تھنکرز کلب آزاد کشمیر کا اجلاس ، جنرل قمر جاوید باجوہ کو خراج تحسین
آرمی چیف کاکشمیریوں کو حق خود ارادیت بارے بیان مایوسی میں اُمید کی کرن ہے ،مرزا شفیق جرال
لاہور(پ ر)تھنکرز کلب آزاد کشمیر کا اجلاس آزاد کشمیرکے صدر مرزا شفیق جرال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں ریاست جموں وکشمیر کے حوالے تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں صدر سلیم چوہان،یاسر ارشاد،علامہ رمضان حاجی،محمد حمزہ ،پروفیسر راﺅ حیات اور دیگر ارکان نے شرکت کی۔ہیں۔تھنکرز کلب آزاد کشمیر نے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے بارے بیان کو مایوسی کے اندھیرے میں اُمید کی کرن قراردیاہے۔تھنکرز کلب آزاد کشمیر کے صدر مرزا محمد شفیق جرال نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک آزاد ی حاصل کرکے اقوام متحدہ کے مہرے بنے ہوئے ہیں لیکن ریاست جموں وکشمیر اور فلسطین واحد ریاستیں ہیں جہاں کے باسی غلامی کے اندھیروں میں اپنے خون سے آزادی کے چراغ روشن کر رہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کی بہادر مسلح افواج کے شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کی مقروض ہیں ،کشمیر کے بچے ،بوڑھے ،جوان اور خواتین پاکستانی افواج کی ان بے مثال قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے بارے بیان سے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو تقویت ملے گی۔
Tag: کشمیریوں

آرمی چیف کاکشمیریوں کو حق خود ارادیت بارے بیان مایوسی میں اُمید کی کرن ہے ،مرزا شفیق جرال

پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ
کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنے تک عالمی امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، فردوس عاشق اعوان۔
بھارتی ریاستی دہشت گردی ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کی جان لے چکی،مودی نے 6لاکھ فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر مامور کر دیا
بھارت میں تمام اقلیتیں ہندوتوا مائنڈ سیٹ کا شکار ہیں۔پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا
معاون خصوصی وزیر اعلیٰ کا تقریب سے خطاب
لاہور05فروری: اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری بہن بھائیوں کو حق خود ارادیت دلوانے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور احساس دلانا ہو گا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنے تک عالمی امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کو انکا حق دلوانے کیلئے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ کشمیر پاکستان کے وجود کا حصہ ہے اسکے بغیر پاکستان نا مکمل اور ادھورا ہے۔پاکستان ہر سطح پرکشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کشمیریوں کے ترجمان اور وکیل بن کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا وعدہ اپنے جنرل اسمبلی کے خطاب میں وعدہ پورا کیا اور دنیا کو بارآور کروایا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت نے کس طرح کشمیرکو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔
ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے لاہور پریس کلب میں یوم کشمیر کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں بہنوں،بیٹیوں کی عصمت دری کی خوفناک داستانیں رقم کی ہیں اور وہاں نوجوانوں کی پیلٹ گن سے بینائی چھینی جا رہی ہے۔ بھارت کشمیریوں کی بینائی تو چھین سکتا ہے مگر ان سے آزادی کے خواب نہیں چھین سکتا۔ کشمیری عوام کے اظہار رائے پر پابندی لگانے کے باوجود انکی آواز پہلے سے زیادہ گونج رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے 6لاکھ سے زائد فوج کو نہتے کشمیریوں پر چڑھائی کیلئے وقف کر رکھا ہے۔ کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جائیں قربان کرنے والے شہدا، حریت رہنماؤں کے حوصلے اور ان تمام کشمیریوں کو جنہوں نے آزادی کی شمع روشن رکھنے کیلئے اپنی نسلوں کی قربانی دی، پاکستانی قوم کی طرف سے سلام پیش کرتی ہوں۔ ہندوستان نے طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی مگر اب یہ ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں کشمیریوں کی آواز کسی صورت دبائی نہیں جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر بھرپور انداز میں منا رہی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی مہم کی سربراہی کی۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کشمیر کے حوالے سے تقریری مقابلوں، ملی نغموں اور مشاعروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بھارت میں تمام اقلیتیں ہندوتوا مائنڈ سیٹ کا شکار ہیں۔مودی کا سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی سے اب دنیا آگاہ ہے۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام مودی کو اس کے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور لہو کے آخری قطرے اور بندوق کی آخری گولی تک کشمیری بہن بھائیوں کا ساتھ دیں گے۔قبل ازیں اپنے ٹویٹر پیغام میں معاونِ خصوصی وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اب تک ہزاروں بے گناہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ ایک لاکھ 7 ہزار 813 بچے یتیم، 22ہزارخواتین بیوہ ہوچکیں، بھارتی درندہ فوج 11ہزار 234 کشمیری خواتین کو اجتماعی زیادتیوں کا نشانہ بنا چکی ہے مگر مسلسل ظلم کا سامنا کرتے کشمیریوں کے حوصلے چٹانوں سے بھی بلندہیں۔ بعد ازاں ڈسکہ میں فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقدہ کشمیر کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اقوام عالم اور بالخصوص انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو مظلوم کشمیریوں کی چیخ وپکارکیوں سنائی نہیں دیتی ان کو بھارتی فوج کے مظالم کیوں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اپنی شہ رگ کو دشمن کی گرفت سے آزاد کرائے بغیر ہر گز آرام نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام عالم اپنی منظور شدہ قرار داد پر عملدرآمد کروائے اور کشمیر یوں کو استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دلا کر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ڈسکہ میں اظہار یکجہتی ریلی کی قیادت کی جو میلاد چوک سے شروع کر بنگلہ چوک میں اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کے شرکا نے کشمیر بنے گا پاکستان اورکشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الاللہ۔۔۔کے نعرے لگائے
آئمہ و خطباء نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی
تاریخ: 05-02-2021
لاہور( )تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم اور تحریک صراط مستقیم کی اپیل پر پاکستان اور آزاد کشمیر میں ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا گیا۔ آئمہ و خطباء نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کی مذمت کی اور مسلمانوں پر اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، انہیں موضوع بنایا۔ نیز ایک قرار داد کے ذریعے حکومت پاکستان سے اخلاقی اور سفارتی مدد سے بڑھ کر کشمیریوں کی عملی مدد کا مطالبہ کیا گیا اور نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں گئیں۔ لاہور میں تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمدا شرف آصف جلالی، تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ضلع لاہور کے امیر علامہ محمد فیاض وٹو جلالی، تحریک صراط مستقیم ضلع لاہور کے امیر علامہ محمد صدیق مصحفی جلالی اور جلالیہ علماء کونسل کے امیر علامہ محمد حنیف حسینی جلالی کی قیادت میں قائد اعظم انٹر چینج سے جلو موڑ (واہگہ بارڈر) تک ”کشمیر بزور شمشیر مارچ“ کے ٹائٹل کے تحت عظیم الشان مارچ کیا گیا۔ مارچ میں شرکاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور ”اللہ اکبر“، ”لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم“، ”الجہاد الجہاد لبیک لبیک“، ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعروں کے علاوہ بھارتی فوج کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں نعرہ بازی کی۔ ”کشمیر بزور شمشیر مارچ“ سے خطاب کرتے ہوئے تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا: کشمیری حُرّیت پسندوں کی جدو جہد سے پورے بھارت میں ایک بیداری آ چکی ہے۔ کشمیریوں نے کشمیر بزور شمشیر کے راستے میں ہزاروں جانیں قربان کی ہیں۔ کشمیر ہرگز کسی ملاقات، یاداشت، مذاکرات اور قرارداد سے نہیں، ان شاء اللہ جہاد سے آزاد ہوگا۔ بھارت کشمیر میں وہی داستان ظلم رقم کر رہا ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں کی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی جائیدادیں ہتھیا کر وہاں ہندوؤں کو آباد کر رہا ہے۔ بھارت کے ہاتھ سے اپنی شہ رگ چھڑانے کے لیے پاکستان کو فوری دلیرانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ مودی مائنڈ سیٹ کی جارحیت کے مقابلے امن کی تجویز خودکشی کے مترادف ہے۔ بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنا قومی وقار کے خلاف ہے۔ بھارت کے جنگی جنون کا علاج پاک فوج ہی کر سکتی ہے۔ مارچ میں علامہ محمد مظہر اقبال نورانی، علامہ محمد وقار نقشبندی، مفتی محمد حذیفہ جلالی، قاری محمد اصٖغر ترابی،مولانا محمد نعمان آصفی، علامہ محمد عظمت علی جلالی، مولانا حبیب اللہ جلالی و دیگر نے شرکت کی۔
تاجر انصاف کی کشمیرریلی میں بھی کشمیر بنےگا پاکستان کے نعروں کی گونج
تاجر انصاف کے زیر اہتمام کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی
شاہد خان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ بھارت میں جاری ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لیکر مظلوم کشمیریوں کو آزادی دلائے-
پشاورمیں تاجر انصاف خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام کشمیر ڈے کی مناسبت اور کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے جناح پارک روڈ پر ریلی نکالی گئی جس کی قیادت صدر تاجر انصاف شاہد خان‘ ایس پی سٹی محمد عمران ، ایڈمنسٹریٹر ٹائون ون سلیم خان ، شاہ پور سلام‘ ارشد انگار‘ گلریز خان‘ شاہد بلال چمکنی‘ شاہد آفریدی اور نانبائی ایسوسی ایشن کے صدر حاجی اقبال اور دیگر کر رہے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پاکستان اور کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے افواج پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صدر تاجر انصاف شاہد خان نے کہا کہ اقوام متحدہ بھارت میں جاری ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لے کر مظلوم کشمیریوں کو آزادی دلائے۔ انہوں نے کہا کہ حق خود ارادیت اور آزادی کشمیری عوامکا حق ہے اور پاکستان کے عوام اور حکومت اس بنیادی حق کے حصول کیلئے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی‘ سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے گزشتہ کئی عرصہ سے ریاستی دہشتگردی شروع کی ہوئی ہے جس پر عالمی برادری کی خاموشی معنی خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد رنگ لائے گی اور وہ وقت دور نہیں کہ کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں اور ہر فورم پر بھارت کو نا کامی اور شرمندگی کا سامنا کرناپڑا ہے۔

پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں،عثمان بزدار
لاہور5فروری:وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پیغام.
پوری قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے-نہتے کشمیریوں کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں -پاکستان اور کشمیر ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں -پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں پاکستان کشمیر اور کشمیر پاکستان کے بغیر نامکمل ہے-کشمیریوں کے ساتھ ہمارا رشتہ محبت، بھائی چارے اوراخوت کا ہے-کشمیری عوام اپنے قیمتی لہو سے آزادی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں –
ہم کل بھی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے،آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور کل بھی ساتھ کھڑے رہیں گے-کوئی قوت پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لازوال رشتے کو ختم نہیں کرسکتی-مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا کی خاموشی کا کوئی جواز نہیں
اقوام عالم کو اس سلگتے مسئلے کے حوالے سے خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑے گا-بھارت کو ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا-بے گناہ شہید کشمیریوں کا خون رنگ لائے گا اور آزادی کشمیر کی صبح ضرور طلوع ہوگی-بھارت ریاستی جبر وتشدوکے ذریعے زیادہ دیر تک کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔ کشمیری عوام کے ساتھ بھارت کے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔عثمان بزدار

منقعد سیمینارمیں محمود قریشی نے کشمیریوں کی قید و بند اورصعوبتوں پے تفصیلی بات
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ”کشمیر کی ناشنیدہ آوازوں سے یک جہتی“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب
(بمقام انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز۔ مورخہ 3 فروری 2021)
حاضرین محترم
معزز خواتین و حضرات
اسلام علیکم
میں ”کشمیر کی اَن سنی آوازوں سے یک جہتی“ کے موضوع پر منعقدہ اس اہم سیمینار کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک دیتا ہوں۔
5 فروری کویوم یک جہتی کشمیر سے قبل آج ہماری یہاں موجودگی معصوم کشمیریوں کے ساتھ ہماری ٹھوس حمایت اور یک جہتی کا اعادہ ہے جو 73 سال سے غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی قابض فوج کے جبرواستبداد کا سامنا کررہے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں صورت حال 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیرانسانی اوریک طرفہ اقدامات کے بعد سے مزید بدتر ہوچکی ہے۔ بندوق کی نوک پر غیرقانونی طورپربھارت کے زیرقبضہ علاقے میں ایک نئی جارحیت اور نئے قبضے نے کشمیری عوام کے مصائب کو کئی گنا مزید بڑھا دیا ہے۔
9 لاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج بے گناہ کشمیریوں پر بدترین بربریت اور مظالم ڈھارہی ہے
اٹھارہ ماہ ہوچکے ہیں کہ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں فوجی محاصرہ مسلسل جاری ہے، کمیونیکیشن قدغنیں عائد ہیں اور بنیادی آزادیوں پر سفاکانہ غیرمعمولی پابندیاں نافذ ہیں۔
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں جعلی ”مقابلوں“، تلاشیوں اور چھاپوں کی آڑ میں نوجوان کشمیریوں کی ماورائے عدالت شہادتیں معمول بن چکا ہے۔
قابض بھارتی افواج 5 اگست 2019 سے اب تک 300 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو شہید کرچکی ہیں۔
بربریت اور سفاکی اس انتہاءپر ہے کہ کشمیری شہداءکے جسد خاکی بھی ان کے اہل خانہ کو حوالے نہیں کئے جاتے کہ وہ اپنے پیاروں کی تدفین کی آخری رسومات اداکرسکیں۔
کشمیریوں کے گھر تباہ کئے جارہے ہیں تاکہ پورے کشمیری معاشرے اور آبادیوں کو ”اجتماعی سزا“ دی جائے۔
دختران ملت کی بانی رہنما اور کشمیر کی خاتون آہن محترمہ آسیہ اندرابی، جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے بانی رہنما شبیر احمد شاہ، نامور رہنما یاسین ملک، مسرت عالم بھٹ، محمد اشرف صحرائی سمیت دیگر سینئر کشمیری قیادت جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی جعلی الزامات کے تحت بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پابند سلاسل ہے۔
ہزاروں کشمیری قیدوبند کی صعوبتوں کا شکار ہیں جن میں سے بہت سارے نوجوانوں کو خفیہ مقام پر قید کیاگیا ہے جن کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو کچھ معلوم نہیں۔
’آر۔ایس۔ایس‘،’بی۔جے۔پی‘ حکومت کا 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کا مقصد بہت واضح ہے۔
بھارت مقبوضہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، عالمی قانون بشمول چوتھے جینیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
اس غیرقانونی اور غیرانسانی مقصد کے حصول کے لئے ’بی۔جے۔پی‘ حکومت غیرکشمیریوں کو 18 لاکھ بوگس ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کرچکی ہے تاکہ اس غیرقانونی آبادکاری کے ذریعے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے عمل کو متاثر کیاجاسکے۔
قابض بھارتی فوج کے شدید ترین مظالم اور جبرواستبداد کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی غلامی قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔
بھارتی مظالم کے نتیجے میں کشمیریوں کا بھارتی قبضے سے آزادی حاصل کرنے کا عزم مزید مضبوط اور طاقت ور ہوا ہے۔
اپنی عظیم قربانیوں کے ذریعے کشمیریوں نے روز روشن کی طرح واضح کردیا ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کا ”اٹوٹ انگ“ نہیں ہے اور یہ نام نہاد بھارتی دعوی باطل ہے۔
نہ تو یہ کبھی تھا ۔۔۔۔ اور نہ ہی کبھی ہوگا۔
دنیا آج دیکھ رہی ہے کہ ’آر۔ایس۔ایس‘کے زیراثر ’بی۔جے۔پی‘ حکومت کی انتہاءپسندانہ ’ہندتوا‘ سوچ کی گرفت میں بھارت کے اندر شدید نوعیت کی قوم اور نسل پرستی، فسطائیت، مذہبی نفرت اور عدم برداشت سرچڑھ کر بول رہی ہے۔ انتہا پسند بھارتی حکومت تشدد کو اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے ہتھیار کے طورپر استعمال کررہی ہے۔ ’ہندتوا‘ کی انتہاءپسندسوچ نہ صرف کشمیریوں بلکہ خود بھارت کے شہریوں خاص طورپر مسلمانوں کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔’بی۔جے۔پی‘ کے بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور ان کے خلاف متعصبانہ اقدامات روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ مسلمانوں کو منظم انداز میں سیاسی طورپر تنہاءکرنے کی پالیسیز سے لے کر ان پر براہ راست حملوں، ’جہاد سے پیار“ اور ”کورونا جہاد“ کے نعروں اوردیگر مسلمان مخالف کارروائیوں کا مقصد انہیں بدنام کرنا، ان کے حقوق چھین کر انہیں دیوار سے لگانا ہے۔ پاکستان غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی افواج کے بہیمانہ مظالم کو مسلسل بے نقاب کر رہا ہے۔
تنازعہ جموں وکشمیر عالمی میڈیا کی شہہ سرخیوں میں آچکا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ اس سے قبل کبھی اس بڑے پیمانے پر جموں وکشمیر کامسئلہ عالمی سطح پر یوں نمایاں ہوا ہو۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کے اداروں نے کئی ٹھوس رپورٹس جاری کی ہیں جن میں غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں اپناغیرقانونی تسلط قائم رکھنے کے لئے فوجی محاصرے، کمیونکیشن قدغنوں، میڈیا بلیک آوٹ اور دیگر استبدادی ہتھکنڈوں کے استعمال پر بھارت کی شدید ملامت ومذمت کی گئی ہے۔ سفارتی محاذ پر غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں اپنے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کے بعد سے بھارت عالمی سطح پر ذلت در ذلت کا سامنا کررہا ہے۔
5 اگست 2019 کے بعد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تین اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جن میں جموں وکشمیر کے تنازعے پر غور کیاگیا جو بھارت کے اس جعلی دعوے کی بھرپور اور واضح تردید ہے کہ یہ تنازعہ اس کا ”داخلی معاملہ“ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین، برطانیہ اور امریکی کانگریس سمیت متعدد ارکان پارلیمان نے مختلف مواقع پر غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ حال ہی میں برطانوی پارلیمان میں ”غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں سیاسی صورتحال“ پربحث منعقد ہوئی جس میں برطانوی ارکان پارلیمان نے ’بی۔جے۔پی‘ حکومت سے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف منظم تشدد اور جبر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بھارتی جبر واستبداد کی مہم کو مسترد کرنا بلاشبہ درست سمت میں قدم ہے۔
تاہم اس ضمن میں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس سے جموں وکشمیر کاتنازعہ جلد حل کرنے کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی جو جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امن وسلامتی کے لئے ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ بھارتی قبضے سے آزادی کے حصول کی منصفانہ جدوجہد میں کشمیری عوام کے غیرمتزلزل یقین اور عزم کی وجہ سے ہمارے دل ان کی عظمت اور ان پر فخر سے معمور ہیں۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے ڈھائے جانے والے ناقابل بیان مظالم اور جبر واستبداد کے باوجود کشمیریوں کی بے مثال مزاحمت اور عزم ناقابل فراموش ہے۔ پاکستان کا بنیادی نصب العین جموں وکشمیر کے تنازعہ کو کشمیری عوام کی خواہشات، امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اقوام متحدہ کی نگرانی میں منعقدہ آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے حل کرانا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیریوں کے منصفانہ استصواب رائے کے حق کی جدوجہد میں ان کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہم کسی کو کشمیر کشمیریوں سے چھیننے نہیں دیں گے۔ یہ مقصد اور جدوجہد منصفانہ و مقدس ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ کشمیری فتح سے ہمکنار ہوکر ہی رہیں گے۔ انشاءاللہ۔ میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔





