Baaghi TV

Tag: کرناٹک

  • مہاراشٹر،کرناٹک:مساجدمیں لاؤڈ اسپیکر کی آوازکی حدمقرر، آوازناپنےوالی مشینیں نصب ہونے لگیں

    مہاراشٹر،کرناٹک:مساجدمیں لاؤڈ اسپیکر کی آوازکی حدمقرر، آوازناپنےوالی مشینیں نصب ہونے لگیں

    ممبئی: مہاراشٹر میں ریاستی وزیر داخلہ تمام مساجد کو مقررہ آواز کی سطح پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے نوٹس جاری ر دیئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا خبر رساں ادارے "آواز دی وائس” کے مطابق مہاراشٹر میں اذان لاؤڈ اسپیکر تنازعہ پر شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ ریاستی وزیر داخلہ نے تمام مساجد کو نوٹس جاری کیا ہے اور انہیں مقررہ آواز کی سطح پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    راوت نے جمعرات کو کہا کہ مہاراشٹر کے ریاستی وزیر داخلہ نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اذان دیتے وقت ڈیسیبل کی سطح کیا ہونی چاہیے۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

    مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کی طرف سے مساجد پر نصب لاؤڈ اسپیکر کو لے کر شروع کیا گیا تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے جائیں یہی نہیں، اس نے مساجد کے قریب ہنومان چالیسہ بجانے کی بھی وارننگ دی ہے۔

    راج ٹھاکرے کے اس بیان کے بعد اب ایم این ایس کے کارکن مختلف جگہوں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہنومان چالیسہ پڑھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ممبئی پولیس نے امن کی خلاف ورزی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کچھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان پر 5-5 ہزار کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

    اس تنازع کے بعد حکمراں شیو سینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی بھی راج ٹھاکرے کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

    سنجے راوت نے پیر کو یہ بھی کہا تھا کہ یہ واضح ہے کہ شیواجی پارک میں لاؤڈ اسپیکر پر کی گئی تقریر کا اسکرپٹ بی جے پی نے لکھا اور اس کی سرپرستی کی تھی پہلے انہیں اتر پردیش میں اتارو، گوا کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹاؤ جہاں بی جے پی 10 سال سے اقتدار میں ہے وہاں یہ سیاست کیوں نہیں ہو رہی؟ مہاراشٹر میں ہی یہ مسئلہ کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راج ٹھاکرے کے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے بیان کے بعد مہاراشٹر میں سیاست تیز ہوگئی تھی یہ آگ اب کرناٹک تک پہنچ گئی کرناٹک میں ہندو تنظیموں نے مسجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کیاہے۔ حکومت نے بھی اس کی تائید کی ہےاور کہا ہےکہ قانون کے مطابق کام کیا جائے گا۔ کرناٹک حکومت نے مساجد کو نوٹس جاری کیا جس کے بعد مساجد میں آواز کی پیمائش کرنے والی مشینیں لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

    کرناٹک میں مساجد کو پولیس کی طرف سے نوٹس موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے لاؤڈ سپیکر پرمٹ ڈیسیبل کے اندر استعمال کر رہے ہیں۔ صرف بنگلورو میں تقریباً 250 مساجد کو ایسے نوٹس موصول ہوئے ہیں جن کی آواز بلند پائی گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مساجد انتظامیہ نے مساجد میں ایسے آلات نصب کرنا شروع کردیئے ہیں جو آواز کو اجازت نامہ کی سطح تک برقرار رکھتے ہیں۔ کرناٹک کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس پروین سود نے تمام کمشنر آف پولیس، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ مذہبی اداروں، پبوں، نائٹ کلبوں اور دیگر اداروں اور تقریبات میں شور کی آلودگی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی تحقیقات کریں۔

    منگل کے روز کچھ تنظیموں نے مختلف پولیس حکام کو میمورنڈم جمع کر کے مساجد کے لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی ان کا الزام ہے کہ اسپتالوں، اہم سرکاری دفاتر، اسکولوں اور کالجوں جیسے خاموش زون میں بھی ایسا نہیں ہورہا ہے۔

    تنظیموں نے الزام لگایا کہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر صبح کی نیند میں خلل ڈالتے ہیں جس سے طلباء، مریضوں، بزرگوں اور رات کو کام کرنے والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے شکایت کے بعد پولیس نے صرف مساجد میں ہی نہیں ہر جگہ لاؤڈ سپیکر چلانے پر پابندی لگا دی ہے۔

    نائیجیریا: توہین مذہب کے الزام ایک شخص کو 24 سال قید کی سزا

  • کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی

    کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی

    بنگلورو: بھارتی ریاست کرناٹک میں طالبات کے حجاب پر پابندی اور ہندو فیسٹیول میں مسلم دکاندا روں کو کاروبار سے روکے جانے کے بعد انتہا پسند ہند وؤں کے جتھے نے گائے کے گوشت کی فروخت بھی بند کروا دی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹک میں بجرنگ دل کے کارکنان نے سپر اسٹور پر گائے کے گوشت کی فروخت کو روک دیا جب کہ ایک ہوٹل میں حلال گوشت کے پکوان پر ویٹرز کے ساتھ مارپیٹ بھی کی۔

    نوبیاہتا جوڑے کی شادی کے چند گھنٹوں بعد دسویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی

    گائے کے گوشت کی فروخت کے خلاف ان پُرتشدد واقعات کا آغاز کرناٹک کے دارالحکومت میں ہندوؤں کی انتہا پسند جماعت کے رہنماؤں کی ایک مہم کے بعد ہوا بجرنگ دل کے رہنماؤں نے بازاروں میں جا کر گائے کے گوشت کی فروخت کے خلاف تقاریر کیں اور مسلم دوکانداروں کو ڈرایا دھمکایا۔

    انتہا پسند ہندو جماعت کے کارکنان نے پمفلٹس بھی تقسیم کئے جس میں گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا پولیس نے مسلم تاجروں کے مطالبے پر بجرنگ دل کے 6 کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

    ہندو اگرشاہ رخ خان کی فلموں کا بائیکاٹ کردیں، تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے ،ہندوانتہا…

    خاص طور سے اگادی کے بعد ، جو کہ ہندو نئے سال کا تہوار ہے اگادی کے ایک دن بعد،’نان ویجیٹیرین‘ ہندوؤں کا ایک طبقہ بھگوان کو گوشت چڑھا تا ہے اور نئے سال کا جشن مناتا ہے۔ کئی لوگ ایسے گوشت پیش کرتےہیں جسے کچھ دائیں بازو کے کارکن لوگوں سے ترک کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں یہ کال کرناٹک کے کچھ حصوں میں ہندو مذہبی میلوں کے دوران مندروں کے آس پاس مسلم دکانداروں پر پابندی کے بعد آئی ہے۔

    واضح رہے کہ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس کے بعد مسلم تاجروں کو ہندو فیسٹیول میں اسٹالز لگانے سے روک دیا گیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ کے گھر پر حملہ :حملہ کرنے والے کون؟جان کرہرکوئی حیران

  • بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    بنگلورو: ہندوؤں کی انتہا پسندی بڑھ گئی حجاب تنازعہ جاری ہے اس دوران کرناٹک سے دوایسی خبریں آئی ہیں جن کے مطابق سکھ بھی نشانے پر آگئے ہیں، اطلاعات کے مطابق ایک لڑکی کو اسکول میں پگڑی اتارنے کو کہا گیا جب کہ ایک دوسرے واقعے میں ایک چھ سالہ سکھ بچے کو پگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روکا گیا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق کلاسوں میں حجاب پہننے سے متعلق تنازعہ کے درمیان، ماؤنٹ کارمل پی یو کالج میں ایک سکھ (امر دھاری) لڑکی سے اپنی پگڑی اتارنے کو کہا گیا اسی کے ساتھ کالج کے کچھ والدین نے یہ بھی شکایت کی کہ ان کی بیٹیوں کو حجاب اتارنے کے لیے کہے جانے کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج…

    حکام اب س پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں، کیونکہ حساس مسئلہ ریاستی دارالحکومت کے دیگر کالجوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ اگرچہ ریاست بھر کے کالجوں میں حجاب کے ساتھ کلاسوں میں شرکت کی اجازت سے انکار پرطلبا نے احتجاج کیا، لیکن اب تک اس کا بنگلورو میں بڑے پیمانے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔

    ہائیکورٹ کی خصوصی بنچ نے بدھ کے روز واضح کیا کہ جب تک معاملہ نمٹا نہیں جاتا، پری یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ انڈرگریجویٹ کالج میں کسی بھی مذہبی علامت کی اجازت نہیں ہے جس کے بعد کالج کی طالبات کے والدین، جنہیں حکام نے حجاب ہٹانے کے لیے کہا تھا، نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم کو تمام طالبات پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔

    یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب پنجاب یونیورسٹی ایجوکیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جی۔ سری رام، جو پیر کو پریکٹیکل امتحان کے دوران کالج کا معائنہ کر رہے تھے، نے عدالت کے حکم کے مطابق دو طالبات کو حجاب اتارنے کی ہدایت کی اس سے طلبہ میں غم و غصہ پھیل گیا اور طلبہ نے اس کی شدید مخالفت کی اگرچہ کالج کے اہلکاروں نے زیادہ تر طالب علموں کو کامیابی کے ساتھ قائل کر لیا، لیکن کچھ نے اصرار کیا کہ اگر وہ حجاب کو ہٹانا چاہتے ہیں، تو دوسروں کو بھی کوئی مذہبی علامت پہننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    بھارتی حکومت کا "سکھ فار جسٹس” سےمتعلق ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس…

    دریں اثنا، ماؤنٹ کارمل پی یو کالج کے حکام نے ایک سکھ لڑکی کو ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرنے کے لیے اپنی پگڑی اتارنے کو کہا حکام نے اس کے بارے میں اس کے والد کو میل بھی کیا 16 فروری کو لڑکی کو پگڑی اتارنے کو کہا گیا لیکن وہ نہیں مانی اس کے بعد اسکول کے حکام نے سکھ لڑکی کے والد کو صورتحال سے آگاہ کیا اور اس کے اہل خانہ نے کالج کو بتایا کہ وہ اپنی پگڑی نہیں اتارے گی اور وہ اس معاملے پر قانونی رائے لیں گے محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے عبوری حکم میں پگڑی کی کوئی بات نہیں ہے۔

    جبکہ دوسری جانب یہ بھی خبرہے کہ ڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی چائلڈ لائن کو منگلورو کے ایک پرائیویٹ اسکول کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرے گی جس نے مبینہ طور پر سکھ برادری کے ایک چھ سالہ لڑکے کو داخلے سے انکار کر دیا تھا، جس نے ‘پٹکا’ پگڑی پہن رکھی تھی۔

    اس دوران سی ڈبیلوسی کی صدرنے بتایا کہ سکھ برادری کے طلباء کو ‘پٹکا’ اور ‘کڑا’ پہننے کی اجازت ہے یہ کرناٹک ہائی کورٹ کے کلاس رومز کے اندر حجاب (دوپٹہ) پہننے کے عبوری حکم پر اسکول انتظامیہ کا گھٹن والا ردعمل ہے-

    انہوں نے چائلڈ لائن کو سکھ طالب علم کے داخلے سے انکار پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی راشٹریہ سکھ سنگت کو بتایا گیا کہ اسکول انتظامیہ 28 فروری کو حتمی فیصلہ کرے گی۔

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

  • امریکہ: بھارت میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف مظاہرہ

    امریکہ: بھارت میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف مظاہرہ

    واشنگٹن:بھارتی ریاست کرناٹک میں ہائی کورٹ کی طرف سے تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف بھارتی نژاد امریکی مسلمانوں نے ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں احتجاج کیا۔

    سو سے زیادہ افراد نے جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم طالبات کے ساتھ امتیازی سلوک کو فوری طور پر بند کرے جنہیں حجاب اتارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    مظاہرین نے پلے کارڑز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ "حجاب ہمارا آئینی حق ہے، بھارت میں حجاب پر پابندی بند کرو، اسلامو فوبیا بند کرو، حجاب پر حملہ مسلمان لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش ہے ۔

    ادھر بھارتی ریاست کرناتک میں مسلمان طالبات بدستوار حجاب پہن کر تعلیمی اداروں میں آرہی ہیں جس پر انکے خلاف تھانوں میں ایف آئی آر درج کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
    ریاست کے ضلع تماکورو میںتماکورو کے ایمپریس کالج کے پرنسپل نے گزشتہ دو دنوں میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر 15 سے 20 طالبات کے خلاف تماکورو تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔

    مسلم طالبات کے خلاف یہ پہلی ایف آئی آر ہے۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا جنیندرا نے کہا ہے کہ طالبات کے تئیں اب کوئی نرم رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے ہائیکورٹ کے عبوری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے ۔

    دریں اثنا ضلع کورگ کے کالج پرنسپل کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہیں حجاب پہن کر کالج آنے والی طالبات پر چلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

  • کرناٹک میں ایک اورکالج نے باحجاب طالبات پر پابندی لگا دی گئی

    کرناٹک میں ایک اورکالج نے باحجاب طالبات پر پابندی لگا دی گئی

    نئی دہلی: کرناٹک میں ایک اورکالج نے طالبات کوحجاب کے ساتھ کالج کے اندرداخل نہیں ہونے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارت میں ہندوانتہاپسندوں کی حجاب کیخلاف مہم کے تحت کرناٹک کے ایک اورکالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے اورکلاسز اٹینڈ کرنے سے روک دیا گیا کالج پرنسپل نے خود کالج کے گیٹ پرکھڑے ہوکرباحجاب طالبات کوروکا اورانہیں حجاب اتارکرکالج آنے کی ہدایت کی-

    کرناٹک:حجاب کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے پر پابندی،طالبات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    طالبات کے شدید احتجاج پرکالج پرنسپل کا کہنا تھا کہ طالبات حجاب اوربرقع اتارکرکلاسز میں شرکت کرسکتی ہیں۔ اس قبل اسی کالج کے پرنسپل کوباحجاب طالبات کو کالج میں کلاسز لینے کی اجازت دینے پرہندوانتہاپسندوں کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    تعلیمی اداروں میں حجاب کرنے پرپابندی کے خلاف مسلمان طالبات کی درخواست کرناٹک ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے کرناٹک ہائیکورٹ نے بھی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے درخواست پرفیصلے تک حجاب پرپابندی کا عبوری حکم جاری کیا ہے۔

    بھارتی خاتون صحافی کو بی جے پی کارندوں کیجانب سے قتل اور ریپ کی دھمکیاں

    واضح رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کی انتہا پسندی عروج پر ہے، مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کی جارہی ہے، اس بار انتہا پسند ہندووں نے لڑکیوں کے حجاب کو نشانہ بنایا ہے کرناٹک کے تمام اسکولوں میں باحجاب اوربرقع پہننے والی طالبات کوکلاسز اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ریاست میں باحجاب طالبات کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے اورکلاسز اٹینڈ کرنے پرپابندی عائد کی گئی ہے جبکہ مسلم خواتین اساتذہ کو بھی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر ہی برقع اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہےکرناٹک کے علاوہ مدھیہ پردیش اوردیگرعلاقوں میں بھی تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کوروکنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

    بھارت میں مسلم خواتین کو سرعام بے عزت کیا جا رہا ہے،بھارتی صحافی

    بھارتی ریاست اترپردیش سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ منتخب ہوا تو مسلمانوں کو ماتھے پر تلک کا نشان بنانے پر مجبور کردوں گا بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے اس متعصب اقدام کے جواز میں روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

  • کرناٹک:حجاب کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے پر پابندی،طالبات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    کرناٹک:حجاب کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے پر پابندی،طالبات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    نئی دہلی: حجاب کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت نہ ملنے پرکرناٹک کے سرکاری اسکول کی طالبات نے امتحانات کا بائیکاٹ کردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک کے ضلع شیوا موگا کے سرکاری اسکول میں انتظامیہ نے امتحانات میں بیٹھنے کے لئے طالبات سے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا اسکول کی 13 طالبات نے حجاب اتارنے کے بجائے احتجاجاً امتحانات کا بائیکاٹ کردیا۔

    او آئی سی کا بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار

    طالبات کا کہنا تھا کہ اسکول پرنسپل اورانتظامیہ سے حجاب کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت دینے کے لئے متعدد باردرخواست کی لیکن انہوں نے درخواست پرکوئی توجہ نہیں دی طالبات کے والدین نے اپنی بچیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بغیرحجاب کے وہ اپنی بچیوں کوکلاسزاٹینڈ نہیں کرنے دیں گے۔


    کرناٹک کے تمام اسکولوں میں باحجاب اوربرقع پہننے والی طالبات کوکلاسز اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ریاست میں باحجاب طالبات کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے اورکلاسز اٹینڈ کرنے پرپابندی عائد کی گئی ہے جبکہ مسلم خواتین اساتذہ کو بھی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر ہی برقع اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہے-

    بھارت میں مزید 54 چینی ایپس پرپابندی

    کرناٹک ہائیکورٹ حجاب پرپابندی کیخلاف مسلمان طالبات کی درخواست کی سماعت کررہی ہے۔ کرناٹک ہائیکورٹ نے کیس کا فیصلہ آنے تک تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پرپابندی کا حکم دیا ہے حجاب پرپابندی کیخلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے-

    دوسری جانب او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ کرناٹک میں مسلم لڑکیوں پر حجاب پر پابندی اوراتراکھنڈ میں مسلمانوں کی نسل کشی کے اکسانے کے واقعات پر سخت تشویش ہے کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ ان واقعات کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے، سیکرٹری جنرل او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت مسلمانوں کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنائے، مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والوں کو سزا دلوائے.

    روسی حملے کا خدشہ،یوکرین میں امریکی سفارت خانہ بند،سفارتی عمل شہر لفیف میں منتقل

  • او آئی سی کا بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار

    او آئی سی کا بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے،-

    باغی ٹی وی : آرگنائزیشن آف اسلامک کارپوریشن( او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ کرناٹک میں مسلم لڑکیوں پر حجاب پر پابندی اوراتراکھنڈ میں مسلمانوں کی نسل کشی کے اکسانے کے واقعات پر سخت تشویش ہے.

    مسلمانوں کو ٹوپی اتار کر تلک لگوانے پر مجبور کردیں گے، مودی کے حامیوں کی دھمکی

    عالمی برادری اور اقوام متحدہ ان واقعات کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے، سیکرٹری جنرل او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت مسلمانوں کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنائے، مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والوں کو سزا دلوائے.

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک مسلمان طالبہ مسکان خان کو دیکھ کرہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے بلکہ جے شری رام کے نعرے بھی لگائے تھے جس کے جواب میں اکیلی مسلمان طالبہ نے اللہ اکبر کے نعرے لگا کر انہیں منہ توڑ جواب دیا تھا۔

    بھارت میں 87 سالہ خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    مودی سرکار نے مسلم خواتین پر زندگی تنگ کردی ہے، بھارتی شہر مانڈیا میں حجاب کرنے والی لڑکیوں پر اسکول اسٹاف دباؤ ڈالنے لگا ہے، یہاں تک کے کلاس میں داخل ہونے تک حجاب پہننے کی والدین کی درخواست کو بھی نظرانداز کردیا گیا ہے۔

    جبکہ مسلم خواتین اساتذہ کو بھی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر ہی برقع اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہے-

    سلمان خان اورعامرخان بھارتی طالبہ مسکان کوکروڑوں روپے انعام دیں گے؟

    بھارتی ریاست اترپردیش سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ منتخب ہوا تو مسلمانوں کو ماتھے پر تلک کا نشان بنانے پر مجبور کردوں گا بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے اس متعصب اقدام کے جواز میں روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

  • حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    بھارت میں حجاب پہنے ہوئے مسلم طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    واقعہ بھارتی ریاست کرناٹک میں پیش آیا جہاں ضلع اوڈپی میں حجاب پہنے مسلم طالبات کو سرکاری کالج میں داخلے سے منع کر دیا گیا ، کچھ مسلم طالبات حجاب پہنے کالج آئیں تو انہیں کلاس میں یہ کہہ کر جانے سے روک دیا گیا کہ کلاس لینی ہے تو حجاب اتارنا ہو گا، واقعہ پر بھارت کی مسلمان تنظیموں نے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے

    کالج کی ایک طالبہ جس کو حجاب پہننے کی وجہ سے کالج جانے سے روکا گیا کا کہنا تھا کہ ہم میں سے جو حجاب پہنے ہوئے تھے انہیں کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ، واقعہ کے خلاف جب طالبات کے والدین کالج پہنچے تو انہیں بھی کالج جانے سے روکا گیا اور چار گھنٹے تک انتظار کروایا گیا ، طالبات کے وفد نے ضلع کلکٹر کورم راؤ سے بھی رابطہ کیا اور بتایا کہ پانچ طالبات جو حجاب پہن کر آتی ہیں انکو کلاس میں شامل نہیں ہونے دیا جا رہا، کلکٹر نے پرنسپل سے بات کی، ،طالبات کا کہنا ہے کہ حجاب پہننے سے پہلے سب ٹھیک تھا، جس دن سے ہم حجاب پہن کر کالج آئیں ہمیں کلاس میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا اور ہمارا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے،

    واقعہ کے خلاف طالبات نے احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ کالج کی پرنسپل نے ہمارے والدین سے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے، اب ہم کس کے پاس جائیں ؟ کالج باقاعدگی سے آنے والی ان مسلم طالبات کی حاضری بھی نہیں لگائی جا رہی اور نہ ہی کلاس میں جانے دیا جا رہا ، کالج کے پرنسپل رودرا گوڑا کا کہنا ہے کہ طالبات کیمپس میں حجاب پہن سکتی ہیں لیکن کلاس کے اندر اس کی اجازت نہیں ہے

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا