Baaghi TV

Tag: کرُد فورسز

  • فرانس میں کرد ثقافتی مرکز پر حملہ،کرد کمیونٹی کا احتجاج، مظاہرین کا جلاؤ گھیراؤ

    فرانس میں کرد ثقافتی مرکز پر حملہ،کرد کمیونٹی کا احتجاج، مظاہرین کا جلاؤ گھیراؤ

    پیرس کے وسطی علاقے میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے،حملہ آور نے کرد ثقافتی مرکز کو نشانہ بنایا اور مقامی کمیونٹی کے ارکان کو گولی مار دی۔ ممکنہ نسل پرستانہ مقصد کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : فرانس کے شہر پیرس میں کرد ثقافتی مرکز پر دائیں بازو کے انتہاپسند نے فائرنگ کرکے خاتون سمیت تین افراد کو ہلاک کردیا، حملے کے خلاف کرد کمیونٹی کا احتجاج، شہر میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔

    60 سالہ ملزم کی اندھا دھند فائرنگ میں 2 افراد ہلاک اور 4 زخمی

    کرد ثقافتی مرکز پر انتہاپسندانہ حملے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے تاہم بہادر شخص نے بروقت حملہ آور کو قابو کرکے مزید اموات ہونے سے بچالیں۔

    بی بی سی کے مطابق حملے کے خلاف کرد کمیونٹی کے احتجاج کے دوران شہر میں جلاؤ گھیراؤ پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں اور ہاتھا پائی کے واقعات میں 5 اہلکار زخمی ہوگئے، پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

    ایک مشتبہ شخص، جس کی عمر 69 ہے، کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا اور جلد ہی یہ ظاہر ہوا کہ وہ حال ہی میں جیل سے رہا ہو گیا ہے بعد ازاں پولیس اور ایک گروپ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جو حملے کے بعد جائے وقوعہ پر جمع ہوئے تھے۔

    فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ لوگوں نے سڑک کے بیچوں بیچ آگ لگاتے ہیں اور کار کی کھڑکیوں کو توڑا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا-

    ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی جب ایک شخص، جسے گواہوں نے لمبے، سفید اور بوڑھے کے طور پر بیان کیا، پیرس کے 10 ویں ڈسٹرکٹ میں Rue d’Enghien میں دو مردوں اور ایک عورت کو گولی مار کر ہلاک کر دیا زخمی ہونے والے تین افراد میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور دیگر شدید زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع

    فائرنگ کا کوئی مصدقہ مقصد نہیں ہے، لیکن پیرس کے پراسیکیوٹر لاور بیکاؤ نے کہا کہ مشتبہ شخص پر پہلے بھی نسل پرستانہ تشدد کا الزام عائد کیا گیا تھاوہ واقعہ جس میں اس نے پیرس کے ایک مہاجر کیمپ میں خیموں پر تلوار سے حملہ کیا تھا 8 دسمبر 2021 کو برسی میں پیش آیا۔ یہ واضح نہیں تھا کہ اسے حال ہی میں کیوں رہا کیا گیا تھا۔

    فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین، جنہوں نے پہلے جائے وقوعہ کا سفر کیا، کہا کہ فی الحال مشتبہ اور “انتہائی دائیں بازو کے” گروہوں کے درمیان کوئی تعلق معلوم نہیں ہے۔

    مقامی میئر الیگزینڈرا کورڈبارڈ نے کہا کہ فائرنگ میں بندوق بردار بھی زخمی ہوا اور تین جگہوں پر آگ لگ گئی-

    پولیس نے بالآخر مشتبہ شخص کو بغیر کسی مزاحمت کے حراست میں لے لیا اور مبینہ طور پر حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کر لیا۔ استغاثہ نے کہا کہ انہوں نے قتل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    فرانس میں کردش ڈیموکریٹک کونسل (CDF-K) جو کہ احمد کایا کرد مرکز کو نشانہ بناتی ہے، نے ایک مختصر بیان میں اس حملے کی مذمت کی۔

    فیفا ورلڈ کپ 2022 : سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فٹبال کھلاڑیوں کی مقبولیت میں اضافہ

    لی موندے اخبار نے مرکز کے ترجمان اگیت پولات کے حوالے سے کہا کہ فرانسیسی حکام پیرس میں رہنے والے کردوں کی حفاظت میں “ایک بار پھر” ناکام ہو گئے ہیں۔

  • شام :داعش نے سینکڑوں بچوں کو اپنی ڈھال کیلئے یرغمال بنا لیا

    شام :داعش نے سینکڑوں بچوں کو اپنی ڈھال کیلئے یرغمال بنا لیا

    شام : داعش نے 850 بچوں کو اپنی ڈھال کے طور پر یرغمال بنالیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق شام کے صوبے ہسا کے میں کرُد فورسز کے زیرِ انتظام جیل پر 100 سے زائد داعش جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا اور تصادم کے نتیجے میں 120 سے زائد افراد مارے گئے تھے داعش نے جیل پر پر قبضہ کرلیا ہے اور 850 بچوں کو اپنی ڈھال کے طور پر یرغمال بنالیا ہے جیل میں موجود تمام اسلحہ بھی داعش کی تحویل میں جاچکا ہے۔

    حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

    رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خیراتی ادارے برائے اطفال یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچوں کی زندگی خطرے سے دوچار ہے اور اشد ضروری ہے انہیں وہاں سے جلد سے جلد نکالا جائے بچوں کو نقصان پہنچانے یا انہیں بالجبر داعش میں شامل کیے جانے کا خطرہ ہے-

    روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    دوسری جانب سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل کی عمارت کا محاصرہ کر لیا ہے جس سے دہشت گرد کہیں نہیں بھاگ سکتے ایس ڈی ایف نے یہ بھی کہا کہ اگر بچوں کو کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری داعش پر عائد ہوگی۔

    برطانیہ میں انتہاپسندی کی انتہا:مسلمان برطانوی رکن پارلیمنٹ کو وزارتی ذمہ داریوں…

    واضح رہے کہ جائے وقوعہ کے قریب موجود اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا تھا کہ جیل پر حملے کے وقت شدید جھڑپوں کی آوازیں سنائی دیں تھیں جس کے بعد کُرد فورسز نے لاؤڈاسپیکر کے ذریعے مقامی شہریوں کو فوری انخلا کا حکم دیا تھا۔

    امریکا نے حزب اللہ سے منسلک نیٹ ورک پرنئی پابندیاں عائد کردیں

    واضح رہے کہ داعش ایک جہادی عسکری گروپ ہے اسے آئی ایس آئی ایس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ گروپ خاص طور پر شام اور عراق میں سرگرم ہے وکی پیڈیا کے مطابق داعش نے ابتدائی 2014ء میں عالمی شہرت اس وقت حاصل کی جب اس نے عراقی حکومتی افواج کو انبار مہم میں کلیدی شہروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا اس کے بعد موصل پر قبضہ کیا اور سنجار قتل عام ہوا۔

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    اس گروہ کو اقوام متحدہ اور کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ داعش شہریوں اور فوجیوں بہ شمول صحافیوں اور امدادی کارکنان کے سر قلم کرنے اور دیگر قسم کی سزائیں دینے والی وڈیوجاری کرنے اور ثقافتی ورثہ کی جگہوں کو تباہ کرنے کے لیے مشہور ہےاقوام متحدہ کے نزدیک داعش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا مرتکب ہے۔ شمالی عراق میں تاریخی سطح پر داعش دوسرے مذاہب کے افراد کو بڑی تعداد میں قتل بھی کر چکا ہے۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

     

    شام میں اس گروپ نے حکومتی افواج اور حکومت مخالف جتھوں دونوں پر زمینی حملے کیے اور دسمبر 2015ء تک اس نے مغربی عراق اور مشرقی شام میں ایک بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا جس میں اندازہً 2.8 سے 8 ملین افراد شامل تھے، جہاں انہوں نے شریعت کی نام نہاد تاویل کر کے اسے تھوپنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ داعش 18 ممالک میں سرگرم ہے جس میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں اور مالی، مصر، صومالیہ، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن میں اس کی شاخیں ہیں۔2015ء میں داعش کا سالانہ بجٹ 1 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تھا اور 30،000 جنگجوؤں سے زیادہ کی فوج تھی-

    طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    جولائی 2017ء میں گروہ نے اس کے سب سے بڑے شہر سے کنٹرول کھو دیا اور عراقی فوج نے فتح حاصل کر لی۔اس بڑی شکست کے بعد داعش آہستہ آہستہ زیادہ تر علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور نومبر 2017ء تک اس کے پاس کچھ خاص باقی نہ رہا۔امریکی فوجی عہدیداروں اور ساتھی فوجی تجزیوں کے مطابق دسمبر 2017ء تک گروہ دو فیصد علاقوں میں باقی رہ گیا 10 دسمبر 2017ء میں عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ عراقی افواج نے ملک سے دولت اسلامیہ کے آخری ٹھکانوں کا خاتمہ کر دیا ہے 23 مارچ 2019ء کو داعش اپنے آخری علاقے باغوز فوقانی کے نزدیک جنگ میں ہار گیا اور اس علاقے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا-

    بارود سے بھرے ٹرک میں دھماکہ،17 اموات، 50 سے زائد زخمی،ہر طرف کہرام مچ گیا