Baaghi TV

Tag: کشمیری شہید

  • ایک اورکشمیری نوجوان شہید کردیا گیا:مسرت عالم بٹ کا کشمیریوں کی منظم نسل کشی پر اظہار تشویش

    ایک اورکشمیری نوجوان شہید کردیا گیا:مسرت عالم بٹ کا کشمیریوں کی منظم نسل کشی پر اظہار تشویش

    سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے قابض بھارتی فورسزکی طرف سےعلاقے میں جاری قتل وغارت اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہارکیاہے۔

    مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کہاکہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بسنے والے ایک کروڑ لوگوں کو 10 لاکھ سے زائد قابض فوجیوں نے مسلسل محاصرے میں رکھا ہوا ہے جنہیں لوگوں کوقتل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔

    نظربند حریت چیئرمین نے کہاکہ تمام کالے قوانین کو نافذ کر دیا گیا ہے اور مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کی منظم نسل کشی کے لیے بھارتی فورسز کو ہرقسم کا تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم کی مذمت کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ اب جموں اور لداخ کی ہندو برادری کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ غیر ریاستی شہریوں کوبڑے پیمانے پر اراضی اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے جس سے مقبوضہ علاقے پر سماجی اور ثقافتی جارحیت کے علاوہ متعلقہ علاقوں کے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات پڑر ہے ہیں۔

    انہوں نے بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں حریت پسندکشمیری عوام کے شاندار کردار کو سراہا اور بھارتی تسلط، ریاستی دہشت گردی اور اس کی سامراجیت کاایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کشمیر کے بہادر عوام کے بلند حوصلوںپر اطمینان کا اظہار کیا۔

    انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری نسل کشی، ماورائے عدالت قتل، خواتین کی بے حرمتی اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیں۔ حریت چیئرمین نے1948 سے زیر التواءاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے جلد حل پر زور دیا۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں آج ضلع شوپیان میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔

    فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے نادی گام میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ اس سے قبل بھارتی فوج ، پیراملٹری سینٹرل ریزروپولیس فورس اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوںکو بند کردیااور گھر گھر تلاشی کی کارروائی شروع کی۔آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری

    مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم کی داستان رقم کرتے ہوئے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

    مقبوضہ وادی میں ایک اور سیاہ دن،سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے۔ بھارتی فوج نے ضلع پلوامہ اور بڈگام میں مزید پانچ نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کئی علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔بھارتی فوج کے اقدام کے خلاف کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، مظاہرین بھارتی فوج اور مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت کے 2019 میں لاک ڈاون کے اقدام کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی حکومت کی جنت نظیر وادی میں غیر انسانی سرگرمیوں کی متعدد بار مذمت کی گئی ہے۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں قابض حکام کے ہاتھوں بے گھرہونے والے گجر اور بکروال خاندان گزشتہ کئی ہفتوں سے جموں کے علاقے روپ نگر میں احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔

     

     

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ مسلمان گجر اور بکروال خاندان انصاف اور رہنے کے لیے پناہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 70 سال سے علاقے میں رہ رہے ہیں لیکن قابض حکام نے ان کے مکانات مسمار کر دیے۔ بے گھر ہونے والے لوگوں اور ان کے وکیل ایڈووکیٹ شیخ شکیل احمدنے کہا کہ جموں کی ایک سیشن عدالت کی طرف سے سٹے آرڈر کے باوجود مکانات کو مسمار کر دیا گیا۔ ایڈووکیٹ شکیل نے کہاکہ انہیں صرف اس لیے گھروں سے محروم کردیا گیا ہے کہ وہ غریب لوگ ہیں اور کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو حکام ان کے گھر مسمار کرنے سے پہلے انہیں نوٹس دیتے۔اس کے علاوہ مارچ تک ایڈیشنل سیشن جج کا سٹے آرڈر بھی موجود ہے۔

    ایک سماجی کارکن ستویر سنگھ منہاس نے کہاکہ ہم ان کے لئے اور مویشیوں کے لیے پناہ گاہ کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ ہمارے آئین کی طرف سے دیا گیا حق ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ تجاوزات کرنے والے یا زمین پر قبضہ کرنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 370 کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت اور ریاستی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد حکام اور بی جے پی نے بار بار قبائلیوں کو مزید حقوق دینے کی بات کی ہے لیکن گزشتہ دو سال سے ان گجر اور بکروال خاندانوں کو علاقے بے دخل اور ان کے گھروں کو مسمار کیاجارہاہے۔