Baaghi TV

Tag: کرومیٹک

  • بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے وفد نے سی ای او کرومیٹک شارق خان کی قیادت میں ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ تمباکو نوشی کے خلاف اجلاس میں شرکت کی

    کرومیٹک کی جانب سے شارق خان اور رکن اسمبلی آمنہ شیخ اجلاس میں شریک ہوئیں،اجلاس کے دوران سی ای او کرومیٹک شارق خان نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف مہم بارے بریفنگ دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کرومیٹک پاکستانی بچوں کوتمباکو نوشی سے بچانے کے لئے کردار ادا کرتی رہے گی،شارق خان نے بتایا کہ کرومیٹک تمباکو نوشی کے خلاف مہم میں پاکستان بھر میں سرگرم عمل ہے، سوشل میڈیا پر بھی تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے تووہیں پوسٹ کارڈ کے سالانہ مقابلے بھی کروائے جاتے ہیں، بچوں کو تمباکو نوشی سے دور رہنے کے حوالہ سے تعلیمی اداروں میں سیمینار ،ورکشاپس بھی کروائے جاتے ہیں،پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سمیت اراکین پارلیمنٹ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کی مہم کو سراہتے ہیں،پنجاب حکومت کے اشتراک کے ساتھ محکمہ صحت اور تعلیم کے ذمہ داران کے ہمراہ کرومیٹک نے سیمینار کئے ،کرومیٹک پاکستانی نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی سے بچانے کے لئے پرعزم ہے.

    شارق خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ بجٹ میں پاکستان میں تمباکو پر ٹیکس نہیں بڑھا،اگر تمباکو پر ٹیکس لگایا جاتا تو اس سے پاکستانی معیشت کو فائدہ ہوتا، باقی سب چیزوں پر ٹیکس لگے سوائے تمباکو کے، اگر ٹیکس بڑھ جاتا تو سگریٹ کی فروخت میں کمی ہوتی اور غریبوں کی پہنچ سے دور ہوتی، ہم اس ضمن میں پاکستان میں کوشش جاری رکھیں گے اور امید کریں گے کہ حکومت تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کرے گی،شارق خان کا کہنا تھا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافے سے حکومت کو کئی اہداف مل سکتے ہیں جن میں سگریٹ پینے والی افراد کی کمی، ٹیکس آمدن میں اضافہ، صحت کے اخراجات میں بچت ہو سکتی ہے،حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جس سے پاکستان کی قومی معیشت بہتری کی طرف جائے اور اسکے لئے ضروری ہے کہ تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جائے،

    اجلاس میں آمنہ شیخ نے کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کے تمباکونوشی کے حوالہ سے کام، محنت کو سراہا اور کہا کہ کرومیٹک کے ساتھ میں ایک عرصے سے کام کر رہی ہوں، کرومیٹک پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے مشن پر بھر پور کام کر رہی ہے، آمنہ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے،اس ضمن میں کرومیٹک تعلیمی اداروں میں بھی تمباکونوشی کے خلاف مہم چلا رہی ہے، بچوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے محفوظ بنا کر ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے،اس چیز پرمزید کام کرنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور انہیں آگاہی دی جائے.

    اجلاس کے شرکاء نے کرومیٹک کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک اسی جذبے کے ساتھ کام کرتی رہے گی،

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے…سگریٹ کی ہر ڈبی پر یہ لکھاہوتا ہے لیکن اسکے باوجودسگریٹ خرید کرپی جاتی ہے اور اپنی صحت کا نقصان کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ جب سگریٹ مضر صحت ہے تو مضر صحت چیز کی معاشرے میں فروخت کیوں ہو رہی ہے؟ مضر صحت چیز پر حکومت پابندی کیوں نہیں لگاتی؟ کیوں ایسے قوانین نہیں بنائے جاتے کہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں بمعہ سگریٹ پر سخت قانونی پابندیاں ہوں.لیکن جب قانون سازی کرنیوالے خود ہی سگریٹ کی تشہیر کر رہے ہوں تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، شیخ رشید کو لے لیجیے جو کئی بار وزیر رہ چکے ہیں اب فروری کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اور وہ اسمبلی نہیں پہنچ سکے انکی اکثر تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے موصوف سگار پی رہے ہوتے ہیں، ایسی تصاویر کا کیا مقصد ہے؟ تمباکو مضر صحت ہے تو اسکی اتنی تشہیر کیوں؟

