Baaghi TV

Tag: کرومیٹک

  • انسداد تمباکو نوشی کانفرنس، 5 ججز آذربائیجان جائیں گے

    انسداد تمباکو نوشی کانفرنس، 5 ججز آذربائیجان جائیں گے

    تمباکو نوشی روکنے کیلئے عالمی ورکشاپ 21 اگست کو آذربائیجان میں ہوگی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی ، جسٹس جواد حسن سمیت 5 ججز شرکت کرینگے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز آج ایک بجے آذربائیجان کے لئے روانہ ہوں گے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن آذربائیجان روانہ ہوں گے اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج جسٹس ثمن امتیاز بھی ورکشاپ میں شرکت کرینگی آذربائیجان میں عالمی ورکشاپ 21 اور 22 اگست کو ہوگی.چیف جسٹس ہائیکورٹ کی منظوری کےبعد ججز کے بیرون ملک جانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

    عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس پوری دنیا میں تمباکو نوشی سے نو ملین اموات ہوئی ہیں، تمباکو اب بھی دنیا میں قابل تدارک بیماریوں سے اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی ستر فیصد آبادی کم از کم تمباکو سے محفوظ ہے،عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پندرہ سال قبل متعارف کرائے جانے کے بعد سے عالمی سطح پر تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آئی لیکن صرف پچھلے سال سگریٹ نوشی سے تقریباً نو ملین افراد ہلاک ہوئے

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے کام کرنیوالی تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے،

  • کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کی وفاقی سیکرٹری صحت سے ملاقات

    کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کی وفاقی سیکرٹری صحت سے ملاقات

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے دور کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو
    اسلام آباد: وفاقی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی ایک ناسور ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کم عمری سے ہی اس لت میں مبتلا ہورہی ہے جس کے سدباب کے لئے حکومت انتہائی سنجیدہ ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے وفاقی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو سے ان کے دفتر میں ملاقات کی،

    اس موقع پر شارق خان نے ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو کو تمباکو نوشی کے خاتمے کے حوالے سے کرومیٹک کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ شارق خان نے کہا کہ سگریٹ کے متبادل کے طور پر نوجوانوں میں شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز کا استعمال عام ہو رہا ہے، نوجوانوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ سگریٹ کے متبادل اشیاء بھی سگریٹ ہی کی طرح نقصان دہ ہیں اس لئے شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز پر بھی حکومت کو فوری پابندی عائد کرنی چاہئے تاکہ نوجوان نسل اس لعنت میں مبتلا ہو کر اپنی صحت اور پیسے کا ضیاع نہ کریں۔

    اس موقع پر ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو نے کہا کہ پاکستان میں 12 سو سے زائد بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں، یہ صورتحال تشویش ناک ہے اور اس کے سد باب کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے، سگریٹ کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو نے کہا کہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے کرومیٹک کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن،عہد کریں،محنت کی کمائی کو آگ نہیں لگائینگے

    انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن،عہد کریں،محنت کی کمائی کو آگ نہیں لگائینگے

    تمباکو نوشی کسی بھی شکل میں ہو، صحت کے لئے مضر ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سگریٹ نوشی کی روک تھام کا دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے ، انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر سگریٹ پیمے والے افراد سے درخواست ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کا مضبوط ارادہ کریں اورصحت مند طرز حیات اپنائیں

    تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل نے کی جبکہ آگہی واک میں ای پی آئی ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار اعوان، ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹر یداللہ سمیت محکمہ صحت کے افسران بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر الیاس گوندل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ تمباکو نوشی واک کا انعقاد ایسویسی ایشن فار بیٹر پاکستان کے تعاون سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہرسال پاکستان میں ہزاروں افراد تمباکونوشی کے باعث کینسر کی مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں اور منہ کا کینسر بھی بڑھ رہا ہے. ڈی جی ہیلتھ کا کہنا تھا کہ پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کی وجہ سے سیکڑوں افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں.پاکستان میں نوجوان نسل بڑی تعداد میں تمباکو نوشی میں مبتلا ہو رہی ہے. ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا کہ تمباکونوشی کی روک تھام کیلئے حکومت کو سخت ایکشن لینا چاہیے.

