Baaghi TV

Tag: کرنٹ اکاؤنٹ

  • مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.19 ارب ڈالر ریکارڈ

    مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.19 ارب ڈالر ریکارڈ

    کراچی:بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات میں نمایاں اضافہ کے باعث مارچ 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا-

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مارچ 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، فروری 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ کو 9 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا خسارہ درپیش تھا، تیسری سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ70 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 85 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ کو ایک ارب 65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خسارہ درپیش رہا تھا، گزشتہ مالی سال کے پہلے9 ماہ کے مقابلے میں رواں مالی سال اسی عرصے میں اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات 7 ارب ڈالر زائد رہیں گزشتہ مالی سال جولائی تا مارچ ترسیلات کی مالیت 21 ارب 3 کروڑ ڈالر رہیں، رواں مالی سال اسی عرصے کے دوران ترسیلات کی مالیت 28 ارب 3 کروڑ ڈالر رہیں۔

  • پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر  میں  72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا

    پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر میں 72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا

    کراچی: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مالی سال کے 5 مہینوں میں 94 کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق نومبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، نومبر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس فروری 2015 کے بعد بلند ترین ہے، نومبر 2024 میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 2.35 ارب ڈالر رہا۔

    اسٹیٹ بینک کیمطابق مالی سال کے 5 مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 94 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس رہا جولائی سے نومبر تک تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 14.55 ارب ڈالر رہا، جولائی سے نومبر تک ملکی برآمدات 13.28 ارب ڈالر رہیں جولائی سے نومبر تک ملکی برآمدات 13.28 ارب ڈالر رہیں جولائی سے نومبر تک ملکی درآمدات 22.97 ارب ڈالر رہیں۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ 9.68 کروڑ ڈالر رہا پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ گذشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں سے 10 فیصد زائد ہے جولائی سے نومبر تک ملکی درآمدات 22.97 ارب ڈالر رہیں، مالی سال کے پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ 9.68 ارب ڈالر رہا، پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ گذشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں سے 10 فیصد زائد ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق خسارے کی ادائیگی کے لیے رواں سال 33 فیصد اضافی رقوم رہیں پانچ مہینوں میں ورکرز ترسیلات 14.76 ارب ڈالر موصول ہوئیں، پانچ مہینوں کی بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے بعد 94 کروڑ ڈالر اضافی رہے، نومبر میں آئی ٹی برآمدات 32.4 کروڑ ڈالر رہیں، اکتوبر کے مقابلے میں نومبر کی آئی ٹی برآمدات 2 فیصد کم رہیں۔