ایبٹ آباد
دو سگے بھائیوں کی کرونا کی بدولت وفات
علاقے میں سوگ
تفصیلات کے مطابق کرونا واٸرس سے 2 سگے بھائی نوشاد اور زرشاد آج وفات پاگئے ہیں انکا تعلق بٹل مانہسرہ سے ھے جبکہ یہ دونوں ایبٹ آباد ایوب میڈیکل ھسپتال میں زیرعلاج تھے کرونا سے اموات میں دن بدن اضافہ ھو رھا ھے جس کی وجہ لوگوں کا کرونا وائرس کی بابت احتیاط نا کرنا ہے
Tag: کرونا

کرونا سے دو سگے بھائیوں کی موت

کرونا متاثرہ علاقوں کے مزدور مذید پریشان
قصور
الہ آباد کورونا کیسز سامنے آنے پر الہ آباد کے رہائشی مزدوروں کو فیکٹریوں سے فارغ کر دیا گیا جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہے حکومت احساس پروگرام سے تمام مزدوروں کی مدد کرے مزدوروں کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں کورونا وائرس کے تقریباً پچاس کے قریب کیس سامنے آنے پر علاقہ بھر میں جہاں خوف و ہراس کی فضاء قائم ہے وہاں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر خبریں سامنے آنے پر الہ آباد میں رہائش پذیر لوگوں کی مشکلات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے ہزاروں لوگ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان ہیں اب قریبی رشتہ دار اور دیگر دوست احباب بھی وائرس کے خوف کی وجہ سے ایک دوسرے کو ملنے سے کترا رہے ہیں اور الہ آباد کے رہائشی سینکڑوں مزدور جو کہ لاہور اور اس کے گردونواح میں قائم فیکٹریوں میں کام کرنے والے تھے ان مزدوروں کو تین روز قبل فیکٹریوں سے نکال دیا گیا ہے اکثر فیکٹریوں کی گاڑیاں مزدوروں کو پک اینڈ ڈراپ سہولت دیتی تھیں لیکن گزشتہ تین دنوں سے مزدوروں کو فیکٹریوں میں نہیں لیجایا جا رہا کورونا وائرس کے ڈر سے فیکٹری مالکان نے الہ آباد کے رہائشی مزدوروں کا فیکٹریوں میں داخلہ بند کرکے انتہائی ظلم کیا ہے مقامی مزدوروں نے وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ بیروز گار ہونے والے مزدوروں کا ڈیٹا بذریعہ اے سی چونیاں اکٹھا کر کے احساس پروگرام سے مدد کی جائے
قصور میں کرونا کا وار دیہات تک
قصور
کرونا کا وار دیہات تک پہنچ گیا کرونا کا مریض قرنطینہ ہاؤس منتقل علاقہ سیل
تفصیلات کے مطابق کوٹ رادھا کشن قصور روڈ پر واقع گاؤں نند کا تکیہ میں اللہ دتہ ڈوگر کو کرونا کا مرض ہو گیا جسے کل ریسکیو 1122 اور پولیس نے قرنطینہ ہاؤس منتقل کر دیا نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی دیہاتی رانا عباش شاہد،محمد اکرم اور محمد طارق نے بتایا کہ نند کا تکیہ محلہ ڈوگراں والا کا 50 سالہ اللہ دتہ ڈوگر چند دن قبل ٹھینگ موڑ الہ آباد سے اپنے عزیز و اقارب کے پاس رہ کر آیا ہے جس پر کل اسے سانس کا مسئلہ بنا تو اہل خانہ اور اہل محلہ نے ریسکیو 1122 کو کال کی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر اللہ دتہ کو قرنطینہ سنٹر منتقل کیا اور اس کی گلی کو سیل کرکے پولیس کے جوانوں کو تعینات کر دیا واضح رہے کے ٹھینگ موڑ الہ آباد قصور کا سب سے زیادہ کرونا وباء سے متاثرہ شہر ہے اور اللہ دتہ بھی اپنے عزیر اقارب کے پاس الہ آباد میں کچھ دن گزار کر آیا ہے
نند کے تکیہ گاؤں کے مذید لوگوں کے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں
عزم قطرہ تھا میرا، بحر ہو گیا!!! تحریر: محمد طلحہ
اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں سے کام لینے پر آتا ہے تو کچھ لوگوں کو چن لیا کرتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی محبت کو ڈال دیا کرتا ہے اور پھر وہ لوگ دنیا جہاں سے بے خبر اپنے مقصد میں لگ جایا کرتے ہیں، اللہ رب العزت پھر انہیں وسائل بھی عطا کرتے ہیں، دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں ان کا مقدر ٹھہرتی ہیں اور بالآخر وہ رب کی جنتوں کے مستحق ٹھہر جایا کرتے ہیں
ملک پاکستان سمیت دنیا بھر میں جب خالق کائنات نے کرونا وائرس کی صورت میں اپنے عذاب کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی اور دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
انسان نے اپنے تئیں حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کا آرڈر جاری کر دیا لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جب لاک ڈاؤن ہوا تو غربت و افلاس کے ہاتھوں پسی ہوئی عوام مزید متاثر ہوئی تو ایسے میں اللہ تعالیٰ نے کچھ عظیم لوگوں کو چُنا کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے ساتھ اپنے ان بھائیوں کی فلاح کا بیڑہ اٹھایا اور اپنے رب سے جنتوں کی امید لگائے ڈٹ گئے
انہیں عظیم لوگوں میں ایک نام *کرونا فائٹرز تلہ گنگ* کا ہے
گورنمنٹ کی طرف سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو اِن اللہ کے بندوں کو اپنے بھائیوں کا درد ستانے لگا اور یہ لوگ اپنے مسلمان بھائیوں کی ممکنہ مدد کرنے کا سوچنے لگے
رات کے وقت ایک بھائی جو کہ گورنمنٹ ٹیچر ہیں واٹس ایپ سٹیٹس لگاتے ہیں کہ کل اس حوالے سے بھائی اکٹھے ہوں اور یوں کچھ اساتذہ کا ایک گروپ اکٹھا ہو جاتا ہے اور کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے
کرونا فائٹرز تلہ گنگ کا قیام عمل میں لانے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہم ابتدائی طور پر پچاس گھروں تک راشن پہنچائیں گے لیکن بات وسائل پر آکر اٹک جاتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کام لینا ہوتا ہے تو اسباب وہ خود پیدا کر دیا کرتا ہے اور بالکل ایسے ہی اللہ رب العزت نے مخیر حضرات کے دل میں اس بات کو ڈالا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے اپنا روپیہ پیسہ پیش کر دیا اور یوں وہ ابتدائی طور پر پچاس گھروں کیلئے تیار ہونے والا پیکج 100 گھروں کے پیکج میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہ کام چھ سو گھروں تک راشن پہنچانے تک جا پہنچتا ہے ۔ بحمد اللہ
اُس کے بعد رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ دستک دے رہا ہوتا ہے تو کرونا فائٹرز ایک دفعہ پھر اپنی کمر کستے ہوئے اپنے بھائیوں کی مدد کو تیار کھڑے ہوتے ہیں ان شاء اللہ
اور یوں اس ایک واٹس ایپ سٹیٹس کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے چُنے ہوئے لوگوں سے ایک اتنا بڑا کام لے لیتے ہیں
جب حوصلے بلند ہوں، اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت شامل حال ہو تو پھر ایک قطرے کو بحر ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ کرونا فائٹرز تلہ گنگ اور ان مخیر حضرات کہ جنہوں نے دل کھول کر اپنے بھائیوں کے ساتھ تعاون کیا، دنیا و آخرت میں بہترین نعم البدل عطا فرمائے اور اپنی اعلی جنتوں سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین
کرونا مشتبہ مریضوں کا حال خراب
قصور
آر ایچ سی کنگن پور میں کرونا کے مشتبہ مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ڈاکٹر مریضوں کے ابتدائی چیک اپ سے بھی خائف ہیں شامکوٹ کی مشتبہ مریضہ کو ہسپتال آنے سے پہلے ہی اسے کسی اور ہسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا ڈاکٹر کی بجائے ایک عام نرس سے مریضوں کے چیک اپ کی فرضی کارروائی کرنے کے بعد ان افراد کو ہسپتال کی بلڈنگ سے باہر ہی رہنے دیا جاتا ہے نا کوئی حفاظتی اقدامات اور نا ہی ایمبولینس کی بروقت دستیابی ہے صورتحال انتہائی پریشان کن ہے جس پر شہریوں نے اعلی حکام سے فوری نوٹس کی اپیل کی ہے
مظفرآباد میں04قرنطینہ سینٹرز میں114افراد میں سے 56 کو مکمل صحت یاب ہونے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا،
مظفرآبادکورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر ضلع مظفرآباد میں قائم 4 قرنطینہ سنٹرز میں اب تک 114 افراد رکھے گئے تھے جن میں سے 56 افراد کو ڈسچارج کرکے گھر بھیج دیا گیا ہےجو مکمل صحت یاب ہیں, ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق سرکاری طور پر نیو وزیر اعظم ہاوس جلال آباد,ایم ایل اے ہاسٹل چھتر, بوائز ہاسٹل پٹہکہ نصیر آباد, اور کنگ عبداللہ یونیورسٹی چھتر کلاس کے قرنطینہ قایم ہیں جو مکمل فعال اور تمام سہولیات سے آراستہ ہیں, جن میں 18 مارچ سے تاحال 114 افراد کو کورونا وایرس کے خدشہ کے پیش نظر داخل کیا گیاتھا میڈیکل رپورٹس آنے کے بعد 56 تندرست افراد کو گھر بھیج دیاگیا ہے جو مکمل صحت یاب ہیں, بقیہ کی رپورٹس کا انتظار ہے, اس وقت نیو پرائم منسٹر ہاوس میں 31 افراد جبکہ ایم ایل اے ہاسٹل قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے 27 افراد کو کورونا کے شبہ میں رکھا گیا ہے تمام افراد کوحکومتی ہدایات کے عین مطابق بنیادی سہولیات سمیت قیام و طعام کا انتظام موجود ہے محکمہ صحت عامہ,ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افیسران و اہلکار ٹیموں کی شکل میں اپنی خدمات ہمہ وقت ان قرنطینہ سنٹرز میں ادا کررہے ہیں ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ و جملہ ادارے کورونا وایرس سے بچاؤ کے لئے شب وروز کوشاں ہیں اور حکومتی ہدایات کی روشنی میں جملہ اقدامات عمل میں لارہے ہیں عوام لاک ڈاون کے حوالےسے اپنا تعاون جاری رکھیں تاکہ اس وبا سے خطہ کو مکمل محفوظ رکھا جاسکے

مظفرآباد میں کرونا سے متاثرپہلا کیس سامنے آگیا، عباس انٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزامبورانتظامیہ کی غفلت اورنااہلی کی وجہ سے ضلع بھر میں خوف و ہراس
مظفرآباد (عطاءالرحمٰن) دارالحکومت مظفرآباد میں کروناسے متاثرہ مریض کے حوالے سے ایمز امبور کی انتظامیہ کی مبیئنہ غفلت اور نااہلی کھل کر سامنے آگئ،ایگزیکٹیوڈائریکٹر ایمز اور جوائنٹ ایگزیکٹیوڈائریکٹر کی سنگین غفلت کا انکشاف۔
5 دن تک کورونا سے متاثر مریض ہسپتال میں داخل رہا ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے تحفظات کے باوجود مریض کو نہ تو الگ سے ٹریٹمینٹ دیا گیا اور نہ ہی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس فراہم کی گئی.اب مزکورہ مریض کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ایک سنگین صورتحال سامنے آنے کا حدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ مزکورہ مریض 5 اپریل کو پہلے دن ایمرجنسی میں داخل کیا گیا بعدازاں 12.30 پر اسے میڈیکل وارڈ 2 کے بیڈ نمبر ایک پر شفٹ کیا گیا جہاں پر ڈاکٹرز ، پیرامیڈیکل سٹاف سمیت دیگر متعلقہ عملہ اس مریض کو ٹریمینٹ کرتا رہا اور مزکورہ مریض کو جس مشین سے بھاپ دی جاتی رہی اُسی مشین سے باقی مریضوں کو بھی بھاپ دی گئی جس سے حدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک مریض جب چار دنوں تک ہسپتال میں سب مریضوں کے ساتھ داخل رہتا ہے اس دوران اسے کس کس ڈاکٹر ، پیرامیڈیکل سٹاف نے چیک کیا وہ بھاپ مشین جو اسکے علاوہ دیگر مریضوں کو لگی اُن کی تعداد کیا ہےاور اب خدا نخواستہ اتنے لوگ متاثر ہوتے ہیں تو یہ سلسلہ کہاں جا کہ رُکے گا.
ذرائع کے مطابق ایمز کا وہ سٹاف تو اس وقت شدید خوف میں مبتلا ہو چکا ہے جبکہ پورے ہسپتال میں خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے بعض اطلاعات کے مطابق مریض کو اٹینڈ کرنے والے ڈاکٹرز سمیت دیگر سٹاف کو چھتر کلاس قرنطینہ میں رکھے جانے حوالے سے غور کیا جا رہا ہے جبکہ پیرامیڈیکل سٹاف نے انکشاف کیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ صرف ایک ماسک دیتی ہے جسکے حوالے سے گارنٹی کے لئے دستخط لیے جاتے ہیں کہ اس ماسک کو 3دن تک استعمال کیا جائے گا کورونا وائرس سے اگر مظفرآباد میں صورتحال بگڑتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ہسپتال کی انتظامیہ پر عائد ہو گی کہ جن کی مبینہ غفلت کے باعث ہسپتال کے علاوہ ضلع بھر میں خوف و ہراس اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے.
اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری
پشتو کی ایک کہاوت ھے "پہ جنگ کے مڑی کیگی” جس کا اردو ترجمہ "جنگ میں لوگ مرتے ھیں!” ھم سب اس وقت حالت جنگ میں ھیں اور دشمن پوشیدہ اور نیا ھے۔ کوئ حکومت چاھے جتنی بھی طاقتور، وسائل سے لیس ھو اس جنگ سے تنہا نہیں لڑ سکتی۔ یہ ھر شخص اور ھر انسان کی جنگ ھے۔ الحمدلللا ھم اشیاۓ خورد و نوش میں خود کفیل ھیں اور یہ ان حالات میں احسان خداوندی ھے۔
ھمیں صرف مضبوط، متحد اور مثبت رھنا ھے اور ھر اس بات کی پابندی کرنی ھے جو حکومت اور ریاست کہہ رھی ھے۔ گھروں سے نہ نکلنا ھمارا احسان نہیں بلکہ قانونی اور شرعی ذمہ داری ھے اور اس کی خلاف ورزی قانون اور احادیث کی خلاف ورزی ھے۔ یہ ھمارے ضعیف والدین اور معاشرے کے بزرگوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے لئے ھے۔ ھمارے بچوں کے لئے ھے۔ ھم ایک بہادر قوم ھیں اور انشاءاللہ اس عذاب سے نکلنے والی پہلی قوموں میں ھوں گے۔ یاد رکھیں یہ کوئ جھڑپ یا لڑائ نہیں ھے بلکہ ایک بہت بڑی جنگ ھے۔ اس جنگ کے لئے ذھنی طور پر تیار رھیں کیونکہ یہ دنوں اور ھفتوں کی نہیں مہینوں پر محیط ھو گی۔ ھم نے دھشتگردی کے خلاف ایک دھائ کی جنگ جیتی ھے۔ وھاں بھی دشمن ھمارے اپنے درمیان پوشیدہ تھا۔ مگر ھم نے اسے مل کر شکست دی۔ ایک لاکھ جانیں گنوائیں مگر گھبراۓ نہیں اور دنیا کو جیت کر حیران کر دیا۔
مضبوط رھیں۔ مثبت رھیں۔ گھر پر رھیں۔ ھاتھ دھوئیں۔ اپنے پیاروں سے جڑے رھیں۔ سلامت رھیں۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کی جو تلقین ھمیں کی گئ تھی آج بس انہی تینوں چیزوں کی ضرورت ھے۔ خصوصاً تنظیم ہعنی ڈسپلن۔ اللہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔

(فیصل بخاری )

تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے
کرونا وائرس اس وقت اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوچکا ہے. اس وقت دنیا کے 188 ممالک میں کرونا وائرس کے تین لاکھ آٹھ ہزار چار سو تریسٹھ کیسز ہیں اور یہ تعداد لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے. اس خطرناک وائرس سے اب تک تیرہ ہزار انہتر لوگ وفات پاچکے ہیں صرف اٹلی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اٹلی میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوچکی ہے اب تک چار ہزار آٹھ سو پچیس لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں. جبکہ چین میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکسٹھ تھی.
وطن عزیز پاکستان میں بھی صورتحال لمحہ با لمحہ بگڑتی چلی جا رہی ہے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ موذی وائرس بڑی تعداد میں پھیلتا چلا جا رہا ہے کہاں پانچ چھ دن قبل پاکستان میں پچیس تیس کیسز تھے اور اب تعداد ساڑھے سات سو سے اوپر ہوچکی ہے. سماجی تنہائی کے لیے بنائے سینٹرز کی حالت نہایت تباہ کن ہے اور وہ بجائے کرونا وائرس کو روکنے کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں نرسریز کا کردار ادا کررہے ہیں دوسری طرف پاکستان میں بعض علماء کا کردار بھی نہایت ہی منفی ہے علماء کا یہ طبقہ بجائے لوگوں کو احتیاط اور سماجی تنہائی پر قائل کرنے کے ان کو گھل مل کر رہنے اوف اجتماعات وغیرہ منعقد کرنے پر اکسا رہا ہے ان علماء کے نزدیک یہ وائرس فقط میڈیا کی پیدا کردہ ہائپ ہے.
اسی طرح کرونا وائرس کے مریض بھی خاص احتیاط نہیں برت رہے کوئی اسلام آباد پمز سے چھپ چھپا کر بھاگ رہا ہے تو کوئی ائرپورٹ پر رشوت دے کر چھپ کر نکل کر بیسیوں اپنے ہی رشتہ داروں میں کرونا وائرس کو پھیلا رہا ہے. سکھر سے بڑی تعداد میں لوگ جن میں کرونا وائرس کے کنفرم مریض بھی تھے وہ نکل کر بھاگ گئے ہیں. انتظامیہ بھی ان معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور صورتحال خطرناک حد تک سنجیدہ ہورہی ہے. لوگوں کے ان رویوں کو لے کر پاکستان بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہوچکا ہے تعلیمی ادارے ، مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ بند کو بند کرنے کا اعلان ہوچکا ہے.
تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور ٹیویشن سینٹرز کے بند ہونے کی وجہ سے بچے سارا دن فارغ ہیں. پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے پارکس، گراؤنڈز ،رشتہ داروں کے ہاں اور مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کو جاتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں سبھی آپشنز ختم ہوچکے ہیں بچے سارا دن گھر ہیں اور مائیں اپنے بچوں سے سخت عاجز آچکی ہیں اور بچے بھی سارا دن والدین اور بالخصوص ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ سے چڑچڑے اور ضدی ہورہے ہیں جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جس کو حل نہ کیا جاسکے ہم آپ کو کچھ ٹپس دیتے ہیں جن کے مطابق آپ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کرسکتے ہیں اور ان کی تعلیمی ضروریات کو بھی ان چھٹیوں میں باآسانی پورا کرسکتے ہیں.آپ کو کرنا یہ ہے کہ بچوں کا چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنائیں. کس ٹائم اٹھیں گے کس ٹائم سوئیں گے کیا کھائیں گے کیا پیئیں گے مطلب ہر چیز آپ کے چارٹ میں لکھی ہونی چاہیے. یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہر چیز کو کیلکولیٹ کریں لیکن موجودہ دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنا بہت آسان ہے اور یہ آپ کی اور آپکے بچوں کی ساری زندگی کے لیے بہت کارآمد اور منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے. جن والدین اپنے بچوں کی بری صحبت اور بری عادات کی شکایت رہتی ہے وہ ان دنوں میں وہ سب عادات اور بری صحبتیں چھڑوا کر اپنے بچوں کی بہترین روحانی اور جسمانی تربیت کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں بچوں اور والدین کے درمیان بہت بڑا ذہنی فرق ہوتا ہے اس کو ان دنوں میں دور کرکے آپ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں.
آپ نے ان کا چوبیس گھنٹے کا شیڈول اور ٹائم ٹیبل بنا لیا ہے، ان کی ڈائٹ کا چارٹ بھی تشکیل دے دیا ہے تو اب آپ ایکٹیویٹز ، گیمز، لرننگ اور ایکسرسائز وغیرہ پر آجائیں.
ایکسرسائز
سب سے پہلے تو آپ اپنے بچوں کو ایکسرسائز کی عادت ڈالیں اس کے لیے کسی پارک جم یا کلب کو جوائن کرنا ضروری نہیں ہے ان دنوں میں ویسے بھی کہیں بھی جانے یا بچوں کو بھیجنے سے احتیاط برتیں کہ گھر رہنے میں ہی آپ کی بقاء ہے. اس کے لیے یوٹیوب پر بےشمار چینلز ہیں جو آپ کو بچوں اور بڑوں کی انڈور ایکسرسائز کروا سکتے ہیں آپ ان ویڈیوز کو دیکھ کر خود بھی اور بچوں کو بھی ایکسرسائز کروائیے. اسی طرح آپ اپنے بچوں کو حفاظت کی غرض سے سیلف ڈیفینس تیکنیکس لازمی سکھائیے.
ایکٹیویٹیز
آپ گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ گھر کے کسی کمرے یا کونے کو پارٹیشن کرکے بچوں کا ایکٹیویٹی روم بناسکتے ہیں اس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے وال پیپرز، غبارے، لائٹس وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اس ایکٹیویٹی روم میں آپ بچوں کو ڈرائنگ، ایلفابیٹک گیمز، پینٹنگ وغیرہ کی صورت بہترین ایکٹیویٹز میں مصروف کرسکتے ہیں بچوں کو رنگوں سے کھیلنا سکھائیے.
گیمز
آپ گھر کی چھت یا صحن میں بچوں کے ساتھ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیے کہ اس کے لیے محلے بھر کے بچوں کو ہرگز جمع نہ کیا جائے بلکہ ہر گھر والے اپنے اپنے بچوں کے ساتھ یہ گیمز کریں.
تیراکی یا نہانا
مارکیٹ سے بچوں کے لیے انڈور پولز باآسانی میسر ہوتے ہیں ویسے بھی موسم کی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گرم موسم میں بچہ پانی کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے تو آپ گھر کے صحن میں یا کسی کونے میں اس پول میں پانی ڈال کر اپنے بچے کو گھنٹوں تک مصروف کرسکتے ہیں پانی میں جراثیم کش ڈیٹول کو بھی ملایا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خیال آپ نے رکھنا ہے کہ بچہ نہانے کے دوران پول سے پانی نہ پیئے.
دینی تربیت
گھر میں آپ بچوں کو خود سے قران سکھا سکتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے واقعات سنا کر ان کی دینی تربیت بہترین انداز سے کرسکتے ہیں. الرحیق المختوم سے روزانہ ایک دو پیجز بچوں کو پڑھ کر سنائے جاسکتے ہیں اگر آپ نہیں بھی پڑھ سکتے تو انٹرنیٹ پر آڈیو بکس میسر ہیں یہ اسٹوریز کی صورت بچوں کو اسلامی واقعات سناتے ہیں جن میں بچے خاصی دلچسپی لیتے ہیں.
ڈاکیومینٹریز
بچوں کی ذہنی بلوغت اور جنرل نالج میں اضافے کے لیے مختلف موضوعات پر ڈاکیومینٹریز انٹرنیٹ سے دکھا سکتے ہیں جن میں اسلامی ڈاکیومینٹریز، قیام پاکستان، نظریہ پاکستان، انسانی تاریخ وغیرہ
کارٹونز
شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹونز نہ دیکھتے ہوں اور بچے پھر ہر طرح کے کارٹونز دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے عقائد اور اخلاقیات متاثر ہوتے ہیں آپ اپنے بچوں کے لیے کارٹونز کی سلیکشن خود کریں بے شمار صحیح العقیدہ اور اسلامی اور اخلاقی تربیت کرنے والے کارٹونز بھی ہیں مثال کے طور پر عمر اینڈ ہنہ کی سیریز ہے عبدالباری کی سیریز ہے اسی طرح کچھ ایسی کارٹونز کی سیریز ہیں جو بچوں کو قران سکھاتے ہیں تو آپ بچوں کو خود سے کارٹونز سلیکٹ کرکے دیں.
لرننگ اور تعلیمی ضروریات
اسکولز اور ٹیویشن سینٹرز بند ہوجانے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل رک گیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بے شمار تعلیمی ویب سائٹس ہیں جن پر بچوں کا سارا تعلیمی نصاب میسر ہے اور آپ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو ان ویب سائٹس کی مدد سے جاری رکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر
سبق ڈاٹ پی کے
ای لرن پنجاب
خان اکیڈمی
بی بی سی لرننگ
فیوچر لرن
وغیرہ وغیرہ
ہم امید کرتے ہیں ان ٹپس پر عمل کرکے آپ بچوں کو بہترین انداز میں مصروف بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیمی، روحانی اور جسمانی تربیت بھی کرسکتے ہیں.










