Baaghi TV

Tag: کسان

  • درآمدی یوریا مزید مہنگی؛ نئی قیمت 2340 روپے فی تھیلا مقرر

    درآمدی یوریا مزید مہنگی؛ نئی قیمت 2340 روپے فی تھیلا مقرر

    درآمدی یوریا مزید مہنگی؛ نئی قیمت 2340 روپے فی تھیلا مقرر

     وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے درآمدی یوریا کی قیمت پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس کا نیا نرخ 2340 روپے فی تھیلا (50 کلوگرام) مقرر کرنے کی منظوری دیدی ہے جبکہ آر ایل این جی پر چلنے والے 3پاور پلانٹس کے پاور پرچیز اور گیس خریداری معاہدے میں کم از کم ’’ٹیک اینڈ پے‘‘ کمٹمنٹس کی شرح 33 فیصد پر فکسڈ کردی ہے۔ شہباز رانا کے مطابق ای سی سی کا اجلاس گزشتہ روز وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت ہوا، جس میں پانچ نکاتی ایجنڈے پر غور کے بعد اہم فیصلے کیے گیے۔

    آر این این جی پر چلنے والے تین پاور پلانٹس کیلئے پاور پرچیز معاہدے اور گیس پرچیز معاہدے میں ٹیک اینڈ پے کمٹمنٹس میں تبدیلی کی منظوری دیدی گئی، جس کے تحت ای سی سی نے آر ایل این جی پر چلنے والے تین پاور پلانٹس کیلئی پاور پرچیز اور گیس پرچیز ایگریمنٹس میں کم از کم ’’ٹیک اینڈ پے‘‘ کمٹمنٹس کی شرح 33 فیصد پر فکسڈ کردی ہے۔ اجلاس میں ہیوی الیکٹریکل کمپلکس کو بینک آف خیبر کو سود کی ادائیگی کیلئے آٹھ کروڑ9 لاکھ80 ہزار روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیلئے 50 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
    وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ

    دریں اثناء وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ٹویٹ میں کمرشل بینکوں میں موجود زرمبادلہ تک حکومتی رسائی کے بے بنیاد اور مذموم پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں، بعض مفاد پرست عناصر، جنہوں نے ماضی میں اس ملک کو تباہ کردیا تھا، نے اس کو غلط رنگ دے کر ایک مہم شروع کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ مستقبل قریب میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔

  • گنے کے کاشتکاروں کو واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے، چیف سیکرٹری کا حکم

    گنے کے کاشتکاروں کو واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے، چیف سیکرٹری کا حکم

    گنے کے کاشتکاروں کو واجبات کی بروقت ادائیگی،کھاد کی دستیابی یقینی بنائی جائے، چیف سیکرٹری کا حکم

    چیف سیکرٹری پنجاب عبداللہ خان سنبل نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو گنے کے کاشتکاروں کو واجبات کی بروقت ادائیگی اوریوریا کھاد کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے سے متعلق ہدایات جاری کر دیں۔
    انہوں نے یہ ہدایات سول سیکرٹریٹ میں ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ویڈیو لنک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیں۔ اجلا س میں زراعت اور خوراک کے محکموں کے ایڈمنسٹریٹو سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنر لاہور اورمتعلقہ افسرا ن نے شرکت کی جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔

    چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت کسانوں کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کریگی اور شوگر ملوں کیخلاف غیر قانونی کٹوتیوں اور ادائیگیوں میں تاخیر پرسخت ایکشن لیا جائیگا۔ انہوں نے یوریا کھاد کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ یوریا کھاد کی طلب، رسد اور قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنرز کو حکم دیا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو منظوری صرف قواعد کے مطابق دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران قلیل مدت میں 217ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی فنڈز کا استعمال کیا گیا، ترقیاتی منصوبوں میں فنڈز کا بروقت استعمال، معیار اور شفافیت کویقینی بنایا جائے۔

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    خواتین اور بچوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، مسرت چیمہ

  • سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نےگندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دئیے

    سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نےگندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دئیے

    سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کسانوں کی گندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دیے –

    باغی ٹی وی : راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کسانوں کی گندم کی کھڑی فصل پر ہل چلوا دیے اور احتجاج کرنے والےکسانوں اور زمین مالکان کو گرفتار بھی کرلیا گيا کسانوں اور زمین مالکان کی گرفتاری کے بعد متاثرین کے بچے اور خواتین بھی احتجاج میں شامل ہوگئے۔

    بھارت کا ویزے جاری کرنے سے انکار، چیئرمین پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کا ردعمل

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو صرف اس زمین پر کام کی اجازت دی تھی جہاں زمین کا ریٹ ایوارڈ ہو چکا تھا۔

    راوی اربن سٹی کی تعمیر پر لاہور ہائی کورٹ نے اسٹے دے رکھا ہے، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی عمران خان کے دورِ حکومت میں قائم کی گئی تھی ، انہوں نے نہ صرف اس کا افتتاح کیا بلکہ اس کی پروموشن بھی کی تھی لیکن حکومت جانے کے بعد اب عمران خان نے ریئل اسٹیٹ کو سب سے بڑا مافیا قرار دیتے ہوئےکہا کہ اس کی وجہ سے فوڈ سکیورٹی کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔

    دوسری جانب ترجمان راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہےکہ منصوبے کے لیے کسانوں کو اراضی کی قیمت ادا کی جاچکی ہے، ریونیو بورڈ آف پنجاب نے اراضی کی قیمت کی ادائیگی کے بعد روڈا کےنام پر اسٹیٹ لینڈ لی، گیم چینجر منصوبےکی اسٹیٹ لینڈ مافیا کے ذریعے ہتھیانے کا منصوبہ ناکام ہوگا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے دریائے راوی کے کنارے نیا شہر بسانے کے منصوبے یعنی راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا-

    سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی ایف آئی آر درج کرلی گئی

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم پر مشتمل سنگل بینچ نے اس منصوبے کے خلاف دائر ہونے والی مختلف درخواستوں پر فیصلہ سُنایا جس میں کہا گیا تھا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیے اراضی سنہ 1894 کے قانون کے برعکس حاصل کی گئی تھی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئین کے تحت منصوبے کے لیے ترمیمی آرڈیننس قواعد و ضوابط پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    اس منصوبے کے خلاف دائر درخواستوں میں اس پراجیکٹ کے لیے اراضی کے حصول میں قواعد کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کرنے کے بارے میں بھی نکات اٹھائے گئے تھے۔

    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ،چینی سفیر،برطانوی ہائی کمشنر اور سری لنکا کے وزیر مملکت…

    جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر فیصلہ سُناتے ہوئے ’روڈا ایکٹ‘ کی کئی دفعات کو غیرقانونی قرار دیا تھا اور باور کروایا تھا کہ روڈا قانون کے تحت ماسٹر پلان ترتیب نہیں دیا گیا۔

    جسٹس شاہد کریم نے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ماسٹر پلان کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی سکیم غیر قانونی ہوتی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا ماسٹر پلان ہی بنیادی دستاویز ہے اور تمام سکیمز ماسٹر پلان کے ہی طابع ہوتی ہیں زرعی اراضی کو ایک باقاعدہ قانونی طریقہ کار یعنی لیگل فریم کے تحت ایکوائر کیا جا سکتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اراضی حاصل کرنے کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی حیثیت بھی غیرقانونی ہے کیونکہ لاہور اور شیخوپورہ میں زمین ایکوائر کرنے کے لیے قانون پر عمل نہیں کیا گیا لہذا روڈا اتھارٹی پنجاب حکومت سے حاصل کردہ قرضہ دو ماہ میں واپس کرے۔

    مادر وطن کے دفاع کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر

  • حکومت کا کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان

    حکومت کا کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان

    حکومت نے کسانوں کو 1800ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہبازشریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں 400ارب روپے زیادہ ہے، کسانوں کوملنےوالے قرض پرحکومت سبسڈی فراہم کرے گی،زرعی ترقی کےلیےکسانوں کے مسائل کاحل ضروری ہے،زرعی ترقی کیلئے کسانوں کے مسائل حل کریں گے-

