Baaghi TV

Tag: کرپشن

  • نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    لاہور:سابق خاتون اول بشرہ بی بی، ان کے سابق خاوند خاور مانیکا، اس کے بچے، اس کے بھائی اس کے رشتہ دارکیسے ریاست کو لوٹتے رہے۔ اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پرانکشافات کرکے بہت سی چیزیں صارفین کے سامنےرکھ دی ہیں‌، وہ کہتے ہیں کس سے کتنی رقم لی، کس کی کتنی زمین پر قبضہ کیا، کس سے کتنے تحائف لیے، کہاں کہاں زمین خریدی اور کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی۔ ایک ایک چیز آپ کے سامنے رکھوں گا اور یہ کہانی کروڑوں کے نہیں بلکے اربوں کے ہیں، پانچ قیراط کی انگوٹی صرف والدہ نے نہیں لی بلکہ سوا ارب روپے کی کک بیکس صرف بیٹے نے اسی پارٹی سے وصول کی۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میاں خاور مانیکا ولد میاں غلام فرید مانیکا کا تعلق ضلع پاکپتن کے معروف مانیکا وٹو خاندان سے ہے۔ ان کے دادا خان بہادر نور خان ایک زمیندار تھے اور تقریباً 3700 ایکڑ زرعی زمین کے مالک تھے۔خاور مانیکا کے والد میاں غلام فرید مانیکا بھی ضلع پاکپتن کے معروف زمیندار تھے۔ خاور مانیکا کو تقریباً400 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان کسٹم کو 1983میں جوائن کیا اور 2018 میں ریٹائر ہوئے۔

     

