری طرف سری لنکا میں کشیدہ سیاسی صورتحال کے سبب کرفیو کے نفاذ کے بعد آج پاکستان کرکٹ کولمبو میں پریکٹس سیشن منسوخ کردیا گیا ہے۔

    پاکستان کی ٹیم دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے سری لنکا میں موجود ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے اور حکومت نےصورتحال پر قابو پانے کے لیے کرفیو بھی نافذ کردیا ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا پریکٹس سیشن کولمبو کے پی سارا اوول اسٹیڈیم میں ہونا تھا لیکن ناخوشگوار صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریننگ سیشن کو منسوخ کردیا گیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کولمبو میں کشیدہ صورتحال کے سبب کولمبو کے سینامون گرینڈ ہوٹل کے اندر ہی نماز عید ادا کرے گی۔

    سری لنکا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر قومی ٹیم کی سری لنکا کے خلاف سیریز بھی کھٹائی میں پڑتی نظر آ رہی ہے، گوکہ ابھی آسٹریلیا کی ٹیم سری لنکا میں سیریز کھیل رہی ہے لیکن حال ہی میں سری لنکا میں صدر کی رہائش گاہ پر دھاوا بولنے اور پولیس سے کشیدگی کے بعد حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ہفتہ کو سری لنکا کے تجارتی دارالحکومت کولمبو میں ہزاروں مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔

    صدر کے گھر کے اندر سے ایک فیس بک لائیو اسٹریم میں سیکڑوں مظاہرین کو دیکھا گیا، جن میں سے کچھ جھنڈوں میں لپٹے ہوئے، کمروں اور راہداریوں میں جمع ہو کر گوٹابایا راجا پاکسا کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ نوآبادیاتی دور کی سفید عمارت کے باہر بھی سیکڑوں لوگ زمین پر جمع ہوئے جہاں کوئی سیکیورٹی اہلکار نظر نہیں آیا۔

    2 کروڑ 20 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ جزیرہ غیر ملکی زرمبادلہ کی شدید قلت سے نبرد آزما ہے جس کے باعث ایندھن، خوراک اور ادویات کی ضروری درآمدات محدود ہیں، اور 1948 میں آزادی کے بعد سے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔بہت سے لوگ ملک کے زوال کا ذمہ دار صدر گوٹابایا راجا پاکسا کو ٹھہراتے ہیں اور مارچ سے جاری احتجاج میں ان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران عوام میں عدم اطمینان مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ نقدی کی کمی کے شکار ملک کو ایندھن کی وصولی رک گئی ہے، جس کے باعث اسکول بند کرنے اور ضروری خدمات کے لیے پیٹرول اور ڈیزل ذخیرہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    گال میں پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل 11 سے 13 جولائی تک تین روزہ پریکٹس میچ میں مدمقابل ہوگی۔سیریز کا پہلا ٹیسٹ 16 سے 20 جولائی تک گال جبکہ دوسرا 24 سے 28 جولائی تک کولمبو میں کھیلا جائے گا۔پاکستان نے آخری مرتبہ 2015 میں سری لنکا کا دورہ کیا تھا اور اس موقع پر ٹیسٹ سیریز 1-2 سے اپنے نام کی تھی۔

  • سری لنکن صدرفرارہوگئے

    سری لنکن صدرفرارہوگئے

    کولمبو: سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے اپنے گھر سے فرار ہو گئے ہیں کیونکہ مظاہرین نے ہفتے کے روز ان کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا اور دھاوا بول دیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے۔

    دارالحکومت کولمبو میں صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بولنے کے لیے ہزاروں مظاہرین نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کی اور رکاوٹیں توڑ دیں۔ وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ صدر گوتابایا راجا پاکسے کو ہفتے کے آخر میں طے شدہ ریلی سے قبل ان کی حفاظت کے پیش نظرکسی دوسری جگہ منتقل کردیا گیا ہے