    31 مئی انسداد تمباکو نوشی دن کی مناسبت سے ضلعی انتظامیہ گوجرانوالہ کے زیراہتمام سکولوں اور کالجوں کی سطح پر انسداد تمباکو نوشی پینٹنگ کمپیٹیشن( پوسٹر ) مقابلوں کاا نعقاد کیا جارہا ہے تاکہ تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصانات سے نوجوان نسل کو آگاہ کیا جا سکے۔

    انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے کام کرنیوالی تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے، ہمیں اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل اور ان کی اچھی صحت کے لئے تمباکو نوشی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اس حوالے سے حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شارق خان نے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو مصنوعات مہنگی ہونے کے دورس مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کسی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر صحت عامہ کے مفادات اور خاص طور پر نوجوانوں کو تمباکو کے ناسور سے بچانے کے لئے تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر ٹیکسز کو برقرار رکھنا اور تمباکو مصنوعات کی قیتموں میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔

    فلاحی ادارے چھیپا کے سربراہ رمضان چھیپا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن پر میں جانتے بوجھتے اپنی زندگی کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دینے والے افراد کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں ، زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کیلئے سب سے قیمتی تحفہ ہے اس کی قدر کریں۔

  • ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ،کرومیٹک کی طرف سے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں کا کامیاب انعقاد

    ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ،کرومیٹک کی طرف سے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں کا کامیاب انعقاد

    غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک کی طرف سے ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے کی مناسبت سے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ پاکستان بھر سے نوجوانوں نے خوبصورت ڈرائنگ کے ذریعے تمباکو اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاشرے پر مثبت اثرات کو اجاگر کیا۔ ملک بھر سے موصول ہونے والے ڈیزائنز میں سے 3 بہترین ڈایزائن بنانے والے نوجوانوں کو نقد انعامات دیئے گے۔

    اس حوالے سے اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی وزیرمملکت فیصل کریم خان کنڈی اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو تھے، تقریب میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلباء اور صحافیوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر کرومیٹک کے چیف ایگزیکٹیو شارق خان نے پوسٹ کارڈ مقابلوں کی اہمیت اور نتائج کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ شارق خان نے کہا کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے، ہمیں اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل اور ان کی اچھی صحت کے لئے تمباکو نوشی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اس حوالے سے حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شارق خان نے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو مصنوعات مہنگی ہونے کے دورس مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کسی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر صحت عامہ کے مفادات اور خاص طور پر نوجوانوں کو تمباکو کے ناسور سے بچانے کے لئے تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر ٹیکسز کو برقرار رکھنا اور تمباکو مصنوعات کی قیتموں میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔ شارق خان نے موجودہ حکومت کی طرف سے رواں سال فروری میں تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس حکومتی فیصلے سے نہ صرف حکومتی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا بلکہ تمباکو مصنوعات مہنگے ہونے سے تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، شارق خان نے کہا کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے سے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان کو روکا جا سکتا ہے، شارق خان نے کہا کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں تمباکو کے استعمال سے صحت عامہ پر آنے والے اخراجات معاشی چیلنج سے کم نہیں کیونکہ تمباکو پر خرچ ہونے والی رقم صحت عامہ کے منصوبوں، تعلیم اور دیگر منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔

    تقریب کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ٹوبیکو کنٹرول سیل کے سابق ہیڈ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے تمباکو کی جدید مصنوعات شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز پر بھی فوری پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سگریٹ کے متبادل اشیاء مضرصحت نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ شیشہ، نکوٹین پائوچز اور ای سگریٹ بھی روایتی سگریٹ ہی کی طرح خطرناک ثابت ہورہی ہیں اور نوجوان ان کے استعمال سے گلے اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے حکومت پر زور دیا کہ سگریٹ کے متبادل اشیاء کی فروخت پر فوری پابندی لگا کر نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی ممبر آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں، نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ تمباکو نوشی کے ناسور کا معاشرے سے خاتمہ کیا جائے۔ آمنہ حسن شیخ نے کہا کہ بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانے میں والدین کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ تقریب تقسیم انعامات کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی عامر رفیق بٹ نے کہا کہ تمباکو نوشی کے خاتمے میں میڈیا کے کردار سے انکار ممکن نہیں، انہوں نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر تمباکو مصنوعات کی حوصلہ شکنی کی جائے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمباکو نوشی کے خاتمہ کے لئے نیشنل پریس کلب ہر طرح سے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ تقریب کے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم کے خصوصی مشیر فیصل کریم کنڈی نے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں میں حصہ لینے والے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سراہا، انہوں نے کہا کہ ملک میں روزانہ 12 سو بچوں کا سگریٹ شروع کرنا تشویش ناک بات ہے، ساتھ ہی فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ سگریٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد مختلف طریقوں سے نوجوانوں کو سگریٹ نوشی اور تمباکو کی دیگر جدید مصنوعات کی طرف راغب کررہے ہیں جس کی روک تھام بہت ضروری ہے۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ سومرو نے کرومیٹک کی طرف سے پوسٹ کارڈ سیزن 3 مقابلوں کے کامیاب انعقاد پر کرومیٹک کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی، انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اس لئے ان کی اچھی صحت اور عادات کے بارے میں فکرمند ہونا ایک فطری عمل ہے، انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے جس کے خلاف نوجوانوں کو خود کھڑا ہونا ہوگا۔ ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ سومرو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت عامہ کے حوالے سے اقدامات حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں اور وہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانے کے لئے ہرفورم پر اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔

    انہوں نے پوسٹ کارڈ مقابلوں میں نوجوانوں کی پاکستان بھر سے بھرپور شرکت اور اس ایونٹ کی کامیابی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے مقابلوں کا انعقاد تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو اس لعنت سے محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • ای سگریٹ کے مارکیٹ میں سرعام فروخت کی  اجازت

    ای سگریٹ کے مارکیٹ میں سرعام فروخت کی اجازت

    سگریٹ نوشی مضر صحت، بیماریوں کا باعث تا ہم حکومت کی جانب سے اب ای سگریٹ کے مارکیٹ میں سرعام فروخت کی مشروط طور پر اجازت دے دی گئی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزارت صحت نے ای سگریٹ کے بازار میں عام فروخت کی اجازت دے دی ہے، الیکٹرانک سگریٹ، سگار، پاکٹ سائز شیشہ اب بازار میں جنرل سٹورز، پان کی دکانوں پر فروخت ہو سکیں گے،اس ضمن میں وزارت صحت نے مشروط اجازت دے دی ہے، وزارت صحت کے مطابق تمباکو ہیٹڈ پروڈکٹس کیلئے ان کے 65 فیصد حصے پر مضر صحت کی وارننگ شائع کرنا لازم ہو گی، فیصلہ تمباکو نوشی کی تمام اقسام کو ضابطے کے تحت لانے کیلئے کیا گیا ،وزارت صحت کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کا تمباکو کنٹرول سے متعلق کنونشن بھی تمباکو پر پابندی یا اسے ریگولرائز کرنے کی اجازت دیتا ہے

    دوسری جانب طبی ماہرین نے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹوبیکو ہیٹڈ پروڈکٹس بھی عام سگریٹس کی طرح ہی مضر صحت ہیں ، تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی نئی مصنوعات (ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز، ویپنگ اور چیونگم) بھی پاکستانی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں جو نوجوانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔تمباکو کی جدید پراڈکٹس میں نیکوٹین شامل ہوتی ہے جو کہ نشہ کی بہت سی دوسری اقسام میں سے ایک ہے۔ نکوٹین نوجوان نسل میں جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تمباکو مصنوعات بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ تمباکو کی جدید مصنوعات کے ذریعے وہ سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن درحقیقت یہ نشے کی ہی نت نئی اقسام بنارہے ہیں،

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • تمباکوکی جدید مصنوعات نوجوانوں کے لئے تباہ کن ہے، شارق خان

    تمباکوکی جدید مصنوعات نوجوانوں کے لئے تباہ کن ہے، شارق خان

    سگریٹ کے نعم البدل تمباکو کی جدید مصنوعات نوجوانوں کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔

    سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی نئی مصنوعات ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز، ویپنگ اور چیونگم سے پھیپھڑوں کی سوزش اور سانس کی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔

    اسلام آباد: پاکستان میں روزانہ 1200 سے زائد بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں جبکہ ہر سال ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد تمباکو سے پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی نئی مصنوعات (ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز، ویپنگ اور چیونگم) بھی پاکستانی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں جو نوجوانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔تمباکو کی جدید پراڈکٹس میں نیکوٹین شامل ہوتی ہے جو کہ نشہ کی بہت سی دوسری اقسام میں سے ایک ہے۔

