Baaghi TV

Tag: کرکٹ

  • کرکٹر آصف علي نے گھر کي چھت پر بيٹنگ پريکٹس شروع کردي۔

    کرکٹر آصف علي نے گھر کي چھت پر بيٹنگ پريکٹس شروع کردي۔

    جارح مزاج بلے باز آصف علی نے سوشل ڈيسٹنس کو مدنظر رکھ کر گھر کي چھت پر پريکٹس شروع کردي۔

    کرکٹر آصف علي کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ميں ہميں خود کو اور دوسروں کو بھي محفوظ رکھنا ہے ۔ پي سي بي کي کرکٹرز کو فٹ رکھنے کي ہدايت پر فزيکل ٹرئينگ کے ساتھ ساتھ بيٹنگ پريکٹس کا آغاز کيا ہے۔

  • محبت پر ظلم کا پہرہ !!! از قلم نعمان علی ہاشم

    محبت پر ظلم کا پہرہ !!! از قلم نعمان علی ہاشم

    کوئی ایک ہفتہ پہلے دنیا کرکٹ کے تیز ترین باؤلر نے ایک ویڈیو میں پاکستان اور بھارت کی عوام کو مشورہ دیا کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں پاکستان انڈیا کی کرکٹ سیریز رکھ لیں. ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا گھروں میں بور ہو رہی ہے. ٹی وی اور انٹرنیٹ کے علاوہ لوگوں کو کوئی کام نہیں ہے. لہٰذا براڈکاسٹنگ سے اچھا خاصا فنڈ اکٹھا کیا جا سکتا ہے. فنڈ پاکستان اور انڈیا آدھا آدھا کر لیں اور وہ پیسے کورونا کے مریضوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کر دیے جائیں. شعیب نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اپنے آفیشلز کے ساتھ سکینگ کے بعد کسی ایک وینیو پر جمع کی جائیں. اور براڈکاسٹنگ کے لیے جس چینل کو ٹھیکہ دیا جائے اس کی انتظامیہ کے 40 افراد سکینگ کے بعد جمع کر لیے جائیں. اسی طرح آئی سی سی اپنے نمائندگان کو سکینگ کے بعد سیریز کنڈکٹ کرنے بھیج دے. بغیر کراؤڈ کے انڈیا پاکستان کے تین میچیز کروا دیے جائیں.
    اس وباء کے موسم میں اس سے بہتر تجویز شاید ہی کوئی تھی. ایک تو جو لوگ گھروں میں قید ہیں ان کی تفریح کا سامان ہو جاتا. دوسرا سپانسرز اور براڈکاسٹنگ کے ذریعے تین ارب ڈالر کما لیے جاتے. جو کورونا کے خلاف لڑنے میں دونوں ممالک کے انسانوں کے کام آتے.
    میں نے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی تو نیچے ہندوستانیوں نے طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا تھا. سینکڑوں میں سے چند کمنٹ ایسے تھے جنہوں نے شعیب کے مشورے کو سراہا تھا.
    اولاً تو میں نے سوچا کہ عام اور جاہل ہندوستانی کا رویہ ہے. کسی زمہ دار بھارتی کا موقف جانتے ہیں.
    اس کے لیے سرچ کیا تو پورا ہندوستانی میڈیا شعیب اختر اور پاکستان کا مذاق اڑا رہا تھا. میڈیا تو چلو فاشٹ حکومت کا پیڈ ہوا. دکھ ہوا جب کچھ بھارتی سابق کرکٹرز نے بھی شعیب کا مذاق بنایا.
    سب سے شرمناک بات سنیل گواسکر نے کی کہ
    "پاکستان کے لاہور میں برفباری تو ہو سکتی ہے مگر شعیب اختر کے مشورے پر عمل نہیں.”
    ایک طرف تو یہ بھارتی رویہ ہے اور دوسری طرف ہمارا بھائی شعیب ہے جو ہر وقت امن کی بات کرتا ہے. شعیب نے کش میر پر ٹویٹ کی تو بھارتی عوام نے خوب سنائیں. شعیب نے کسی معاملے میں عمران خان کی تعریف کی تو شعیب اختر کو بھارتی میڈیا نے منافق کہہ دیا.
    ہماری ہوش کی آنکھوں نے پاکستان کی طرف سےامن کی آشاء سے لے کر آج تک بھارت کے تعصبانہ رویے کا ہمیشہ مثبت انداز میں جواب دیا. پاکستان کے ایمبیسڈرز نے ہر موقع پر پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کی بات کی. پاکستانی عوام کی اکثریت بھی پاک بھارت تعلقات کی برابری کی سطح پر چاہتی ہے. مگر بھارت کی اکثریت پاکستان کے ساتھ کھلی دشمنی کا اعلان کرتی رہتی ہے.
    اس وقت بھارتی حکومت، ایمبیسڈرز اور میڈیا دن رات پاکستان کی نفرت سیکھانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا.
    بھارت نے ہر چیز کو دشمنی پر تولہ ہے. تجارت، ثقافت، کھیل، ادب اور سیاست سب جگہ بھارت کا یہی تعصبانہ رویہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت اس خطے میں امن کو لے کر سنجیدہ نہیں. اور خدانخواستہ بھارت کا یہ رویہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے.
    والسلام
    نعمان علی ہاشم

  • چھچھوری حرکتیں بند کرو ورنہ تم سے حساب لوں گا، جاوید میانداد کی عمراکمل کو وارننگ

    پاکستان کے سابق لیجنڈری کرکٹر جاویدمیانداد نے عمر اکمل کو سخت الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چھچھوری حرکتیں بند کرو ورنہ تم سے حساب لوں گا-

    باغی ٹی وی :اگر دنیائے کرکٹ میں گزشتہ دہائی کی سب سے متنازع اور اسکینڈل کی زد میں رہنے والی شخصیت کا نام پوچھا جائے تو پاکستانی شائقین کے لیے اس سوال کا جواب دینا سب سے آسان ہو گا کیونکہ وہ جھٹ سے کسی اور کا نہیں بلکہ عمر اکمل کا نام لیں گے جہاں پاکستانی عوام عمر اکمل کے آئے دن کے نت نئے اسکیڈلز سے نالاں ہیں وہیں سابق قومی کرکٹر جاوید میاں داد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے-

    انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں عمر اکمل کو سمجھانا چاہتا ہوں آپ سنو تمہیں نہیں پتا کہ تمہارا سسر ایک گریٹ کرکٹر تھا وہ عبدالقادر قادر ہمیشہ میرے سے تمہارے نت نئے جھگڑوں اور اسکینڈلز پر باتیں کرتا رہتا تھا وہ پریشان رہتا تھا کہ اپنے آپ کو ٹھیک کرو-

    سابق کرکٹ نے عمر اکمل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری ایک عظیم کرکٹر کی بیٹی کے ساتھ شادی ہوئی ہے عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر کے داماد ہو تمہیں سمجھنا چاہیئے کہ ہمیشہ دوسروں کا خیال کرو تم آئے دن اس طرح کی حرکتیں کر کے تم سمجھتے کہ تم اپنا اور ملک کا نام روشن کر رہے ہو نہیں کاش عبدالقادر کی جگہ میں ہوتا تو میں دیکھو آپ کے ساتھ کیا کرتا –

    انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ میں آج اپنے عظیم دوست عبدالقادر کے طرف سے تم سے بات کر رہا ہوں کہ تم سُدھر جاؤ مطلب میں قادر کی جگہ ہوں اور میں تم سے حساب لوں گا جو بھی سن رہا ہے آپ کے گھر والے اور میں آپ کے والد کو کہنا چاہتا ہوں کہ براہ مہربانی اپنے بچے کو لگام دیں دوسرا بھی تو بھائی ہے نا تمہیں اللہ نے عزت دی ہے تم کرکٹ کھیل رہے ہو تم کرکٹ سے کتنا پیسہ کما سکتے ہو تم آئے دن اتنی چھچھوری اور نامناسب حرکتیں کر رہے تم اپنا رتبہ تو دیکھو تم اتنے بڑے کونسے چیمپئین اور اتنے بڑے کرکٹر ہو آپ اپنے نام سے ملک کو بدنام کر رہے ہو اور کچھ نہیں ہم لوگوں کو بھی ساتھ بدنام کر رہے ہو-

    جاوید میاںداد نے کہا کہ ہم نے بی کرکٹ کھیلی ہے ہاں آدمی کا ہوتا ہے کوئی لڑائی جھگڑا ہے کوئی باتیں ہوتی ہیں مگر آئے دن تم اسکینڈلز میں آتے ہو کہ پاکستان کے پلئیرز اور عوام ان چیزوں کو برداشت نہیں کر سکتی آپ سمجھتے ہو کہ آپ کو سب بہت اچھا مل رہا ہے نہیں آپ کی ان حرکتوں کی سب مذمت کرتے ہیں آپ اپنی کرکٹ پر لات مار رہے ہو تم پروفیشنل ہو اپنے اوپر توجہ دو میری ایک نصیحت سنو پلیز اگر تم پاکستان کے کلئے کرکٹ کھیلنا چاہتے ہو اور اپنے لئے تو کرکٹ کیا نہیں دیتا پیسہ دیتا ہے عزت دیتا ہے لوگوں میں عزت ہے آج ہماری عزت ہم چھوڑ چکے ہیں کرکٹ مگر لوگ ہمیں کیوں چاہتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی کرکٹ میں نام کمایا ہم نے کبھی اپنے عوام کو مایوس نہیں کیا-

    کرکٹ کی دنیا کے لیجنڈ نے کہا کہ تم پاکستان کے لئے کھیل رہے ہو دوسرے ملکوں میں وہاں کو ئی بات ہوتی ہے تو تم اپنے ملک کے لئے لڑو یہ نا سمجھو کہ عبدالقادر نہیں ان کی جگہ میں ہوں ان کے خاندان ان کے بچوں کے لئے بالکل اور میں ان کو کہتا ہوں کہ کبھی بھی اس قسم کی کوئی بات ہو تو مجھے بات سکتے ہو –

    انہوں نے آخر میں عمر اکمل کو کہا کہ لہذا تم اپنے آپ کو صحیح کرو اچھی کرکٹ کھیلو اور ہر ایک کی عزت کرو اور صحیح رہو –

    واضح رہے کہ عمر اکمل اپنے کرئیر میں کسی نا کسی تنازع کی وجہ سے سہ سرخیوں کا حصہ رہے ہیں اوران کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے –

    عمر اکمل کے تنازعات

    بڑے بھائی کامران اکمل کی مستقل خراب فارم خصوصاً آسٹریلیا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ میں وکٹوں کے پیچھے خراب کارکردگی کے سبب سلیکٹرز نے انہیں ٹیم سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مرحلے پر عمر اکمل نے بھائی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ‘جعلی انجری’ کا بہانہ کرتے ہوئے تیسرے ٹیسٹ میچ میں نہ کھیلنے کا اعلان کیا تاہم بعدازاں وہ یہ میچ کھیلےاس حرکت پر بورڈ نے دونوں بھائیوں پر جرمانہ عائد کیا –

    فروری 2014 میں لاہور کے علاقے گلبرگ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عمر اکمل کا ٹریفک وارڈن نے چالان کردیا تھا جس پر وہ اہلکار سے الجھ پڑے تھے اور یہ معاملہ عدالت تک جا پہنچا تھا۔

    ان پر ٹریفک پولیس اہلکار پر حملہ کرنے اور ان کی وردی پھاڑنے کا الزام تھا جس پر انہیں 12گھنٹے تک گرفتار رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا کیا گیا تھا اور یہ پہلا موقع تھا کہ عمر اکمل عوامی سطح پر کسی بڑے تنازع کا حصہ بنے تھے۔

    اس کے بعد 2017 میں بھی وہ وارڈن سے الجھ پڑے تھے جہاں ان پر خلاف قانون فینسی نمبر پلیٹ لگانے کا الزام تھا۔

    ورلڈ کپ 2015 تک عمر اکمل محدود اوورز کی کرکٹ میں اکثر پاکستانی ٹیم کا حصہ بننے میں کامیاب رہے لیکن ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی کے بعد ان پر بتدریج پاکستان ٹیم کے دروازے بند ہوتے گئے اور عالمی کے بعد دورہ بنگلہ دیش کے لیے انہیں قومی ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    ورلڈ کپ کے بعد کوچ وقار یونس کی رپورٹ میں بھی عمر اکمل اور ساتھی کھلاڑی احمد شہزاد کے رویے کی شکایت کرتے ہوئے دونوں کے بارے میں منفی ریمارکس دیے گئے تھے۔

    وقار یونس نے اپنی رپورٹ میں واضح الفاظ میں تحریر کیا تھا کہ عمر اکمل کو قربان کر کے ہم ایسے دوسرے کھلاڑیوں کو تیار کرسکتے ہیں جو کہ صحیح معنوں میں پاکستان کا ستارہ سینے پر سجا کر ملک کی نمائندگی پر فخر محسوس کریں گے۔

    اس موقع پر بھی اپنے کھیل، فٹنس اور کارکردگی پر دھیان دینے کے بجائے عمر اکمل آف دی فیلڈ متنازع سرگرمیوں کی زینت بنے رہے –

    نومبر 2015 میں قائد اعظم ٹرافی میں سوئی گیس کی طرف سے میچ کھیلنے کے لیے عمر اکمل کا حیدرآباد جانا ہوا تو وہاں انہوں نے پارٹی میں جانے کی اجازت طلب کی لیکن بورڈ نے انہیں یہ اجازت نہیں دی۔

    بعدازاں عمر اکمل کے ڈانس پارٹی میں غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں جس کے بعد پی سی بی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے عمر اکمل کو انگلینڈ کے خلاف ٹی20 میچ کے لیے ٹیم سے ڈراپ کرنے کے ساتھ ساتھ شوکاز بھی جاری کردیا تھا اور اس وقت کے چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ سلیکشن کمیٹی نے ان کے کہنے پر عمر اکمل کو اسکواڈ سے ڈراپ کیا۔

    سوئی گیس کے کھلاڑیوں کو مخصوص لوگو کا حامل یونیفارم پہننے کی اجازت ہے لیکن جنوری 2016 میں یونائیٹڈ بینک کے خلاف میچ عمر اکمل اجازت لیے بغیر ہی دوسرے لوگو کی شرٹ پہن کر میچ میں پہنچ گئے اور پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے جس پر ان پر نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی20 میچ میں شرکت پر پابندی عائد کردی گئی۔

    تاہم پھر اپریل 2016 میں ایک مرتبہ حیدرآباد اسکینڈل کی طرز کا ایک اور تنازع منظر عام پر آ گیا فیصل آباد میں کھیلے گئے ہوا کچھ یوں کہ پاکستان کپ میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے عمر اکمل وہاں اسٹیج ڈراما دیکھنے گئے اور ان کی وہاں کسی بات پر تکرار ہو گئی اور یہ واقعہ میڈیا کی زینت بن گیا۔

    اس دوران عمر اکمل کی آف دی فیلڈ سرگرمیوں پر اس وقت کے ہیڈ کوچ وقار یونس کی جانب سے انہیں مستقل تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ وہ سیلفیاں لینے سے زیادہ کھیل پر توجہ دیں۔

    اپنی خراب کارکردگی پر توجہ دینے کے بجائے عمر اکمل ورلڈ ٹی20 میں ایک مرتبہ پھر اس وقت شہ سرخیوں کی زینت بن گئے جب انہوں نے اس وقت بھارت میں منعقدہ ورلڈ کپ میں میچ سے قبل پاکستان کے ڈریسنگ روم کا دورہ کرنے والے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور عظیم کرکٹر عمران خان سے شکایت صحیح نمبر پر نہ کھلانے کی شکایت کی تھی –

    مئی 2017 میں ڈومیسٹک کرکٹ میں عمر اکمل کا ایک اور تنازع سامنے آیا جب پاکستان کپ میں پنجاب کی ٹیم کی قیادت کرنے والے عمر اکمل نے ٹاس کے موقع پر جنید خان کی عدم دستیابی کے حوالے سے سوال پر لاعلمی کا اظہار کیا تھا کہا تھا کہ کہ انہیں خود نہیں پتہ اور جب وہ میدان میں آئے تو علم ہوا تھا کہ فاسٹ باؤلر میچ کیلئے نہیں آئے۔

    تاہم جنید خان نے ویڈیو پیغام کے ذریعے عمر کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور عمر اکمل بھی اس بارے میں جانتے ہیں جبکہ اس بارے میں انہوں نے ٹیم کے ڈاکٹر کو بھی مطلع کیا تھا۔

    چیمپیئنز ٹرافی کے لیے عمر اکمل پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے لیکن جب پاکستانی ٹیم انگلینڈ پہنچی تو عمر اکمل مستقل دو دن فٹنس ٹیسٹ میں ناکام رہے جس کے بعد انہیں وطن واپس بھیج دیا گیا اس واقعے کے چند ماہ بعد عمر اکمل نے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے خلاف باقاعدہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزامات عائد کیے کہ مکی آرتھر نے ان سے نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے گالیاں دیں پی سی بی نے خلاف ضابطہ پریس کانفرنس اور ہیڈ کوچ پر الزامات عائد کرنے پر عمر اکمل کو شوکاز نوٹس جاری کردیا تھا۔

    اس تمام عرصے کے دوران عمر اکمل کے نت نئے تنازعات کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہا اور مئی 2018 میں انہوں نے سابق ہیڈ کوچ وقار یونس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اب دیکھتا ہوں تمہیں قومی ٹیم میں کون کھلاتا ہے-

    ورلڈ کپ 2019 سے قبل عمر اکمل کو کارکردگی دکھا کر قومی ٹیم میں واپسی کا نادر موقع ملا لیکن اس مرحلے پر بھی وہ اپنی سابق حرکتوں سے باز نہ آئے اسی دوران ایک ٹی وی انٹرویو میں عمر اکمل نے انکشاف کیا تھا کہ 2015 میں بھارت کے خلاف ایڈیلیڈ کے مقام پر کھیلے گئے میچ میں انہیں اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش ہوئی تھی۔

    انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کہ ورلڈ کپ میں دو گیندیں نہ کھیلنے پر 2 لاکھ ڈالرز کی پیشکش ہوئی تھی، اس کے علاوہ جب وہ بھارت کے خلاف کھیلتے تو انہیں پیسوں کے عوض میچ نہ کھیلنے کی پیشکش کی جاتی تھی لیکن انہوں نے ہمیشہ اسے ٹھکرا دیا۔

    اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی نے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا تھا جہاں ان پر میچ فکسنگ کی پیشکش کو رپورٹ نہ کرنے کا الزام تھا۔

    آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے پانچویں اور آخری میچ سے قبل ڈسپلن کی خلاف ورزی اور رات دیر تک ٹیم ہوٹل سے باہر رہنے پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا تھا۔

    عمر اکمل کا ایک اور تنازع اس وقت سامنے آیا جب عمر اکمل اور ان کے بھائی کو فٹنس ٹیسٹ کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں طلب کیا گیا جہاں رپورٹس کے مطابق انہوں نے عملے سے بدتمیزی کی فٹنس ٹیسٹ کے دوران مطلوبہ معیار سے کم نمبر ملنے پر عمر اکمل غصے میں آ گئے اور ٹرینر کے سامنے شرٹ اتار کر اس سے سوال کیا کہ ‘بتاؤ چربی کہاں ہے-

    ان تمام تر اسکینڈلز کے بعد فروری 2020 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر عمر اکمل کو معطل کردیا تھا-

    تاہم ل ایسا بھی نہیں کہ ہمیشہ سے ہی عمر اکمل تنازعات کا حصہ رہے بلکہ انڈر19 سطح پر شاندار کارکردگی کے بعد جب انہیں قومی ٹیم میں شامل کیا گیا تو ان کے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کچھ اس انداز سے ہوا جس کا اکثر کھلاڑی صرف خواب دیکھتے ہیں اپنے تیسرے ہی ون ڈے میچ میں سنچری کے ساتھ عمر اکمل نے کیریئر کا بہترین انداز میں آغاز کیا لیکن دراصل یہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف دوروں میں شاندار بیٹنگ تھی، جس کے بعد انہیں پاکستان مڈل آرڈر بیٹنگ لائن کا مستقبل قرار دیا جانے لگا۔

    نیوزی لینڈ کے خلاف کیریئر کے پہلے ٹیسٹ میچ میں ڈیونیڈن کی مشکل کنڈیشنز میں جہاں دیگر پاکستانی کھلاڑی 30کا ہندسہ بھی پار نہ کر سکے تھے، وہاں عمر اکمل نے شین بونڈ اور ڈینیئل ویٹوری پر مشتمل باؤلنگ اٹیک کے خلاف 129رنز کی اننگز کھیلی اور 82رنز بنانے والے کامران اکمل کے ہمراہ شاندار شراکت قائم کی اور دوسری اننگز میں بھی 75رنز بنائے اس کے بعد آسٹریلیا میں بھی ان کی کارکردگی اور صلاحیت کو بہت پذیرائی ملی تھی-

  • پتنگ باز کھلاڑی ، قانون کی دھجیاں اڑادیں

    پتنگ باز کھلاڑی ، قانون کی دھجیاں اڑادیں

    فیصل آباد:جب پتہ بھی ہے کہ پتنگ بازی پر پابندی ہے اور یہ ایک جرم ہے تو پھر پاکستانی کھلاڑی یہ جرم اتنی بہادری سے کیوں کرتے ہیں ، یہ بحث اس وقت سوشل میڈیا پر جاری ہے، اطلاعات کےمطابق سینٹرل پنجاب کے کپتان اور ٹی ٹوینٹی کپتان منتخب ہونے والے بابر اعظم، فہیم اشرف اور عمر اکمل نے اسٹیڈیم میں موج مستیاں شروع کردیں۔

    ڈومور:فروری 2020 تک پھر تلوارلٹک گئی ایف اے ٹی ایف ناخوش

    تفصیلات کے مطابق نیشنل ٹی ٹوینٹی کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں بابراعظم، فہیم اشرف اور عمر اکمل اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں پتنگ بازی کرتے رہے، ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے تحت پتنگ بازی پر پابندی لگا رکھی ہے۔سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل سامنے آرہے ہیں

    اصل سے نقل بہتر ، ایک اور حمزہ علی عباسی کا ظہور

    ذرائع کے مطابق بارش کے باعث سینٹرل پنجاب اور سدرن پنجاب کے درمیان میچ نہیں ہوسکا تھا، میچ نہ ہونے کے فیصلے کے بعد تینوں کھلاڑی پتنگ بازی سے لطف اٹھاتے رہے۔نئے قومی کپتان کو پتنگ بازی کرتے دیکھ کر شائقین نے خوشی سے نعرے لگائے۔

    سینیٹرمشاہداللہ سیاست کریں شرارت نہیں‌،فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں‌ ،پی سی بی

  • سری لنکا کے بعد بنگلہ دیش ، کرکٹ کے میدان پھر سجیں گے

    سری لنکا کے بعد بنگلہ دیش ، کرکٹ کے میدان پھر سجیں گے

    کراچی :پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ پورے جوبن کے ساتھ لوٹ آئی ہے اور سری لنکا کے بعد اب بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم پاکستان میں کرکٹ سیریز کھیلنے کے لیے آئے گی ، اس سیریز میں سیکورٹی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ کا چار رکنی وفد کراچی پہنچ گیا ہے

    پاکستان آکر پتہ چلاکہ خاندان کیا ہوتا ہے ،شہزادی کیٹ

    ‏چار رکني بنگلہ دیشي سيکورٹي وفد اپنے دورے کے پہلے مرحلے ميں جمعہ کو کراچی کے نيشنل اسٹيڈيم میں انتظامات کا جائزہ لے گا ۔ائير پورٹ سے ہوٹل اور اسٹيڈيم کےراستےاورٹيم کي سيکورٹي کے حوالے سے بريفنگ بھي دي جاے گي۔ بنگلہ دیش وفد 19 اکتوبر کو اپنے دورہ کے دوسرے مرحلے ميں لاہور کے قذافي سٹيڈيم کا دورہ کرے گا۔ وفد کو سيف سٹي پروجيکٹ ميں ٹيم کي آمد کے انتظامات اور سيکورٹي کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی ۔ 20 اکتوبر کو بنگلہ دیش کا سیکورٹی وفد اسلام آباد اور راولپنڈی جائے گا اور وفد کو وزرات خارجہ ميں سيکورٹي پر بريفنگ دي جاے گي۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے بہت بڑا فیصلہ کرلیا

    واضع رہے کہ بنگلہ دیش انڈر 16 کرکٹ ٹیم کے اس ماہ کے آخر ميں میچز راولپنڈی میں اور ويمن ٹيم کے ميچيز اکتوبر کے تيسرے ہفتے ميں لاہور ميں کرئے جاہيں گے۔ جبکہ بنگلہ ديش کي قومي ٹيم جنوري ميں پاکستان کا دورہ کرے گي ۔ بنگلہ ديشي سیکورٹی وفد اپنے کے بعد اپني رپورٹ اعلي حکام کو ديں گے جس کے بعد سنئیر ٹیم ، ویمن ٹیم اور انڈر 16 ٹیم کے ٹورز کا فيصلہ کيا جاے گا۔

    ڈینگی نے کراچی والوں کا براحشرکردیا

  • لاہور قلندرزکا قومی کرکٹ اکیڈمی کیلئے چیلنج

    لاہور قلندرزکا قومی کرکٹ اکیڈمی کیلئے چیلنج

    لاہور : پاکستان کرکٹ میں‌ تازہ اور اہم کھیل کی خبروں‌نے کھیل کے شوقین افراد کو خوش کردیا اطلاعات کےمطابق پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر ایک ہے، ہوم گراؤنڈ پر 10 اہم کھلاڑیوں سے محروم سری لنکا نے پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دے کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے،

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    یاد رہےکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دھکا اسٹارٹ قومی اکیڈمی کو چلانے کیلئے انگلینڈ سے ایک ماہر کو لاہور بلایا تھا جس نے پی سی بی کو بہتری کیلئے کئی تجاویز دیں۔قومی کرکٹ اکیڈمی کو پاکستان کرکٹ کی سیاست کا مرکزقرا ر دیا جارہا ہے اور اکیڈمی کے کئی کوچز اپنے تعلقات کی وجہ سے اکیڈمی کے بجائے پاکستان کی قومی ٹیم اور دیگر ٹیموں کے ساتھ منسلک ہیں۔

    پردیسیوں کی قسمت جاگ اٹھی ، یونان میں موقع مل گیا

    ایسے میں لاہور میں پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز نے اسٹیٹ آف دی آرٹ ہائی پر فارمنس سینٹر تیار کیا ہے۔ لاہور قلندرز کے سی ای او رانا عاطف اور ڈائر یکٹر عاقب جاوید نے کئی مہینوں کی پلاننگ کے بعد ہائی پرفارمنس سینٹر کو مکمل کر لیا ہے جہاں کوالیفائیڈ کوچز کرکٹرز کے ٹیلنٹ کو پالش کریں گے۔

    فیصل واڈا کو ترس آگیا

  • سہیل خان کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پرے گا

    سہیل خان کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پرے گا

    قائداعظم کرکٹ ٹورنامنٹ ميں امپائر کے فيصلوں پر اعتراض کرنے پر فاسٹ بولر سہيل خان کو میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ کر دیا گیا جبکہ پی سی بی کوڈ آف کندکٹ کی خلاف ورزی پر قومی بلے باز عابد علی کو وارننگ جاری کی گئی ،
    کراچي ميں سندھ اور سدرن پنجاب کے درمیان کھیلے گئے ميچ ميں سندھ کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر سہیل خان کو امپائر کے فيصلے پر اعتراض کرنے پر سہیل خان کو پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.8 کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ۔ جبکہ سندہ کے بيٹسمين عابد علی کو امپائر کے فیصلے پراعتراض کرنے پر پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.13 کے تحت خلاف وارننگ جاری کی گئی ہے

  • پاکستان بمقابلہ سری لنکا ، سری لنکا نے دوسرا ٹی ٹوئنٹی ہرا کر سیریز جیت لی

    پاکستان بمقابلہ سری لنکا ، سری لنکا نے دوسرا ٹی ٹوئنٹی ہرا کر سیریز جیت لی

    ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم نے سخت سیکورٹی حصار میں عالمی نمبر ون پاکستان ٹیم کو شکست دیکر ٹی ٹونٹی سیریز جیت لی
    پاکستان کے دورہ پر آئی ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم نے سخت سیکورٹی حصار میں تین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں میزبان پاکستان ٹیم کو 35 رنز سے شکست دیکر پاکستان کے خلاف پہلی مرتبہ ٹی ٹونٹی سیریز اپنے نام کر لی۔
    سری لنکن ٹیم دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹوں پر 182 رنز سکور کیے تھے جواب میں پاکستان ٹیم 147 رنز بنا کر آوٹ ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں سری لنکن کپتان ڈوسن شناکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ گونا تھلینکا اور اویشکا فرنینڈو نے اننگز کا آغاز کیا۔ گونا تھلینکا نے پہلے میچ کی طرح دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں بھی جارحانہ اندار اپنایا۔ سری لنکا کا سکور 16 پر پہنجچا تو اس موقع پر تھلینکا 15 رنز بنانے کے بعد عماد وسیم کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آوٹ ہو گئے۔ تھلینکا نے 10 گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے 15 رنز سکور کیے۔ نئے کھلاڑی راجہ پکاسا میدان میں آئے انہوں نے بھی جارحانہ اندار اپنایا اور سکور کو 41 تک پہنچا دیا۔ راجہ پکاسا اور فرنینڈو کے درمیان دوسری وکٹ کی شراکت میں 25 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ فرنینڈو کی وکٹ کی صورت میں ہوا جب وہ پاکستانی کھلاڑی شاداب خان کی سیدھی تھرو پر رن آوٹ ہو گئے۔ فرنینڈو نے 8 رنز سکور کیے۔ نئے کھلاڑی شیہان جے سوریا میدان میں آئے انہوں نے راجہ پکاسا کے ساتھ ملکر 10 اوورز کے خاتمے تک اپنی ٹیم کے سکور کو 80 پر پہنچا دیا۔ راجہ پکاسا 33 اور جے سوریا 18 کے سکور پر ناٹ آوٹ تھے۔
    سری لنکا سے شکست کے بعد مصباح الحق ٹیم پر برس پڑے
    11واں اوور کرانے کے لیے شاداب خان کو بال دیا گیا لیکن وہ مہنگے ثابت ہوئے انہوں نے 2 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 19 رنز دیکر سری لنکا کا سکور 99 تک پہنچا دیا۔ سری لنکا نے اپنے 100 رنز 11.1 اوورز میں مکمل کیے۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 32 گیندوں پر پچاس رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ راجہ پکاسا نے 31 گیندوں 2 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں اپنی پہلی نصف سنچری مکمل کی۔ راجہ پکاسا پاکستانی باولرز کے لیے ڈرونا خواب بنا شروع ہو گئے۔ دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 10.2 اوورز میں 94 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی جس کا خاتمہ 135 کے ٹوٹل پر اس وقت ہوا جب شیہان جے سوریا اپنی شاٹ پر رن بنانے کی کوشش میں آصف علی کی تھرو پر رن آوٹ ہو گئے۔ جے سوریا نے 28 گیندروں پر چار چوکوں کی مدد سے 34 رنز سکور کیے۔
    دباؤ لیے بغیر کرکٹ کھیلی اور کامیابی ملی، سری لنکن بلے باز
    دوسری جانب راجہ پکاسا 77 کے سکور پر ناٹ آوٹ کریز پر موجود تھے، نئے کھلاڑی کپتان ڈوسن شناکا میدان میں آئے تاہم میچ کے 17 اوور کی پہلی گیند پر شاداب خان کو بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں راجہ پکاسا باونڈری لائن پر کھڑے فخر زمان نے کوئی غلطی کیے بغیر ان کا کیچ لیکر اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ راجہ پکاسا نے 48 گیندوں کا سامنا کیا جس میں چھ چھکے اور چار چوکے لگا کر 77 رنز بنائے۔ سری لنکا کی پانچویں وکٹ 145 کے سکور پر اس وقت گری جب بھانوکا بغیر کسی سکور کے رن آوٹ ہو گئے۔ سری لنکا نے اپنے 150 رنز 17.2 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورے کیے۔ 155 کے سکور پر سری لنکا کی چھٹی وکٹ اوڈانا کی گری جنہیں 8 کے انفرادی سکورپر وہاب ریاض نے کلین بولڈ آوٹ کیا۔ سری لنکا کی اننگز کے 20 اوورز مکمل ہوئے تو سری لنکا کا سکور 6 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز تھا۔

    کپتان ڈوسن شناکا 15 اور ڈی سلوا 2 کے سکور کے ساتھ ناٹ آوٹ رہے۔ پاکستان کی طرف سے باولنگ میں عماد وسیم نے 27 رنز دیکر ایک، وہاب ریاض نے 31 رنز کے عوض ایک، شاداب خان نے 38 رنز کے عوض ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ 183 رنز کے ہدف کے حصول کے لیے پاکستان کی طرف سے فخر زمان اور بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا۔ پاکستان ٹیم کو پہلا نقصان 9 کے ٹوٹل پر اس وقت اٹھانا پڑا جب فخز زمان سری لنکن باولر راجنتھا کی گیند پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ انہوں نے چار گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 6 رنز سکور کیے۔ پاکستان کو دوسرا نقصان بھی جلد اٹھانا پڑا جب بابر اعظم بھی نوان پردیپ کی گیند پر تین رنز بنا کر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ بابر اعظم نے دس گیندوں کا سامنا کیا۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد خود بیٹنگ کے لیے میدان میں آئے اور آتے ہی جارحانہ اندازر اپنایا۔ پاکستان کا سکور 51 پر پہنچا تو اس موقع پر اوپر تلے احمد شہزاد 13 اور عمر اکمل بغیر کوئی رن بنائے۔ ڈی سلوا کی گیند پر آوٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

    عمر اکمل سیریز میں مسلسل دوسری مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو آوٹ ہوئے۔ اسی اوورز میں ڈی سلوا نے پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو بھی کلین بولڈ کر کے اپنی ٹیم کی کامیابی کو آسان بنا دیا۔ سرفراز احمد نے 16 گیندوں پر تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 26 رنز بنا سکے۔ 52 پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد آصف علی اور عماد وسیم نے محتاط انداز اپنایا اور اگلے دو اوورز میں مزید 16 رنز بنا کر دس اوورز کے خاتمے پر پاکستان کا سکور 68 تک پہنچا دی۔ آصف علی اور عماد وسیم کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 47 گیندوں پر 75 رنزکی پارٹنر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ 127 کے سکور پر اس وقت ہوا جب عماد وسیم 48 رنز بنانے کے بعد اوڈانا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آوٹ ہو گئے۔ انہوں نے 29 گیندوں کا سامنا کیا جس میں 8 چوکے لگائے۔

    آصف علی 23 رنز پر ناٹ آوٹ کھیل رہے تھے، نئے کھلاڑی وہاب ریاض میدان میں آئے لیکن وہ بھی 7 رنز بنانے کے بعد نوان پردیپ کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ پاکستان کا مجموعی سکور 136 رنز تھا۔ پاکستان کی آٹھویں وکٹ شاداب کی گری جو آتے ہی بغیر کوئی سکور بنائے اوڈانا کی گیند پر شناکا کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ 145 کے ٹوٹل پر پاکستان کے آصف علی بھی 29 رنز بنانے کے بعد پردیپ کی گیند پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ آصف نے 27 گیندوں کا سامنا کیا جس میں تین چوکے لگائے۔ پاکستان کی آخری وکٹ محمد حسنین کی گری جو ایک سکور بنا کر پریدیپ کی گیند پر ڈی سلوا کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔ محمد عامر 5 رنز کے ساتھ ناٹ آوٹ رہے۔ سری لنکا کی جانب سے باولنگ میں نوان پردیپ نے 25 رنز کے عوض چار، ڈی سلوا نے 38 رنز دیکر تین، اوڈانا نے 38 رنز دیکر دو جبکہ راجنتھا نے 11 رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا آخری میچ 9 اکتوبر کو قذافی سٹیڈیم کے اسی میدان میں کھیلا جائیگا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • دباؤ لیے بغیر کرکٹ کھیلی اور کامیابی ملی، سری لنکن بلے باز

    دباؤ لیے بغیر کرکٹ کھیلی اور کامیابی ملی، سری لنکن بلے باز

    سری لنکن بلے باز راجہ پکسا نے میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور کھلاڑی میرا کام کارکردگی دکھانا ہے منتخب کرنا سلیکشن کمیٹی کا کام ہے ۔
    راجہ پکسا کا مزید کہنا تھا کہ لاہور آکر بہت اچھا لگا یہاں ملنے والا پیار ہمشیہ یاد رہے گا۔ لوگ ہمیں بی ٹیم کہہ رہے تھے اور ہم نے اپنی کارکردگی سے خود کو منوایا ہے ۔ راجہ پکسا کا کہنا تھا اس سیریز سے پہلے ہمارے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں تھا۔
    ہم نے دباو لئے بغیر بہترین کرکٹ کھیلی اور کامیابی ملی ۔