    یاد رہے کہ یہ موجودہ صورت حال پچھلے کئی دن سے خراب تھی اور یہ اقدام ملک میں معاشی چیلنجز کے دوران بڑھتی سیاسی کشیدگی سے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول رکھنے کی خاطرملک میں کرفیونافذ کیا گیا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے کولمبو میں صدر گوتابایا راجا پکسے کی برطرفی کے لیے بڑے عوامی مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد سیکورٹی صورتحال کے پیشِ نظر فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    پولیس نے کرفیو کے دوران شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے باہر نہ نکلنے کی تاکید کی ہے۔اس سے پہلے پولیس کے سربراہ چندنا وکرمارتنے کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات 9 بجے سے دارالحکومت میں کرفیو کا نفاذ ہو گیا ہے جو غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئے حکم نامے تک کرفیو کے حالات میں لوگ گھروں سے باہر ہرگز نہ نکلیں۔ کرفیو کولمبو شہر کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں میں بھی نافذ رہے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کو صدر کے خلاف بڑی ریلی شیڈول ہے جس میں شرکت کے لیے ہزاروں لوگ کولمبو پہنچے ہوئے ہیں اورمظآہرین کی طرف سے سخت دباو کے بعد سری لنکن صدرکوفرارکرادیا گیا ہے

  • ہندوستان:اودے پور میں کرفیو میں نرمی

    ہندوستان:اودے پور میں کرفیو میں نرمی

    راجستھان:ہندوستان کے شہر اودے پور میں کرفیو میں نرمی ،اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی ریاست راجستھا ن کے شہر اودے پور میں جاری کرفیو میں اتوار کو دس گھنٹے کی نرمی کی گئی ۔

    ہندوستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریاست راجستھان کے شہراودے پورمیں کنہیا لال قتل کیس کے بعد مختلف تھانہ حدود میں نافذ کرفیو میں اتوار کو چھٹے دن دس گھنٹے کی نرمی کی گئی۔

    اس رپورٹ کے مطابق اتوار کو کرفیو میں صبح آٹھ بجے سے چھے بجے تک نرمی کی گئی۔
    اس دوران لوگوں کو ان علاقوں میں کھلی دکانوں پر اپنی ضرورت کے سامان کی خریداری کرتے دیکھا گیا۔

    کرفیو میں نرمی کے دوران بازار کھلنے کی وجہ سے کافی چہل پہل نظر آئی۔

    واضح رہے کہ اٹھائیس جون کو ہندوستان کے شہراودے پور میں خود کو مسلمان کہنے والے دو انتہا پسندوں نے تیز دھار اسلحے سے کنہیا لال نامی ایک ہندو درزی کا بہیمانہ انداز میں قتل کیا تھا۔ مذکورہ انتہا پسندوں کے اس انسانیت سوز اقدام کی ویڈیو بنا کے وائرل کی تھی ۔ اس واقعے کے بعد شہر اودے پور میں کشیدگی پھیل گئی تھی جس کے پیش نظر حکومت نے متاثرہ تھانہ کے علاقوں میں کرفیو لگادیا تھا۔

    اس وحشیانہ تشدد کی ہندوستانی مسلمانوں کے سبھی طبقات ، مسلم دانشوروں ، سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں نے سخت ترین الفاظ میں مذمت اور ملزمین کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں بڑھتی شیلنگ کے سبب 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کیف کے میئر کا کہنا ہے کیف میں آج شام 8 بجے سے جمعرات کی صبح 7 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا کرفیو کے دوران شہر میں اسپیشل پرمیشن کے بغیر گھومنے کی اجازت نہیں ہو گی، کیف یوکرین کا دل ہے، اس کا دفاع کریں گے۔

    دوسری جانب یوکرین کے دارالحکومت کیف میں رہائشی بلاک پر حملے میں 2 افراد ہلاک ہو گئے یوکرین کی سرکاری ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ کیف کے ضلع سویا توشینسکی میں 16 منزلہ رہائشی عمارت پر حملےکے بعد ملبے سے 27 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے-

    اس سے قبل یوکرینی دارالحکومت کیف کے وسطی علاقے میں 3 دھماکے سنے گئے تھے یوکرین کے ریجن دنیپرو میں روسی راکٹ حملے میں مرکزی سول ایئر پورٹ کا رن وے تباہ ہو گیا تھا گورنر دنیپرو کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے رات کو مرکزی سول ایئر پورٹ پر راکٹوں سے حملہ کیا جس سے ایئر پورٹ کا رن وے تباہ ہو گیا اور ٹرمینل کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

    یوکرین پر حملہ: روسی چینل پر براہ راست خبروں کے دوران خاتون ملازمہ کا انوکھا…

    ادھر پولینڈ، جمہوریہ چیک، سلوانیہ کے وزرائے اعظم آج یوکرینی دارالحکومت کیف جائیں گے رپورٹ کے مطابق جمہوریہ چیک، پولینڈ اور سلوانیہ کے وزرائے اعظم یوکرینی دارالحکومت کیف میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے نمائندوں کے طور پر صدر وولودومیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔

    جمہوریہ چیک کے وزیرِ اعظم پیٹر فیالا کا کہنا ہے کہ یوکرین کے دورے کا مقصد یوکرین کی خود مختاری اور آزادی کے لیے یورپی یونین کی حمایت کی تصدیق اور یوکرین کے لیے حمایت کا وسیع پیکیج پیش کرنا ہے۔

    دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوج نے یوکرین کے ریجن خیر سون کے تمام علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے-

    یورپی یونین نے یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے دروازے کھول دئیے

  • لاک ڈاون اور چاروں طرف پھیلا بھوک کا عفریت از فیصل ندیم

    میری زندگی میں اور شائد اس سے بہت پہلے تک دنیا نے ان حالات کا سامنا نہیں کیا کرونا وائرس نے گویا ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اپنی توپوں اور میزائلوں سے دنیا کے بیشمار ملکوں کو تباہ و برباد کردینے والے دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک بھی کرونا کے سامنے ڈھیر ہوچکے ہیں امریکہ جسے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس کے سب جدید شہر نیویارک کے جدید ترین ہسپتالوں کے انتہائی قابل ڈاکٹر آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ایسے میں پاکستان جیسا ملک بھی جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے کرونا کے خلاف اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے بیس کروڑ لوگوں کا ملک وسائل کی کمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ اپنی عوام کو اس مہیب خطرے سے بچایا جاسکے اس مقصد کیلئے ملک کے کونے کونے میں قرنطینہ سینٹر اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن چونکہ یہ مرض افراد میں ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہیں مساجد مندر چرچ تعلیمی ادارے شاپنگ سینٹرز ہوٹل ریستوران کارخانے کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ جہاز ٹرین سب ہی بند کیا گیا ہے یہ ٹھیک ہے سماجی فاصلہ رکھنا اس مہلک بیماری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے اور اس کیلئے یہ سب اقدامات بھی ضروری ہیں لیکن ان اقدامات سے ایک اور بہت بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے یہ وہی خطرہ ہے جس کی جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔

    ہر طرح کا کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے مزدور طبقہ تو فوری طور پر بری طرح متاثر ہوگیا اور بیروزگاری کے پہلے دن سے روز کمانے اور روز کھانے والے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ گزرتے دنوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی بیروزگاری کا عفریت تلے دب کر روزی روٹی کی تنگی کا شکار ہونا ہے بھوک کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے
    یہ پاکستان کے عوام کی مستقل بدقسمتی ہے کہ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سیاسی قیادت کی موقع اور مفاد پرستی کے سبب درست منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے دیرپا اور دور رس اقدامات سے ہمیشہ محروم رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار و افتراق کی صورت میں نکلتا رہا ہے آج بھی کہ جب ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے ہم قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کا زبردست فقدان ہے اس مہیب خطرے سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر زور زیادہ ہے ایسے میں پاکستانی عوام پریشان ہیں کرونا وائرس اور بھوک کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا راستہ اختیار کریں

    پاکستان کے عوام دنیا میں فلاحی کاموں پر شائد سب سے زیادہ خرچ کرنے والی قوم ہیں اب بھی بیشمار لوگ اس حوالہ سے میدان عمل میں موجود ہیں ماسک سینیٹائزر کھانا اور خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی ہر طرف جاری ہے لیکن اس بار ضرورت شائد اتنی زیادہ ہے کہ روایتی طریقوں سے اس آفت کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے
    سب سے پہلے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے کرونا کے مقابلے کی تحریک کو آگے بڑھائیں انفرادی طور پر کی جانے والی تمام کوششوں کو مربوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے کہ مستحق افراد تک کم از کم خوراک ضرور پہنچائی جاسکے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھندوں میں پھنسے ہمارے ملک کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سارے ملک کو بٹھا کر کھلا سکے اس کار خیر میں مخیر حضرات کو شامل کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن سیاستدانوں پر عمومی بد اعتمادی اس کار خیر کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا پاکستان میں عوامی سطح پر احترام کیا جاتا ہے انہیں آگے لاکر ان کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اگلا کام جو اس سے بہت زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقے جو اب تک کرونا سے محفوظ ہیں انہیں پوائنٹ آؤٹ کرکے علیحدہ کیا جائے ان میں بیرونی آمد و رفت کو سوائے اجناس کی ترسیل کے نظام کے بند کیا جائے اور پھر انہیں ہر طرح کی سرگرمی کیلئے کھولا جائے تاکہ کاروبار زندگی کو چلا کر لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے تمام بڑے کارخانوں اور فیکٹریز کو کھولا جائے ان میں احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام شروع کیا جائے تاکہ جہاں ہم اپنے لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرکے بھوک کا مقابلہ کرسکیں وہیں دنیا سے مہنگے داموں اشیائے ضرورت خریدنے کے بجائے اپنے پاس ان کی پروڈکشن شروع کرسکیں یہ طے ہے کہ کرونا وائرس سے نجات دنوں میں ممکن نہیں ہے چین جیسے باوسائل اور جدید ملک کو بھی اس خطرے سے نمٹتے چوتھا مہینہ ہے تو ہم جیسے معاشی طور پر کمزور اور غریب ملک کو شائد اس خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوگا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سارے ملک کو بند رکھ کر ملک میں بھوک سے بدحال لوگوں کا جم غفیر جمع کرلیا جائے اللہ نہ کرے بھوک کے بڑھنے سے ملک افراتفری اور انتشار کی طرف بھی جاسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی جان لیجئے قیادت کی اہلیت کا اصل اندازہ ہمیشہ مشکلات میں ہوتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس کڑے وقت میں ملکی اور صوبائی قیادت اپنے اوسان قابو میں رکھے اپنی عمومی سیاسی ضروریات سے قطع نظر ہوکر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان اور اس کی عوام کا تحفظ ممکن ہو پاکستانی قوم کو بھی اس وقت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ذاتی اور انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کام کرنا ہوگا اپنے اردگرد موجود اپنے ضرورت مند پاکستانی بھائیوں کی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مدد کرنا ہوگی مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرلیا تو ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا

    خیر اندیش
    فیصل ندیم

  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مقبوضہ وادی میں کرفیو کے انتالیس دن پاکستانی خواتین کیا کریں؟؟؟ تحریر خنیس الرحمن

    مقبوضہ وادی میں کرفیو کے انتالیس دن پاکستانی خواتین کیا کریں؟؟؟ تحریر خنیس الرحمن

    آج وادی کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ سے زائد دن بیت چکے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا عوامی سطح پر لوگوں میں کشمیریوں کے لئے تڑپ پیدا ہوئی۔کیوں نا ہوتی کشمیرتو ہماری شہ رگ ہے۔کشمیرکے بغیرتو پاکستان ہی نامکمل ہے۔کشمیر سے تو ہمیں دینی محبت ہے۔وہ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں اورہیں بھی تو پھر ہم کیوں نا ان کے لیے تڑپیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر آور منانے کا اعلان کیا اسلام آباد سے لیکر کراچی تک پورا پاکستان وزیر اعظم کی کال پر باہر نکلا۔میں نے بذات خود اس چیز کو محسوس کیاکہ سب پاکستانی مسلکی و جماعتی تعصبات سے نکل کر سڑکوں پر نکلے۔اب بھی ہمیں خاموش رہنے کی ضرورت نہیں کشمیر میں ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود کرفیو نہیں ہٹایا گیا۔ہمیں مزید تحریک کو تیز کرنا ہوگا۔
    آپ جانتے ہیں کہ ہر تحریک میں خواتین کا کلیدی کردار رہا ہے۔اگر آپ آج سے چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں تو اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی آپ کو کثیر تعداد نظر آئے گی۔سمیہ بنت خباط ؓ سے لے کر اندلس کی اس بیٹی تک جس کے بارے اقبال رحمہ اللہ علیہ کچھ یوں منظر کشی فرماتے ہیں
    یہ سعادت،حور صحرائی!تری قسمت میں تھی
    غازیان ِدیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
    جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی خواتین نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آزادی کی بھرپورتحریک چلائی۔خواتین کے اس کارواں میں موجود مادر ملت فاطمہ جناح،بیگم محمد علی جوہر،بیگم رعنا لیاقت علی،بیگم سلمی تصدق حسین ودیگر خواتین کو آج بھی تاریخ کے اوراق میں یاد رکھا جاتا ہے۔قوم ان کی خدمات پر فخر کرتی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں پاکستان ابھی نامکمل ہے کیونکہ اس کی شہ رگ بدن سے جدا ہے۔آج کشمیر کے اندر بھی آزادی کے لیے خواتین کا کردار کسی سے مخفی نہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی آج مردوں کے شانہ بشانہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔آسیہ اندرابی صاحبہ ایک ایسے مرد مجاہد کی رفیقہ حیات ہیں جس نے اپنی آدھی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزار دی۔آسیہ اندرابی صاحبہ نے بھی اپنی زندگی کشمیر خواتین کی اصلاح اورتحریک آزادی کے لئے وقف کر رکھی ہے۔وہ کشمیر کی سب سے متحرک تنظیم دختران ملت کو چلا رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں کئی سیاسی و دینی جماعتوں نے کروٹیں بدلیں اپنے نظریات بدلے لیکن آسیہ اندرابی صاحبہ پہلی خاتون لیڈر ہیں جو آج بھی اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑی ہیں۔وہ 6ستمبر،یوم آزادی و یوم تجدید عہد اور ہر قومی دن پر دختران ملت کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں. جہاں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے. پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے. بھارت سے یہ کہاں ہضم ہوتا ہے وہ آپا آسیہ اندرابی اور ان کی قیادت کو زندانوں می ڈال دیتا ہے. لیکن وہ باہمت خاتون پیچھے ہٹنے والی نہیں, جھکنے والی نہیں ڈٹ کر کھڑی ہے. آج انہوں نے خواتین کی ایسی کھیپ تیار کرلی ہے جو ہاتھوں میں پتھر تھامے بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہے. کشمیر کی ناجانے کتنی مائیں, بہنیں اور بیٹیاں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکی ہیں.میں سلام پیش کرتا ہوں کشمیر کاز کے سب سے بڑے حمایتی جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی کو جنہوں نے یہ بیڑہ اپنے سر اٹھایا ہے کہ پاکستانی خواتین کو یہ پیغام دیا ہے اگر کشمیر کی بیٹی کرفیو میں نکل سکتی ہے, اگر کشمیری ماں بھارتی فوج کے خوف کے باوجود باہر نکل سکتی تو پاکستان کی ماں, بہن اور بیٹی کیوں نہیں نکل سکتی. جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی عظمٰی گل صاحبہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری سب مائیں اور بہنیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے 13 ستمبر کو 4 بجے ڈی چوک پہنچیں. میں سمجھتا ہوں پاکستان کی ہر بہن, بیٹی اور ماں کو ان کی خاطر نکلنا ہوگا جن کو پاکستان کی آواز اٹھانے پر پابند سلاسل کردیا جاتا ہے .ہم نکل کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہماری مائیں اور بہنیں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور دنیا واقعی دیکھے کہ جاگ اٹھا ہے پاکستان…!