    سنیئرصحافی نے اس حوالے سے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر اس کی شادی اپنے چچا مظہر فرید مانیکا کی بیٹی محترمہ روبینہ سے ہوئی جو دیپالپور ،ضلع اوکاڑہ کی رہائشی تھی۔ یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اورپھربشریٰ بی بی سے دوسری شادی کر لی جس سے ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ آخر میں بشریٰ بی بی کو طلاق دینے کے بعد، اس نے دس اگست 2018 کو اپنی بیٹی کی دوست سمیرا جاوید، آغا جاوید اختر کی بیٹی کے ساتھ تیسری شادی کی، جس سے خاورمانیکا کی صرف ایک بیٹی ہے۔ نکاح کا سرٹیفکیٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔خاور مانیکا پر الزام ہے کہ وہ ایک روائیتی بدعنوان بیو روکریٹ کی عظیم مثال ہیں جو فرنٹ مین کے ایک باضابطہ نیٹ ورک کے ذریعے منظم بدعنوانی میں ماسٹر بن گئے۔ اس کے کچھ فرنٹ مینوں اور سماجی روابط کی تفصیلات میں آگے چل کر بتاوں گا جسے سن کر اپ کے اوسان خطا ہو جائین گے۔۔ بدعنوانی کی کچھ جھلکیاں میں آپ کو دیکھا دیتا ہون۔۔ خاور مانیکا نے اپنے ایک فرنٹ مین کے ذریعے چک بیدی،ڈسٹرکٹ عارف والا میں مرحوم چوہدری عبدالغفور جن کی وفات 2017 میں ہوئی کی چھوڑی ہوئی تقریباً چار سو ایکڑ زرعی زمین پر قبضہ کر لیا۔ خاور مانیکا نے روبینہ نامی خاتون جو خاور مانیکا کے فرنٹ مین محمد رفیق کی بہن ہےکا جعلی شناختی کارڈ تیار کرکے اور اس کا نام عائشہ رکھ کر مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور تو اور جعلی شادی کا سرٹیفکیٹ بھی تیار کیا گیا جس میں اسے مرنے والے کی بیوی ظاہر کیا گیا ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جعلی نکاہ نامہ اور شناختی کارڈ کی کاپی آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔تاہم، جانچ پڑتال کے بعد مذکورہ گاؤں میں شادی کا کوئی ریکارڈ نہ ملا۔خاور مانیکا اور اس کے بیٹے ابراہیم مانیکانے اپنے مقامی فرنٹ مین محمد رفیق کے ساتھ مل کر موضع میر خان میں 45 ایکڑ اراضی دھوکہ دہی سے مقتول کی جعلی بیوہ پیش کر کے ہتھیا لی۔کیونکہ مقتول مقبول کا کوئی قانونی وارث نہیں تھا۔ اور یہ کارنامہ سر انجام دینے کے عوض خاور ما نیکا نے اپنے فرنٹ مین رفیق عرفPhikki کو 12 ایکڑ زمین تحفے میں دی۔خاور مانیکا اور ابراہیم مانیکا جوبشریٰ بی بی کا بیٹاہے، نے خاتون اول کی صورت میں حاصل ہونے والی شہرت کا استعمال کرتے ہوئے اور خاتون اول کی مبینہ حمایت کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً دس لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پروزیر اعلی، آئی جی، اور چیف سیکرٹری آفس کے ذریعے سرکاری افسران کے تبادلوں، پوسٹنگ کا انتظام کر کے کماتے رہے ، یعنی تین کروڑ روپے ماہانہ۔ لیکن یہ تو مونگ پھلی کا ایک دانہ ہے ، آپ آگے تفصیل سنیں گے تو آپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ یہ تو ڈرائی فروٹ کے پورے پورے ٹوکرے ہضم کر گئے اور ڈکار بھی نہیں ماری۔ آپ سنتے جائیں اور شرماتے جائیں۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    ٹرانسفر پوسٹنگ کی رقم کی دھوکہ دہی مسٹر سرفراز کے ذریعے کی جاتی تھی جو لاہور میں خاور مانیکا کے اہم فرنٹ مین ہیں اور اہم کام انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، خاور مانیکا کے لاہور میں کئی ججوں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات اور قریبی روابط ہیں۔سروس کے دوران، خاور مانیکا نے گاؤں موضع 22/K میں 135 ایکڑ زرعی زمین خریدی اور اسے بشریٰ بی بی خاتون اول کے نام کر دیا۔ ان کی طلاق کے بعد، مسٹر مانیکا اب بھی اپنے فرنٹ مین عامر نامی شخص کے ذریعے زمین کا سالانہ ٹھیکہ وصول کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت محترمہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے مسلسل مالی روابط کی تصدیق کرتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان نے اپنی بیوی کے اثاثے اپنے گوشوارون میں ظاہر کیئے ہیں اور اگر نہیں کیئے تو یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ اس ملک میں اکاموں پر نا اہل کرنے کی روائیت تو پہلے ہی پڑ چکی ہے۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھائی احمد مجتبی کے کارناموں پر ایک نظر :احمد مجتبیٰ ولد سردار ریاض خان (مرحوم) کا تعلق ضلع اوکاڑہ کے معروف وٹو خاندان سے ہے۔ وہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے بھائی ہیں۔ ان کے والد، سردار ریاض خان ضلع اوکاڑہ کے معروف زمیندار تھے۔احمد مجتبیٰ کو تقریباً 60 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔ ان کا مستقل پتہ Koaky Bahawalتحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ ہے۔ ان کی شادی سردار لطف اللہ خان کی بیٹی محترمہ مہرالنساء سے ہوئی جس سے ان کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہے۔ وہ مستقل طور پر لاہور میں آباد ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کے بعد
    احمد مجتبی علاقے کی ایک بااثر شخصیت بن گئے ہیں۔ اپنے ساتھیوں، فرنٹ مینو اور دیگر لوگوں کی مد د سے ایک منظم گروپ بنایا جس میں
    وسیم رسول مانیکا ، حماد احمد مانیکا اور دیگر شامل ہیں،احمد مجتبی تحصیل دیپالپور میں زمینوں پر قبضے سمیت ہر طرح کی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔جب عمران خان کی حکومت آئی تو خاتون اول کے بھائی احمد اپنے بھانجے ابراہیم مانیکا کے ساتھ سرکاری افسران کی تقرریوں،تبادلوں کا انتظام کر تے رہے ۔ کئی فرنٹ مینوں کے ذریعے روزانہ ضرورت مندوں سے پانچ لاکھ سے دس لاکھ روپے تک کی رقم چھین لی جاتی۔احمد مجتبی کے فرنٹ مین وسیم رسول نے ان کے کہنے پر 2017 میں موضع بونگہ صالح رفیع آباد، کھمبیا والی، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں561 کنال اراضی ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے کے ٹھیکے پر ہتھیا لی۔ یہ زمین دراصل دوبہنوں کی ہے جن کا نام بشریٰ بیگم اور عارفہ فخر حیات مانیکا ہے جو میاں فخر محمد مانیکا کی بیٹیاں ہیں۔ مقامی حکومت کے دباؤ سے کیس ابھی بھی زیر التوا ہے۔ملک حسین ولد برکت علی نے حماد احمد مانیکا اور وسیم رسول جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد کا فرنٹ میں ہے کے ساتھ مل کر طاہر خورد، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں مسٹر دین محمد کی 70 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا ،زمین کی قیمت تقریباً 21 کروڑ روپے ہے۔ایف آئی آر نمبر 17/22 مورخہ گیارہ جنوری 2022 مسٹر ملک حسین اور حماد احمد کے خلاف تھانہ بصیر پور، ضلع اوکاڑہ میں درج کی گئی ہے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ حماد احمد مانیکا جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد مجتبی کا فرنٹ مین ہے نے احمد کے کہنے پر بونگہ صالح، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں 17 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ کیا۔ یہ زمین دراصل بریگیڈیئر (ر) شاہد جمیل کی تھی ،زمین کی قیمت تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے۔حماد احمد مانیکا نےجعلی دستاویزات کے ذریعے 2.5 ایکڑ اراضی بھی ہتھیا لی جسے اس کے قانونی ورثاء نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے کسی دوسری پارٹی کو فروخت کیا تھا۔ گفت و شنید کے بعد انہوں نے بڑا حصہ واپس کر دیا لیکن پھر بھی سوسائٹی میں 72 مرلہ کمرشل اراضی پر قابض ہیں۔ احمد مجتبی کے فرنٹ مین حماد احمد مانیکا نے پٹواری ٹھوکر نیاز بیگ کی تقرری کے لیے اسی لاکھ روپے لیے، اور پھر اگلے ہی دن نوٹیفکیشن میں ترمیم کر دی گئی اورحکام کی جانب سےایک اور شخص کو تعینات کر دیا گیا جس کی وجہ سے پٹواری اپنے پیسے واپس مانگتا رہ گیا۔ایک تخمینہ کے مطابق خاور مانیکا اور اس کے بیٹو ں نے ایک ارب 34کروڑ کی گاڑیاں، کاریں اور کیش کی صورت میں بنایا جبکہ زمین اور گھروں کی صورت میں تقریباایک ارب تین کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔احمد مجتبی کے پاس زمین اور کیش کی صورت میں تقریبا 520 millionروپے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کے بیٹے مسٹر ابراہیم کو حال ہی میں لاہور میں چار کروڑ روپے کی ایک لینڈ کروزرگاڑی تحفہ میں ملی ہے جو تحفہ فراہم کرنے والے کے ایک مخصوص کام کو پورا کرنے اور اسے سنبھالنے کی صورت میں ملی ہے۔ اس الزام کے ثبوت۔ اس بندے کا نام اور کس کام کے عوض یہ دی گئی بہت جلد ایک اور پروگرام میں آپ کے سامنے لاوں گا۔مبینہ طور پر، بشرہ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے پنجاب حکومت کے ذریعے لاہور میں شاہقام چوک اوور ہیڈ برج کی تعمیر میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بحریہ ٹاؤن کے سی ای او ملک ریاض سے کک بیک کی صورت میں 80 کروڑ روپے بھی وصول کیے ۔ جبکہ ایک اور ڈیل میں پچیس کروڑ روپے الگ سے لیے۔خاور مانیکا کے چچا نے عرصہ دراز پہلے آٹھ کنال قیمتی جگہ جو287 Ferozpur lahore کے نام سے تھی کو تیس لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ خاور مانیکا نے ہیرا پھیری کر کے ، حال ہی میں اپنے دادا کے نام کروانے میں کامیاب ہو گئے ۔اب اس جگہ کی مالیت اربوں میں ہے، خاور مانیکا نے محکمہ لینڈ ریکارڈ کو خصوصی طور پر زمین کا ریکارڈ شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی ۔اب یہ پاکپتن میں کس قسم کی بدمعاشی کرتے ہیں زرا یہ بھی سن لیں۔۔بھروان بی بی جو7-SPضلع پاکپتن کی رہائشی ہے نے SP صدر کو درخواست دی ، کہ اس کے بیٹے سہیل منظور ولد منظور جس کی عمردس سال تھی سے ذاکر حسین نامی شخص نے شدید جسمانی زیادتی کی ہے۔ جب وہ دوکان پر سودا لینے جا رہا تھا۔اور اس پر ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔اور بعد میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم خاور مانیکا کے منیجر جاوید کا قریبی رشتہ دار نکلا۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا کے مینجر جاوید نے بھروان بی بی پر اپنی ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن اس کے باوجود، نابالغ سہیل منظور نے صلح کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد موسیٰ مانیکا سرگرم ہو گئے ۔موسی بشریٰ بی بی کا چھوٹا بیٹا ہے ، اس نے اپنے ڈیرہ میں پنچایت بلائی۔ متاثرہ کے رشتہ داروں کو بے جا دباؤ کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے جھوٹے مقدمات بنا کرانہیں غیر قانونی حراست میں رکھا۔ ابھی تک، مصالحت زیر التواء ہے اور متاثرین کو اب بھی مسٹر خاور مانیکا مقامی پولیس کے ذریعے مجبور کر رہے ہیں۔ان لوگوں کے کام دیکھیں اور ان کے عزائم دیکھیں۔۔ اب ان کی نظر
    دربار بابا فرید پاکپتن کی گدی پرہے۔خاور مانیکا دربار حضرت بابا فرید، پاکپتن کی گدی لینے کے خواہشمند ہیں کیونکہ وہ دربار حضرت بابا فرید کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں خاص طور پر دربار کے سالانہ عرس کے موقع پرحال ہی میں دیوان مودود جودربار کے موجودہ نگران ہیں اور ان کے دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ ہوا تھا۔ دیوان فیملی کے ممبر ہونے کے ناطے خاور مانیکا نے ‏محکمہ اوقاف کے ذریعہ ساز باز کر کے اس صورٹھال سے فائدہ اٹھایا اور عرس کے پہلے دو دن کا نظام سنبھال لیا۔ دس دسمبر دوہزار اکیس کو جاری کیا گیا چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کا یہ نوٹیفیکیشن آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں جس میں ڈپٹی کمشنر پاکپتن کے بعد خاور مانیکا کا نام درج ہے۔جس نے دربار کی رسومات ادا کرنے میں ہیرا پھیری کرکے مزید اختلافات پیدا کیے ۔