    ابھی 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن گزرا، اس روز ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاق اور تمام صوبوں میں تقریبات ہوتیں اور انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے بھر پور آگاہی مہم چلائی جاتی ،لیکن وزیراعظم شہباز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے صرف بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے،اگرچہ مسلم لیگ ن ، پی ڈی ایم کی گزشتہ ڈیڑھ سالہ حکومت کے دوران تمباکو پر ٹیکس عائد کیا گیا جس سے سگریٹ کی قیمتیں بڑھیں اور فروخت میں کمی ہوئی،تاہم اب بھی بجٹ آ رہا ہے بجٹ میں حکومت کو چاہئے کہ تمباکو پر مزید ٹیکس لگایا جائے ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ تمباکو انڈسٹری تین سو ارب سے زائد کا ٹیکس چوری کر رہی ہے اور ہم ادھر آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں،ایسے میں کونسا امر مانع ہے کہ تمباکو انڈسٹری پر ٹیکس کیوں نہیں بّڑھایا جاتا، قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ، تمباکو انڈسٹری من مانی کر رہی اور ٹیکس چوری کر رہی،وہ بھی اربوں کا، اگر ایک غریب سو روپے کا ٹیکس نہ دے تو کیا اسکے ساتھ بھی صرف بیان دے کر ہی سلوک کیا جاتا یا اس پر ڈنڈے کے زور پر قانون لاگو ہوتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کالی بھیڑیں جو تمباکو انڈسٹری کے ساتھ ملی بھگت کر کے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں انکو بے نقاب کر کے کاروائی کی جائے اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کیا جائے.

    chromaic

    پنجاب حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے پنجاب میں متحرک ہو چکی ہے. گزشتہ دنوں تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا نے لاہور کا دورہ کیا اور پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، وزیر تعلیم رانا سکندر و دیگر سے ملاقاتیں کیں ، بعد ازاں پنجاب کے محکمہ تعلیم و صحت کے زیر اہتمام دو الگ الگ سیمینار بھی ہوئے جن میں سی ای او کرومیٹک شارق خان نے خصوصی طور پر شرکت کی،خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر جو پنجاب میں صحت کے شعبے کے وزراء ہیں نے اعلان کیا کہ وہ تمباکونوشی کیخلاف کرومیٹک کی مہم کو نہ‌صرف سراہتے ہیں بلکہ پنجاب میں انکے ساتھ ملکر آگاہی مہم پر بھی کام کریں گے، وزیراعظم کو تمباکو پر مزید ٹیکس لگانے کی بھی سفارش کریں گے،خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔دوسرے پروگرام میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    tobacco day

    تمباکو نوشی کیخلاف مہم کو قومی مہم بنا کر "تمباکو سے پاک پاکستان” کا نعرہ بلند کرنا ہو گا ، گو وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،تاہم اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، کرومیٹک جیسی این جی اوز محدود وسائل کی وجہ سے آگہی مہم محدود پیمانے پر چلا سکتی ہیں تاہم حکومت اس ضمن میں وسیع پیمانے پر وسائل کی وجہ سے کام کر سکتی ہے، کرومیٹک کی آگاہی مہم کی وجہ سے کئی نوجوان سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہیں،سوشل میڈیا پر کرومیٹک کی آگاہی مہم جاری رہتی ہے تو وہیں مختلف تقریبات کا انعقاد،سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلہ جات بھی کروائے جاتے ہیں، کرومیٹک کے سی ای او شارق خان انتہائی متحرک ہیں، قوم کو بچوں کو تمباکو سے بچانے کے لئے وزیراعظم سے لے کر اراکین اسمبلی تک انکی ملاقاتوں کا مقصدصرف ایک ہوتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگایا جائے، تا کہ قوم کے بچے، قوم کا مستقبل سگریٹ سے محفوظ ہو، سگریٹ مہنگا ہو گا تو اسکی خریداری کم ہو گی،اور یہ تجربہ ہو چکا کہ سگریٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے اسکی خریداری میں کمی آئی ہے.کرومیٹک کی انسداد تمباکو نوشی مہم میں پنجاب حکومت کی شمولیت انتہائی خوش آئند امر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کرومیٹک کی آگہی مہم کے ساتھ حکومت عملی اقدامات کرے، سگریٹ نوشی کے خلاف جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے، سگریٹ پر ٹیکس عائد کیا جائے،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہئے، تمباکو کی ایڈورٹائزمنٹ پر پابندی ہونی چاہئے. سگریٹ پینے والوں کی معاشرے میں بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے.سگریٹ پینے والا نہ صرف اپنا نقصان کر رہا ہے بلکہ ساتھ بیٹھنے والوں کا بھی نقصان کر رہا ہے. پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کیلئے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کیساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہم شروع کی جا ئے تاکہ عوام اس کے جان لیوا اثرات سے محفوظ رہیں اور اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ پاکستان کو ٹوبیکو فری بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سگریٹ سازی کی صنعت پر مزید بھاری ٹیکسز عائد کئے جائیں، پاکستان میں روزانہ 1200 سے زیادہ بچے تمباکو کا استعمال شروع کر رہے ہیں، اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الیکٹرانک تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان کے اعداد و شمار اور بھی تشویشناک ہیں۔ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے، تمباکو کی صنعت تمباکو کی مصنوعات کو فروغ دینے والے اشتہارات کے ذریعے گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔انکو بھی روکنے اور ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے.

    iqbal anjum

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • وزارت صحت پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام  "انسداد تمباکو نوشی سیمینار” کا انعقاد

    وزارت صحت پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام "انسداد تمباکو نوشی سیمینار” کا انعقاد

    انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر وزارت صحت پنجاب اور کرومیٹک کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں”انسداد تمباکو نوشی سیمینار” کا انعقاد کیا گیا۔

    انسداد تمباکو نوشی سیمینار میں صوبائی وزراء صحت خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر اراکین پنجاب اسمبلی قاسم ندیم اور آمنہ حسن شیخ، سی ای او کرومیٹک شارق خان،انچارج عالمی ادارہ صحت پنجاب ڈاکٹر جمشید، ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر الیاس گوندل، ایڈیشنل سیکرٹری بابر اعوان، ڈین آئی پی ایچ پروفیسر زرفشاں طاہر، پروفیسر عرفان ملک، سمیت خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہاکہ اس سال World No Tobacco کی تھیم نوجوان نسل کو تمباکو نوشی سے بچانا ہے۔ تمباکو نوشی کی مختلف اقسام شیشہ اور ای سگریٹ وغیرہ نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہیں۔عالمی دن برائے انسداد تمباکو کے موقع پر تمام ہسپتالوں میں آگاہی مہم چلائیں گے۔347 ارب روپے تمباکو نوشی پر خرچ ہوجانا، اس معاشرے کے ساتھ ظلم ہے۔

    صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ تمباکو نوشی کی تمام اقسام پر بھاری ٹیکس لگانے کے لئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے سفارش کریں گے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔

    سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او کرومیٹک شارق خان نے انسداد تمباکو نوشی کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر پنجاب حکومت اور وزارت صحت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے ناسور سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کرومیٹک ہر فورم پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    لاہور: صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کی ہدایت پر صوبائی وزارت تعلیم پنجاب اور تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے زیراہتمام انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

    تقریب میں لاہور کے تین سو سے زائد سرکاری اور پرائیویٹ سکولز کے پرنسپلز اور ٹیچرز شریک ہوئے۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی، ممبر پنجاب اسمبلی اور ٹوبیکو کنٹرول ایمبیسیڈر فار پاکستان آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

    بچوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے محفوظ بنا کر ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے،آمنہ حسن شیخ
    آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے بچانے کے لئے مستقل بنیادوں پر پنجاب بھر کے سکولز میں آگاہی مہم چلائی جائے گی اور اس سلسلے میں سکولز میں آگاہی پوسٹرز آویزاں کرنے کے ساتھ دیگر آگاہی طریقہ کار بھی اپنائے جائیں گے۔ آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ بچوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے محفوظ بنا کر ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کریں ایسے پروگرام ترتیب دیں جس سے آگاہی ہو ،آمنہ شیخ
    آمنہ شیخ کا کہنا تھا کہ 2019 میں مجھے کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنے کے لیے کہا، کرومیٹک کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں انہوں نے احسن انداز میں تمباکو نوشی کیخلاف مہم چلائی ۔ بین الاقوامی ایونٹ میں ہوئے۔ ن لیگ کی حکومت نے تمباکو پر ٹیکس بڑھایا مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس چیز پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کریں ایسے پروگرام ترتیب دیں جس سے آگاہی ہو ۔

    اس موقع پر ممبران پنجاب اسمبلی سلطان باجوہ اور ندیم قاسم کا کہنا تھا کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں لاکھوں بچے تمباکو نوشی کی لعنت میں مبتلا ہو کر نہ صرف اپنا مستقبل تباہ کررہے ہیں بلکہ اس کے اثرات معاشرے پر بھی پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم عمر بچوں کو تمباکو نوشی سے بچانے کے لئے سب کا مل کر کام کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے اساتذہ اور والدین مل کر تمباکو نوشی سے محفوظ اور صحت مند پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

    اس موقع پر کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے تمباکو نوشی کے خلاف سنجیدہ اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کرنے پر آمنہ حسن شیخ سمیت دیگر ممبران پنجاب اسمبلی اور صوبائی وزارت تعلیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں شریک ممبران اسمبلی اور دیگر شرکاء نے تمباکو نوشی کے خلاف موثر کردار ادا کرنے پر کرومیٹک کو سراہتے ہوئے مستقبل میں تمباکو نوشی کے ناسور کے خاتمے کے لئے کرومیٹک کے ساتھ مشترکہ کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد کروایا جائے۔شارق خان
    کرومیٹک کے سی او او شاروق خان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ برسوں میں کوشش کی ہے تمباکو پر ٹیکسز بڑھایا جائے ۔ قیمتیں ن لیگ کی حکومت نے بڑھائیں۔ جس طرح سگریٹ کی قیمت بڑھنی چاہئے اس طرح نہیں بڑھی ابھی تک بھی۔ تمباکو کے اوپر ہیلتھ لیوی لگا دیں اور اس اماونٹ کو ہیلتھ میں استعمال کریں تو بہت بہتر ہو گا۔ اب ہم کوشش کر رہے ہیں کہ قانون پاس کروائیں جس میں تمباکو کی مارکیٹنگ پر پابندی لگے۔ سکولز،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد کروایا جائے۔

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    tobacco day

  • انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    کرومیٹک نے انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز کردیا۔

    اسلام آباد: صحت عامہ کے شعبہ میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک نے چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز کردیا ہے۔ کرومیٹک پوسٹ کارڈ مقابلوں کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    رواں برس کرومیٹک پوسٹ کارڈ مقابلوں کا عنوان ” تمباکو نوشی، معیشت اور صحت عامہ پر بوجھ” ہے۔
    پوسٹ کارڈ مقابلوں میں شریک نوجوانوں میں پہلی پوزیشن لینے والے کو 50 ہزار روپے، دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو 30 ہزار روپے جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والے کو 20 ہزار روپے نقد انعام دیا جائے گا۔
    کرومیٹک انسداد تمباکو نوشی پوسٹ کارڈ سیزن 4 مقابلوں میں شرکت کے خواہشمند 15 سے 25 سال کے طلباء و طالبات سمیت کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نوجوان آرٹ ورک اور ڈیجیٹل ڈیزائن پر مبنی پوسٹ کارڈز کرومیٹک کو Pactpostcard@gmail.com پر بذریعہ ای میل 24 مئی تک بھجوا سکتے ہیں جبکہ اس حوالے سے تقریب تقسیم انعامات 31 مئی کو منعقد ہوگی۔

    کرومیٹک کی طرف سے منعقد کئے جانے والے انسداد تمباکو نوشی پوسٹ کارڈ مقابلوں کی اہمیت اور مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا یے کہ گذشتہ مقابلوں میں نوجوانوں کی طرف سے پاکستان بھر سے ہزاروں نوجوانوں نے آرٹ ورک اور ڈیجیٹل ڈیزائنوں کے ذریعے تمباکو نوشی کے خلاف مہم میں حصہ لیا۔

    کرومیٹک انسداد تمباکو نوشی پوسٹ کارڈ مقابلوں کو نہ صرف حکومتی سطح پر سراہا جاتا ہے بلکہ ماہرین صحت اور بین الاقوامی ادارے بھی پوسٹ کارڈ مقابلوں کے انعقاد کو تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

  • تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے حوالے سے موثر آواز اٹھانے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی منشیات کا گیٹ وے ہے،اب تمباکو انڈسٹری نئے پراڈکٹس لا رہی ہے، بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانا ہو گا،کرومیٹک ایک حد تک کام کر سکتی ہے،حکومت کے ساتھ ملکر تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے.

    نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شارق خان کا کہنا تھا کہ خواتین میں منشیات میں اضافہ ہو رہا ہے، منشیات اب ہر گھر کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، تمباکونوشی کو منشیات کا گیٹ وے کہا جاتا ہے،تمباکو نوشی شروع کر کے پھر منشیات کی طرف جاتے ہیں، اب تمباکو انڈسٹری نے نیا رخ لیا ہے، ای سگریٹ ،نیکوٹین پاؤچز متعارف کروا دیئے، چھوٹے بچوں اور خواتین کو اس پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،اس طرح تمباکو انڈسٹری ہمارے آنے والے کل کو تباہ کر رہی ہے،

    شارق خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے بارے قوانین موجود ہیں، اگر ان کو لاگو کیا جائے تو ہمارے ملک میں بہت سارے مسائل حل ہو جائیں،تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر تک کوئی کھوکھا نہیں بنا سکتے لیکن سکول کی دیوار کے ساتھ سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں، ویب سائٹ پر منشیات فروخت ہو رہی ہے، پتہ نہیں ہم ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، پچھلے تین برسوں سے ہم کام کر رہے ہیں، ہم نے تمباکو پر ٹیکس بڑھوایا، اب تمباکو انڈسٹری نئے پراڈکٹس لا رہی اوران پر گفٹس رکھ رہی ہے،12 سے 15بر س کے بچوں کو انڈسٹری ٹارگٹ کرتی ہے اور یہ پھر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں

    شارق خان کا مزید کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے والدین کا کردار انتہائی اہم ہے، پانچ چھ سال قبل والدین کے سامنے، یا گلی محلے میں کوئی لڑکا سگریٹ نہیں پیتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے، والدین ،اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو نہ صرف سگریٹ سے منع کرنا ہے بلکہ روکنا ہے، والدین اگر بچوں کے سامنے سگریٹ پی رہے ہیں تو شرمناک بات ہے، وہ نہ صرف اپنی صحت کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں بلکہ بچوں کے ساتھ بھی ، ہمیں بچوں کو سمجھانا چاہئے کہ یہ کول چیز نہیں بلکہ فضول چیز ہے،یہ غیر اخلاقی بات بھی ہے،

    شارق خان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کل سینیٹر عرفان صدیقی سے ملاقات ہوئی ہے، ان سے بات ہوئی کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف مہم چلائیں گے، 15 15 منٹ کی ڈسکشن ہر ماہ ہو گی، اس پر وزارت تعلیم سے بات کروں گا، تمباکو کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، قیمتیں زیادہ ہوں گی تا بچے خرید نہیں سکیں گے، ہم اینٹی ٹوبیکو یوتھ کلب بنا رہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ چلے، کرومیٹک ایک حد تک کام کر سکتی ہے، حکومت نیشن وائیڈ کام کر سکتی ہے، آنیوالے وقت میں ایک بہت بڑی مہم نظر آئے گی،یونیورسٹیز ہمارے ساتھ ہیں، وہاں ہماری مہم چل رہی ہے،

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    اسلام آباد: تمباکونوشی کے خاتمے کےحوالے سے موثر آواز اٹھانے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک کے زیراہتمام منعقدہ ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کانفرنس کے شرکاء نے حکومت سے نکوٹین پائوچز، ای سگریٹ اور شیشہ جیسی ماڈرن تمباکو مصنوعات پر فوری پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    کرومیٹک کے زیر اہتمام مری میں ہونے والی ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کانفرنس میں شرکا نے تمباکو کے جدید مگر منفی رجحانات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ یہ مصنوعات صرف انسانی صحت کیلئے مضر نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔ کرومیٹک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شارق خان نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کی اکثریت آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور تمباکو انڈسٹری نے نوجوانوں کو ہی اصل ہدف بنارکھا ہے۔ تعلیمی اداروں کے آس پاس ماڈرن تمباکو مصنوعات کے آؤٹ لیٹس یا کیبنز دستیاب ہونے کےباعث ان مضرصحت اشیاء تک طالبعلموں کی رسائی بالکل بھی مشکل نہیں رہی۔ نشے کے جدید ذرائع کی لت میں مبتلا ہوکر نوجوان اپنے ہاتھوں سے ہی اپنا مستقبل برباد کرنے پر تلے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

    شارق خان نے اس سلسلے میں حکومتی سطح پر فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ نوجوانوں میں جدید تمباکو مصنوعات کا بڑھتا ہوا استعمال ملک کے مستقبل کیلئے انتہائی خطرناک ہوگا۔ شارق خان نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ کن طریقوں سے نکوٹین پائوچز، ای سگریٹ اور ہیٹڈ ٹوبیکو پراڈکٹس بنانے والی کمپنیاں نوجوانوں کے ذہنوں سے کھیل کر انہیں مضرصحت اشیاء کے استعمال کا عادی بنا رہی ہیں۔

    ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کانفرنس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیمپین فار ٹوبیکو فری کڈز کے کنٹری ہیڈ ملک عمران نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان میں یومیہ بارہ سو بچے تمباکو استعمال کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ ملک عمران نے جدید تمباکو ذرائع کے غیرمضر ہونے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے باور کرایا کہ ویپ، ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز جیسی ماڈرن تمباکو مصنوعات بھی روایتی سگریٹ ہی کی طرح نقصان دہ ہیں۔ ملک عمران نے تمباکو نوشی کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی دگنی کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے تمباکو مصنوعات پر ٹیکس مزید بڑھانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونےوالا ٹیکس سگریٹ جیسی مصنوعات سے جنم لینےوالی بیماریوں کے سالانہ علاج پر خرچ کی جانے والی رقم سے بہت کم ہے۔ ملک عمران نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق تمباکو نوشی سے ملکی معیشت کو سالانہ 615 ارب روپے خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ تمباکو انڈسٹری سے حاصل ہونے والا سالانہ ریونیو 120 ارب سے 130 ارب کے درمیان ہے۔

    کانفرنس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ٹوبیکو کنٹرول سیل کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز جیسی اشیاء روایتی سگریٹ سے کم نقصان دہ ہیں، ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے تمباکو نوشی سے انسانی صحت کو پہنچنے والے نقصانات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روایتی سگریٹ اور تمباکو نوشی کی جدید اشیاء کے استعمال سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، سگریٹ کے استعمال سے کینسر اور دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر لاکھوں افراد ہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں جن کے علاج معالجے پر حکومت سالانہ کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے۔

    کرومیٹک ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کانفرنس میں کیمپین فار ٹوبیکو فری کڈز کی ڈائریکٹر سائوتھ ایشیاء ڈاکٹر ماہین ملک نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے حوالے سے کیمپین فار ٹوبیکو فری کڈز کی طرف سے کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

    کانفرنس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے صحافیوں، طبی و سماجی کارکنوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    Health Advocates Call on Government to Prohibit Modern Tobacco Products:

    Health Advocates Call on Government to Prohibit Modern Tobacco Products:

  • تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال جیسے مسئلےسے نمٹنے کے لیے سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) نےکمپین فارٹوبیکوفری کڈز(سی ٹی ایف کے) کیساتھ ایک مشترکہ تقریب کاانعقاد کیا،

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب کامقصد ان ہیروز کوخراج تحسین پیش کرنا تھاجنہوں نے تمباکو کنٹرول کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے،ان ہیروز میں اہم سرکاری عہدیدار،ماہرین صحت،میڈیا نمائندےاور اسٹیک ہولڈرزشامل ہیں، تقریب میں ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان سمیت دیگر چیمپئن کو شیلڈز دی گئیں، تقریب سے وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی،سی ٹی ایف کے ڈائریکٹرٹوبیکوکنٹرول ساؤتھ ایشیاء ریجن ڈاکٹر ماہین ملک، ڈاکٹر خلیل احمد، ملک عمران احمد، ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام و دیگر نے خطاب کیا، جبکہ تقریب میں کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا، مستنصر و دیگر بھی شریک ہوئے،

    نگران وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے تقریب سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ آج میں کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں جو لوگ گھروں یا دفاتر میں ہیں، ان پر سوچنا اور جواب بھی ضروری ہے، ایسی کون سی وبا ہے بیماری ہے جس کی وجہ سے ہر چھ سیکنڈ بعد اک شخص دنیا سے چلا جاتا ہے ایسی کونسی بیماری جس کی وجہ سے دس میں سے ایک شخص کی موت ہوتی ہے۔ بیسویں صدی میں کونسی جنگ لگی تھی کہ دس کروڑ لوگ زندگی سے محروم ہویے۔ ایسی کونسی جنگ ہے جس کی وجہ سے پچاس لاکھ لوگ زندگی سے محروم ہوتے ہیں۔ دس کروڑ پچھلی صدی میں مرے۔ یہ اعدادوشمار میں پچاس لاکھ ہر سال میں مارے جاتے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ یہ جنگ جاری رہی تو اگلے سات سال بعد 2030 تک پچاس سے اسی لاکھ تک چلی جائے گی یہ ہے وہ جنگ جس کے لڑاکا میرے سامنے بیٹھے ہیں اور میں انہیں خراج تحسین پیش کرنے آیا ہوں

    مرتضی سولنگی کا مزید کہنا تھا کہ اس ملک میں مضر صحت چیزوں کی فراوانی ہے تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی ہے، یہ انسانی زندگی کے لئے خطرہ ہے اس کا ذکر نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ کاروبار جڑا ہوا ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو اس پر پابندی ہونی چاہئے ۔ مستقبل کی ماحولیات کی تباہی انسانی زندگی کے لیے خطرہ ہے تمباکو نوشی بھی اسی لئے خطرہ ہے اسکے اثرات روز دیکھتے ہیں۔ کل بھی جب میں وزیر نہیں تھا تب بھی آپکا حامی تھا کل بھی رہوں گا

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    سی ٹی ایف کے ڈائریکٹرٹوبیکوکنٹرول ساؤتھ ایشیاء ریجن ڈاکٹر ماہین ملک نے پاکستان میں سی ٹی ایف کے کی شراکت دار تنظیم کے عزم پر اظہار تشکر کیا اورکہاکہ سی ٹی ایف کے تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر اور قابل عمل اقدامات اٹھائے گی ،انہوں نے کہاکہ سی ٹی ایف کے اس حوالے سے مربوط پالیسیوں کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی.

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نےتمباکوکے استعمال سے بچوں کی صحت اوران کی فلاح و بہبود پر پڑنے والے برے اثرات جیسے اہم مسئلے کواجاگرکرتے ہوئے کہاکہ انسدادتمباکو کے حوالے سے مرتب کی گئی سفارشات پر عمل درآمد کرکے ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول قائم کیاجاسکتا ہے ،اس بات کو یقینی بنائینگے کہ ہمارے نوجوان تمباکو سے دور رہ کر پروان چڑھیں،تقریب میں حکومتی، تعلیمی اداروں، میڈیا اور نوجوانوں سمیت دیگرایسے تمام افرادکو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے اپنے آپ کو تمباکو سے پاک پاکستان کیلئے وقف کر رکھا ہے۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں جس سفر کا آغاز کچھ برس قبل کیا تھا کچھ قدم اس میں آگے بڑھے ہیں، آج ہم اس مقام پر ہیں کہ پاکستان کا ٹوبیکو کنٹرول بہتر ہے، فیڈرل ہیلتھ لیوی آج بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ٹیکس بڑھے ، چند دن قبل ایف بی آر کا اپنا ڈیٹا ریلیز ہوا سب سے زیادہ ریونیو ٹوبیکو سے ہوا۔ اب بھی ضرورت ہے کہ ٹیکسز کو مزید بڑھایا جائے ،

    ملک عمران احمد کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنیوالے آج یہاں جمع ہیں بہت کم موقع ملا کہ انکی کوششوں کو خراج تحسین پیش کریں۔ ٹوبیکو کنٹرول چیمپین جنہوں نے اس کاز کے لئے کام کیا انکی کوششوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہی کی کوششوں کی وجہ سے تمباکو نوشی کے خلاف پاکستان میں مہم چلی، پارلیمنٹ میں بات ہوئی اور تمباکو پر ٹیکس بھی لگا ۔

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

  • حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    بچوں کے عالمی دن کے موقع پر کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے کہاہے کہ ہم حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ بچوں کو سگریٹ نوشی اور ویپنگ کی لعنت میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کے موقع پر تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی پاکستانی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے، پاکستان میں بچوں میں تمباکو کا بڑھتا ہوا رجحان لمحہ فکریہ ہے، تمباکو نوشی سےنہ صرف اموات میں اضافہ بلکہ بیماریاں بھی پھیلتی ہیں،والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو سگریٹ نوشی سے دور رہنے کی تربیت کریں، تعلیمی اداروں میں اساتذہ اس حوالہ سے کردار ادا کریں، مساجد کے امام خطبات جمعہ میں سگریٹ نوشی سے دو ر رہنے کی تلقین کریں، معاشرے سے سگریٹ نوشی تب ہی ختم ہو سکتی ہے جب سب ملکر کام کریں گے،حکومت بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور خصوصا تعلیمی اداروں کے گردونواح میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی کے حکمنامے کو یقینی بنائے، سگریٹ پر ٹیکس بڑھایا جائے، اس سے سگریٹ نہ صرف بچوں کی پہنچ سے دور ہو گا بلکہ پاکستانی معیشت بھی مستحکم ہو گی.

    شارق خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی نئی مصنوعات (ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز، ویپنگ اور چیونگم) بھی پاکستانی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں جو نوجوانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔تمباکو کی جدید پراڈکٹس میں نیکوٹین شامل ہوتی ہے جو کہ نشہ کی بہت سی دوسری اقسام میں سے ایک ہے۔نکوٹین نوجوان نسل میں جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تمباکو مصنوعات بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ تمباکو کی جدید مصنوعات کے ذریعے وہ سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن درحقیقت یہ نشے کی ہی نت نئی اقسام بنارہے ہیں۔یورپ میں ہونے والی جدید تحقیق نے ان مصنوعات کے خطرات کے بارے میں تفصیلی انتباہ دیا ہے۔ تمباکو کی جدید مصنوعات چاہے کسی بھی شکل میں ہوں، یہ منہ کا کینسر، سانس کے مسائل اور پھیپھڑوں کی سوزش کا سبب بنتے ہیں۔

    کرومیٹک کے رہنما، طیب رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یومیہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کررہے ہیں،یہ اعدادو شمار لمحہ فکریہ ہیں، تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنے کے لئے قومی جذبے کی ضرورت ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہر طرف پیغام پہنچائیں کہ تمباکو نوشی سے دور رہیں اور صحتمند زندگی گزاریں،سگریٹ بچوں کی پہنچ سے دور کرنے کے لئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے، ان میں سے سب سے اہم تمباکو پر ٹیکس ہے، ٹیکس لگے گا تو سگریٹ مہنگا ہو گا اور بچوں کی پہنچ سے دور ہو گا.پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے.

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

  • تمباکو  سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    سگریٹ نوشی مضر صحت ہے، پیسےکا ضیاع، بیماریوں کا باعث،آج نہیں تو کل ڈاکٹر کے کہنے پر سگریٹ نوشی ترک کرنی پڑے گی، بہتر یہی ہے کہ کل کا انتظا رکرنے کی بجائے،آج ہی سگریٹ نوشی ترک کرنے کا فیصلہ کر لیں، ہاں، سگریٹ نوشی ترک کی جا سکتی ہے مگر اس صورت میں جب آپ سوچیں اور فیصلہ کریں، جب سوچ کر فیصلہ کر لیں گے تو یہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کی طرف پہلا قدم ہو گا، چلنا شروع ہوں گے تو منزل تک پہنچ جائیں گے

    اگر سگریٹ نوشی ترک کرنے بارے نہیں سوچا تو لازمی سوچیں، اپنی صحت کے بارے سوچیں، اپنے اہلخانہ کے بارے سوچیں اور پھر ارادہ کریں، فیصلہ کریں، یقینا کامیابی ہی ملے گی،سگریٹ نوشی ترک کرنا مشکل نہیں بلکہ ممکنات میں سے ہے، معاشرے میں ایسے ہزاروں افراد موجود ہیں جو سگریٹ ترک کر چکے اور صحتمندانہ زندگی گزار رہے ہیں،اسکے لیے منصوبہ بندی کرنی ہو گی اور اپنے دل و دماغ میں یہ خیال لانا ہو گا کہ سگریٹ ….مضر صحت ہے، ڈاکٹر کے کہنے پر اگر چاول، تلی ہوئی چیزیں کچھ دن چھوڑ دیتے ہیں، کھانے میں نرم غذا کھاتے ہیں تو سگریٹ نوشی کو بھی کم از کم ڈاکٹر کے کہنے سے قبل ہی چھوڑا جا سکتا ہے.

    تمباکو نوشی کرنے والے بہت سے لوگ نیکوٹین کے عادی ہو جاتے ہیں جو سگریٹ اور دیگر تمباکو کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے،ماہرین کے مطابق سگریٹ کو ترک کرنے کے لیے نیکوٹین متبادل تھراپی کریں یعنی چیونگ گم، انہیلر سمیت کچھ دوسری چیزوں کا استعمال کریں،نہ چھوڑنے کی عادت،اور دماغ میں بسا لینا کہ نہیں چھوڑ سکتے، ایسا بالکل بھی نہیں اگر عزم مصمم کر لیں تو سگریٹ…ابھی بھی اور اسی وقت ہی چھوڑا جا سکتا ہے،آپ کب سے تمباکو نوشی کر رہے ہیں، کتنے سگریٹ پیتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گابھلے ایک منٹ میں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیں، کوئی ہچکچاہٹ ہے تو معالج سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے،

    تمباکو نوشی چھوڑنے میں کبھی دیر نہیں کرنی چاہئے۔ تمباکو نوشی چھوڑنا صحت کو بہتر بناتا ہے دل کی بیماری، کینسر، پھیپھڑوں کی بیماری سمیت دیگر بیماریوں کا خطرہ کم کرتا ہے۔سگریٹ نوشی ترک کرنا خاندان کے افراد، دوستوں اور دوسروں کو سانس لینے کے دوسرے دھوئیں سے منسلک خطرات سے بچانے کا واحد بہترین طریقہ ہے۔سگریٹ کا دھواں ان لوگوں کے لیے بھی خطرناک ہےجو سگرٹ نہیں پیتے مگر اس دھویں میں سانس لیتے ہیں،

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اگر سگریٹ کی طلب ہو رہی ہے تو اس میں تاخیر کریں، گھنٹے بعد سگریٹ پیتے ہیں تو دو گھنٹے، پھر چار ،پھر چھ گھنٹے بعد پیئیں، آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھاتے جائیں ،بالآخر …آپ آخری سگریٹ پی کر …سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہوں گے.

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے سوچیں کہ سگریٹ سے کتنا مالی نقصان ہو رہا، جو قیمت سگریٹ کی دی جا رہی اسی قیمت میں اور کام کئے جا سکتے ہیں،انہی پیسوں کا دودھ پی کر صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے، فروٹ کھایا جا سکتا ہے،سوچیں…آپکا دماغ آپ کو مجبور کر دے گاکہ واقعی سگریٹ مضر صحت اور پیسے کے ضیاع کا طریقہ ہے،موجودہ مہنگائی کے دور میں اگر اور کچھ نہیں کرتے تو سگریٹ ترک کرکے سگریٹ پر خرچ کی جانے والی رقم مشکل وقت کے لئے محفوظ کر لیں

    ترک سگرٹ نوشی سے آپ اپنےآپ کو نہ صرف صحت مند،چست و توانامحسوس کریں گے بلکہ لمبی زندگی پائیں گے، بیماریوں سے محفوظ رہیں گے، مالی بچت بھی ہو گی،اسلئے بغیر کسی تاخیر..فیصلہ کریں، ترک کریں اور نعرہ لگائیں..تمباکو سے پاک پاکستان.

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید