موجودہ دور میں ہر جگہ بگاڑ ہے۔ عام آدمی سے لیکر اعلیٰ سطح تک ہر جگہ اور ہر کوئی ذاتی فرائض کی انجام دہی کی بجائے دوسروں کے کاموں میں مداخلت کو باعث ثواب سمجھتا ہے۔ کلینک میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے خدمت خلق پر ایک گھنٹہ لیکچر دیا۔میں متاثر ہوا ۔لیکن کلینک میں دوسروں کا چمڑا ادھیڑ لی جاتی ہے۔ بے جا ادویات کی لمبی چوڑی فہرست، مختلف ٹیسٹ، اور مخصوص سٹور سے ادویات کی خریداری کی تلقین بھی باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ تبلیغ میں دن رات گزارنے کے بعد امیر صاحب ‘دنیاوی’ کمائی کی خاطر ہر چیز کی اضافی قیمت وصول کر رہا تھا۔ استفسار پر بتایا کہ یہی تجارت ہے۔ مولوی صاحب فروٹ فروش ہیں۔ مسجد کے سامنے کھوکھا کھولا ہے۔ خوب دینی اور دنیاوی کمائی کررہے ہیں۔ بازار سے چالیس فیصد زیادہ قیمت پر فروٹ فروخت کرتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ غیر اسلامی ملک میں اس طرح کی تجارت کی اجازت ہے۔ (ان کے بقول پاکستان اسلامی ملک نہیں)۔ تاجر رہنما نے تاجروں کے حقوق پر لیکچر دیا۔جب ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمیں پہلے حقوق دیں تب ہم ٹیکس دیں گے۔ مولوی صاحب ہر جمعہ مساوات کا درس دیتے ہیں لیکن بچوں کو قاعدہ پڑھاتے وقت توجہ صرف امیر بچوں کو دیتے ہیں۔ اساتذہ کرام کلاسز میں صرف سیاسی باتیں کرتے ہیں۔ اور کلاس کے آخر میں ٹیوشن سنٹر کا پتہ بتاتے ہیں۔ٹیوشن سنٹرز سے پڑھائی کی صورت میں بہترین رزلٹ جبکہ سکول میں پڑھائی پر بدترین رزلٹ ۔سوزوکی سٹاپ پر سارے ڈرائیورز اور کنڈکٹروں کو ایک سوزوکی میں بیٹھا کر دن کا آغا ز کیا جاتا ہے۔ جب ٹریفک پولیس والے اور لوڈنگ اور غلط سٹاپ پر جرمانہ کریں تو حلال روزی اور محنت کی باتیں۔ اڈے پر اے سی گاڑی میں لگا کر سواریوں سے اے سی کا کرایہ وصول کرکے تین کلومیٹر بعد اے سی بند کرکے نعتوں کی کیسٹ لگا کر سواریوں کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کو چند ہزار روپے پر رکھ کر سات کلاسز کی پڑھائی کرائی جاتی ہے۔ صبح اسمبلی میں بچوں سے پہلے اساتذہ کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔ اور انھی چند ہزار روپے میں امتحانات میں نقل کی درآمد وبرامد کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے۔ المختصر ہر شعبہ زندگی میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے۔حقوق وفرائض کی تجدید نو کی جائے۔تاکہ انسانیت کو نئی روح و زندگی دی جائے۔
Tag: کرپشن

کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے
چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.
اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.
کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.
جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.
مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.
آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.
دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.
مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.
دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.
یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
پاکستان پائندہ باد
اسحاق ڈار پاکستان کے حوالے معاہدے طئے پاگیا
اسلام آباد:پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ برطانیہ رنگ لے آیا .برطانیہ نواز شریف کابینہ کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو پاکستان کے حوالے کرنے پر تیار ہوگیا .ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ شاہ محمود قریشی کے دورہ برطانیہ کے دوران طئے پایا .ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت جلد پاکستان کی سیاسی شخصیت پاکستان بدر کر دی جائے گی.
اسحاق ڈار کے حوالے سے خبریں اس وقت تیزی سے گردش کرنے لگیں جب شاہ محمود قریشی نے اپنے برطانوی ہم منصب کو پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا .یہ بھی معلوم ہوا کہ برطانیہ نے حکومت پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کا عندیہ بھی دیا ہے. اسحاق ڈار کب پاکستان پہنچائے جائیں گے اس کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی رائے تو قائم نہیں کی جاسکتی مگر یہ طئے ہے کہ بالآخر اسحاق ڈار کو پاکستان آکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا

قرضوں سے جان چھڑانے کیلئے عوام ساتھ دے، ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر اثاثے ڈکلیئر کریں، عمران خان
اسلام آباد:وزیراعظم کا قوم سے خطاب :ٹیکس کی چوری ختم کرنے کے لیے آپ کی ضرورت ہے .وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ قوم نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے بڑھ چڑھ کر تعاون کیا اور پیسے دیئے.اب مسئلہ ملک میں ٹیکس چوری کا ہے پاکسان کا قرضہ 30 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے ان حالات میں میں قوم سے تعاون کی درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرا ساتھ دیں. وزیر اعظم نے کہا کہ وہ لوگ جو ٹیکس چھپا رہے ہیں اور اپنے اثاثے ظاہر نہیں کررہے ان کے لیے میرا یہ پیغام ہے کہ ایف بی آر کے پاس تمام ڈیٹا موجود ہے .پھر اپنے اثاثے کیوں چھپائے جا رہے ہیں.
وزیر اعطم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت ایک اسکیم لے کر آئی ہے اس سے فائدہ اٹھائیں.لہٰذا ایسے تمام لوگ 30 جون تک اپنے اثاثے ظاہر کرکے اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں.وزیر اعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے .وزیراعطم نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ عوام کو کوئی مشکل پیش آئے اس لیے حکومت نئی اسکیم سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا موقع دے رہی ہے.حکومت اورعوام ساتھ نہیں ہوں گےتوقرضوں کی دلدل سےنہیں نکل سکتے .ہماری قوم مشکل وقت میں ساتھ دینےوالی ہے.معاشی بحران سےبھی ہم آرام سےنکل سکتےہیں.وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلےسال کاٹیکس قرضوں پرسودکی ادائیگی میں چلاگیا .ہم اپنےلوگوں کوغربت سےنکال سکتےہیں،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زلزلےکےدوران بھی اپنی قوم کوایکشن میں دیکھا اس لیے وہ توقع رکھتے ہیں کہ ان مشکل حالات سے نکل آئیں گے
وزیر اعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نےآئندہ سال ساڑھے 5 ہزارارب روپیہ اکٹھاکرناہے. وزیر اعظم نے مزید کہا کہ قوم فیصلہ کرلےتوہم ہرسال 8 ہزارارب سےزائدپیسہ اکٹھاکرسکتےہیں

رشوت ستانی اور کرپشن ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی
رزق حلال عین عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو حرام ذرائع سے رزق کمانے سے منع فرمایا ہے انسان کی قسمت میں لکھا رزق اس کو مل ہی جاتا ہے اب یہ اس پہ منحصر ہے کہ وہ جائز طریقے سے محنت و کاوش سے حاصل کرتا ہے یا پھر ناجائز طریقوں سے چوری ڈکیتی سود کرپشن یا رشوت خوری سے حاصل کرتا ہے..
رشوت خوری معاشرے کے لیے ناسور بنتا جا رہا ہے آپ جس ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں آپ کا کام تبھی ہو گا جب آپ سے تحفے تحائف اور انعام کے نام پہ رشوت نہ لے لی جاۓ ورنہ آپ کا کام پڑا رہے گا اور کسی صورت بھی آپ کی فائل وغیرہ آگے نہیں جاۓ گی.
رشوت انسانی معاشرے کے لیے خطرناک اور مہلک مرض ہے. جس معاشرے میں رشوت عام ہو جاۓ اس معاشرے میں حق و سچ کا خون ہو جاتا ہے اور باطل ہمیشہ رشوت کی آڑ میں بدمعاشی کرتے ہوۓ دندناتا پھرتا ہے جس کی وجہ سے انصاف سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور کئی لوگوں کی بغاوت کا باعث بن جاتا ہے.
رشوت کے کئی نقصانات ہیں مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے آپ کا اخلاق پستی کے دہانے پہ چلا جاتا ہے اور معاشرے میں اس کی کوئی عزت نہیں رہتی اور نہ ہی اس آفیسر میں کسی قسم کا رعب ہوتا ہے نہ دبدبہ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بھیک مانگنے والوں کی طرح سب کے آگے ہاتھ پھیلانا ہوتا ہے تو وہ سر اٹھا کے کیسے چل سکتا ہے اور کیسے انصاف دے سکتا ہے وہ حاکم ہو یا محکوم پولیس والا ہو یا ملزم جج ہو یا وکیل پھر سب ہی غرباء اور ایمانداروں کے دشمن بن جاتے ہیں۔
رشوت لینے والا پیسوں اور سٹیٹس کا پجاری بن جاتا ہے اور یہ چیز اس کی فطرت میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسے برا سمجھنے کی بجاۓ اپنا حق سمجھنے لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اصول و قوانین کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوۓ اللہ تعالیٰ کا باغی بن جاتا ہے اور دنیا کی رعنائیوں میں مگن ہو جاتا ہے.
حرام کمانے اور حرام کھانے والوں کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے نہ کوئی صدقہ خیرات اور نہ ہی کوئی نیکی قابل قبول ہے نہ ہی اس کی کوئی دعا سنی جاتی کیونکہ جس بندے کا کھانا لباس اوڑھنا بچھونا اور رگ رگ حرام کی کمائی سے تر ہے تو اس کا نہ عمرہ قبول ہے نہ حج نہ نماز نہ زکوۃ یہاں تک کہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف تک کو پکڑ کے دعائیں مانگے میرا اللہ اس کو بھی ٹھکرا دیتا ہے کیونکہ اس کے احکامات کو پس پشت ڈال کر حرام کے پیسے کو گھر کی زینت بنا کر اسی رب سے دعا کرو گے تو وہ واپس ہی پلٹے گی کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ کرنا کپڑے کو پیشاب سے دھو کے پاک کرنے کے مترادف ہے۔
رشوت کے نام پہ تحفے تحائف دیے جاتے ہیں اور رشوت لینے والے نے اب یہ جواز ڈھونڈ لیا ہے کہ یہ رشوت نہیں ہے یہ تو گفٹ ہے اور اس کا کوئی گناہ نہیں لیکن میرا ان سے یہ سوال ہے کہ اگر آپ کسی جگہ پہ پولیس آفیسر تعینات ہوۓ ہیں اور لوگ آپ کو گفٹ دیتے ہیں تو کیا جب وہ اپنا ناجائز کام لے کر آئیں گے تو آپ اس کو ذلیل کرکے دھکے دے کے آفس سے نکالیں گے؟
کیا گفٹ آپ کی ڈیوٹی میں رکاوٹ نہیں بنیں گے؟؟
کیونکہ گفٹ وہی دیتے ہیں جنہوں نے اپنے کام نکلوانے ہوتے ہیں کوئی بھی ایماندار اور حلال رزق کمانے والا بندہ پولیس کو کبھی بھی گفٹ نہیں دیتا صرف وہی دیتے ہیں جو کرپٹ ہوں اور جن کو آۓ روز آپ سے کام پڑنے ہوں.
اب آپ ہی بتائیں کیا ایک ایماندار آفیسر گفٹ لیتا ہے؟
ہرگز نہیں کیونکہ ایسا گفٹ بھی رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔
رشوت ستانی دو جہاں مالِ ناحق کھانے کا ذریعہ ہے وہیں میرٹ کا بھی خاتمہ کر کے رکھ دیتی ہے اور اہل کو اس کے حق سے محروم کرنے کا باعث بنتی ہے۔قرآن مجید میں رشوت لینے والے کے لیے سخت وعید ہے اللہ پاک فرماتے ہیں.
(اے پیغمبر) یہ لوگ جھوٹ سننے والے اور حرام مال (رشوت) کھانے والے ہیں.
دوسری جگہ فرماتے ہیں
اور ان میں سے تم بہت سوں کو دیکھو گے کہ گناہ و زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک یہ بہت برے کام کرتے ہیں۔
(سورۃ المائدہ آیت نمبر 62)اللہ نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور دونوں کا ٹھکانا جہنم بنایا ہے.
رشوت کی مختلف اقسام ہیں جیسا کہ میں نے اوپر بھی ذکر کیا ہے مثال کے طور پہ حق کو باطل کرنے اور باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے پیسوں کا لین دین کرنا ظلم و جبر کا دفاع کرنے کے لیے رشوت دینا کسی منصب پہ فائز ہونے کے لیے پیسے وغیرہ دینااور یہ مختلف صورتوں میں لی جاتی ہے نقد رقوم کی صورت میں تحفے تحائف کی صورت میں اور کبھی دعوتوں کی صورت میں.. غرض کہ رشوت جس صورت میں بھی لی یا دی جاۓ وہ اسلام میں سراسر غلط اور ناجائز ہے اور یہ جہنم کی طرف لے جاتی ہے..ہمیں چاہیے کہ معاشرے کے اس ناسور سے چھٹکارہ حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو بھی حرام کمائی سے محفوظ رکھتے ہوۓ ان کی تربیت پہ زور دیں نہیں تو یہ حرام مال سے جوان ہونے والی اولادیں بھی والدین کے لیے دنیا و آخرت میں عذاب بن جائیں گی اور آپ کے لیے آگ کا ایندھن ثابت ہوں گی اللہ سے رزق کی فراوانی کی بجاۓ اس رب سے رزق میں برکت طلب کریں اور اس پہ کامل بھروسہ کرتے ہوۓ حلال رزق پہ ہی اکتفا کریں کیونکہ اگر آپ کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں تو رشوت سے توبہ تائب ہوں اور اللہ سے رجوع کریں کیونکہ وہ حرام مال کی وجہ سے آپ سے ناراض ہے اور آپ کی کوئی عبادت، صدقہ، خیرات، نماز، روزہ یا دعا بھی قبول نہیں ہو رہی۔
اللہ ہمیں رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
خوشحال پاکستان، مگر کیسے؟ ؟؟ محمد عبداللہ گِل
"خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ”
یہ ایک نہایت ہی اہم مقولہ ہے اس میں فرد کی ترقی سے لے کر قوم کی ترقی تک کا راز مضمر ہے ۔ ایک قوم کی ترقی شخصی ترقی پر منحصر ہوتی ہے ۔ایک قوم اس وقت ترقی یافتہ ہوتی ہے جب اس کی عوام پرجوش ،باشعور اور باکردار ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ عوام جذبہ کے ساتھ بغیر کسی انعام و اکرام کے لالچ سے محنت کرتے ہیں تو قوم ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ پاکستان جو کہ اسلامی ملک ہے اس میں قانون اسلام کا ہے ۔ 14 اگست1947ء کو معرض وجود میں آیا ۔اگر تاریخ پاکستان کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے سب سے پہلا کام قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح نے ہر فرد کی کردار سازی کی پھر 1940ء کو قرارداد پاکستان پیش کی ۔پھر سات سال ہی میں آزادی مل گئی۔پاکستان بننے کے بعد مختلف حکومتیں آئیں ۔سیاست کی گئی۔پاکستان ترقی یافتہ اس لیے نہیں کہ یہاں حکمران اچھے نہیں آئے یہ عموما سمجھا جاتا ہے ۔لیکن ایسا ہرگز نہیں عوام جیسی ہوتی ہے ویسا ہی حکمران ان ہر حکومت کرتا ہے۔حکمران انھی عوام میں سے ہوتے ہیں مریخ سے تو نہیں آتے۔پاکستان ترقی یافتہ اس لیے نہیں کہ ہماری عوام کو شعور ہی نہیں ۔ہمارے اندر سے "اپنی مدد آپ” کا جذبہ اٹھ گیا ہے ۔اپنی مدد آپ وہ اصول ہے اگر ایک شخص اس کو اپنا لے تو وہ ترقی یافتہ بن جاتا ہے اور اگر قوم کی قوم اس کو اپنا لے تو قوم ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کا غیر ترقی یافتہ ہونے میں جدھر تک حکمرانوں کی بے بسی شامل ہے اتنا ہی قصور عوام کا ہے ہماری عوام میں قومی حمیّت رفع دفع ہو چکی ہے ۔آج مملکت پاکستان میں عوام یہ تو کہتی ہیں کہ فلاں حکمران کرپشن کرتا ہے جس کی وجہ سے ہم معاشی بدحالی کا شکار ہے ۔یہ بالکل صحیح ہے لیکن عوام خود کو نہیں جانچتے کہ آج ایک ریڑھی والے کو دیکھا جائے تو وہ پھل دیتا ہے اور چپکے سے صحیح پھلوں کے ساتھ خراب پھل بھی ڈال دیتا ہے ۔یہ بھی کرپشن ہے ۔اسی طرح چھوٹے ملازم چپڑاسی سے لے کر پارلیمنٹ میں بیٹھے حکمران تک سب کرپشن کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ پاکستان کی معاشی بدحالی کے باعث حکمران بے بس ہیں وہ دوسرے ملکوں سے قرض لیتے ہیں تو عالمی اداروں کی مشکل شرائط ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
قومی ترقی کی تعریف سر سید احمد خان نے یوں کی :-
"قومی ترقی شخصی ترقی،شخصی محنت ،شخصی خودارادیت ،شخصی صلاحیت کا مجموعہ ہے ”
اسی طرح قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے :-
"انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے ”
اگر قرآن کی اس آیت پر غور کیا جائے تو واضح ہے کہ اگر پاکستانی قوم اپنی ترقی کے لیے کوشش کرے تو انھیں یہ ترقی ضرور ملے گی ۔آج ہم نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا اور پستی کی طرف چلے گئے۔
حکمران کی ذمہ داری ہوتی کہ وہ عوام کا جذبہ بڑھائیں۔ عوام کو ملکی ترقی کی طرف راغب کریں ۔لیکن ہمارے ہاں تو حکمرانی کا دستور ہی کچھ اور ہے ۔سیاستدان عوام کی کردار سازی کی طرف توجہ بالکل ختم کر چکے ہیں ۔اگر پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا تو اسی وقت کہ پہلے عوام کی کردار سازی کی جائے ان کو ملکی ترقی میں حصہ لینے کے لیے آمادہ کیا جائے اس کے بعد سیاستدان اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو ملک پاکستان ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ حکمرانوں سے لے کر عوام تک سب کو جذبہ "اپنی مدد آپ” کے تحت کام کرنا چاہیے۔ اور پوری قوم کو متحد ہو جانا چاہیے یہ سیاسی انتقامات چھوڑ دینے چاہئیں۔ اسی طرح آج مسلمانان پاکستان کو چاہیے کہ تفرقہ بازی سے باز آ جائیں۔ اور ہر قسم کی تفریق اور گروہ بندی سے دور رہیں۔ تو ملک ترقی یافتہ بن جائے گا ۔
اے میرے عزیز ہم وطنو! ہمیں ملک کی ترقی کے لیے تگ و دو شروع کر دینی چاہیے۔ بہت سی اقوام ہمارے بعد وجود میں آئیں اور آج ہم سے آگے ہیں۔ ہمیں پرعزم ہو کر دلجمعی سے متحد ہو کر یکسوئی سے عمل کی ضرورت ہے یقیناً جلد ہی ہم ترقی یافتہ اقوام میں سر فہرست ہوں گے۔
ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم
پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی جو خواب وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے قوم کو دکھایا یقیناً ہر محب وطن پاکستانی کی دیرینہ خواہش ہے۔ اسی کو خان صاحب نئے پاکستان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس مستقل مزاجی سے اس نئے پاکستان کی طرف سفر جاری ہے یقیناً عنقریب ہم اپنی منزل کو پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کے بہت سے اچھے اقدامات میں سے ایک عوامی رائے کو سننا اور قابل عمل بات کو اختیار کرنا بھی ہے اور یہ ان کی عوامی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بھی ہے اور ان کے
مزاج میں رعونت و تکبر کے نہ ہونے کی علامت بھی۔
گزشتہ دنوں پی ٹی آئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ اور اس کے بعد نشر کیے جانے والے وزیراعظم کے خطاب پر بہت سے ناقدین اور مبصرین نے تبصرہ کیا۔ مگر اکثر لوگ اس میں منفی نکات ہی ڈھونڈتے رہے۔ تنقید بذات خود بری نہیں ہے کیونکہ اس سے اصلاح کا موقع ملتا ہے مگر تنقید برائے تنقید اور ذاتی ناپسند پر مبنی تنقید سے سوائے وقت اور توانائی کے ضیاع کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی لیے ہم اس فضول بحث میں پڑ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
قریباً پون صدی سے اہلیان پاکستان ایسی قیادت کی تلاش میں تھے جو ملک خداداد میں بلاتفریق احتساب اور قانون کی بالادستی قائم کر سکے۔ اور اس عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری بھی رکھ سکے۔ یقینی طور پر جب بات ہو احتساب اور قانونی بالادستی کی تو بہت سے افراد مخالفت پر اتر آتے ہیں اور ان کی مخالفت کو پس انداز کرتے ہوئے اپنے مقصد پر چلتے رہنے سے ہی کامیابی ممکن ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت وہ واحد جمہوری حکومت ہے جس نے اس اہم ترین امر کو یقینی بنایا۔ ملک کی کئی طاقتور اور با اثر شخصیات جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھ کر مطلق العنانی کے گھمنڈ میں مبتلا تھیں آج احتساب کے شکنجے اور قانون کے کٹہرے میں ہیں۔ ملکی صورتحال روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ اور حکومت کی ملک دوست پالیسیوں کے سبب فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں دونوں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے پر عزم ہیں۔ افواج پاکستان نے شبانہ روز اپنی جان پر کھیل کر اور رگ جاں اس دھرتی پر قربان کرتے ہوئے اس وطن کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنا رکھا ہے اور حاکم وقت بھی اپنے عزائم میں مخلص اور ثابت قدم ہے۔ قوم پرامید رہے کہ جلد پاکستان ریاست مدینہ کا عملی نمونہ ہو گا۔ وہ ریاست مدینہ جس کی داغ بیل نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اسے دنیا کی طاقتور ترین ریاست بنایا۔
سرکاری ادویات کی چوری ، عملہ سے نارواسلوک ، پٹرول کی جعلی رسیدیں ، بجٹ میں خوردبرد کرنے سمیت دیگر الزامات درست
کوٹ رادھا کشن: ڈی ڈی ایچ او فراز رشید کے حوالے سے انکوئری مکمل کر لی گئی ہے اور الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔
رپورٹ ڈی سی او قصور کو ارسال کردی گئی ہے۔
ڈی ڈی او فراز رشید کی انکوئری کئی ماہ بعد مکمل کر لی گئی ہے۔
انکوئری رپورٹ میں الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سرکاری ادویات چوری ، ماتحت عملہ سے گالی گلوچ ، پٹرول کی جعلی رسیدیں ، فلیڈ میں جعلی وزٹ اور بجٹ میں خوردبرد کرتا رہا ہے۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیتلھ آفسر رشید کے خلاف چند ماہ قبل ان کے ماتحت عملہ کی طرف سے مقامی اسسٹنٹ کمشنر کو درخواست دی گئی جس میں درخواست گزار کا کہنا تھا کہ فراز رشید اپنے عملہ سے نارواسلوک رکھتا ہے اور فحش گالیاں دیتا ہے اس کے علاوہ گھر یلو کام کاج بھی کرواتا ہے۔