    نکوٹین نوجوان نسل میں جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تمباکو مصنوعات بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ تمباکو کی جدید مصنوعات کے ذریعے وہ سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن درحقیقت یہ نشے کی ہی نت نئی اقسام بنارہے ہیں۔یورپ میں ہونے والی جدید تحقیق نے ان مصنوعات کے خطرات کے بارے میں تفصیلی انتباہ دیا ہے۔ تمباکو کی جدید مصنوعات چاہے کسی بھی شکل میں ہوں، یہ منہ کا کینسر، سانس کے مسائل اور پھیپھڑوں کی سوزش کا سبب بنتے ہیں۔

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • جدید تمباکو کی مصنوعات پر پابندی کے حوالہ سے آگاہی ،پوسٹر مقابلہ،نتائج کا اعلان

    جدید تمباکو کی مصنوعات پر پابندی کے حوالہ سے آگاہی ،پوسٹر مقابلہ،نتائج کا اعلان

    جدید تمباکو کی مصنوعات پر پابندی کے حوالہ سے آگاہی ،پوسٹر مقابلہ،نتائج کا اعلان

    نوجوانوں نے سگریٹ نوشی، نیکوٹین پاؤچز اور تمباکو کی جدید اقسام کے خلاف پوسٹ کارڈ مقابلے کو کامیاب کر دیا جبکہ کرمیٹک ٹرسٹ نے تمباکو نوشی کی جدید مصنوعات کے خلاف آگاہی مہم کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے

    پاکستان کو تمباکو سے پاک بنانے کی کوشش میں کرومیٹک ٹرسٹ نے نکوٹین پاؤچز اور جدید تمباکو کی مصنوعات پر پابندی لگانے کے لیے آگاہی مہم کا دوسرا سالانہ مقابلہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے ،ایک ماہ تک جاری رہنے والی اس ڈیجیٹل مہم کے دوران، کرومیٹک ٹرسٹ نے 8 سے 25 سال کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں نکوٹین پاؤچز اور تمباکو نوشی کی جدید اقسام پہ فوٹوشاپ، السٹریٹر اور دوسرے سافٹ ویئرز کے ذریعے پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرنے کے لیے آگاہ کیا۔

    اس پوسٹ کارڈ مقابلے کے دوران پاکستان بھر سے 500 سے زائد اندراجات موصول ہوئے۔ ماہرین کی جیوری نے 50 ہزار روپے کا پہلا انعام کراچی سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوروز وڈسریا کو منتخب کیا، دوسرا انعام اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ام رباب دوسرے نمبر پہ رہی اور انہیں 20 ہزار روپے کا انعام دیا گیا جبکہ اور تیسرے نمبر پہ 25 لاہور سے سالہ عبدالرحمان ناگی رہے جنہوں نے10 ہزار روپے کا انعام جیتا۔اس آرٹ واک کے دوران تمام 500 اندراجات کی نمائش تقریب اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کی گئی جس میں ماہرین صحت، پالیسی ساز، میڈیا کے نمائندے اور طلباء و طالبات موجود تھے۔
    ۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی فیصل کریم کنڈی نے کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او جناب شارق خان کو بچوں کے مابین یہ تخلیقی مقابلہ کروانے پہ مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس پوسٹ کارڈ مقابلے میں حصہ لینے والے سبھی بچے فاتح ہیں۔انہوں نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچوں کو نکوٹین پاؤچز اور ای سگریٹ کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے کرومیٹک ٹرسٹ کی کوششوں کو سراہا۔ فیصل کریم کنڈی نے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے خاتمے بالخصوص نیکوٹین پاؤچز کی فروخت پہ قانونی گرفت مضبوط کرنے کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

    سابق سینیٹر سحر کامران نے اس بات پر زور دیا کہ تمباکو نوشی کی ان جدید مصنوعات کا اصل ہدف نوجوان لڑکیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تمباکو نوشی سے پاک کرنا پاکستان پیپلز پارٹی کا عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نشے کی اس لعنت کے خلاف اقتدار کے ایونوں میں اٹھائیں گی۔

    مسلم لیگ ن کی رہنما اور پارلیمانی ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جیز کی کنوینئر محترمہ رومینہ خورشید عالم نے کہا سگریٹ نوشی بالخصوص تمباکو کی جدید اقسام کے استعمال کا رجحان لڑکیوں میں بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی آنیوالی نسل کو محفوظ بنانے کے لیے آگاہی مہم کو مزید تیز کرنا ہو گا۔ انہوں نے کرومیٹک ٹرسٹ کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس پوسٹ کارڈ مقابلے سے پورے ملک میں یہ پیغام گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے کس قدر سنجیدہ ہیں ۔

    کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او، شارق خان نے کہا کہ اس پوسٹ کارڈ مقابلے کا آئیڈیا پاکستان کے نوجوانوں میں آگاہی پھیلانا تھا کیونکہ تمباکو کمپنیاں نوجوانوں کو نشے کا عادی بنانے کے لیے نئی مصنوعات کے ساتھ نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان بچوں اور بچیوں کی نیکوٹین پاؤچ کی مارکیٹنگ پر پابندی عائد کی جائے۔

    شارق خان نے اس مقابلے میں حصہ لینے والے ہر بچے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان بچوں کے والدین خصوصی تحسین کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے بچوں کو اس مہم کا حصہ بننے کے لیے حوصلہ افزائی ۔شارق خان نے کہا کہ نیکوٹین کے پاؤچز اور تمباکو کی جدید مصنوعات عمر یا جنس سے قطع نظر ہر ایک کے لیے خطرہ ہیں۔ نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ نکوٹین کے پاؤچ دیگر صارفین کی مصنوعات کی طرح نہیں ہیں یہ خطرناک ہیں اور یہ موت اور مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

    کنٹری ڈائریکٹر CTFK، ملک عمران نے کرومیٹک ٹرسٹ کو آگاہی مہم کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور تمباکو کنٹرول کی کوششوں کی پائیداری کے لیے ہر سال اس مقابلے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ اس سرگرمی کے نتیجے میں نکوٹین پاؤچز اور تمباکو کی جدید مصنوعات کے استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے۔ملک عمران نے مزید کہا کہ تمباکو پاکستان اور دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمباکو دنیا میں سالانہ 7 ملین اموات کا ذمہ دار ہے جن میں سے 60 لاکھ افراد تمباکو کے استعمال سے اور 600,000 کے قریب دوسرے شخص کے سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پوسٹ کارڈ مقابلہ گزشتہ سال کی کرومیٹک کی آگاہی مہم کا تسلسل ہے جس کے ذریعے کرومیٹک ٹرسٹ کا پیغام پاکستان بھر کے لاکھوں بچوں کو سگریٹ نوشی کے خطرات اور اس سے ان کی قیمتی صحت کو نقصان پہنچانے کے بارے میں پہنچایا گیا۔

  • رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    رواں بجٹ میں تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھایا جائے،شارق خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کل جمعہ کو بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے

    بجٹ پیش کرنے سے قبل ٹرسٹ کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے ن لیگ رہنما مریم نواز اور وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کی ہے،شارق خان کا کہنا تھا کہ چار سال ہو گئے ہیں تمباکو پر ٹیکس نہیں لگا، حکومت کو بجٹ میں چاہئے کہ تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگایا جائے،

    دوسری جانب تمباکو مصنوعات پر ٹیکس لگانے کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹرینڈ بھی جمعرات کو ٹاپ پر رہا، صارفین نے حکومت سے تمباکو کی صنعت پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کیا، اب اتحادیوں جماعتوں کی حکومت ہے اور یہ حکومت پہلا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، اس سے قبل تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں تمباکو پر ٹیکس میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا تھا،اب عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سگریٹ کی قیمت میں اضافہ کیا جائے،

    حکومت سے اپیل ہے کہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے بیماریوں میں اضافہ کی وجہ بننے والے دو غیر ضروری عوامل تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ پر سنجیدگی سے سوچے،ان پر ٹیکس میں اضافہ سے نہ صرف قومی خزانے کو سالانہ 105 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا،بلکہ ہیلتھ برڈن میں بھی نمایاں طور پر کمی واقع ہوگی

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    https://twitter.com/fahad4014/status/1534800506375356416?s=21&t=b-GhCgIY1BE3we6sDRq8gA