Baaghi TV

Tag: کرناٹک ہائی کورٹ

  • سابق وزیراعظم کے پوتے  کو ریپ کیس میں عمر قید، 11 لاکھ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

    سابق وزیراعظم کے پوتے کو ریپ کیس میں عمر قید، 11 لاکھ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

    بھارت کے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے پوتے اور جنتا دل (سیکولر) کے سابق رکنِ پارلیمنٹ پرجول ریونا کو ریپ کیس میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    کرناٹک ہائی کورٹ نے سزا کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاتون کو 11 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔فیصلہ سنائے جانے کے بعد پرجول ریونا عدالت میں زار و قطار رونے لگے۔ واضح رہے کہ مختلف جنسی زیادتی کے الزامات کے باعث انہیں پارٹی سے معطل کیا جا چکا ہے۔متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ وہ 2021 سے پرجول ریونا کے فارم ہاؤس میں گھریلو ملازمہ تھیں، جہاں انہیں بارہا زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔اس دوران ان کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں، اور انہیں خاموش رہنے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔

    متاثرہ خاتون نے زیادتی کے وقت پہنی گئی ساڑھی کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا، جس سے فارنزک رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوئی۔مقدمہ درج ہونے کے 14 ماہ بعد فیصلہ سنایا گیا۔ٹرائل کا آغاز 31 دسمبر 2024 کو ہوا تھا۔عدالت نے 23 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے، ویڈیو کلپس کی فارنزک رپورٹس اور 123 شواہد پر مشتمل 2000 صفحات کی تفتیشی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ریونا کے خلاف 3 سے 5 ہزار ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں، جن میں انہیں مختلف خواتین کے ساتھ زیادتی کرتے دیکھا گیا۔

    ویڈیوز میں خواتین کے چہرے دھندلے نہیں کیے گئے تھے۔بعض متاثرہ خواتین کو سرکاری نوکری کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ وہ خاموش رہیں۔پرجول ریونا انتخابات کے بعد جنسی اسکینڈل سامنے آنے پر جرمنی فرار ہو گئے تھے، تاہم ایک ماہ بعد وطن واپس آنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    یہ کیس بھارت میں سیاسی شخصیات کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    نواز شریف کے کزن میاں شاہد شفیع انتقال کر گئے

    ٹک ٹاک نے سابق اسرائیلی فوجی کو ہیٹ اسپیچ مینیجر تعینات کر دیا، تنقید کا سامنا

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

    سینٹرل کرم: کوئلہ کان پر فائرنگ کا واقعہ، 2 افراد جاں بحق، 1 زخمی

  • حجاب کیس: عبوری پابندی صرف طلبا پر لاگو ہوتی ہے اساتذہ پر نہیں ، ہائی کورٹ

    حجاب کیس: عبوری پابندی صرف طلبا پر لاگو ہوتی ہے اساتذہ پر نہیں ، ہائی کورٹ

    نئی دہلی: کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں مذہبی لباس استعمال نے کرنے کی ہائی کورٹ کی تجویز صرف طلباء پر لاگو ہوتی ہے اساتذہ پر نہیں-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا "آواز دی وائس ” کے مطابق حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ میں بحث کا سلسلہ جاری ہے بدھ کو نویں دن بھی دونوں فریقوں کی جانب سے دلائل کا سلسلہ جاری رہا –

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ حکم واضح ہے کہ یہ صرف ان اسکولوں اور کالجوں کے لیے ہے جہاں یونیفارم کا تعین کیا گیا ہے اگر یونیفارم مقرر ہے تو انہیں اس پر عمل کرنا ہوگا، چاہے وہ ڈگری کالج ہو یا پی یو کالج ، اسکولوں اور کالجوں میں مذہبی لباس استعمال نے کرنے کی ہائی کورٹ کی تجویز صرف طلباء پر لاگو ہوتی ہے اساتذہ پر نہیں –

    واضح رہے کہ کرناٹک کے ایک پرائیویٹ کالج کی ایک گیسٹ لیکچرر نے اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب اس سے مبینہ طور پر حجاب نہ پہننے یا کوئی مذہبی علامت ظاہر نہ کرنے کو کہا گیا تھا۔

    بھارتی حکومت کا "سکھ فار جسٹس” سےمتعلق ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس…

    گورنمنٹ پی یو کالج اڈپی کے وکیل نے کہا ہے کہ سڑک پر ڈھول بجانے والے سماج کے لیے خطرہ نہیں ہیں ہم سماجی ہم آہنگی والے معاشرے میں رہتے ہیں۔ اُڈپی میں بھی میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ کرشنا مٹھ کے آس پاس بڑی تعداد میں مسلمان رہتے ہیں اور وہاں مکمل ہم آہنگی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس سے قبل منگل کو بھی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے اپنا موقف واضح کیا تھا کہ وہ اس ہفتے اسے طے کرنا چاہتی ہے عدالت نے دونوں فریقین سے حجاب پر پابندی یا استثنیٰ سے متعلق جاری سماعت میں تعاون کی اپیل کی تھی –

    حجاب تنازع: عدالت سے رجوع کرنے والی طالبہ کےبھائی پر حملہ

    واضح رہے کہ بھارت میں حجاب کیس پر دن با دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ریاست بہارکے ایک بینک میں کیشئیرنے حجاب پہننے والی خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔ کیشئیرنے خاتون سے کیش حاصل کرنے کے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا باحجاب خاتون نے حجاب اتارنے سے انکارکردیا خاتون اوران کے والد کے شدید احتجاج پربینک کوانہیں رقم دینے پرمجبورہونا پڑا۔

    باحجاب خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں حجاب کرنے کی وجہ سے اپنے ہی اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے سے روک دیا گیا۔

    ہندوانتہا پسندوں نے گائے کا گوشت کھانے پرمسلمان شخص کو قتل کر دیا