Baaghi TV

Tag: کرونا اپڈیٹ

  • وزیراعظم کا ایمز میں غفلت کے مرتکب آفیسران کے خلاف کارؤائی کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب، عملے کو حفاظتی کٹس کی باقاعدگی سے فراہمی اور تمام سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا

    وزیراعظم کا ایمز میں غفلت کے مرتکب آفیسران کے خلاف کارؤائی کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب، عملے کو حفاظتی کٹس کی باقاعدگی سے فراہمی اور تمام سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا

    ایمز میں مریض میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد "وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے انتظامیہ کو سخت ترین اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی” ایمز میں غفلت کے مرتکب آفیسران کے حوالے سے فوری رپورٹ طلب اعلی سطحی اجلاس طلب کر لیا راجہ محمد فاروق حیدر خان نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتال کے تمام عملے جو متعلقہ مریض سے رابطے میں رہے کے ٹیسٹ کروائے جائیں اور نتائج آنے تک انہیں قرنطینہ میں رکھا جاے اس شخص سے ملنے عیادت کرنے کے لیے آنیوالے ہر شخص کو ٹریس کیا جائے اور اس کے رابطے والوں کو بھی قرنطینہ کیا جاے اس معاملے میں کوئی غفلت اور لاپرواہی کی گنجائش نہیں.
    وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ جب عوام تعاون نہیں کریگی ہم کچھ نہیں کرسکتے خدارا ہسپتالوں میں نا جائیں عیادت بعد میں بھی ہو جائیگی میں دست بدستہ آپ سے عرض کرتا ہوں ہدایات پر عمل کریں ہمارے ساتھ تعاون کریں اب کسی سے نرمی نہیں برتی جائیگی وزیراعظم آزادکشمیر کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر بدر منیر اور ایس ایس پی نے ایمز کا دورہ کیا اور ہسپتال میں عملے اور مریضوں کی صورتحال کا جائزہ لیا علاقے میں مکمل لاک ڈاون کر دیا گیا ہے مظفرآبادایمز میں کورونا کا مریض سامنے آنے کے بعد اس سے رابطے میں رہنے اور عیادت کرنے والے علاج کرنے والے تمام ڈاکٹرز کو قرنطینہ منتقل کیا جارہا ہے ہسپتال کو ڈس انفیکٹ کرنے کے لیے سپرے جاری ہے.
    متاثرہ مریض کا ٹیسٹ امبور میں ہی لیا گیا تھا اور پہلی بار ہی پازیٹیو آیا وزیراعظم نے محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں عیادت کے لیے آنے والے افراد پر پابندی کو مزید سخت کیا جاے امبور میں پیش آنے والے واقعے کو ٹیسٹ کیس سمجھتے ہوے اس کے تمام رابطوں کو بھی سکرین کیا جاے وزیراعظم نے عملے کو حفاظتی کٹس کی باقاعدگی سے فراہمی اور تمام سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا.

  • مظفرآباد میں کرونا سے متاثرپہلا کیس سامنے آگیا، عباس انٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزامبورانتظامیہ کی غفلت اورنااہلی کی وجہ سے ضلع بھر میں خوف و ہراس

    مظفرآباد میں کرونا سے متاثرپہلا کیس سامنے آگیا، عباس انٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزامبورانتظامیہ کی غفلت اورنااہلی کی وجہ سے ضلع بھر میں خوف و ہراس

    مظفرآباد (عطاءالرحمٰن) دارالحکومت مظفرآباد میں کروناسے متاثرہ مریض کے حوالے سے ایمز امبور کی انتظامیہ کی مبیئنہ غفلت اور نااہلی کھل کر سامنے آگئ،ایگزیکٹیوڈائریکٹر ایمز اور جوائنٹ ایگزیکٹیوڈائریکٹر کی سنگین غفلت کا انکشاف۔
    5 دن تک کورونا سے متاثر مریض ہسپتال میں داخل رہا ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے تحفظات کے باوجود مریض کو نہ تو الگ سے ٹریٹمینٹ دیا گیا اور نہ ہی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس فراہم کی گئی.اب مزکورہ مریض کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ایک سنگین صورتحال سامنے آنے کا حدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ مزکورہ مریض 5 اپریل کو پہلے دن ایمرجنسی میں داخل کیا گیا بعدازاں 12.30 پر اسے میڈیکل وارڈ 2 کے بیڈ نمبر ایک پر شفٹ کیا گیا جہاں پر ڈاکٹرز ، پیرامیڈیکل سٹاف سمیت دیگر متعلقہ عملہ اس مریض کو ٹریمینٹ کرتا رہا اور مزکورہ مریض کو جس مشین سے بھاپ دی جاتی رہی اُسی مشین سے باقی مریضوں کو بھی بھاپ دی گئی جس سے حدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک مریض جب چار دنوں تک ہسپتال میں سب مریضوں کے ساتھ داخل رہتا ہے اس دوران اسے کس کس ڈاکٹر ، پیرامیڈیکل سٹاف نے چیک کیا وہ بھاپ مشین جو اسکے علاوہ دیگر مریضوں کو لگی اُن کی تعداد کیا ہےاور اب خدا نخواستہ اتنے لوگ متاثر ہوتے ہیں تو یہ سلسلہ کہاں جا کہ رُکے گا.
    ذرائع کے مطابق ایمز کا وہ سٹاف تو اس وقت شدید خوف میں مبتلا ہو چکا ہے جبکہ پورے ہسپتال میں خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے بعض اطلاعات کے مطابق مریض کو اٹینڈ کرنے والے ڈاکٹرز سمیت دیگر سٹاف کو چھتر کلاس قرنطینہ میں رکھے جانے حوالے سے غور کیا جا رہا ہے جبکہ پیرامیڈیکل سٹاف نے انکشاف کیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ صرف ایک ماسک دیتی ہے جسکے حوالے سے گارنٹی کے لئے دستخط لیے جاتے ہیں کہ اس ماسک کو 3دن تک استعمال کیا جائے گا کورونا وائرس سے اگر مظفرآباد میں صورتحال بگڑتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ہسپتال کی انتظامیہ پر عائد ہو گی کہ جن کی مبینہ غفلت کے باعث ہسپتال کے علاوہ ضلع بھر میں خوف و ہراس اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے.

  • جہاں بڑے ملک صحت کی بہترین سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ طہ منیب

    سلام ہے حکومتی عہدیداران کو جو کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر صحافیوں اور لوگوں کے جھرمٹ میں بیان کر رہے۔ سوشل ڈسٹینسنگ گیدرنگ میں کھڑے ہو کر بیان کی جا رہی۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    لوگ کرونا سے متعلق احتیاط کی بجائے سیر سپاٹے اور رشتہ داروں ، میکے و سسرال کے پروگرام بنا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر میمز اور شغل لگ رہے، فرقہ فرقہ کھیلا جا رہا ہے، پارکوں، بازاروں میں رش ویسے کا ویسا ، ریسٹورینٹ، اڈے ، بسیں، ٹرینیں سب روٹین کے مطابق، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، توکل کے ساتھ احتیاط اور عمل بھی ضروری ہے، علماء سنجیدہ ہونے کی بجائے مقابلے بازی پر اتر آئے ہیں، پیر فقیر آن لائن دم درود کی دکانیں چلا رہے،

    اللہ نا کرے کے یہ وبا پھیلے ، اگر ایسا ہوا تو ہمارا نظام صحت اس سب کو برداشت کرنے کے قابل نہیں، جہاں اٹلی، امریکہ، سپین ، جرمنی سمیت بڑے بڑے ملک بہترین صحت کی سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ "او کچھ نہیں ہوتا” سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا احتیاط کریں، یہ علاج سے بہتر ہے۔