قصور
واپڈا کےدو لائن مین سول ایریا غفار اور منظور کرپشن کنگ بن گئے ایس ڈی او سیول ایریا کیلئے عید اکٹھی کرنے لگے عید نا دینے والوں کو بجلی چوری کا الزام لگا کر نجائز بل ڈالنے لگے کمپلیٹ پر ڈیوٹی ہونے کے باوجود لوگوں کے میٹر چیکنگ کرنے لگے رشوت نادینے پر بستی خادم آباد کے رھاشی راشی لائن مین نے غفار جس نے اپنے گھر کے ہر کمرے میں اے سی لگا رکھے ہیں اور محلے داروں کو بھی ڈائریکٹ سپلائی تاریں لگوائی ہوئی ہیں لائن مین غفار خد بجلی چور ہے اور لوگوں سے بجلی چوری کرواکر محکمہ واپڈا اور گورنمنٹ کو لاکھوں روپے کا چونا لگا رہاہے وہ علاقہ سول ایریا سے مختلف لوگوں سے منتھلی اکٹھی کرتا ہے اس کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹ چیک کیا جائے گزشتہ دنوں صحافی عامر علی بھٹی کے بھائی عابد درزی سے بھی دس ہزار روپے رشوت مانگی انکار کرنے پر 32ہزار 662روپے کا بل ڈال دیا اور کہا کہ صحافی عامر بھٹی کو کہنا کے واپڈا کے خلاف خبریں لگانے کا یہی انجام ہوگا پہلے بھی عامر بھٹی نے واپڈا اہلکار کے خلاف درخواست گزاری ہوئی ہے اور عدالت نے اسٹے آرڈر بھی جاری کیا ہوا ہیں عابد بھٹی نےڈائریکٹر ایف آئی اے وفاقی وزیر پانی بجلی چیف لیسکو واپڈا سے نوٹس کا مطالبہ کیا ہے کہ لائن مین غفار اور منظوز کے خلاف انکوائری کرکے نوکری سے فارغ کیا جائے
Tag: کرپشن

واپڈا ملازمین کرپشن کنگ بن گئے،نوٹس لینے کی اپیل

چونیاں میں کرپشن کا نیا ریکارڈ
قصور کی تحصیل چونیاں میں کرپشن کا نیا ریکارڈ
تفصیلات کے مطابق تحصیل کونسل چونیاں کی کرپشن کی پھرتیاں عروج پر ہیں
سیکٹری یونین کونسل افسران کا منظور نظر سپرئیڈنٹ بن گیا چیف آفیسر طارق سب انجینئر دیگر افسران نے روڈی فرضی کوٹیشن دفتر کی رینویٹ کے نام پر کروڑوں ڈکار گئے ٹر یکٹر کا ڈیزل لاکھوں روپے کا دیگر گاڑیوں میں استمعال کرنے پر ڈی جی آنٹی کرپشن چیف سیکرٹری پنجاب کو تمام کوٹیشن اور روڈی وغیرہ کے نام پر کوٹیشن کی تحقیقات اور ٹریکٹر کا لاکھوں روپے تیل دیگر گاڑیوں میں استمعال کرنےپر فرضی ڈیلی ویجز افراد کی بھرتی پر تحقیقات کے لیے ڈی جی آنٹی کرپشن کو درخواست ارسال
فردوس عاشق اعوان نے کس کو سیاسی گیدڑکا خطاب دے دیا؟
ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ ڈسکہ اور وزیرآباد کے ضمنی انتخابات میں کرپشن کا پیسہ لٹا رہی ہے- عطا تارڑ نے سستی شہرت کے لئے گرفتاری کا ڈرامہ رچایا، ن لیگ اوچھے سیاسی ہتھکنڈوں پر اتر آئی- وزیراعظم نے لاہور میں درخت لگانے کی مہم کا آغاز کر دیا۔ میڈیا تنظیمیں شہر کو سرسبز بنانے کی تحریک کی قیادت کریں گی-
ڈسکہ اور وزیرآباد کے ضمنی انتخابات کے حلقوں میں ن لیگ کرپشن کا پیسہ مال مفت کی طرح لٹا رہی ہے۔ سیاسی اداکار عطا اللہ تارڑ اور بدنام زمانہ لیگی لیڈر عابدرضا حلقے میں سیاسی افراتفری پھیلانے گئے تھے۔ عطا اللہ تارڑ نے گرفتار ہونے کا ڈرامہ کیا۔ جب گرفتاری ہی نہیں ہوئی تو رہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عطا اللہ تارڑ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے گھٹیا سیاسی ہتھکنڈے اختیار کر رہے ہیں۔ ن لیگی امیدوار ڈسکہ اور وزیرآباد کے حلقوں سے سیاسی ڈرامے بازی کر کے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے آج ڈی جی پی آر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عطا اللہ تارڑ شریف فیملی کے ذاتی ملازم کی حیثیت سے سینٹ میں پہنچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ لیکن ایک سیاسی گیدڑ حقائق مسخ کر کے ہیرو نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروا رہا ہے۔سابق حکومتیں ایسے انتخابات کے موقع پر مخالفین کو آڑے ہاتھوں لے کر ان کا بازو مروڑتی تھیں اور اس مقصد کے لئے انتظامیہ کا ناجائز استعمال کیا جاتا تھا مگر عمران خان حکومت اس سسٹم کو بدل کر قانون کی بالادستی یقینی بنانا چاہتی ہے تاکہ اپنی قیادت کا انتخاب کرنے کا اختیار صرف عوام کے پاس ہو۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ حلقے میں سرعام ووٹوں کی خریدوفروخت کر کے الیکشن قوانین کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ہم ان کے اوچھے ہتھکنڈوں کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ لاہور کے حوالے سے میڈیا کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مہنگائی سے نمٹنے کے لئے حال ہی میں تحلیل کی گئی مارکیٹ کمیٹیوں کا متبادل نظام قائم کیا جا رہا ہے جس میں صارفین کو آڑھتی، مڈل مین اور دوکانداروں کی منافع خوری سے بچا کر اشیائے ضروریہ سستے داموں مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ کمیٹیوں کے متبادل کے طور پر قائم کئے گئے نظام کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل پر چلایا جائے گا۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر صوبائی وزیرخوراک کو گندم کی مناسب امدادی قیمت کے تعین کے لئے موثر فوڈ پالیسی بنانے کے لئے ترجیحات طے کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت ہر فرد کو میڈیکل کور مہیا کرنے کے لئے موثر حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا گیاہے اور وزیراعظم نے اس ضمن میں محکمہ خزانہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور جو کبھی باغات کا شہر کہلاتا تھا کا قدرتی حسن بحال کرنے اور سموگ جیسے ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے وزیراعظم عمران خان نے شہر میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کا پیغام دیا ہے۔ وزیراعظم نے جیلانی پارک میں خود اپنے دست مبارک سے پودا لگا کر اس مہم کا آغاز کیا ہے۔ میں نے وزیراعظم کو یقین دلایا ہے کہ شہرکو سرسبز بنانے کے اس مشن میں میڈیا ہراول دستے کا کردارادا کرے گا اور میڈیا تنظیمیں وزیراعظم کے اس خواب کی تکمیل کے لئے جیلانی پارک سمیت پورے شہر میں درخت لگا کر اس صدقہ جاریہ میں اپنا حصہ ڈالیں گی۔ ایک سوال کے جواب نے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کسان کو سبسڈی دینے کے لئے ٹارگٹڈپروگرام پر عملدرآمد کیا جائے گا اور مخصوص طبقے کو کھاد، بیج اور بجلی کے بلوں میں رعایت دی جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ کے انتخابات کے معاملات میں ہم اپوزیشن کو اتنا سادہ نہیں سمجھتے۔ اپنا حق نہ کسی کو دیں گے اور نہ کسی کا چھینیں گے۔

ڈی سی کی ناک تلے کرپشن کا راج
قصور
ڈی سی دفتر میں انتہا کی کرپشن
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس ,قصور میں بے نامی جائیدادوں کی بندر بانٹ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قصور کے آفس کا سپرنٹنڈنٹ سرور ڈوگر اہلکار بے نامی جائیدادوں کی بندربانٹ اور کرپٹ مافیا کا سرغنہ نکلا، اختیارات کا غلط اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے انتہائی قیمتی اراضی کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر گورنمنٹ کے شیڈول کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اپنے بھائی کے نام منتقل کرنے لگا
ڈپٹی کمشنراور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے دفتر میں ہونیوالی انکوائریوں ودیگر معاملات کے متعلق بھاری رشوت کے ریٹس مقرر ہو چکے ہیں
ضلع کے سب سے بڑے افسر ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں اُن کی ناک تلے بے نامی جائیدادوں کی بندربانٹ کرنے والا کرپٹ مافیا کا سرغنہ سپرنٹنڈنٹ محمدسرور ڈوگر جوکہ 2009ء میں ڈسٹرکٹ آفیسر (ریونیو) قصور کا بطور ریڈر سکیل 14 میں بھی کام کرتا رہا ہے تب سے لے کر اب تک آنے والے ایماندار اور فرض شناس افسران کو بھی دھوکے میں رکھ کر اپنے سرکاری اختیارات کا غلط اور ناجائز استعمال کرکے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچاتے ہوئے بے نامی جائیداد کو اپنے برادرِحقیقی کے نام منتقل کرتا رہا ہے جس میں گورنمنٹ کے شیڈول کا بھی بالکل خیال نہیں رکھاگیا، موصوف نے 208 کنال انتہائی قیمتی زرعی اراضی موضع جوہدہ سنگھ والا قصور میں بروئے رجسٹری دستاویز نمبر 8022 بھی نمبر1جلد نمبر1566مورخہ 19.12.2009 کو اپنے حقیقی بھائی اشرف عابد ولد ہستا کے نام منتقل کر دیا جس کی سرکاری کاغذات میں کل مالیت کوڑیوں کے بھاؤ صرف 7 لاکھ روپے ظاہر کی گئی جبکہ زمین کی اصل قیمت کروڑوں روپے بنتی ہے اور اس میں اصل قیمت کے علاوہ گورنمنٹ کے نافذ کردہ شیڈول کی بھی دھجیاں اُڑائی گئیں حالانکہ اُس وقت نہ تو مذکورہ اہلکار کے بھائی اور نہ ہی باپ کا کوئی ذریعہ آمدن تھا صرف اپنی کرپشن کو چھپانے کی خاطر مذکورہ اہلکار نے قیمتی اراضی اپنے بھائی کے نام منتقل کروائی جبکہ مذکورہ اہلکار نے اپنی کرپشن سے کمائی گئی دولت سے دورانِ تعیناتی 2009 بطورِ ریڈر ایک عدد قیمتی پلاٹ واقع ڈیفنس کالونی قصورپر ایک عالیشان گھر تعمیر کیا ہوا ہے اور اس کے علاوہ مذکورہ اہلکار نے ڈپٹی کمشنراور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے دفتر میں کرپشن کے متعلق ہونے والی انکوائریوں کی ذمہ داری بھی لے رکھی ہے جس میں ملزمان کے ساتھ رشوت کے ریٹس مقرر کررکھے ہیں
صدرگوگیرہ: اشیائے خورد و نوش کی کوالٹی چیک کرنیکی آڑ میں کرپشن ، شہریوں نے ایکشن کا مطالبہ کردیا
اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی علاقے صدر گوگیرہ میں شہریوں نے بتایا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی کوالٹی چیک کرنے اور ناجائز منافع خوری کنٹرول کرنے والے بعض سرکاری اہلکار یہاں چھوٹے دکانداروں خاص طور پر پھلوں ، سبزیوں اور گوشت کی دکانوں وغیرہ سے پھل ، سبزی اور گوشت وغیرہ کے شاپر بھر کر لے جاتے ہیں ۔ چیکنگ کے دوران دو چار ملازمین نے خالی شاپر پکڑے ہوتے ہیں اور بھرتے رہتے ہیں ۔ بھرے ہوئے شاپر منتقل کرکے نئے سرے سے شاپر بھرنے لگتے ہیں ۔ اس عمل کی بہت سے لوگوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنا لی ہیں ۔ جو دکاندار انکار کرے اُسے جرمانہ کردیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بڑی دکانوں سے دور ہی رہتے ہیں ۔ چیکنگ کے علاوہ بھی دکانوں سے چیزیں لے آتے ہیں ۔ شہریوں نے اس عجیب سی کرپشن کے سدباب کا مطالبہ کیا ہے ۔ اہلکاروں نے شہریوں کی روک ٹوک پر موقف اختیار کیا ہے کہ اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے چیزیں لائی جاتی ہیں ۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ نہ چیزیں واپس دی جاتی ہیں اور نہ کوئی ایکشن لیا جاتا ہے ۔

کرپشن کی انتہاہ پر انکوائری
قصور۔۔محکمہ صحت کے سرکاری افسران کی ملی بھگت سے میڈیکل سٹورز کے جعلی لائسنس بنانے کا بڑا سکینڈل سامنے آ گی
میڈیکل سٹورز کےجعلی لائسنس و تجدید کرنے والے ب کرپشن سکینڈل کی محکمانہ تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے
371 جعلی میڈ یکل سٹورز کے لائسنسوں کا نہ صرف اجراء کیا گیا بلکہ ان جعلی لائسنسوں کو بار بار تجدید بھی کیا گیا ہے
جعلی لائسنس کی انکوائر ی رپورٹ 15 دن میں پیش کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں
میڈیکل سٹورز کے جعلی لائسنس کی مد میں کروڑوں روپے حکومت کو نقصان ہوا ہے
رکن پورہ قصور کے شہری کی درخواست پر انکوائری شروع کی گئی ہے
درخواست میں ڈرگ انسپکٹر سمیت اعلی افسران اور کیمسٹ ایسوسی ایشن کو بھی ملوث ٹھہرایا گیا ہے
فرضی ٹیمیں بنا کر فارمیسیوں سے لاکھوں روپے رشوت کی مد میں لئے گئے ہیں درخواست گزار کا موقف
ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند
دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔
ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔
دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟ تحریر: حجاب رندھاوا
لیاقت قائمخانی کی پوری دولت ابھی سامنے آنے میں کچھ دن لگے گے لیکن 20 گریڈ کے افسر کا محل نما گھر اور گھر سے 10 ارب روپے مالیت کی جائدادوں کی فائلیں، گاڑیاں، زیور، بانڈ، کرنسی ملنا لمحہ فکریہ ہے
لیاقت قائمخانی جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ملازمت کا آغاز کیا اور اس نے آخری تنخواہ سوا لاکھ روپے وصول کی تھی اس کا محل نما گھر؟؟ ؟
سوا لاکھ تنخواہ میں؟
اور گھر سے دس ارب مالیت کی اشیاء کی برآمدگی؟؟؟ ؟کیا سندھ میں اس طرح جنگل کا قانون تھا کہ جو چاہتا لوٹتا رہا
لیاقت قائم خانی نے کراچی کے باغات کی بحالی۔اور تزئین و آرائش کے نام پر لوٹ مار کی جس کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں ۔
لیاقت قائمخانی نے 20 سالوں میں کراچی کے 71 پارکس کو صرف کاغذات میں بنایا اور سابق ڈی جی پارکس نے ایک ارب سے زائد روپے ہڑپ کر لیےمئیرکراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی 2012 میں شہید بے نظیر بھٹو پارک کے نام پر قومی خزانے کو 24کروڑ کا چونا لگا چکے ہیں۔
شہید بے نظیر بھٹو پارک میں لوٹ مار پر لیاقت قائم خانی پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ بھی درج کیا تھا۔
سابق گورنر اور پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے دباؤ پر لیاقت قائم خانی پردرج مقدمات کو سرد خانے کی نظرکر دیا گیا۔
لیاقت قائم خانی نے باغ ابن قاسم کی طرح شہید بے نظیر بھٹو پارک میں بھی جعلی کام کرائے۔
لیاقت قائم خانی کراچی کے باغات پر بھالو مٹی کے بجائے سمندری مٹی ڈالتا تھا۔ لیاقت قائم خانی نے صرف شہید بے نظیر بھٹو پارک پر ایک کروڑ کے جعلی درخت اور پودے لگائےکے ایم سی محکمہ باغات کے 14ملازمین لیاقت کے گھر پر اور 7 ملازم اہم شخصیات کے گھروں پر کام کرتے تھے۔
باتھ آئی لینڈ کلفٹن میں لیاقت علی نے گلشن فیصل پارک کے نام پر 40 لاکھ ہڑپ کئے۔۔
لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد ہونے والی گاڑیوں جائیداد کی دستاویزات پرائز بانڈز سونے ہیرے اور قیمتی ساز و سامان کی مالیت کا اندازہ 3 ارب روپے سے اوپر ہے جبکہ ملزم سے ایک لاکر مزید کھلوایا جانا باقی ہے۔ ملزم کی دیگر جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔
لیاقت قایم خانی کے قریبی افسران میں سابق ڈی جی پارک طاہر درانی ایڈیشنل ڈائریکٹر اخلاق بیگ شامل تھے۔ آزاد نامی افسر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر خورشید بھی لیاقت خانی کے قریبی افسرتھے۔جو اس کے کرپشن پارٹنر تھے
لیاقت قائمخانی نے پارکس میں جعلی کام کرانے کے لیے جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، جعلی کمپنیوں کے نام پر فنڈز ریلیز کئے جاتے تھے جس سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا
نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم کی کرپشن کے سیاسی حصے داروں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔
لیاقت قائم خانی کے گھر سے برامد ہونے والی گاڑیاں اس نے ٹھیکدار کمپنی فیضان اینڈکو کے مالک چوہدری فیاض، ٹھیکیدار سلیم بھیا، مصطفی ٹھیکیدار سے لیں۔ لیاقت قائم خانی اہم شخصیات کی گاڑیوں کی مرمت بھی کےایم سی کے فنڈز سے کرا کر دیتے تھے
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی 2007 سے غیر قانونی طور پر کے ایم سی کے مشیر باغات تھے، گریڈ 21 میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایم سی سے ایک لاکھ روپے پینشن بھی وصول کرتے تھے
کراچی میونسپل کارپوریشن میں انیس سو اناسی میں بھرتی ہونے والے لیاقت علی قائم خانی کے ایم سی کے بااثر ترین افسر کیسے بنے یہ اب کوئی معمہ نہیں رہا
اس کو بنانے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہےلیاری کے علاقے گٹر باغیچہ کے رہائشی لیاقت علی قائم خانی نے انیس سو اناسی کے ایم سی میں گریڈ سولہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے میئر کراچی عبدل ستار افغانی ماتحت محکمہ باغات میں بطور ہارٹیکلچرسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا ، تینتیس سالہ سروس کابیشتر حصہ محکمہ باغات میں گزارا اور پی ای سی ایچ ایس میں قیمتی بنگلے کے مالک بن گئے۔
سن دو ہزار پانچ میں نئے بلدیاتی نظام کے وجود میں آنے کے بعد لیاقت علی قائم خانی نے حیرت انگیز طور تیزی کے ساتھ ترقی کی ۔
سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں گریڈ اٹھارہ کے ڈائریکٹر لیاقت علی قائم خانی کے لئے ڈی جی پارکس کی پوسٹ بنائی گئی اور انہیں کراچی میں باغات اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیاباغ ابن قاسم کی بحالی کے بعد لیاقت علی قائم خانی سابق گورنر سندھ عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے سب سے قریبی افسر سمجھے جانے لگے۔
سن دو ہزار دس میں بلدیاتی نظام تو لپیٹ دیا گیا لیکن لیاقت علی قائم خانی اپنے عہدے پر براجمان رہے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے قرب حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔
بتایا جاتا ہے کہ بوٹ بیسن پارک کی تعمیر نو کے لئے وفاق سے آنے والا تمام فنڈ حکومت سندھ کے بجائے براہ راست لیاقت علی خان کو دیا گیا ، اعتماد اور قربت کا یہ عالم تھا کہ دو ہزار آٹھ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے لیاقت علی قائم خانی کو تمغہ امتیازعطا کیا گیا اور پھر دو ہزار گیارہ میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔
اپریل دو ہزار گیارہ میں لیاقت علی قائم خانی گریڈ بیس سے ریٹائرڈ تو ہو گئے لیکن اس وقت کے ایڈمینسٹریٹر کراچی لالہ فضل الرحمن نے انہیں تین سال کی توسیع دے دی جو اگلے ہی سال یعنی دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر کالعدم قرار دے دی گئی ۔
دو ہزار سولہ میں جیسے ہی بلدیاتی حکومت وجود میں آئی تو موجودہ میئر کراچی وسیم اختر نے لیاقت علی قائمخانی کو بطور مشیر باغات ایک بار پھر محکمہ باغات کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیا
اج لیاقت قائم خانی نیب حراست میں ہے جبکہ مئیر کراچی وسیم اختر دوبئ جا چکا ہے
نیب ذرائع کے مطابق میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائمخانی کے خلاف تین مزید ریفرنسز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیاقت قائمخانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن اور جعلی دستاویزات کے ریفرنس بھی دائر ہوں گے
حجاب رندھاوا
پاکستان کا امیر طبقہ ٹیکس نہیں دینا چاہتا ، خفیظ شیخ
وزیر اعطم عمران کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا امیر طبقہ ٹیکس دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکس کے معاملے کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی
مشیر خزانہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو ملکی معشیت کے اشارے مثبت نہ تھے لیکن حکومت نے جلد از جلد اصلاحات ایجنڈا متعارف کروا کروا کر معیشت کو ڈی ریل ہونے سے بچا لیا ، حکومت کے اخراجات کم اور دفاعی بجٹ منجمد کیا ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 فیصد کمی کی گئی،
عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ہم عوام کی فلاح کیلئے کام کر رہے ہیں ، عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے ، پاکستان کے عوام کیلئے ہم دنیا کی ہر طاقت کے بسامنے کھڑے ہونے کیلئے تیار ہیں ، ملک کے اندر سے ریونیو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہمیں عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ نہ لینا پرے، رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں 580 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا ، امپورٹ میں واضع کمی اور ایکسپورٹ میں اضافہ کیا گیا ، ابھی بہتری مزید لانے میں وقت لگے گا لیکن وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی معشیت اپنے پیروں پر کھڑی ہو گی،