    ٹک ٹاک اور زندگی ٹرسٹ کے زیر اہتمام سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل سیفٹی ورکشاپس کا انعقاد

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار زرعی ترقی پر ہے،سیلاب میں پورے پاکستان میں تباہی مچائی،سیلاب سے 40لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں،زرعی زراعت ہماری معیشت کو آگے بڑھا سکتی ہے،88ارب روپے سیلاب متاثرین میں نقد اور اشیا کی شکل میں امداد تقسیم کی ہے-

    شہباز شریف نے کہا کہ کسانوں کی بہتری کیلئے حکومت جو بھی قدم اٹھائے گی وہ پاکستان کے مفاد میں ہوگا، حکومت ان قرضوں پر6ارب40کروڑ رروپے کی سبسڈی فراہم کرے گی، حکومت نے ڈی اے پی کھاد کی بوری کی قیمت 11ہزار 250روپے مقرر کردی-

    انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی کی پیداوار کیلئے کھاد بنانے والوں کو سستی گیس فراہم کریں گے،ڈی اے پی کی فی بوری میں 2500 روپے کمی کروائی گئی ہے،ڈی اے پی پر58ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی-

    ٹھٹھہ : ڈپٹی کمشنر آفس میں آگ لگ گئی،کمپیوٹر روم کے اندر کمپیوٹرز،دیگر آلات جل کر خاکستر

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کسانوں کو بلا سود قرض فراہم کیے جائیں گے، سیلاب زدہ علاقوں میں گندم کے بیج کے 12 لاکھ تھیلے فراہم کیے جائیں گے، سیلاب زدہ علاقوں میں بے زمین ہاریوں کو بلاسود5ارب کے قرضے دیئے جائیں گے-

    انہوں نے پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمال میڈیم انٹر پرائز معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،وفاق اور صوبے ملکر بیج کیلئے 13ارب20کروڑ روپے دیں گے،ٹریکٹر کی قیمت عام کسانوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے،ٹریکٹر کی قیمت کم کرنے کیلئے ہم نے پوری کوشش کی-

    انہوں نے کہا کہ 5سال تک استعمال شدہ ٹریکٹرزکی درآمدکی اجازت دے رہے ہیں استعمال شدہ ٹریکٹرز کی درآمد کیلئے ڈیوٹی چھوٹ دی جائے گی،حکومت 5لاکھ ٹن یوریا درآمد کرے گی، حکومت یوریا پر بھی 30ارب روپے کی سبسڈی دےگی،گزشتہ حکومت گندم اور چینی پہلے برآمد پھر درآمد کرتی رہی،ہم نے مشاورت کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ ہم 16لاکھ ٹن گندم اور امپورٹ کرینگے اب ٹوٹل 26لاکھ ٹن گندم امپورٹ ہوگی،10لاکھ ٹن آچکی ہے،جب بھی صوبے چاہیں گے ان کو گند م فراہم کریں گے،اجتماعی کوشش سے ہم ایک ایک ڈالر بچا رہے ہیں-

    فارن فنڈڈ فتنے نےانقلاب نہیں خونی مارچ کااعتراف کرلیا ،مریم اورنگزیب

  • حکومت اورکسان اتحاد میں مذاکرات کامیاب،دھرنا ختم کرنے کا اعلان

    حکومت اورکسان اتحاد میں مذاکرات کامیاب،دھرنا ختم کرنے کا اعلان

    حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد کسان اتحاد نے اسلام آباد میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے دھرنے کے شرکا کو بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر آئندہ 10دنوں میں کسانوں کیلئے جامع پلان کا اعلان کیاجائے گا، کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے 3 وزراء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔

    وزیرداخلہ راناثناء اللہ کا کہنا ہے کہ کسانوں کے مطالبات پر وزراء پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے، تمام مسائل کو اچھے انداز میں حل کریں گے۔کسان اتحاد اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کسانوں کے دھرنے میں پہنچے۔

    دھرنے سے خطاب میں رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ کسانوں کے مطالبات پر وزیراعظم نے کمیٹی بنادی ہے جو کل سے کسانوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملات دیکھے گی۔ان کا کہنا تھاکہ فیول ایڈجسمنٹ چارجز اور موجودہ بجلی بلوں کی ادائیگی کو مؤخر کرنے کا مطالبات منظور کرلیے گئے ہیں۔

    وزیرداخلہ کا کہناتھاکہ کسان خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا، کسانوں کے مسائل صرف ان کے ہی نہیں ہمارے ذاتی مسائل ہیں لہٰذا درخواست ہے کسانوں کی ٹیم کے سوا دیگر اب اپنے گھروں کو واپس جائیں۔وزیرداخلہ کے اعلان کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔خیال رہے کہ کسانوں نے اپنے مطالبات کے حق میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کئی روز سے دھرنا دے رکھا تھا۔

    اس موقع پر چئیرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے سات روز سے جاری دھرنا ختم کرنے کااعلان کیا، اس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں مطالبات پورا کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی، شرط رکھی تھی کہ وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کسانوں کے پاس آ کر اعلان کریں۔ان کا کہنا تھا کہ جو بل 6 اکتوبر کو کسانوں نے ادا کرنا تھا،اب وہ بل چھے ماہ کی اقساط میں ادا کیا جائے گا،ہمارے تمام مطالبات کو منظور کر لیا گیا ۔

    خالد حسین باٹھ کا کہنا تھا کہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس بلوں میں نہیں لگے گا،کسان خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا، پہلے دن سے رانا ثنا اللہ سے ہمارے مزاکرت چل رہے تھے، انہوں نے بہت ساتھ دیا۔

  • حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار، احتجاج پانچویں روز میں داخل

    حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار، احتجاج پانچویں روز میں داخل

    حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار،اسلام آباد میں کسانوں کا احتجاج پانچویں روز میں داخل ہو گیا-

    باغی ٹی وی : کسان اتحاد کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا،کسان مہنگی بجلی، کھاد اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں کسان اتحاد نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پر بات چیت خراب کرنے کا الزام عائد کیا ہے-

    کسان اتحاد دھرنا؛ کسی گروہ کو بھی ریڈ زون میں احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں. رانا…

    کسان اتحاد کے چیئرمین خالد باٹھ نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کا رویہ پہلے جیسا نہیں تھا، رانا ثنا نے کہا کہ جو تیاری ہم نے عمران خان کے لیے کی ہے آپ پر نہ ہو جائے،وزیر اعظم نے پیر کو مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، پیر کو نوٹیفکیشن لے کر ہی جائیں گے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا نے کہا کہ ریڈ زون ریڈ لائن ہے، ریڈ زون کی طرف مارچ کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا،احتجاج اور دھرنا بلا جواز ہے کیونکہ ہم کسانوں کے جائز مطالبات مان رہے ہیں اور ٹیوب ویلز کے بلوں کی ادائیگی موخر کرنے کا مطالبہ تسلیم کیا جا چکا ہے-

    انہوں نے کہا تھا کہ زرعی ٹیوب ویل کے بجلی بلوں میں کمی کیلئے کابینہ کی قائم کمیٹی کام کر رہی ہے جبکہ حکومت کسانوں کے جائز مطالبات کو سنجیدہ لے رہی ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ؛ سوموار کو کمیٹی دوبارہ بیٹھے گی اور تمام تجاویز پر غور کرے گی-

    اسلام آباد پولیس نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین درختوں سے شاخیں توڑ کرلاٹھیاں بنارہے ہیں اور پتھر بھی اکٹھے کرلئے ہیں اور ان مظاہرین کی قیادت چیئرمین خالد باٹھ اور جنرل سیکرٹری عمر امین کررہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر مظاہرین نے پیش قدمی کی کوشش کی تو انہیں منتشر کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لہذا عورتوں اور بچوں سے گزارش ہے کہ اس طرف رخ نہ کریں۔

    کسان اتحاد کے رہنماء نے کہا تھا کہ رانا ثناء اللہ ہم آپ کی دھنکیوں سے ڈرنے والے نہیں‌ ہیں یاد رہے کہ اس سے قبل رانا ثناءاللہ نے دھمکی دی تھی کہ عمران خان کیلئے کی گئی تیاری کہیں‌ کسانوں پر نہ آزما دیں تاہم اس حوالے سے رہنماء کسان اتحاد کا کہنا تھا کہ رانا ثناء سے ملاقات ہوئی انہوں نے مزید وقت مانگ اور ان کا روایہ صحیح نہیں تھا.

    اس سے قبل تحریک انصاف کی خواتین رہنما دھرنے میں پہنچیں تو کسانوں نے احتجاج کو سیاسی نہ بنانے کی درخواست کی-

    محکمہ ریلوے نے ٹرینوں کی تمام کلاسوں کے کرایوں میں اضافہ کردیا

    واضح رہے کہ کسانوں نے زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے پر پابندی لگانے، سیلاب زدہ علاقوں میں کھاد، بیج اور ڈیزل مفت فراہم کرنے سمیت گندم کی قیمت چار ہزار روپے اور گنے کی چار سو روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کی خاطر اسلام آباد میں آج چوتھے روز بھی اپنا دھرنا جاری رکھا ہوا ہے. رہنما کسان اتحادنے مطالبہ کیا تھا کہ ہمارا احتجاج پرامن ہے، ہمیں کوئی جلدی نہیں، اپنا حق لے کر یہاں سے جائیں گے-

  • کسانوں کا اسلام آباد میں دھرنا شروع، حکومت سے مطالبات کی منظوری کا مطالبہ

    کسانوں کا اسلام آباد میں دھرنا شروع، حکومت سے مطالبات کی منظوری کا مطالبہ

    اسلام آباد: کسان اتحاد نے مذاکرات میں ناکامی کے بعد اسلام آباد میں دھرنا شروع کرتے ہوئے حکومت سے مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کردیا ہے۔اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے چئیرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کہاہے کہ حکومت بات نہیں کرے گی تو کسان سڑکوں پر ہونگے، کافی دنوں سے حکومت سے بات کر رہے تھے،2 سے 3 ملاقاتیں وزیراعظم سے ہوئیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب تک مذاکرات نہیں ہونگے ہم نہیں جائیں گے،ابھی تک وفاقی حکومت میں سے کسی نے مذاکرات کیلئے رابطہ نہیں کیا،حکومت کسانوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے۔ان کا کہنا تھا کہ یونٹ 30 روپے کا ہوگیا،کھاد مل نہیں رہی،فصلیں تباہ ہوگئی ہیں،اس سال آٹے کے قحط کا خدشہ ہے،حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ کسانوں کے مسئلہ حل کرے،کسان اس وقت ملک کو بچا سکتا ہے۔

    ان کا کہناتھا کہ ہماری 50 فیصد فصل تباہ ہوگئی،پانی نہیں ہوتا تو مر جاتے ہیں پانی آتا ہے تو ڈوب جاتے ہیں،انکا کہنا تھا کہ چاروں صوبائی حکومتیں کھاد کا سسٹم یونین کاؤنسل کی سطح پر لے جائیں۔

    خالد حسین کا کہنا تھا کہ جب تک کالا باغ ڈیم نہیں بنتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،آصف علی زرداری صاحب سندھ ڈوب گیا آپ سے درخواست ہے ڈیم بننے دیں۔اس سے قبل کسان اتحاد کے تحت ریلی نکالی گئی اس دوران مظاہرین نے کمپلکس چوک کو بند کر دیا،ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور ڈوھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالا۔

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

  • بھارت کو  646  ارب ڈالر کا نقصان

    بھارت کو 646 ارب ڈالر کا نقصان

    واشنگٹن: بھارت میں مسلسل بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کی وجہ سے ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ سی اے اے/این آر سی، کسانوں کی تحریک، پیغمبر اسلام کے تنازعہ کے بعد ہندوستانی فوج کے لیے لاگو کی گئی اگنی پتھ اسکیم کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر تشدد کی وجہ سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلوبل پیس انڈیکس میں ہندوستان 163 ممالک میں 135 ویں نمبر پر ہے۔ ان پرتشدد واقعات میں بھارت کو 646 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ اس رقم سے ملک کا بجٹ بڑھایا جا سکتا تھا۔ مختلف فلاحی اسکیمیں لاگو کی جا سکتی تھیں لیکن تشدد کی آگ نے سب کچھ تباہ کر دیا۔

    بھارتی فوج میں بھرتی کا نیا قانون اگنی پتھ،بھارت میں جلاؤ گھیراؤ،ٹرینیں نذر آتش

    بھارت کے پڑوسی ممالک پاکستان اور چین بالترتیب 54 ویں اور 138 ویں نمبر پر ہیں۔ہندوستان میں تشدد کی اقتصادی لاگت مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) کا چھ فیصد ہے۔ یعنی ہندوستان کی جی ڈی پی کا چھ فیصد صرف تشدد میں تباہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ملک میں کئی مسائل پر پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے کرفیو، انٹرنیٹ بند جیسے سخت قدم اٹھا نے پڑے ہیں۔ ان کے علاوہ دہشت گردی اور نکسلائیٹ حملوں کی وجہ سے بھی ملک کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

    عرب امارات نے بھارت سے گندم ، گندم سے بننے والی مصنوعات کے معاہدے منسوخ کردیئے

    ان واقعات میں جان و مال کے نقصان کے علاوہ ملک کو بالواسطہ اور بلاواسطہ نقصان بھی اٹھانا پڑاہے۔ گلوبل پیس انڈیکس 2022 کی رپورٹ کے مطابق پرتشدد اندرونی تنازعات کا سامنا کرنے والے ممالک کی تعداد 29 سے بڑھ کر 38 ہو گئی ہے تاہم 2017 سے اندرونی تنازعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ جنوبی ایشیا افریقہ کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ پریشان کن خطہ رہا ہے۔ شام، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں تشدد سے سب سے زیادہ معاشی نقصان ہوا ہے۔ جبکہ آئس لینڈ، کوسوو اور سوئٹزرلینڈ سب سے کم متاثر ہوئے ہیں۔

    بھارت میں سزاکےطورپرمسلمانوں کےمکانات کی مسماری اوراُن پربین اقوامی قوانین…

    2022 کی رپورٹ کے مطابق آئس لینڈ دنیا کا سب سے پرسکون ملک رہا ہے۔ نیوزی لینڈ دوسرے اور آئرلینڈ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان سب سے زیادہ پریشان ممالک میں سرفہرست ہے۔ 163 ممالک کے اس انڈیکس میں افغانستان بھی آخری نمبر پر ہے۔ اس پر یمن اور شام کا قبضہ ہے۔ یہ تینوں ممالک دہشت گردی اور خانہ جنگی کا شدید سامنا کر رہے ہیں۔

  • کسانوں کےحالات پرخاص توجہ دینےکی ضرورت ہے،عمران خان

    کسانوں کےحالات پرخاص توجہ دینےکی ضرورت ہے،عمران خان

    سابق وزیر اعظم اور چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ کسانوں کےحالات پرخاص توجہ دینےکی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی : عمران‌خان نے کہا کہ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے گندم کی سپلائی متاثر ہوئی، روس یوکرین جنگ کی وجہ سے گندم کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں ،جب تک حکومت زراعت پرتوجہ نہیں دےگی ملک خوشحال نہیں ہوسکتا-

    جمعیت علمائے اسلام شیرانی گروپ اور پی ٹی آئی کے مابین اتحاد و شراکت کا باضابطہ اعلان

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ کسانوں کےحالات پرخاص توجہ دینےکی ضرورت ہے،اس ملک میں خوشحالی زراعت کے ذریعے آئے گی، جب تک زراعت پر حکومت توجہ نہیں دے گی ملک آگے نہیں بڑھے گا،پاکستان کوفوڈ سیکیورٹی کااہم مسئلہ درپیش ہے،لوڈشیڈنگ میں بھی بہت اضافہ ہوچکاہے،ہم پرامپورٹڈحکومت مسلط کی گئی-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ہمارےدورمیں سبسڈی کی وجہ سےزرعی پیداوارمیں ریکارڈاضافہ ہوا،اس حکومت نےآتےہی ہرچیزمہنگی کرناشروع کردی،امپورٹڈ حکومت سےمجھےزیادہ امید نہیں،پولیس کے ذریعے مخالفین پر کیسز بنانے ہیں ،آج صحافیوں کو ٹیلی فون کر کے دھمکیاں دی جا رہی ہیں،یہ لوگ دھاندلی سے الیکشن جیتنے کیلئے تیاری کر رہے ہیں-

    آخر خالص دودھ کب ملے گا؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    عمران خان نے کہا کہ ان امریکی غلاموں کو روس سے تیل لینے کی جرات نہیں، بھارت میں 25 روپے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی،یہ لوگ پیسوں کے غلام ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جن کے اربوں روپے باہر پڑے ہوئے ہیں،ان کے ہوتے ہوئے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا،جوحکم واشنگٹن سےآئےگاوہ انہوں نےمانناہے،موجودہ حکمران ایک ایجنڈےکےتحت آئےہیں-

    پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

  • سری لنکا میں اب کسان بھی حکومت مخالف مظاہروں میں شریک

    سری لنکا میں اب کسان بھی حکومت مخالف مظاہروں میں شریک

    کولمبو:سری لنکا میں اب کسان بھی حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ،اطلاعات کے مطابق سری لنکا میں اب کسان بھی حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ہوئے ہیں اور بہت زیادہ سخت ردعمل آرہا ہے

    سری لنکا میں کسانوں کی جانب سے بڑی مقدار میں استعمال ہونے والی کھاد کی درآمد پر پابندی نے صرف کسانوں کی فصلوں کو متاثرنہیں کیا بلکہ ان کی راج پاکسے خاندان کی حمایت کو بھی ختم کر دیا ہے۔

    گزشتہ سال صدر گوٹابیا راج پاکسے کی حکومت نے زرعی کیمیائی مواد کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی تاکہ ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو بچایا جا سکے اور قرضے کی ادائیگیاں کی جا سکیں۔ اس وقت راج پاکسے حکومت نے کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد سری لنکا کو کیمیائی فارمنگ سے دور کرنا اور قدرتی اور دیسی طریقے سے کاشت کاری کرنے والا ملک بنانا ہے۔

    یہ فیصلہ کسانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ فصلوں کی پیداوار گر گئی اور ان کسانوں کی آمدن ایک ایسے وقت میں کم ہو گئی جب پہلے ہی تیل، خوراک اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔

    سری لنکا کی بائیس ملین آبادی میں سے قریب ایک چوتھائی کا انحصار زراعت پر ہے۔ ماضی میں اس جزیرہ ملک کی زراعت خاص طور پر یہاں کی مقبول سیلون چائے کی کامیابی کے اعتراف سے کیا جاتا تھا۔ صرف سیلون چائے کی کاشت سے اس ملک کو سالانہ قریب 1.3 ارب ڈالر حاصل ہوتے تھے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی کیمیائی مواد کی درآمد پر پابندی کسانوں کو خبردار کیے بنا عائد کر دی گئی تھی اور اس پابندی سے قبل کسانوں کو نئے طریقے کار سے کاشت کرنے کی تربیت نہیں دی گئی تھی۔

    2021ء کے آخر میں راج پاکسے حکومت نے درآمد شدہ کھاد پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ راج پاکسے نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا تھا لیکن اب یہ کیمیائی کھاد بہت مہنگی ہو گئی ہے۔

    حکومت نے گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ وہ کسانوں کو سبسڈی دے گی لیکن بہت کم لوگوں کو امید ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف ملے گا۔ اب دیگر شہریوں کی طرح سری لنکا کے کسان بھی صدر راج پاکسے کے استعفے کا مطالبہ لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