Baaghi TV

Tag: کرپشن

  • سرکاری سکول کرپشن کا گڑھ،تحقیقات کا مطالبہ

    سرکاری سکول کرپشن کا گڑھ،تحقیقات کا مطالبہ

    قصور
    سرکاری سکول کرپشن کا گڑھ بن گیا،سرکاری فنڈز ذاتی استعمال میں لائے جاتے رہے

    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کا ہائی سکول کرپشن کا گڑھ بنا گیا ہے مقامی صحافی محمد وقار علی نے بتایا کہ چونیاں کے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول تالاب والا میں کرپشن کی نئی داستان رقم کی جا رہی ہیں اور اس کرپشن میں اسکول کا سابقہ کلرک اور سابقہ ہیڈ مسٹریس شامل ہیں
    سکول کے این ایس بی فنڈ میں لاکھوں روپے کا جھوٹا جعلی اور بوکس بل ڈال کر گڑبڑ کی گئی ہے
    نیز محکمہ تعلیم کے ceo اور do تبدیل ہوئے کافی عرصہ گزر گیا ہے مگر کلرک عبدالشکور اور میڈم سیدہ منظمہ فاطمہ صاحبہ کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جو کہ ceo اور do کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے
    بچوں کے لئے آنے والا این ایس پی فنڈ سابقہ میڈم اور سابقہ کلرک اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں جس سے بچوں کے والدین میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے
    والدین و معززین علاقہ نے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • کرپشن کا الزام: میانمارکی سابق رہنما کو مزید  6 سال قید کی سزا

    کرپشن کا الزام: میانمارکی سابق رہنما کو مزید 6 سال قید کی سزا

    میانمار کی فوجی عدالت نے سابق رہنما اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو کرپشن کے الزام میں مزید 6 سال قید کی سزا سنادی ہے جس سے ان کی سزا 17 سال ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : 77 سالہ آنگ سان سوچی کا دورہ حکومت گزشتہ سال یکم فروری کو فوجی بغاوت کے نتیجے میں ختم ہوا تھا، جس کے بعد سے وہ زیر حراست ہیں-

    برمی مسلمانوں کی قاتل آنگ سان سوچی نے اقوام متحدہ کےالزامات کو مسترد کر دیا

    آنگ سان سوچی پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، بدعنوانی اور انتخابی دھوکا دہی سمیت متعدد مقدمات چلائے گئے، مقامی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 11 سال قید کی سزا سنائی تھی کرپشن کیس میں مزید 6 سال قید کی سزا کے بعد اب اس کی مجموعی سزا 17 سال ہوگی۔

    خبرایجنسی کےمطابق آنگ سان سوچی عدالت میں اچھی صحت میں نظر آئیں اور انہوں نے اپنی تازہ ترین سزا کے بعد کوئی بیان نہیں دیا۔

    میانمار کی عدالت نے معزول صدر کو سنائی سزا

    امریکا نے آنگ سانگ سوچی کی اس سزا کو انصاف اور قانون کی حکمرانی کی توہین قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر منصفانہ طور پر حراست میں لیے گئے تمام جمہوری طور پر منتخب عہدیداروں سمیت آنگ سان سوچی کو فوری طور پر رہا کرے۔

    میانمار میں سفید ہاتھی کی پیدائش نے لوگوں کو حیران کر دیا

    رپورٹ کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی کی وجہ سے ہوئی۔ میانمار کی فوج نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

    میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز،دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی

    "ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے”: میانمار کے اساتذہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے

    میانمار میں فوجی بغاوت ، پاکستان کا رد عمل آگیا

  • پاکستان اسٹیل ملز میں 10 ارب روپے کی چوری کا انکشاف

    پاکستان اسٹیل ملز میں 10 ارب روپے کی چوری کا انکشاف

    پاکستان اسٹیل سے تقریباً 10 ارب روپے مالیت کا میٹریل چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ملکی تاریخ کی سب سے بڑی چوری سامنے آگئی، جس کی تحقیقات کے لیے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے ایف آئی سے رجوع کرلیا اس حوالے سے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو خط لکھا گیا ہے-

    وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے لکھے گئے خط میں پاکستان اسٹیل کے مختلف ڈپارٹمنٹس میں کی جانے والی چوریوں میں ملوث عناصر کو منظر عام پر لانے کے لیے شفاف اور فوری تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے۔

    خط میں کہا گیا ہےکہ پاکستان اسٹیل کےمختلف ڈپارٹمنٹس کے علاوہ مین پلانٹ بھی چوروں کی رسائی سے محفوظ نہیں رہا جوکہ سیکیورٹی عملے کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں پاکستان اسٹیل کی اندرونی تحقیقات میں سینئر انتظامی افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جو وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے ایف آئی اے کو فراہم کردیئے ہیں۔

    پاکستان اسٹیل انصاف لیبر یونین (سی بی اے) کی جانب سے 27 جولائی 2022ء کو وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کو ارسال کردہ خط میں قومی اثاثے کو لٹیروں سے بچانے کے لیے فوری ایکشن اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

    خط میں کہا گیا کہ 27 جولائی کی شب کو 50 افراد پر مشتمل لٹیروں کے ایک گروہ نے پاکستان اسٹیل کے پلانٹ ایریا پر دھاوا بول دیا اور اربوں روپے مالیت کا تانبہ اور وائرز دیدہ دلیری کے ساتھ لوٹ کر فرار ہوگئے اس تمام کارروائی اور گزشتہ چوریوں میں سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کنٹریکٹ اور مستقل دونوں طرح کے ملازمین خاموش تماشائی بنے رہے اس لیے ضروری ہے کہ ان چوریوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔

    خط میں سی بی اے نے وفاقی وزارت صنعت و پیداوار سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اسٹیل میں انتظامی اور مالی بے قاعدگی، غفلت اور منظم چوریوں میں سہولت کاری کرنے والے عناصر کے ساتھ بورڈ آف ڈائریکٹرز اور مینجمنٹ کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں اور قومی اثاثہ کو لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل کے نقصانات، قرضوں اور واجبات کی مجموعی مالیت جون 2022 تک 650 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور بھاری مالیت کی چوریوں کی وجہ سے ان نقصانات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

  • دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

    دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

    دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے بھی گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پرویز الہیٰ نے وزیر اعلی بننے کے بعد پہلے روز ہی سے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ مین فرح خان کو بچانے کے لئے تبادلے شروع کر دیئے ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے آج شپ دو بجے ایوان صدر اسلام آباد میں حلف اٹھایا، حلف اٹھانے کے بعد ہی وزیراعلیٰ کے حکم پر فرح خان کے خلاف مقدمے بنانے والے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کا تبادلہ کر دیا گیا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے

    ایک صارف فرحان آغا کا کہنا ہے کہ عزت مآب محترمہ جناب فرح خان صاحبہ کی باعزت پنجاب کے معاملات میں کرپشن کا چیپٹر کلوز۔محترمہ کی کرپشن کو اب حلال تصور کیا جائے۔بحریہ ٹاون کے طیارے میں اسلام آباد پہنچ کر الہی صاحب نے محترمہ فرح کی مکمل حفاظت کا حلف اٹھا لیا۔انگوٹھی کا تذکرہ بھی نہیں ہوگا۔پنجاب اب محفوظ ہے۔

    https://twitter.com/farhanaagha_/status/1552231059726663680

    ایک صارف نے ڈی جی اینٹی کرپشن کے تبادلے کا نوٹفکیشن شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری پرویز الہی نے بطور وزیر اعلی پنجاب دفتر پہنچنے سے پہلے ہی فرح گوگی کے خلاف تحقیقات کرنے والے DG اینٹی کرپشن پنجاب عبدالجبار کو عہدے سے ہٹا دیا۔ صاف چلی شفاف چلی، تحریک انصاف چلی۔

    https://twitter.com/HamzaAliKhattak/status/1552230688212062208

    اسلام آباد سے سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ فرح خان تنگ آگئی ہے۔ سمجھتی ہیں کہ انہیں پنچنگ بیگ بنا دیا گیا ہے حالانکہ تین سال ملک بشری اور انکے خاندان نے چلایا ہے۔ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں لیکن یہاں آنے سے منع کرنے کے لئے بشری کابیٹا ابراہیم دو دن سے دوبئی میں بیٹھا منت ترلہ کرکے انہیں واپس آنے سے منع کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ پرویز الہی کو پنجاب کی نئی فرح گوگی بننے پر مبارکباد ، وہی جہاز وہی سیٹ اور وہی خدمات

    https://twitter.com/KhurramMushtaq/status/1552227561929056256

    ایک صارف امان اللہ کا کہنا ہے کہ عمران کہتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے صرف اپنی کرپشن بچانے کیلئے اقتدار سنبھالا ہوا ہے ۔لیکن یہ دیکھئے کہ پنجاب میں ق لیگ اورPTI کی مخلوط حکومت بنتے ہی سب سے پہلے اس DG اینٹی کرپشن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جوکہ عثمان بزدار فرح گوگی اور پنکی پیرنی کی کرپشن کی تحقیقات کررہے تھے۔گوگی بچاؤ تحریک

    واضح رہے کہ ڈی جی اینٹی کرپشن نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور فرح گوگی کے خلاف تحقیقات شروع کروائی تھیں، تحریک انصاف کی پنجاب میں دوبارہ حکومت بنتے ہی تحقیقات کروانے والے افسر کا تبادلہ کروا دیا گیا ہے

    عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • پی ٹی آئی اور ق لیگ نے 10کروڑ روپےکی آفرکی:الیاس چنیوٹی

    پی ٹی آئی اور ق لیگ نے 10کروڑ روپےکی آفرکی:الیاس چنیوٹی

    لاہور:پی ٹی آئی اور ق لیگ نے 10کروڑ روپےکی آفرکی:اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے ممبر صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) پنجاب الیاس چنیوٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ ق نے 10 کروڑ روپےکی آفر کی تاہم انہوں نے ٹھکرادی۔

    میڈیا ذرائع کےمطابق نجی ٹی وی چینل سےگفتگو کرتےہوئے ن لیگ کےممبرصوبائی اسمبلی پنجاب الیاس چنیوٹی کا کہنا تھا کہ ابھی میں حج سےآیا ہوں وہاں حمزہ شہباز کی کامیابی کےلیےبھی دعا کی، مجھ سے سعودی عرب میں بھی رابطے کی کوشش کی گئی، الیاس چنیوٹی کہتے ہیں کہ ائیرپورٹ پر اترا تب بھی مجھے کالز آرہی تھیں۔

    ارکان اسمبلی کو50:50 کروڑ روپے کی پیشکش کی جارہی ہے:عمران خان

    ادھر اس حوالے سےالیاس چنیوٹی کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی میرے جاننے والےکے ذریعے رابطہ کیا گیا تھا، ان کو کہا گیا کہ 2 کروڑ آپ لیں، 10 کروڑ میں ایم پی اے سے ڈیل کرادیں۔لیگی ایم پی اے الیاس چنیوٹی کا کہنا تھا کہ 10 ارب روپے بھی ہوں گے تو بھی اپنی پارٹی کے ساتھ ہوں، 22 جولائی کو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ ہوں گے۔

    قائم مقام چیئرمین اور ڈی جی نیب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش

    ان کا کہنا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ ویسے ہی ممنوع ہے، مجھےکہا گیا کہ آپ وہیں رہ جاؤ اور ابھی نہ آؤ، ہمارے اوپر عوام کا اعتماد ہے ہزاروں لوگوں نے ہمیں ووٹ ڈالے ہیں، ووٹ امانت ہے کوئی بھی لالچ ہوگا اپنا ووٹ حمزہ شہباز کو کاسٹ کروں گا۔

  • عمران خان کا وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن خود مانیٹر کرنے کا فیصلہ

    عمران خان کا وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن خود مانیٹر کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب ضمنی انتخابات میں کامیابی اور ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے پیشِ نظر وزارت اعلیٰ کا الیکشن خود مانیٹر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
    چیئرمین پی ٹی آئی کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اراکین پنجاب اسمبلی کی خرید و فروخت کی کوششوں سے متعلق آگاہ کیا گیا اور تفصیلات پیش کی گئیں۔

     

     

    قائم مقام چیئرمین اور ڈی جی نیب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش

    اجلاس میں عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کی خود مانیٹرنگ اور دیگر مصروفیات ترک کر کے لاہور کا محاذ سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم کل لاہور کا دورہ کریں گے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے پہلے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

     

    ارکان اسمبلی کو50:50 کروڑ روپے کی پیشکش کی جارہی ہے:عمران خان

     

    اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ چور اور ڈاکو بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ ہے، عوام کے سمندر کا یہ مقابلہ نہیں کر سکیں گے، پنجاب کی عوام میرے ساتھ کھڑی ہے۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ آصف زرداری لوٹی ہوئی دولت سے لوگوں کو خریدتے ہیں،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹوئٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ آج لاہور میں سندھ ہاؤس اسلام آباد کی ہارس ٹریڈنگ کے منظر دوبارہ دیکھے جارہے ہیں، ارکان اسمبلی کو 50 کروڑ روپے کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اس سب سے پیچھے اصل کردار آصف زرداری ہیں جو اپنی کرپشن پر این آر او لیتے ہیں اور لوٹی ہوئی دولت سے لوگوں کو خریدتے ہیں۔ انہیں جیل بھیجا جانا چاہیے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ یہ صرف ہماری جمہوریت پر ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی قدروں پر بھی حملہ ہے۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ایکشن لیا ہوتا اور وفاداریاں بدلنے والوں پر تاحیات پابندی لگائی گئی ہوتی تو اس سے خرید و فروخت کی روک تھام ہوسکتی تھی۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کیا امریکی سازش کے سوہلت کاروں کو احساس نہیں کہ قوم کو کتنا نقصان ہو رہا ہے؟

  • کرپشن کے چودھری،کارناموں کی داستان،پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کے بڑے کھابے

    کرپشن کے چودھری،کارناموں کی داستان،پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کے بڑے کھابے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چوہدری مونس الہی اور چوہدری پرویز الہی کا اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مالی فوائد اٹھانے کا الزام سامنے آیا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مونس الٰہی نے گاؤں سمہ، ڈھیر کے، شادیوال، ساروکی سے ڈنگہ تک زرعی زمین اپنے فرنٹ مین فرحان، رہائشی لاہور کے ذریعے مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے کر خریدی ۔ زمین کی قیمت بڑھانے کے لیے اس نے گاؤں سمہ سے ڈنگہ تک سڑک کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اب تک شائد مکمل بھی ہو چکا ہو۔گجرات کی مقامی انتظامیہ کے ذریعے صنعتی فیز ٹو(400 ایکڑ) کے نام پر زرعی اراضی خریدی گئی اور کچھ دیہاتیوں کی زمین کو یا تو معمولی رقم دے کر یا انہیں ڈرا دھمکا کر ہتھیا لیا۔انڈسٹریل فیز ٹو پروجیکٹ کے ساتھ ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے مقامی لوگوں کو ڈرا کر اور زمینوں پر قبضے کے زریعہ زمین خریدی گئی ۔ ریٹ بڑھانے کے لیے یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ اس سڑک پر موٹروے کا لنک قائم ہو جائے گا۔منڈی بہاو الدین میں جی ٹی روڈ ضیغم گوندل پر ایک ٹیوٹا شوروم ہے۔ گجرات میں سیوریج کے تمام منصوبوں میں بیس فیصد کمیشن لینے کا الزام ہے۔گزشتہ چند سالوں میں پانچ سو سے سات سو ایکڑ زمین حاصل کی گئی۔ جس میں سے بیشتر ڈرا دھمکا کر سودے کیئے گئے۔انڈسٹریل فیز ٹو چیمبر آف کامرس کا پراجیکٹ تھا لیکن اس پراجیکٹ میں چیمبر کی شمولیت صفر ہے لاہور کے مسٹر فرحان مبینہ طور پر مونس الہی کے فرنٹ مین ہیں جو ان کی جائیداد کے تمام معاملات دیکھ رہے ہیں۔

     

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مونس الہی پر الزام ہے کہ وہ ماہانہ دس لاکھ روپے سابق سب رجسٹرار ارشاد اللہ سے رشوت لیتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ڈی ایس پی ٹریفک سے ماہانہ دس لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام بھی ہے ۔ جو کرپشن کیسز پر ملازمت سے برطرف ہو گیا تھا سابق ڈی سی گجرات سے ماہانہ دس لاکھ روپے رشوت لینے کا بھی الزام ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ ڈی پی او گجرات عمر سلامت لاڑ سے بھی ماہانہ رشوت لیتا رہا ہے۔ 2010 میں مونس الٰہی پر این آئی سی ایل میں کرپشن کا الزام تھا۔ان کے والد چوہدری پرویز الہی کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کے دور میں این آئی سی ایل سکینڈل میں 320 ملین روپے کی کرپشن ہوئی تاہم انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر انہیں اشتہاری قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں انہیں نیب نے گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں انہیں 2011 میں غیر حتمی شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا اور 2012 میں اس حوالے سے تمام الزامات کو خارج کر دیا گیا۔ 2 جنوری 2020 میں، احتساب عدالت نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ اس کے خلاف کوئی ریکارڈ/شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا اور این آئی سی ایل اسکینڈل میں تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مونس الٰہی نے دوہزار سات میں اپنے اثاثوں کی مالیت پانچ لاکھ روپے سے زیادہ ظاہر نہیں کی تھی۔ تاہم دوہزار نو میں ان کے اثاثوں میں حیرت انگیز طور پر 700 ملین روپے کا اضافہ ہوا۔

    دوہزار سولہ میں پاکستان سے باہر آف شور بینک اکاؤنٹس رکھنے پر ان کا نام پاناما پیپرز میں آیا تھا۔ تاہم ان کے والد نے دعویٰ کیا کہ مونس الٰہی کا آف شور اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ 2017 میں، قومی احتساب بیورو نے مونس الٰہی کے خلاف نئی تحقیقات کا آغاز کیا جو کہ ابھی تک تفتیش میں ہے۔ لاہور رنگ روڈ پراجیکٹ میں کرپشن کا تصور ابتدائی طور پر پرویز الٰہی کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب کے دور میں ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مونس الٰہی کو تمام ماسٹر پلان کا علم تھا۔ اس لیے اس نے زیادہ سے زیادہ زمین انتہائی سستے نرخوں پر خریدی اور بعد میں اسے بہت زیادہ قیمت پر حکومت کو فروخت کر دیا۔رنگ روڈ اور دیگر منصوبوں کے ذریعے کمائی گئی تمام رقم مختلف یورپی ممالک میں لانڈرنگ کی گئی اور مختلف ممالک میں پراپرٹیز اور پلازوں کا سلسلہ کھڑا کیا گیا۔اس نے یورپ کے ایک یا دو شہروں میں بجلی کے منصوبے لگائے۔ جنوبی کوریا میں اپنے فرنٹ مین رانا گلزار جو چوہدری برادران کا کلاس فیلو بھی تھا کہ زریعہ جنوبی کوریا میں بھی سرمایہ کاری کی۔ رانا گلزار کا شمار جنوبی کوریا کے چند بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے اور اطلاعات کے مطابق مونسی الٰہی کی زیادہ تر سرمایہ کاری بھی رانا گلزار نے کی ہے۔ اور اس سے خاندانی رشتہ داری بھی بنائی گئی۔جنرل الیکشن 2018این او سی کے کے بعد، ضلع گجرات کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس چوہدریوں کے کے بعد تعینات کی جاتی تھی ۔ایک موقع پر ضلع کونسل گجرات کے ٹینڈرنگ کے دوران سعادت نواز ایم پی اے مسلم لیگ (ق) چوہدری پرویز الٰہی کے فرنٹ مین شجاعت نواز ڈی سی آفس گجرات میں گھس گئے اور ڈی سی گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کے ساتھ بدتمیزی کی۔ لیکن بعد میں، سزا کے بجائے، ڈی سی کو معافی مانگنی پڑی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے معاملات طے کر لیے۔

    ندیم ملہی چیف ایگزیکٹو ملہی گروپکا چوہدری برادران گجرات کے ساتھ مل کر کرپشن میں ملوث ہونے کا انکشاف۔

    ندیم اختر ملہی ضلع گجرات کا ایک امیر تاجر ہے۔ وہ ریت کی کھدائی، انٹرنیشنل امیگریشن، اور پراپرٹی بشمول بھاری مشینری کے کاروبار کا مالک ہے۔ چوہدری خاندان سے ان کے بہت گہرے روابط ہیں۔ ندیم مبینہ طور پر چوہدری برادران کا اہم فرنٹ مین تصور کیا جاتا ہے ۔ اس نے اپنے نام پر بھاری مقدار میں جائیداد رکھی ہے جو دراصل مونس الٰہی،حسین الٰہی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ان کی ڈکلیئرڈپراپرٹی اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں واقع ہے

    امیگریشن، ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور ریت کی کھدائی کا کاروبار۔۔۔
    ناجائز کمائی گئی رقم کو قانونی شکل دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور غیر قانونی طور پر کمائِ گئی رقم مبینہ طور پر باقائدگی سے چوہدری وجاحت کو ڈلیور کی گئی ۔ چوہدری وجاہت حسین کو پہنچائی گئی رقم مزید مقامی منشیوں کے ذریعے جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی۔ اس بات کی بھی مصدقہ طور پر تصدیق ہوئی ہے کہ ندیم ملہی روزانہ کی بنیاد پر چوہدری وجاہت کو ڈیڑھ لاکھ پہنچاتے تھے ۔۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ندیم اختر ملہی ضلع گجرات میں نئی سڑکوں کی تعمیر میں کرپشن میں ملوث ہیں۔ ندیم ملہی کے ساتھ طارق داراجی نے نئی مجوزہ سڑکوں کے ارد گرد قیمتی زمین خریدی اور زمین کو زبردست منافع کے عوض حکومت کو فروخت کر دیا۔

    ریت کی کھدائی کے معاہدے
    مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ٹھیکیداروں کو ایک پروسیس کے ذریعے ریت کی کھدائی کا معاہدہ دیا گیا جس میں بولی لگانے والے، بولی لگانے کا عمل، ٹینڈرز وغیرہ شامل ہیں اور اس سارے عمل کی نگرانی ضلعی انتظامیہ کرتی ہے2018 کے دوران ADC(R) کی ملی بھگت سے ریت کی کھدائی کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر ندیم اختر ملیہی کو دیا گیا۔اور یہ سب کچھ چوہدری برادران کے اپنے آبائی علاقے کی ضلعی انتظامیہ اور سیاست پر اثر و رسوخ کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ کوئی بولی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی ٹھیکیداروں سے طریقہ کار کو مکمل کرنے کے لیے کوئی ٹینڈر طلب کیے گئے، کسی کو بھی ندیم اختر ملہی کے علاوہ کسی سے بولی نہ لی گئی ۔اے ڈی سی گجرات آکشن کمیٹی کے چیئرپرسن اور Assistant director mines auction committeeکے سیکرٹری تھے۔ اس معاملے کو کھولنے پر،ایف آئی آر نمبر 16/20 مورخہ پچیس جولائی 2020کو سیکشن 409،420 پی پی سی کے تحت اینٹی کرپشن گجرات میں درج کیا گیا۔ جس میں ندیم اختر ملہی کا نام بینیفشری کے طور پر درج کیا گیا۔اسے گرفتار کر کے تفتیش میں شامل کیا گیا۔ آپ ایف آئی آر دیکھ سکتے ہیں۔اے سی ای گجرات اور ندیم اختر ملہی دونوں ضمانت پر ہیں۔ندیم اختر ملہی اور اے ڈی سی (ر) گجرات کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج ہوئی 26/20مورخہ چودہ نومبر دوہزار بیس ۔۔الزامات بتاتے ہیں کہ دونوں اہم افراد نے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔ ندیم اختر ملہی سپیشل جج اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کی عدالت میں سماعت کے لیے گئے تو ندیم ملہی عدالت سے باہر نکلے تو انہیں اینٹی کرپشن نے دوبارہ گرفتار کر لیا۔ لیکن جب ان جیسے لوگوں کی پشت پناہی سرکار میں بیٹھے لوگ کر رہے ہوں تو انہیں اندر رکھنے کی جرات کون کر سکتا ہے۔ یہی ہمارے سسٹم کی بدقسمتی ہے۔

  • بزدار کے گرد گھیرا تنگ، بزدار کے سابق پی ایس کی طلبی کا نوٹس جاری

    بزدار کے گرد گھیرا تنگ، بزدار کے سابق پی ایس کی طلبی کا نوٹس جاری

    بزدار کے گرد گھیرا تنگ، بزدار کے سابق پی ایس کی طلبی کا نوٹس جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے

    عثمان بزدار کی کرپشن کے ثبوت سامنے آ رہے ہیں جس کے بعد ادارے متحرک ہو گئے ہیں، اب اینٹی کرپشن نے عثمان بزدار کے سابق پی ایس طاہر خورشید کو طلب کر لیا ہے، طاہر خورشید پر رشوت کا الزام ہے اور اسے چھ جولائی کو طلب کیا گیا ہے، طاہر خورشید نے مبینہ طور پر سرکاری منصوبوں میں کروڑوں روپے رشوت وصول کی، ان پر افسران کی ٹرانسفرپوسٹنگ کے لیے بھی پیسے لینے کا الزام ہے۔ طاہر خورشید پر سڑکوں کے ٹینڈرز کی منظوری دینے کے لیے کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام ہے ان پر اور وسیم طارق پر پراجیکٹ کے اضافی فنڈزکی منظوری کے لیے بھی کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام ہے۔چیف انجینئر سی اینڈ ڈبلیو وسیم طارق کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    بزدار کی رہائشگاہ پر اینٹی کرپشن کے چھاپے

    عثمان بزدار کاجنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ گیا

    قبل ازیں اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان احمدخان بزدار کے جنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین ایس ای لوکل گورنمنٹ خرم عباس کو اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتار کرلیاہے۔ایس ای لوکل گورنمنٹ خرم عباس ڈیرہ غازیخان میں تعیناتی کے دوران بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث رہا ہے جہاں پراس نے اس حد تک کرپشن کی کہ کاغذات میں کروڑوں روپے کی سکیمں مکمل ہیں لیکن فزیکلی طورپران سکیموں کا زمین پر کہیں بھی وجود نہیں ہے اور اِدھر مظفرگڑھ میں 134 ترقیاتی اسکیموں کی جانچ پڑتال کے دوران بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر مقدمات درج کیے گئے

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ ہم نے کسی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی،2019 میں پنجاب اسمبلی کو پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی کیطرح خودمختار بنانے کیلئے اقدامات کیے،آج اختیارت محدود کر نے کیلئے حکومت جو کچھ کر رہی ہے میڈیا کے سامنے ہیں۔

    قبل ازیں گرفتاری کا خدشہ ، عثمان بزدار نے عدالت سے رجوع کر لیا،سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اینٹی کرپشن کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب عثمان بزدار کیخلاف انکوائری سے متعلق جواب مانگ لیا، عثمان بزدار نے درخواست میں کہا کہ ن لیگ نے میرے خلاف جعلی کرپشن کیسز بنانے کی تیاری کرلی ہے،متعلقہ اداروں سے اس بارے میں پوچھتا ہوں تو وہ تعاون نہیں کر رہے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پریس کانفرنسوں میں متعدد الزمات لگائے،عدالت چیف سیکریٹری پنجاب،اینٹی کرپشن حکام کو تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے

  • ریاست مدینہ کا نام ،اپوزیشن کا احتساب، اپنوں کو دیا گیا نواز، مخدوم خسرو فیملی پر کیسز کی کہانی

    ریاست مدینہ کا نام ،اپوزیشن کا احتساب، اپنوں کو دیا گیا نواز، مخدوم خسرو فیملی پر کیسز کی کہانی

    ریاست مدینہ کا نام ،اپوزیشن کا احتساب، اپنوں کو دیا گیا نواز، مخدوم خسرو فیملی پر کیسز کی کہانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاست مدینہ کا نام لے کر حکومت میں آنے والے عمران خان نے احتساب کے نام پر اپوزیشن رہنماؤں کو جہاں جیلوں میں ڈالا گیا وہیں اپنوں کو مسلسل نوازا گیا، اپوزیشن رہنماؤں پر مقدمات بنوائے گئے تو اپنوں کے مقدمات پر سو فیصد اثر انداز ہوئے اسکی ایک مثال مخدوم خسرو فیملی کے مقدمات ہیں،

    رئیس محمد احسن عابد ایڈوکیٹ مخدوم خسرو فیملی کی کرپشن کے خلاف عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں، نیب ایف آئی اے ،الیکشن کمیشن،لاہور ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں رئیس محمد احسن عابد ایڈوکیٹ نے مختلف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں اور مخدوم خسرو فیملی کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے،

    سابق وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار، سابق صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے حوالہ سے 2018 میں نیب ملتان میں کرمنل درخواست دی گئی، تحقیقات ہوئیں، انکوائری ہوئی تو پہلی انکوائری میں ڈی جی نیب ملتان عتیق الرحمان نے سو ارب روپے کا گنہگار ٹھہرایا تھا، ریفرنس دائر ہونا تھا، اور گرفتاری ہونی تھی تا ہم حکومت میں ہونے کی وجہ سے ڈی جی نیب سے کیس ملتان سے لاہور منتقل کروا دیا گیا، حالانکہ چیئرمین نیب کے پاس ڈی جی سے ڈی جی کیس کی منتقلی کا اختیار نہیں، چیئرمین نیب نے یہ غیر قانونی کام کیا،ایک سال تک اس کیس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر عدالت میں نیب لاہور 13 مئی 2020 نے کہا تھا کہ نوے دن میں انکوائری رپورٹ پیش کریں گے،

    نوے دن تو کیا، حکومت بھی گئی لیکن ابھی تک انکوائرئ رپورٹ پیش نہ ہو سکی، نیب نے ایسا کس کے کہنے پر کیا؟ نیب نے سابق وفاقی وزراء کے خلاف ریفرنس کیوں دائر نہیں کیے، نیب نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ابھی تک کیوں کی، ان سب سوالات کے جوابات رحیم یار خان کی عوام سننا چاہتی ہے

    مدعی نے نیب کی جانب سے ریفرنس دائر نہ کرنے ، اور عدالتی حکم تسلیم نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست بھی لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی،توہین عدالت کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں 18 جولائی کو سماعت ہونی ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈی جی نیب لاہور کو طلب کر کے ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے رپورٹ کیوں جمع نہیں کروائی،

    شوگر سکینڈل
    مخدوم خسرو فیملی کی چھ غیر قانونی شوگر ملیں جو کہیں بھی مینشن نہیں۔ نیب رپورٹ میں لکھا ہوا ہے اسکے سٹیک ہولڈر چار ہیں۔ خسرو بختیار، مخدوم عمر شہر یار ،مونس الہی بھی سٹیک ہولڈر ہیں ۔ ہاشم بخت ۔ چوھدری منیر بھئ سٹیک ہولڈر ہے۔ آر وائی کے پانچ لوگوں پر مشتمل شوگر کا گروپ ہے، چینی میں غیر قانونی سبسڈی 34 فیصد سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے ذریعے لی گئی، آر وائی کے، اتحاد شوگر مل،شاہ تاج شوگر ملز،ٹو سٹار شوگر مل،ایس ڈبلیو شوگر مل ،کمالیہ شوگر مل کے ذریعے نہ صرف سبسڈی غیر قانونی لی گئی بلکہ منی لانڈرنگ بھی کی گئی، اس حوالہ سے ایف آئی اے میں درخواست دی گئی ہے اور دو سال ہو چکے ہیں تا ہم مقدمہ درج ہونے کے بعد کوئی کاروائی نہ ہو سکی، پرویز الہی جب وزیر اعلی تھے تو ایک مل منظور کروائی جو شوگر مل نہیں تھی لیکن اب تک شوگر مل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں مخدوم عمر شہریار اور دو فرنٹ میں

    گندم بحران
    مخدوم خسرو بختیار وزیر تھا 30 ایم ایم ٹن ضرورت تھی ۔ بتایا گیا کہ پاکستان میں 28 ایم ایم ٹن گندم کی ڈیمانڈ ہے اپنی کک بیکس اور کرپشن کی خاطر گندم ایکسپورٹ کی اجازت مخدوم خسرو بختیار نے دے دی گندم ایکسپورٹ کی گئی تو ملک میں گندم کا بحران آ گیا ، گندم ایکپسورٹ میں تین سو ارب روپے کی مبینہ طور پر کرپشن کی گئی،

    پینڈورا پیپر میں بھی تمام خسرو فیملی کا نام ہے۔ اور انکی آفشور کمپنیز، اثاثوں کا پینڈورا پیپرز میں ذکر ہے، سوئس اکاؤنٹ میں سات سو ملین ڈالر۔ پینڈورا پیپر میں بھی تفصیل ہے ۔

    سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل نااہلی کی پینڈنگ ہے ۔انہوں نے اثاثے چھپائے ہیں اس لئے انکو نااہل قرار دینے کی اپیل کی ہے،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ دونوں بھائیوں نے آمدن سے زائد اثاثے بنائے اور انہیں ظاہر نہیں کیا جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) ملتان کو بھی ان کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست دی گئی ہے۔ نیب کی جانب سے دونوں بھائیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔عدالت نے نیب کو قانون کے مطابق زیرالتوا درخواست کا فیصلہ تین ماہ میں کرنے کا حکم دیا لیکن نیب ملتان نے انکوائری اب مزید کارروائی کے لیے نیب لاہور کو بھجوادی ہے۔درخواست گزار نے کہا کہ انکوائری کی پیش رفت سے بھی آگاہ نہیں کیا جارہا۔ دونوں بھائیوں کے اثاثے ایک سو ارب سے زائد ہیں، خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت صادق اور امین نہیں رہے۔درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ عدالت مخدوم خسرو بختیار اور ان کے بھائی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم بھی دے۔خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کو آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے نام پر مینڈیٹ لیا تھا اور نوے دن میں صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، نوے دن گزر گئے چار سال گزر گئے، حکومت ختم ہو گئی تا ہم جنوبی پنجاب صوبہ کے بارے میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی

    مخدوم خسرو فیملی کی کرپشن کو بے نقاب کرنے پر مدعی رئیس محمد احسن عابد کے خلاف ایف آئی آر تھانہ ایف آئی اے لاہور میں کروائی گئی جس میں بلیک میلنگ کا الزام لگایا گیا تھا، مخدوم عمر شہر یار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، تحریک انصاف کی حکومت کے دوران مدعی مقدمہ رئیس احسن عابد ایڈوکیٹ کو دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں اور بے جا تنگ بھی کیا جاتا رہا

    ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود مخدوم خسرو بختیار پاکستان سے جا چکے ہیں،انہوں نے اپنے پورٹ فولیو کا غلط استعمال کیا

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام سنتے آئے اور اب شیر آیا شیر آیا کے مصداق ملک واقعی اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور ایک ہم اور ہمارے حکمرانوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی عملی اقدامات اٹھائے؟ کیا حکمرانوں ، اعلیٰ بیورو کریسی کے افسران، اعلیٰ اور نچلے درجے کے پولیس افسران ، سول انتظامیہ کے افسران ، ریونیو کے افسران، نے کرپشن سے توبہ کر لی؟ کیا ملک کی بڑی مچھیلوں نے رضاکارانہ طور پر زیادہ ٹیکس دینے کا اظہار کیا؟ کیا ملک میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان افسران نے اپنی ضرورت سے زیادہ تنخواہ کم لینے کے جذبے کا اظہار کیا؟ کیا ہم نے گھاس کھا کر وطن کی آن بچانے کا عہد کیا؟

    ان تمام سوالات کا جواب اگر نہیں میں ہے تو ہم جس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں وہ ایک بھیانک انجام ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2013ء کے عرصے میں جب یورپ میں معاشی بحران آیا تو جرمنی کے تاجروں اور صنعتکاروں نے حکومت کو درخواست کی کہ ان پر ٹیکس زیادہ لگایا جائے حال ہی میں کینیڈا میں ایک شعبے کے ملازمین نے حکومت سے استدعا کی کہ ان کی تنخواہیں ان کی ضروریات سے زیادہ ہیں کم کی جائیں آج ملک میں کروڑوں کے پلاٹس، لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے موجود ہیں اعلیٰ انتظامی اور تکنیکی پوسٹوں پر سفارشی بنیادوں پر تعینات کئے جا رہے ہیں وزارتوں اسمبلیوں میں اور تکنیکی شعبوں میں محکمہ انکم ٹیکس و مالیات میں کرپٹ رشتہ داروں کو کھپایا جاتا ہے اور رونا رو رہے ہیں کہ ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تمام کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں اعلیٰ سیاستدانوں ، حکمرانوں ، مقتدر عہدوں پر فائز افسران سے لے کر تمام دفاتر میں براجمان چھوٹے بڑے ملازمین تک اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جاکر حلف برداریاں آن ریکارڈ کریں کہ وہ بابائے قوم کے اقوال کے مطابق حقیقی طور پر ملک و قوم سے وفادار رہیں گے اور کوئی کرپشن ، اقربا پروری، سفارش نہیں کریں گے اور اس کے بعد آئی ایس آئی اور آئی بی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے تمام وزراء، مشیران، سول و ملٹری افسران کی کڑی نگرانی کی جائے اور ملکی مفاد کیخلاف کام کرنے کے مرتکب عہدیداروں کے لئے سخت سزائیں دی جائیں ایسا نظام لایا جائے تاکہ کوئی بھی پاکستان کے ستقبل سے کیلنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ آج ملک کے جو حالات ہیں اس کارخیر میں سب کا کردار ہے۔