    بشریٰ بی بی، خاور مانیکا، ان کے بیٹے ابراہیم اور بھائی احمد مجتبیٰ نے روابط کا استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ خاتون اول کی ملی بھگت سے ریاست کے کسی بھی فرد یا ادارے کو متاثر کرسکتے تھے۔ انہوں نےبیوروکریسی پولیس میں اثر و رسوخ کا اپنا کلب سرکل بنا لیا تھا۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجرکےساتھ خاور مانیکا پنجاب بھر میں خاص طور پر ساہیوال ڈویژن کی مقامی انتظامیہ میں منافع بخش تقرریوں پر اپنے قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو تعینات کرنے میں کامیاب رہی ۔خاتون اول نے اپنے کلب کے ساتھ Graana.com میں سرمایہ کاری کی ہے، جو کہ فرنٹ مین کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گالف فلورس گارڈن سٹی اسلام آباد (عمران گروپ آف کمپنیز)۔عمارات رہائش گاہیں (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔ایمیزون آؤٹ لیٹ (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔امارت مال (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔مال آف عربیہ (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔فلورنس گیلیریا (ڈی ایچ اے فیز 2 اسلام آباد)۔Taj Residensia i-14
    اسلام آبادپارک ویو سٹی (ملت روڈ اسلام آباد)۔خاور مانیکا اور احمد مجتبیٰ بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر لاہور,اوکاڑہ اور پاکپتن میں متعدد منصوبے شروع کیئے ۔ مزید یہ کہ انہیں مختلف منصوبوں کی منظوری میں سہولت کے لیے نقد رقم اور مہنگے تحائف کی مد میں بھاری کک بیکس بھی ملے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ خاتون اول کے حمایت یافتہ کلب نے راولپنڈی کے مجوزہ رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ نووا ہاؤسنگ اور دیگر ہاؤسنگ سکیموں میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔چکری انٹرچینج M2 کے قریب کنگڈم ویلی اسلام آباد کنگڈم گروپ کا ایک فلاپ/ڈیڈ پروجیکٹ تھا۔ بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے، جسے اس کی والدہ کی حمایت حاصل ہے اوراثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئےنیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے ساتھ تعاون کرکے اس منصوبے کو تبدیل کیا ۔
    دو سو کنال زمین کا ایک پورا بلاک بلیو ورلڈ سٹی میں خریدا گیا۔ اس کی ڈویلپمنٹ ابراہیم مانیکا کی طرف سے منتخب کنسٹرکشن کمپنی نے کرنا تھی۔
    ان لوگوں کی ہوس کی انتہا دیکھیں کہ ابراہیم مانیکا کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں اپنےوالد خاورمانیکا کے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ہیوی بائیکس درآمد کرتے رہے اور کسٹم میں اچھی خاصی چھوٹ اور ٹیکس چوری تک کرتے رہے۔

  • فرح،مانیکا،عمران خان خاندان کی کرپشن،توجہ ہٹانے کیلئے بنایا گیا گھناؤنا منصوبہ

    فرح،مانیکا،عمران خان خاندان کی کرپشن،توجہ ہٹانے کیلئے پی ٹی آئی نے بنایا گھناؤنا منصوبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے عسکری قیادت کے خلاف جارحانہ مہم چلانے کے احکامات جاری کئے ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ذرائع کے مطابق تحقیقات کے نتیجے میں فرح خان،مانیکا خاندان اور عمران خان کے تانے بانے دستاویزات اور شواہد کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے ہیں جس کے بعد بلیک میلک اور توجہ ہٹانے کے لئے پی ٹی آئی قیادت نے عسکری قیادت کے خلاف نئی اور جارحانہ مہم چلانے کے احکامات جاری کر دئے ہیں۔

    عمران خان کی جب سے حکومت گئی ہے تب سے وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس میں پراجمان ہونے کے لئے بیتاب ہیں، عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے جا نہیں رہے تھے گئے تو پھر آنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان اب بنی گالہ کو ہی وزیراعظم ہاؤس کا نام دے دیں کیونکہ ان حالات میں عمران خان نے کرسی جانے کے بعد اداروں پر تنقید کی، عسکری قیادت پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ٹرینڈ چلائے اور تنقید کی، اپنی کرپشن چھپانے کے لئے ،جیل سے بچنے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے اور سلیم صافی کی بات سچ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ عمران خان اتنے بہادر ہیں کہ لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد چھوڑ دیا اور گرفتاری کے خوف کی وجہ سے خیبر پختونخواہ میں چھپ کر بیٹھ گئے، اسکے بعد لانگ مارچ کرنے آئے تو پھر گرفتاری کے خوف سے ہی واپس چلے گئے، اسکے بعد اب بھی گرفتاری کا اتنا خوف ہے کہ گزشتہ روز انہوں نے عدالت سے ضمانت کروائی ہے،

    فرح گوگی کی کرپشن کے چرچے عمران خان کی حکومت کے جانے سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے، نیب نے بھی تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے، فرح گوگی کے ساتھ تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی بے نقاب ہونے والے ہیں جنہوں نے حکومت میں رہ کر کرپشن کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا،

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

  • عمران خان اپنے دور میں کرپشن کر کے اب لیکچر دے رہے ہیں، احسن اقبال

    عمران خان اپنے دور میں کرپشن کر کے اب لیکچر دے رہے ہیں، احسن اقبال

    عمران خان اپنے دور میں کرپشن کر کے اب لیکچر دے رہے ہیں، احسن اقبال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے نیب قوانین میں ترامیم کیے

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران نیازی نیب ترامیم کے حق میں وزنی دلائل دے چکے ہیں، عدالتیں اپنے فیصلوں میں نیب ترامیم کے حوالے سے ہدایات دے چکی ہیں، عمران خان کی تنقید کس بات پرہے؟عمران خان لیکچردے رہے ہیں جن کے دور میں کرپشن ہوئی ،عمران خان 2011 سے جو راگ الاپ رہے ہیں وہ بے نقاب ہو گیا،میں نے بیسیوں بار عمران نیازی اور شہزاد اکبر کو چیلنج کیا تھا،ہم نے کہا کہ ہمارے منصوبوں میں کرپشن ثابت کرو ہم قومی مجرم ہوں گے، 4 سال تک عمران خان سیاہ سفید کا بادشاہ تھا،نیب اور چیئرمین نیب عمرا ن خان کے اشاروں پر ناچتے تھے،ایک ثبوت ثابت نہیں کر سکا کہ کس نے خورد برد یا کک بیکس کیں،

    گرفتاری کا خوف، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عدالت پہنچ گئے

    مریم نواز کی جعلی ویڈیو پوسٹ کرنیوالا پی ٹی آئی کارکن گرفتار

    سوشل میڈیا پر غیراخلاقی ویڈیوز چلانے والوں کیخلاف کریک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا ہے

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ٹرینڈ بنا بنا کر حکومت چلائی گئی، بہتان تراشی کی سیاست کی گئی ،نواز شریف کا دوربین اور خوردبین سے احتساب کیا گیا، مجھ پر بے بنیاد جھوٹے الزام لگائے گئے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات خراب کیے گئے ،

    سابق وزیراعظم ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب کو ختم کرنے کے موقف پر قائم ہوں نیب کو ختم کرنے کی ضرورت پہلے بھی تھی آج بھی ہے،عمران خان نے 4 سال نیب کو استعمال کیا،ہم نے 5 سال حکومت کی ،عمران خان نے نیب کو قبضے میں رکھا، ملکی وزیر اعظم کو 18 ماہ جیل میں رکھا کوئی کیس نہ بنا سکے، ہمارے خلاف ایف آئی اے سے مل کر جعلی کیس بنایا گیا،حکومت کے گواہ نے کہا شاہد عباسی کا کیس سے کوئی تعلق نہیں،آخری گواہ نے کہا میرا بیان ریکارڈ میں لگاہے جو میں نے نہیں دی،میں کہتا رہاہوں کہ کیمرے لگا کر کارروائی کریں،آج بھی کہتا ہوں سب سے کرپٹ ترین ادارہ ملک کا نیب ہے،کمیشن بنائیں ، لوگ پیش ہوکر بتائیں کہ نیب نے آج تک کیا کیا ،

    قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے، پیمرا ترمیم میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے،ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت سے ترامیم لا رہے ہیں،جو بھی ترمیم ہوگی تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے،سابق دور میں تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا ہاوسز کے اشتہارات بند نہیں کیے گئے،ورکرز کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ کے حوالے سے قانون لایا جا رہا ہے مسلم لیگ (ن) ہمیشہ آزاد میڈیا پر یقین رکھتی ہے، پچھلے چار سال صحافیوں، میڈیا ورکرز اور میڈیا ہائوسز کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سیاہ دور تھا.

  • عثمان بزدار کی بڑی کرپشن پکڑی گئی

    عثمان بزدار کی بڑی کرپشن پکڑی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان اب لانگ مارچ نہیں کریں گے، تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مزید کیسز بنیں گے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹویب چینل پر اینکر مہوش تبسم کے سوالات کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار وہ شخص ہے جس کی وجہ سے میرے اور عمران خان کے تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی، میں نے خود اسکی کرپشن بارے عمران خان کو بتایا تھا، نو سو کنال زمین ہتھیانے پر اب مقدمہ ہوا، اصل کرپشن پھوپھا کے ساتھ کی، ایک انکے کزن تھے، انکو ساؤتھ پنجاب میں سامنے رکھا ہوا تھا، پولیس میں،محکموں میں تبادلے، میں نے عمران خان کو کہا تو اس نے کہا کہ جھوٹ بول رہے ہو، ثبوت دو تو میں نے کہا کہ تم وزیراعظم ہو، چیک کروا لو، ایک دن پھر مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے آئی بی کے ذریعے انکوائری کروائی ہے تم بالکل جھوٹ بول رہے ہو، تو میں نے کہا کہ آپ دیکھیں کہ آئی بی کس کس کو آپکے گھر میں رپورٹ کر رہی ہے، میں نے وزیراعلیٰ انکی جگہ نہیں بننا لیکن دیکھ لیں وہ کیا کر رہے ہیں، یہاں تک کہ 25، 25 ہزار کی رشوت لے رہے ہیں، کرپشن میں بھی اس آدمی کا ویژن نہیں تھا، عثمان بزدار پر بہت کیسز سامنے آئیں گے، فرح گوگی،عثمان بزدار کے بھائی، پھوپھا، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ دیکھیں عمران خان کے پروگراموں میں لوگ کم ہونا شروع ہو گئے ہیں، اب کم ہو رہے ہیں لوگ، دنیا سڑکوں پر تھی لیکن احتجاج میں نہیں تھی، لبرٹی میں سو گاڑیاں لانے سے ہزار گاڑیاں بلاک ہو جائیں گی اور ایسے لگے گا کہ سب گاڑیاں ساتھ ہیں، اب لانگ مارچ عمران خان سے نہیں ہو گا، لوگ کیا تیاری کریں، پارٹی کچھ نہیں کر رہی، پارٹی نہ حلقہ بندی، نہ ممبر شپ کر رہی، نہ لانگ مارچ کے حوالہ سے تیاری کر رہی، کہاں چلنا، کہاں جانا، راستے مین کیا انتظام ہو گا، ایسی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے،اسکا مطلب کہ لانگ مارچ دور کے ڈھول سہانے ہیں، مہنگائی ایک دن میں ختم نہیں ہوتی، عمران خان جو کر کے گئے تھے وہ سب کے سامنے ہے، وہ عوام کی کمر توڑ کر گئے تھے،میں تو حکومت کو کہتا ہوں کہ انکے کنٹریکٹ سامنے لائیں، تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ کیا کر رہے ہیں

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • ‏سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات درج

    ‏سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات درج

    لاہور:سرکاری زمین اپنے نام منتقل کروانے کا الزام،عثمان بزدار کے خلاف مقدمات درج،اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف سرکاری اراضی اپنے نام کروانے پر اینٹی کرپشن میں مقدمات درج کرلیے گئے ہیں جن میں اُن کے بھائیوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    اطلاع کے مطابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر عثمان بزدار کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مقدمات میں سرکاری زمین کو جعلسازی سے اپنے نام منتقل کروانے کی دفعات شامل ہیں جبکہ متن میں لکھا گیا ہے کہ سردار عثمان بزدار نے 900 کنال سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کے بارے میں جعلی لیٹر تیار کروایا اور 1986 میں منتقلی ظاہر کر کے زمین ہتھیا لی۔

     

    ذرائع کے مطابق عثمان بزدار اور بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تونسہ میں کروڑوں روپے مالیت کی 900 کنال سرکاری زمین جعلی طور پر اپنے نام منتقل کروائی۔ ملزمان کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن ڈی جی خان میں مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنما عثمان بزدار نے بطور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب مراعات کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے مراعات کے حصول کے لیے ملتان بنچ میں دائر پٹیشن پرنسپل سیٹ پر ٹرانسفر کرنے کی متفرق درخواست بھی دائر کی ہے۔عثمان بزدار کی جانب سے لاہور ہائی کورت میں درخواست سینئر قانون دان اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کی گئی ہے ۔

    درخواست میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب منسٹرز مراعات ایکٹ کے تحت بطور سابق وزیر اعلیٰ مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے، 23 مئی سے قانون کے تحت بطور سابق وزیر اعلی حاصل مراعات نہیں دی جا رہیں، مراعات کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کو تحریری طور پر گزارشات کیں مگر سنوائی نہیں ہوئی۔

    درخواست میں عدالت عالیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ قانون کے تحت سابق وزیر اعلی پنجاب کو حاصل مراعات بھی دینے کا حکم دیا جائے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ مراعات کے حصول کے لیے دائر درخواست کو پرنسپل نشست پر سنا جائے۔

     

     

    دائر کی گئی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست میں فریق بنائے گئے چیف سیکرٹری پنجاب لاہور میں ہیں، اس لئے درخواست کو بھی پرنسپل سیٹ پر سنا جائے۔لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی درخواست پر اعتراض عائد کر دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی کل سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر بطور اعتراض کیس کی سماعت کریں گے۔

  • عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    ڈیرہ غازیخان(ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی )سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔

    عثمان بزدارکے زرعی فارم پرباغات کوسیراب کرنے کیلئے واٹر سپلائی کا پانی دستیاب، گذشتہ 5 ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے تالاب خشک ہو چکے ہیں ،لوگ سارا دن پانی کی تلاش میں گذاردیتے ہیں، یہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارومدار جوہڑوں کے گندے پانی پرہے،سردارعثمان خان بزدار وزیراعلیٰ بننے سے قبل 10سال تک تحصیل ٹرائبل ایریا کے ناظم رہے ،عثمان بزدار کا چھوٹا بھائی سردارجعفرخان بزدار ہے ،یونین کونسل مبارکی سے4،5 بارچیئرمین منتخب ہوا جو سردارعثمان بزدار کے دورحکومت میں سیاہ سفید کا مالک اورڈیرہ غازیخان کے وزیراعلیٰ سمجھے جاتے تھے نے اپنی یونین کونسل کی عوام کیلئے ایک بھی واٹر سپلائی سکیم منظورنہ کرائی اور وہاں کی عوام کے مقدر میں گندہ جوہڑوں والا بدبودار پانی لکھ دیا ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازیخان کا قبائلی علاقہ مبارکی جوسابق وزیراعلیٰ سردارعثمان خان بزدارکا آبائی علاقہ ہے یونین کونسل مبارکی عوام گذشتہ پانچ ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ پانی کی بوند بوند کوترس گئے،تالاب خشک ہوچکے ہیں ہرطرف خشک سالی ہے ،اس علاقہ کی عوام اورجانوروں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں یہاں منتخب ہونیوالے صوبائی حلقہ پی پی 287 کے ایم پی اے کے علاوہ اورقومی حلقہ سے منتخب ہونے والے سردار امجدخان کھوسہ نے ووٹ لینے کے بعدعرصہ چارسال گذرجانے کے بعد بھی اس علاقہ میں ایک باربھی نہ گیا۔

    ستم ظریفی تویہ کہ سردارعثمان خان بزدار وزیراعلیٰ بننے سے قبل 10سال تک تحصیل ٹرائبل ایریا کے ناظم رہے ،عثمان بزدار کا چھوٹا بھائی سردارجعفرخان بزدار ہے جواس یونین کونسل مبارکی سے4،5 بارچیئرمین منتخب ہوا،سردارعثمان بزدار کے دورحکومت میں سیاہ سفید کے مالک اورڈیرہ غازیخان کے وزیراعلیٰ سمجھے جاتے تھے نے اپنی یونین کونسل کی عوام کیلئے ایک بھی واٹرسپلائی سکیم منظورنہ کرائی اور وہاں کی عوام کے مقدر میں گندہ جوہڑوں والا بدبودار پانی لکھ دیا ۔موضع مبارکی بڑی بستیاں جن میں موضع جہاں نانی ڈب،موضع زہراف ڈب،بیل بتر،سُرتھوخ،موضع منجھیل اورہنگلون ودیگربستیوں کوشدیدپانی کی قلت کا سامنا ہے،ستم ظریفی تویہ ہے سردارعثمان خان بزدارنے اپنے باغ کوسیراب کرنے کیلئے بستی سلاری کی واٹرسپلائی بھی اپنے باغ میں لگوالی ،ان علاقوں کے رہنے والے لوگوں کے پینے کیلئے ایک بھی واٹر سپلائی سکیم پایہ تکمیل کو نہ پہنچائی ،پبلک ہیلتھ کے ریکارڈ میں کئی واٹرسپلائی سکیم چل رہی ہیں لیکن زمین پرکہیں بھی واٹر سپلائی کاوجود نہیں ہے۔

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    عثمان بزدار نے سیمنٹ فیکٹری کے 16 لائسنس بیچے،مفتاح اسماعیل کا دعویٰ

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    اس علاقہ میں ایک ایسی پرانی واٹرسپلائی کی ٹینکی کو نیا ظاہرکے کرپشن کی گئی جس میں ایک دن بھی پانی نہیں ڈالا جس کی چھت کا پرانا ٹوٹا ہوال ینٹر صاف دکھائی دے رہا ہے ،اس کی ٹوٹیوں والے پرانے پائپ پر ٹوٹیاں بھی نہ لگائی گئیں ۔یہاں کے عوام پانی کیلئے سردارعثمان خان بزدار کوچیخ چیخ کرپانی کی فراہمی کیلئے پکارتے رہے لیکن سردارعثمان بزدار ٹَس سے مَس نہ ہوئے،بالآخرتھک ہارکریہاں کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ اکٹھا کرکے پانی کے کچھ ٹینکوں کا بندوبست کیا،اس کے علاوہ ایک صحافی کی بھرپور کوشش اور ریکوئسٹ پرپولیٹیکل اسسٹنٹ نے بھی دو ٹینک پانی کے بھجوائے۔

  • محکموں میں کرپشن انتہاہ کو پہنچ گئی

    محکموں میں کرپشن انتہاہ کو پہنچ گئی

    قصور
    پیسے لے کر ڈیلی ویجز نوکریاں دینے کا انکشاف

    تفصیلات کے مطابق
    چونیاں ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ڈیلی ویجز کی نوکریاں پیسے لے کر دینے کا انکشاف ہوا ہے
    ایک لاکھ روپے سے شروع ہو کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک رشوت جا پہنچی ہے
    شہری نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر چونیاں خرم حمید صاحب اور سی ای او ہیلتھ قصور سے میری گزارش ہے کہ اس پر انکوائری کمیٹی بٹھائی جائے اگر یہ ثابت نہ ہو کے پیسے لے کر نوکریاں دی جا رہی ہے تو میرے خلاف کارروائی کی جائے میں قسم اٹھا کر کہتا ھو اس میں کون کون ملوث ہے ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور ان متاثرہ لڑکوں کو ان کے پیسے واپس دلوائے جائیں اور ان ملازمین کا فلفور یہاں سے تبادلہ کروایا جائے
    اسسٹنٹ کمشنر چونیاں خرم حمید صاحب
    سی ای او ہیلتھ قصور ڈاکٹر ثمرہ
    ڈپٹی کمشنر قصور اس کا نوٹس لیں اور اس پر انکوائری کمیٹی بٹھائے

  • ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ کیسے بنا سکتے ہیں ڈاکٹر سلمان شاہ نے بڑا راز بتا دیا

    ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ کیسے بنا سکتے ہیں ڈاکٹر سلمان شاہ نے بڑا راز بتا دیا

    لاہور:کرپشن کے ساتھ ساتھ مس مینجمنٹ اورنااہلیت بھی پاکستان کا ایک مسئلہ ہے:ڈاکٹرسلمان شاہ نے پاکستان کے مسائل کے حل کے ایک حل بھی بتادیا ،اطلاعات کےمطابق پاکستان کے سابق وزیرخزانہ ڈاکٹرسلمان شاہ نے سنیئر صحافی مبشرلقمان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی زبوحالی پربڑے دُکھ کا اظہارکیا ہے

    وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو بنیادی طورپرکئی مسائل کا سامنا ہے ، مگرسب سے بڑا مسئلہ نااہل لوگوں کوبڑے بڑے عہدوں پربٹھانا ہے ،سنیئرصحافی مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں جس میں انہوں نے پوچھا کہ کرپشن پاکستان کا مسئلہ ضرور ہے لیکن میرے خیال میں مس مینجمنٹ اوربیوروکریسی میں میرٹ کو نظرانداز کرنا بھی پاکستان کے مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے

    مبشرلقمان کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوے ڈاکترسلمان شاہ نے کہا کہ بلا شبہ کرپشن ہی کسی معاشرے کی سب سے بڑی برائی ہے ، اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے بھی اسے انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نااہل لوگوں کو ایسی جگہ بٹھا دینا جہاں وہ اہل نہیں تو یہ بھی کسی تباہی سے کم نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں یہ روایت ڈالنا اور بھی خطرناک ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک قابل اوراہل لوگوں سے کام نہیں لیا جائے گا حالات بہتر نہیں ہوں گے

    ڈاکٹرسلمان شاہ نے کہا کہ اب مزید تجربات کی گنجائش نہیں ذمہ داران اوراہل لوگوں سے کام لیا جائے اوران کی اہلیت کے مطابق ان سے کام لیا جائے پھر جاکرحالات بہتر ہوں گے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کےلیے میرٹ ہی بنیادی چیز ہے

  • سرکاری اہلکار لوگوں کیلئے عذاب

    سرکاری اہلکار لوگوں کیلئے عذاب

    قصور
    پتوکی کی ڈومیسائل برانچ میں تعینات کلرک لوگوں کیلئے عذاب بن گیا ،شہریوں کا ڈی سی قصور سے کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق چراغ تلے اندھیرے کی مثال تحصیل انتظامیہ پتوکی انتظامیہ نے سچ کر دیکھائی ہے
    پتوکی کی ڈومیسائل برانچ کرپشن کر گڑھ بن گئی اور سر پر بیٹھی تحصیل انتظامیہ خواب غفلت کے مزے لینے میں مصروف ہے
    ڈومیسائل برانچ میں تعینات جاوید نامی کلرک پیسے بٹورنے کی خاطر شہریوں کو بلاوجہ خوار کرنے لگا ہے تاکہ رشوت لی جا سکے
    اور اسی خاطر کبھی سائیٹ ڈاوون ہونے کا بہانہ تو کبھی صاحب کے دستخط نا ہونے کا بہانہ کرتا ہے اور اکثر سیٹ سے غائب رہتا ہے اور لوگوں کو کئی کئی دن خوار کرنے کے بعد کہتا ہے کہ آپکا کام جلدی ہو جانا تھا جان بوجھ کر خوار کیا ہے

    شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر پتوکی اور ڈی سی قصور سے ڈومیسائل برانچ میں تعینات جاوید نامی کلرک کے رویے اور کرپشن پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • وسیم اکرم پلس کے کارنامے سامنے آنے لگ گئے،200 سے زائد گھر مسمار کروا کر زمینوں پر قبضہ کر لیا

    وسیم اکرم پلس کے کارنامے سامنے آنے لگ گئے،200 سے زائد گھر مسمار کروا کر زمینوں پر قبضہ کر لیا

    وسیم اکرم پلس کے کارنامے سامنے آنے لگ گئے،200 سے زائد گھر مسمار کروا کر زمینوں پر قبضہ کر لیا

    ڈیرہ غازیخان ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے کارنامے سامنے آنا شروع ہو گئے، وزیراعلیٰ بننے کے پانچ روز بعد ہی آبائی علاقے میں غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا،وزیراعلیٰ بننے کے 5 روز بعد ساکرموڑ منگروٹھہ روڈ پرسرکاری مشینری کی مدد سے دھاوابول کر200 سے زائد گھرمسمارکرکے پٹرول پمپ سمیت 80 مربع زمین پرقبضہ کرلیا،پٹرول پمپ کوپنجاب پولیس کی چوکی میں تبدیل کردیا گیا،زمین پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پنجاب پولیس کی حدودمیں بارڈرملٹری پولیس کا تھانہ بنا دیا گیا،سردارعثمان خان کا دعویٰ ہے کہ یہ ہماری خاندانی زمین تھی جس پرقیصرانی قبیلے کے لوگ زبردستی قابض تھے ،ہم نے عدالت سے مقدمہ جیت کراپنارقبہ واگذارکرایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں سابق وزیراعلی سردارعثمان خان بزدارکے دادا سردارپائند خان بزدارنے یہاں کے مقامی پنچائتی جرگہ میں تسلیم کیا اورلکھ کر دیا تھا کہ اس رقبہ پربزدارقوم کاکوئی حق نہیں ہے اورانہوں نے اس پر قیصرانی قبیلے کا حق ملکیت تسلیم کیا۔

    ڈیرہ غازیخان تحصیل تونسہ شریف سے منتخب ہونے والے رکن پنجاب اسمبلی سردارعثمان احمد خان بزدار نے 21 اگست 2018ء کوبطوروزیراعلیٰ پنجاب حلف اٹھایا تھا،جسے سابق وزیراعظم عمران خان نے وسیم اکرم پلس قراردیا تھا نے محض وزیرااعلیٰ بننے کے 5روزبعد ساکرموڑمنگروٹھہ روڈپرسرکاری مشینری کی مددسے دھاوا بول کر قیصرانی قبیلے کے 200 سے زائد گھروں پرمشتمل آبادی کومسمارکرا دیا اورساتھ ہی پٹرول پمپ سمیت 80 مربع زمین پرقبضہ کرلیا۔پٹرول پمپ کو پولیس چوکی میں تبدیل کردیاگیا۔قیصرانی قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے قبضہ کی گئی زمین ان کی ملکیت ہے ،جبکہ بزدارکہتے ہیں کہ یہ زمین ہماری ہے کیونکہ ہم نے اس زمین کا کیس عداکت سے جیتا ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے اس علاقہ میں جنتا زمین قبضہ میں لی ہے اس کے مقابلے میں اس علاقہ میں ان کی اتنازمین نہیں ہے،قبضہ شدہ سینکڑوں کنال زمین قیصرانی قبیلے کے غریب مزدوروں کی ہے جس پرسردارعثمان بزدارنے وزیراعلیٰ بننے کے فوراََ بعد بزورِطاقت قبضہ کرلیا۔

    ساکرموڑپنجاب پولیس کی حدودمیں واقع ہے یہاں پرسابق وزیراعلی عثمان بزدار نے سرکاری وسائل کا ناجائزفائدہ اٹھایا،اس قبضہ شدہ رقبہ پر اپنا قبضہ مستحکم اورحفاظت کرنے کیلئے پنجاب پولیس کی حدود میں کروڑوں روپے خرچ کرکے بارڈر ملٹری پولیس کی ایک نئی چیک پوسٹ تعمیرکی گئی جسے بعدمیں بی ایم پی تھانہ ساکرمیں تبدیل کردیا گیاجہاں ایس ایچ اوسمیت نفری بھی تعینات کردی گئی۔ تمن قیصرانی میں بنائے گئے غیرقانونی بی ایم پی تھانہ کی حدودبنانے کیلئے چار موضعے شامل کئے ،اس علاقہ مین اثراورقبضہ شدہ زمین کی حفاظت کومدنظررکھتے ہوئے تمن بزدارکے دوموضع جات شامل کئے گئے تاکہ تمن بزدارسے تعلق رکھنے والے بی ایم پی اہلکاراورایس ایچ اوتعینات کئے جاسکیں ،اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے علاقہ میں بی ایم پی کاتھانہ بنانا بھی قواعدوضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔بی ایم پی تھانہ بننے کے باوجود سردارعثمان خان بزدارکواس علاقہ میں ایک مستقل رہائش کی ضرورت تھی کیونکہ انہیں معلوم تھاکہ وزارت اعلی کی کرسی کسی بھی وقت چھن جائے گی تواس ضرورت کوپوراکرنے کیلئے سب پہلے بی ایم پی رسالداروں کی دواضافی سیٹیں پیداکی گئیں ان میں سے ایک سیٹ پراپنے چھوٹے بھائی عمرخان بزدار کوترقی دیکر رسالداربنا دیا کیونکہ اس نے بطور رسالدارتمن بزدارمیں اپنی ڈیوٹی سرانجام دینا تھی توتھانہ ساکرکے ساتھ بی ایم پی رسالدار کی رہائش کیلئے سرکاری فنڈزکا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ایک عالی شان عمارت بنوانے کے احکامات دئے گئے تا کہ اقتدارجانے کے بعد قیصرانی قبیلے کے لوگ سرنہ اٹھا سکیں اوراگروہ اپنی زمین کا قبضہ چھڑانا چاہیں توبذریعہ بی ایم فورس جوکہ رسالدار (جس کاگریڈ ایک ڈی ایس پی کے برابرہوتا ہے)کی زیرکمان ہوتی ہے اسے بروقت اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیاجاسکے۔

    ذرائع کابتاناہے کہ جس زمین پرقبضہ کیا گیا وہ قدرتی معدنیات سے مالامال ہے۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس رقبہ کی آبپاشی کی ضروریات کوپوراکرنے کیلئے کسی آبادی کے نام پرایک واٹرسپلائی سکیم منظورکرائی گئی جوکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیرہ غازیخان نے تعمیرکی،کیونکہ رہائشی گھروں کی آبادی توپہلے مسمارکردی گئی تھی ،اس نئی تعمیرشدہ واٹرسپلائی سکیم سے پانی کی سپلائی کیلئے کوئی ایک گھربھی موجودنہیں ہے تویہ واٹرسپلائی صرف زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہوگی۔تونسہ سے ساکرموڑتک کا فاصلہ 9 کلومیٹر ہے ،اس قبضہ شدہ رقبہ کی ویلیوبڑھانے اوراپنی آمدورفت میں آسانی کیلئے37 کروڑروپے کی لاگت سے بہترین 9 کلومیٹرلمبی نئی کارپٹ سڑک بنوائی گئی۔

    دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ سردارعثمان خان کے ایک داداسردارپائندخان بزدارنے مقامی پنچائتی جرگہ میں لکھ کردیا تھاکہ یہ زمین بزدارقوم کی نہیں ہے اوراس زمین پرقیصرانی قبیلے کاحق ملکیت تسلیم کیاتھا۔سردارعثمان بزدارکا خاندان مسلسل پرپیگنڈہ کررہاہے کہ ہم لوگ کمزورتھے توہماری زمینوں پر قیصرانیوں نے قبضہ کرلیاتھا،یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا چیف سردارکمزورہوتا ہے ؟سردارعثمان خان بزدار کے والد سردارفتح محمد خان بزدارجنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں مجلسِ شوراکے رکن تھے ،کئی بارممبرپنجاب اسمبلی رہے اورخودعثمان خان بزدار دوبارتحصیل ناظم رہے ،اس کے علاوہ 2013سے 2018 تک مسلم لیگ ن کے دورِحکومت میں اِس علاقہ کے سیاہ وسفیدکے مالک تھے ،سوچنے کی بات تویہ ہے کہ اتنا کچھ اختیارات حاصل ہونے کے باوجودسابق وزیراعلیٰ سردارعثمان خان بزدارغریب دیہاڑی دارمزدورطبقہ سے اگران کارقبہ ہوتا توکیا ایسے لوگوں سے واگذارنہیں کراسکتے تھے۔

    پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

    ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

    لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

    لانگ مارچ،متحرک کارکنان کی فہرستیں تھانوں کو مل گئیں

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے