Baaghi TV

Tag: کریمیا

  • روس سے 2500 مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس چھین لیا ہے یوکرینی صدر

    روس سے 2500 مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس چھین لیا ہے یوکرینی صدر

    یوکرین نے روس سے 2500 مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس چھین لیا ہے یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوجوں نے روس 2500 مربع کلو میٹر کا علاقہ واپس چھین لیا ہے۔روس کے زیر قبضہ چلے جانے والے اس علاقے کے لیے پچھلے ماہ سے لڑائی جاری تھی۔ اس سے پہلے بھی یوکرین اپنے علاقوں کو روس سے واپس لینے کی بات کر چکا ہے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    صدر زیلنسکی نے کہا ‘اس ہفتے ہمارے فوجیوں نے تنہا 776 مربع کلو میٹر کا علاقہ آزاد کرایا ہے، یہ علاقہ ہماری 29 آباد کاریوں کے مشرق میں ہے اور اس میں چھ بستیاں لوہانسک ریجن کے علاقے کی بھی شامل ہیں۔’

     

     

    یوکرینی صدر نے مزید کہا ‘مجموعی طور پر 2434 مربع کلو میٹر کا علاقہ اور 96 بستیاں ہم پہلے ہی روس سے آزاد کرا چکے ہیں۔اس بات کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ہر روز شئیر کی جانے والی تقریر میں کیا ہے۔ یوکرین کے حق میں ان دنوں کافی کامیابیوں کی اطلاعات دی جارہی ہیں۔

    ادھر روس اور کریمیا کو جوڑنے والے پل پر ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے۔کریمیا اور روس کو ملانے والے واحد پل پر دھماکے کے نتیجے میں کارگو ٹرین اور گاڑیوں میں بھیانک آگ بھڑک اٹھی اوردو میل طویل پُل کا بڑا حصہ گرگیا۔

    روسی حکام کا کہنا ہے ٹرک بم دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے، ساحل پر کھڑے کئی بحری جہاز ڈوب گئے، سڑک اور ریل پل پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہوگئی۔یہ پل یوکرین میں روسی فوجی ساز وسامان پہنچانے کا ایک اہم راستہ تھا ور دھماکے کے بعد روڈ ٹریفک کیلئے استعمال ہونے والا پل کا حصہ گرگیا ہے۔
    <h2 class=”title”><a class=”post-title post-url” href=”https://login.baaghitv.com/the-cipher-sent-from-the-us-is-completely-secure-spokesperson-of-the-ministry-of-foreign-affairs/”>امریکا سے بھیجا جانے والا سائفر مکمل محفوظ ہے:ترجمان وزارت خارجہ</a></h2>
    <div></div>
    دومیل طویل پل صدی کی بہترین تعمیر ہے، اس پل کو دوہزار اٹھارہ میں کھولا گیا تھا اور اسے روس کریمیا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے ملانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

  • روس اور کریمیا کو ملانے والا اہم پل تباہ

    روس اور کریمیا کو ملانے والا اہم پل تباہ

    روس اور کریمیا کو ملانے والا واحد پل آئل ٹینکر میں دھماکے بعد ٹرین میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی کے باعث بند کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : روس اور کریمیا کے ایک اہم پل پر ہفتے کی صبح آتشزدگی کے واقعے کے بعد یوکرین اور روس دونوں کی طرف سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں اور کسی نے بی کوئی حتمی موقف پیش نہیں کیا ہے۔

    امریکا نے کویت کو جدید میزائل سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دیدی

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق روس کی جانب سے 2014 میں اپنے تسلط میں لیے گئے علاقے کریمیا کے کیرچ اسٹریٹ پل کو فوجی سازو ساان کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔


    یوکرین کے ذرائع نے اسے ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کا واقعہ قرار دیا ہے جو عین کریمیا اور روس کے درمیان رابطے کے اہم ترین پل پر ہوا ہے اور ان دنوں اس کی اہمیت اور بڑھ چکی ہے۔

    اس حوالے سے یوکرین حکوت کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بری طریقے سے جل رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے مشیر میخائلو پوڈولیک کی جانب سے پل پر لگنے والی آتشزدگی کے باعث ہونے والے نقصان کو آغاز قرار دیا گیا تاہم انہوں نے یوکرین کے براہ راست ملوث ہونے کی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہر غیر قانونی چیز تباہ کر دی جائے گی، چوری کی گئی ہر شے دوبارہ یوکرین کو حاصل ہو گی اور روس کی جانب سے قبضے میں لی گئی ہر چیز نکال دی جائے گی۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، گیس کی قیمت میں کمی

    دوسری جانب روس نے اس واقعے کو کار بم دھماکے قرار دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کار بم دھماکے سے کریمیا اور روس کے اہم پل پر بہت بڑی آ گ بھڑک اٹھی۔ تاہم روس نے اس واقعے کے حوالے سے ابھی تک یوکرین یا کسی اور پر کوئی الزام نہیں لگایا ہے۔

    روس کی انسداد دہشتگردی کمیٹی (این سی اے) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کریمیا جانے والے پل پر ایک گاڑی میں دھماکا ہوا جس نے ٹرین کی 7 فیول بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، دھماکے کے بعد موٹر وے سیکشن کو بند کر دیا گیا ہے۔

    روس کے صدر ولادمیر پیوٹن کو دھماکے کے حوالے سے بریف کیا گیا جس کے بعد انہوں نے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق اس کار بم دھماکے ذریعے ٹرین کے ساتھ موجود سات آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ واضح رہے یہ پل ٹرین کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ یوکرین کے ساتھ جنگ کی وجہ سے یہ پل روس کے لیے جنگی سامنان کی ترسیل کیلیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اس ٹینکر دھماکے بعد پل پر سے گزرنے والی ٹریفک معطل ہو گئی حتیٰ کہ ٹرینوں کی آمدو رفت بھی رک گئی۔

    بیٹوں کو یوکرین کیخلاف جنگ میں بھیجنے کا انعام،پیوٹن نے چیچن سربراہ کوروسی فوج کے…

    یاد رہے کہ روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے کریمیا کو 2014 میں اپنا حصہ بنانے کے 4 سال بعد 2018 میں کیرچ اسٹریٹ کا افتتاح کیا تھا۔

  • یوکرینی فوجی کا ملکی دفاع کی خاطرانتہائی اہم قدم،روسی افواج لمبا راستہ اختیار کرنے پر مجبور

    یوکرینی فوجی کا ملکی دفاع کی خاطرانتہائی اہم قدم،روسی افواج لمبا راستہ اختیار کرنے پر مجبور

    کیف: ملکی دفاع کی خاطر یوکرینی فوجی نے کریمیا سے یوکرین کو ملانے والے پل کو خود پر بارود لگا کر دھماکے سے اڑا دیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روس کی جانب سے یوکرین پر ٹینکوں سے حملہ کیا گیا تو میرین بٹالین کے انجینئر وٹالی سکاکون وولوڈیمیرووچ کو جنوبی صوبے کھیرسن کے ہینیچسک پُل پر تعینات کیا گیا۔

    نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    یوکرین فوج کے جنرل اسٹاف نے ایک بیان میں کہا کہ فوج نے فیصلہ کیا کہ روسی ٹینکوں کو روکنے کا واحد راستہ پُل کو اڑانا ہے اور اس ضروری کام کے لیے رضاکارانہ خدمات وٹالی سکاکون نے انجام دیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اہلکار کو اندازہ تھا کہ اس کی تعیناتی اس کی موت کا سبب بنے گی اور وہ اپنے ملک کے لیے جان قربان کرے گا تاہم اس نے یہ کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائی یوکرینی فوجی کے ملکی دفاع کی خاطر جان قربان کرنے کے باعث روسی افواج کو لمبا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔

    یوکرین کا مذاکرات سے انکار:روس کے لیے مشکلات بڑھ گئیں،دوبدولڑائی کے دوران بڑے پیمانے پرنقصان

    دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردگان نے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے یوکرائنی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ترکی روس اور یوکرین کےدرمیان فوری جنگ بندی کی کوششیں کررہا ہے۔دو روز قبل روسی افواج کے یوکرین پر حملے کے فوراً بعد انقرہ میں یوکرین کے سفارت خانے نے ترکی سے مدد کی اپیل کی تھی۔

    واضح رہے کہ جنگ کے دوران اب تک سینکڑوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں دوسری جانب یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنائے جا چکے ہیں۔

    ترک صدرطیب اردوان کا یوکرینی ہم منصب سےٹیلی فونک رابطہ:ارطغرل غازی بھی میدان میں آگئے