Baaghi TV

Tag: کسان

  • کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا ،مریم نواز

    کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا ،مریم نواز

    پنجاب میں آلو کی ریکارڈ پیداوار کے بعد صوبہ عالمی منڈی میں آلو کی برآمد کے قابل بننے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تاریخی طور پر پنجاب میں آلو کی پیداوار 12 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے پنجاب حکومت نے کسانوں کے مفاد میں موثر اقدامات کیے ہیں تاکہ پیداوار ضائع نہ ہو اور آلو کے نرخ مستحکم رہیں اسی سلسلےمیں وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمدات کی اجازت طلب کی گئی ہےتاکہ کسانوں کو بہتر معاوضہ فراہم کیاجا سکےاور پیداوار کو کوڑیوں میں نہ بیچاجا ئے۔

    پنجاب حکومت اور قازقستان کے درمیان زرعی تعاون کی عملی پیش رفت بھی جاری ہے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ آج پاکستان میں موجود قازقستان کے اعلی سطح وفد کے ساتھ آلو کی برآمد کے لیے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں نئی برآمدی مارکیٹوں تک رسائی کے اقدامات حتمی شکل اختیار کریں گے۔

    مریم نواز شریف نے زور دیا کہ کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا اور صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ آلو کی پیداوار کے پھل کسانوں تک پہنچیں اور وہ خوشحالی محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ آلو کی بمپر پیداوار کسانوں کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خو شحا لی کا پیغام لائے گی، قازقستان کے بعد پنجاب حکومت مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے اقدامات کرے گی تاکہ پاکستان کی پید اوار عالمی سطح پر بہترین قیمت پر فروخت ہو سکے۔

  • سندھ حکومت کا زرعی شعبے کی ترقی کے لیے جامع اصلاحات کا اعلان

    سندھ حکومت کا زرعی شعبے کی ترقی کے لیے جامع اصلاحات کا اعلان

    کراچی: وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ چھوٹے کاشت کاروں کے لیے قرضوں کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کی جائیں-

    ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت زرعی شعبے سے متعلق اہم اجلاس ہوا،اجلاس میں وزیرِ زراعت محمد بخش مہر، چیف سیکریٹری و دیگر شریک ہوئے،اجلاس میں زرعی ترقی، کریڈٹ سکیمز اور ہاریوں کی معاونت پر غور کیا گیا، سندھ حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے جامع اصلاحات کا اعلان کیا۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ آبادگار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، انہیں ہر ممکن سہولت دیں گے، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی زراعت کو فروغ دیا جائے غیر شفافیت یا ہاریوں کے فنڈز میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی،چھوٹے کاشت کاروں کے لیے قرضوں کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کی جائیں-

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہاریوں کے لیے بر وقت اور شفاف مالی معاونت یقینی بنائی جائے، وزیر اعلیٰ سندھ نے نئی اور سمارٹ کراپنگ پیٹرن اختیار کرنے کی تاکید کی،اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق فصلوں کے پیٹرن بدلنے پر مشاورت کی گئی-

  • زراعت، مویشی بانی، دیہی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے،مریم نواز

    زراعت، مویشی بانی، دیہی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے،مریم نواز

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کسانوں کے قومی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ کسان بھائیوں کومحنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں –

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ کسان دن رات زمین کے سینے سے اناج اگا کرہماری غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں،کسان کی ترقی اور آسانی کے لئے حکومتِ پنجاب زراعت کے شعبے کو میکا ئیز کر رہی ہے -کسانوں کی خوشحالی کے لئے کسان کارڈکا اجرا کیا ہے – کا شکاروں کوپیداواری قرضے دئیے جا رہے ہیں۔ کاشتکار،کسان کارڈ سے اربوں روپے کےکھاد، بیج اور دیگر زرعی مداخل خرید چکاہے۔زرعی میکانزیشن کے ذریعے کسانوں کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کررہے ہیں-کسان کو بلا سود آسان اقساط پر گرین ٹریکٹرز فراہم کیے جا رہے ہیں – زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے لائیو اسٹاک کارڈ کے ذریعے مویشی پال فارمرزکو ویکسین، علاج اور چارہ مہیا کیا جا رہا ہے۔ زراعت، مویشی بانی، اور دیہی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے اور کسانوں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں

    وزیراعلیٰ سندھ کا کیڈٹ کالج پٹارو کیلئے سولرسسٹم کی تنصیب کا اعلان

    لڑکے کا لڑکی کا لباس پہن کر رقص،یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

  • لندن میں وراثتی ٹیکس کے خلاف کسانوں کا احتجاج، ٹریکٹرز سے سڑکیں بلاک

    لندن میں وراثتی ٹیکس کے خلاف کسانوں کا احتجاج، ٹریکٹرز سے سڑکیں بلاک

    لندن: برطانیہ کے کسانوں نے وراثتی ٹیکس کے خلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا، جس دوران سینٹرل لندن کی سڑکوں کو ٹریکٹرز کے ذریعے بلاک کر دیا۔ احتجاج کا مقصد نئے وراثتی ٹیکس قوانین کی مخالفت کرنا تھا، جنہیں کسانوں کے مطابق ان کی معیشت اور زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    کسانوں نے ٹریکٹرز کے ذریعے اپنی موجودگی کا اظہار کرتے ہوئے لندن کی مشہور سڑکوں پر ٹریفک جام کر دیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکس پالیسی کے تحت زمینوں کی وراثت کے معاملے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کسانوں کے مطابق، اس ٹیکس کی وجہ سے وہ اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ پورے زرعی شعبے اور خوراک کی فراہمی میں کمی آنے کا خطرہ ہے۔کسانوں نے اس موقع پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کریں اور اسے فوری طور پر واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر یہی پالیسی رہی تو زرعی شعبہ تباہ ہو جائے گا اور ہمارے لیے زمینیں بچانا ناممکن ہو جائے گا۔”

    نئے وراثتی ٹیکس قوانین کے مطابق، 2026 سے 10 لاکھ پاؤنڈ یا اس سے زیادہ مالیت والے فارم پر 20 فیصد ٹیکس ادا کرنا ضروری ہوگا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس ٹیکس پالیسی پر کوئی یو ٹرن نہیں لیا جائے گا اور اسے کسانوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    وراثتی ٹیکس کا یہ نیا نظام کسانوں کے لیے اضافی بوجھ بن رہا ہے، خاص طور پر وہ کسان جو بڑے فارم کی ملکیت رکھتے ہیں اور ان کی وراثت میں آنے والی زمینوں کا قیمتی ہونا اس ٹیکس کی زد میں آتا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کے باعث وہ نہ صرف اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور ہیں بلکہ زرعی پیداوار کی کمی بھی ہو سکتی ہے، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا۔برطانوی حکومت نے اس ٹیکس کے نئے قوانین کو اس بات پر مبنی قرار دیا ہے کہ یہ قوانین بڑے زمین مالکان کو مالی طور پر بہتر پوزیشن میں لائیں گے اور ایک زیادہ منصفانہ نظام فراہم کریں گے۔ تاہم، کسانوں کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ ان کے کاروبار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا اور ان کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  • دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک

    دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک

    دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک ہو گئی ہے

    ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی اپنے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کی دوبارہ متحرک ہو ئی ہے،کسان یونینوں اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد، پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے دہلی چلو تحریک 6 دسمبر سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے،”دہلی چلو مارچ” کسان مزدور مورچہ اور کسان یکجہتی مورچہ کے زیر اہتمام ہو رہاہے،ہریانہ میں بی جے پی کی مزاحمت کے بعد، کسانوں نے ٹریکٹر کی بجائے چھوٹے جتھوں میں دہلی پیدل جانے کا فیصلہ کیا ہے،کسانوں کے ‘دہلی چلو’ مارچ کے پیش نظر دارالحکومت کی سرحدوں اور اس سے متصل پورے خطے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں

    کسان رہنما سرون سنگھ پانڈھر کے مطابق،”مودی سرکار کسانوں کے جائز مطالبات کو نظرانداز کر رہی ہے، حالانکہ وہ پچھلے 10 مہینوں سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں”ہم نے احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ہریانہ پولیس کو آگاہ کیا کہ ہمارا مارچ پرامن ہوگا،وزیر مملکت برائے ریلوے روینت سنگھ بٹّو اور ہریانہ کے وزیر زراعت نے کسانوں کو دہلی پیدل جانے کا اشارہ دیا، وقت آگیا ہے کہ وہ وعدوں کو پورا کریں،کسان رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دہلی جانے کی اجازت نہ ملی تو تصادم ہوگا

    فروری میں کسانوں کی دہلی جانے کی پہلی کوشش ہریانہ میں سیکورٹی فورسز کی سخت مزاحمت کا شکار ہوئی، جس میں کئی کسان جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے،”دہلی چلو مارچ” کسانوں کے اتحاد اور مودی سرکار کی زرعی پالیسی میں کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بنی ہوئی ہے،مودی سرکار کسان مارچ تحریک اور آزادی حق رائے کا گلا گھو نٹ کر اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کو پروان چڑھانا چاہتی ہے

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • پنجاب اسمبلی،زرعی ترمیمی بل منظور، زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ

    پنجاب اسمبلی،زرعی ترمیمی بل منظور، زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ

    پنجاب اسمبلی اجلاس،:پنجاب اسمبلی نے زرعی ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا

    پنجاب بھر میں زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ کردیاگیا،پنجاب زرعی ترمیم بل ایکٹ 2024،نئی شک (D) کے تحت زرعی ترمیمی بل میں زرعی کے ساتھ لائیو سٹاک پر بھی ٹیکس لاگو کر دیا گیا،نئی شک 3AB کے تحت زیادہ آمدن والے اشخاص پر سپر ٹیکس لاگو کیا گیا،ترمیمی بل کے ذریعے زرعی زمین پر انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی،زرعی زمین کے ساتھ لائیو سٹاک سے کمائے جانے والی آمدن پر بھی ٹیکس لاگو کر دیا گیا،لائیو سٹاک پر ٹیکس بھی زرعی ٹیکس میں شمار کیا جائے گا،لائیو سٹاک کا تصور پنجاب لائیو سٹاک بریڈنگ ایکٹ 2014 کے مطابق ہو گا،بل کے مطابق سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت زرعی ٹیکس نا دہندہ کو ٹیکس رقم کا 0.1 فیصد ہر اضافی دن کا جرمانہ عائد ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت 12 لاکھ سے کم زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 10 ہزار جرمانہ ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت چار کروڑ سے کم زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 25 ہزار جرمانہ ہو گا، سیکشن 8 میں ترمیم کے تحت چار کروڑ سے زیادہ زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نا دہندہ کو 50 ہزار جرمانہ ہو گا،زرعی ٹیکس کا مسودہ کمیٹی سے بھی پاس ہو چکا ہے،

    پیپلز پارٹی نے ایگریکلچر انکم ٹیکس بل کی مخالفت کردی ،علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس بل پر مشاورت نہیں کی ،حکومت کو ہمارے ووٹوں کی ضرورت نہیں،کسان پہلے پسا ہوا ہے اس بل پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے ،احتجاجا اس بل کے خلاف واک آوٹ کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی نے زرعی ٹیکس بل کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا

    پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر میں اہم ترمیم کر دی گئی،،پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی کے ایڈوائز کو ایوان میں داخلے اور بات کرنے کی اجازت ہوگی۔

    ایوان اقبال میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں کو پنجاب اسمبلی نے قانونی تحفظ فراہم کردیا۔ایوان اقبال کو قانونی تحفظ کےلئے قرارداد وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کی۔سپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں دو سیشن جون 2022 کے دوران ایوان اقبال اور پنجاب اسمبلی میں منعقد ہوئے، دونوں اجلاسوں کے سالانہ بجٹ 2022-23 اور سیپلیمنٹری بجٹ 2021-22ء کو آمدنی ریکارڈ کا حصہ بنالیا گیا ہے اور قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے،

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • کسانوں کی جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی کو یقینی بنائیں گے، امریکی سفیر

    کسانوں کی جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی کو یقینی بنائیں گے، امریکی سفیر

    امریکی مالی معاونت سے کلائمٹ اسمارٹ ایگریکلچر منصوبے کا آغاز ہوگیا،فیصل آباد میں افتتاحی تقریب ہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا پانچ سال پر مُحیط سرمایہ کاری پاکستانی زراعت میں تعاون کو فروغ دے گی، پاکستانی کسانوں کی جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی کو یقینی بنائیں گے۔ اُمید ہے یہ اقدامات ماحول کے تحفظ اور فصلوں کی پیداوار میں بہتری کیلئے معاون ثابت ہوں گے، اس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ بھی ہوگا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا کسان تنظیموں، مقامی کاروباری اداروں اور تحقیقی اداروں سے شراکت داری کرے گا، ہماری توجہ کاشتکاری کے بہتر طریقوں اور ٹیکنالوجی میں معاونت پر مرکوز ہوگی۔ ہم مِل جُل کر کامیابی کے بیج بو رہے ہیں۔ امریکی سفیر نے کہا یقینی بنائیں گے کہ پاکستانی کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو۔جدید مشینری متعارف کروانے میں کسانوں کے ساتھ کام کریں گے۔ پانی کا مؤثر استعمال یقینی بنانے کیلئے ہم خود کار آبپاشی نظام بھی متعارف کرائیں گے۔ ڈونلڈ بلوم نے کہا موسم کی پیشگوئی کےلیے بھی جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی، امریکا اور پاکستان کے درمیان طویل اور مضبوط شراکت داری قائم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے ساتھ شراکت داری میں مصروف عمل ہیں۔

    کے پی اسمبلی میں سیرت النبی ﷺ بطور مضمون نصاب میں شامل کرنے کی قرارداد منظور

    بھارتی ہٹ دھرمی، پاکستانی اسکریبل پلیئرز کوبھی ویزے دینے سے انکار

    اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا ہے، وزیر اعظم

    پی ٹی آئی کی سندھ پولیس کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں

  • کسان نے اپنی خوش قسمت گاڑی کی تدفین کر دی

    کسان نے اپنی خوش قسمت گاڑی کی تدفین کر دی

    گجرات: بھارتی ریاست گجرات کے ضلع امریلی میں ایک کسان نے اپنی خوش قسمت گاڑی کی تدفین بہت ہی عظیم الشان طریقے سے کی،گاڑی کو دفن کرنے کی تقریب پر 4 لاکھ روپے خرچ ہوئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق جمعرات کو گاؤں میں سنجے پولارا نامی کسان اوراس کے خاندان کی جانب سے منعقدہ تقریب میں لوگوں نے شرکت کی جن میں مذہبی شخصیات اورعقیدت مند بھی شامل تھے،کسان اور اس کے خاندان نے اس موقع پر اپنے فارم میں مذہبی رسومات ادا کیں اور ان کی 12 سال پرانی گاڑی کو دفنانے کے لیے 15 فُٹ گہرا گڑھا کھودا گیا تھا۔

    میڈیا کے مطابق گاڑی کو پھولوں اور ہاروں سے سجا کر دھوم دھام سے گڑھے تک لے جایا گیا اور ہرے کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا، اس موقع پر کسان کے اہلِ خانہ نے گاڑی پر پھول بھی نچھاور کیے،اس سب کے دوران وہاں موجود پنڈت اور دیگر افراد مذہبی کلمات پڑھتے رہے، ان تمام کاموں کے بعد مٹی ڈالنے اور گاڑی کو دفن کرنے کے لیے کھدائی کرنے والی مشین کا استعمال کیا گیا۔

    کسان نے کہا کہ گاڑی کو دفنانے کی تقریب پر 4 لاکھ روپے خرچ کئے، کچھ مختلف کرنا چاہتا تھا تاکہ آنے والی نسلیں اس کارکو یاد رکھیں جو ہمارے خاندان کے لیے خوش قسمت ثابت ہوئی میں نے یہ گاڑی تقریباً 12 سال پہلے خریدی تھی جس سے خاندان میں خوش حالی آئی، کاروبار میں کامیابی دیکھنے کے ساتھ ساتھ میرے خاندان کی عزت بھی بڑھی، تدفین کی جگہ پر ایک درخت لگانے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے یاد دہانی کرا سکوں کہ خاندان کی خوش قسمت گاڑی درخت کے نیچے دفن ہے۔

  • فتنہ پارٹی حکومت میں آئی تو   گالم گلوچ اور الزامات، کارکردگی صفر تھی،مریم نواز

    فتنہ پارٹی حکومت میں آئی تو گالم گلوچ اور الزامات، کارکردگی صفر تھی،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازنے کہا ہے کہ اسموگ ایک اژدھا ہے جو سر اُٹھاتا ہے،اسموگ کو ختم کرنے میں بہت وقت لگ جائے گا،

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کسانوں کو 5 ہزار سپرسیڈر فراہم کرنے کا اعلان کر دیا،پہلے مرحلے میں 1 ہزار سپر سیڈر آج دیے جارہے،13 لاکھ کے سپر سیڈر پر پنجاب حکومت 8 لاکھ سبسڈی دے رہی ہے ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھاکہ سموگ کے خاتمے کیلئے حکومت ہر وہ اقدام کررہی ہے جو ممکن ہوسکتا ہے۔ اسکے لیے کنٹرول روم دن رات کام کررہا ہےاور اس سے نہ صرف اس برس بلکہ آنے والے برسوں میں مزید بہتری آئیگی۔فصلوں کی باقیات جلانے سے جو سموگ بڑھتی ہے اسکو ختم کرنے کیلئے بہت بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس سے فضا کی کوالٹی انڈکس بہتر ہوگی۔ مریم اورنگزیب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اسکے لیے دن رات محنت سے کام کررہی ہیں،

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور کسان کے درمیان غلط فہمی پیدا کی گئی، پنجاب میں فتنہ فساد کی سازش کی جا رہی تھی، جو اُن کا کام ہے، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر ہوں، اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُنہیں حکومت نہیں ملی، حکومت میں آئے تو فتنہ فساد، گالم گلوچ اور الزامات، کارکردگی صفر،میں اُس جماعت کا نام نہیں لینا چاہتی، وہ کہنے لگ گئے ہیں پنجاب کو دیکھو، ہر روز نیا منصوبہ آ رہا ہے، کام ہو رہا ہے، پنجاب ترقی کر رہا ہے، ہمارے وزیراعلیٰ کو دیکھو، حملہ کردو، جلا دو، مار دو، ہٹا دو، بدتمیزی، بدتہذیبی، میں نے ابھی سُنا، وہ کہتے ہیں ن لیگ کی ہوا چل پڑی،

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • پنجاب میں چاول کے جعلی بیج کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان ہوا،حنا پرویز بٹ

    پنجاب میں چاول کے جعلی بیج کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان ہوا،حنا پرویز بٹ

    لاہور: چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے بتایا ہے کہ پنجاب میں چاول کے جعلی بیج کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان ہوا،یہ بیج بیرون ملک سے منگوانے کے بجائے ملک سے ہی خریدا گیا۔

    باغی ٹی وی : پنجاب اسمبلی میں رہنما مسلم لیگ ن حنا پرویز بٹ نے ہائبرڈ بیج کے متعلق سوال کیا کہ محکمہ زراعت نے چاول کا منظور شدہ ہائبرڈ بیج خریدا مگر اطلاعات کے مطابق یہ بیج بیرون ملک سے منگوانے کے بجائے ملک سے ہی خریدا گیا کسانوں کو چاول کا جعلی بیج فراہم کیا گیا جس کے تنیجے میں 100 من کے بجائے صرف 5 من فی ایکڑ فصل کی پیداوار ہوئی، اور کسانوں کو بھاری نقصان ہوا، اگر ہم محمکے میں بہتری چاہتے ہیں تو اس طرح کے ہائبرڈ بیج کی خریداری کو ٹھیک کریں تاکہ کسانوں اور محکمے کو نقصان نہ ہو۔

    حنا بٹ کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی کوئی شکایت نہیں آئی، پیداوار میں کمی کی وجہ مو سمیاتی تبدیلی ہوسکتی ہے، پھر بھی ہم بیج کے معیار کو بہتر بنائیں گے اور اسمگلنگ والا بیچ استعمال نہ ہو۔