Baaghi TV

Tag: کشمیری

  • پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آئے طلبا پر مودی سرکار نے دہشت گردی کا الزام عائد کر دیا

    مودی سرکار جو ہمیشہ پاکستان پر الزامات لگاتی رہتی ہے، اب تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایک اور الزام عائد کیا ہے ، جموں کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ کشمیر سے پاکستان ایم بی بی ایس کے لئے جانے والے طلبا کو پاکستان رقم دیتا ہے اور وہ رقم کشمیر میں استعمال ہوتی ہے ،خبر رساں ادارے کے مطابق جموں کشمیر پولیس اس حوالہ سے گزشتہ برس ماہ جولائی سے تحقیقات کر رہی تھی اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان ان لوگوں کو تعلیم کے لئے بلایا جاتا ہے جن کے گھر کا کوئی فرد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہو

    رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر پولیس نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کی مدد کی اور ان طلبا کو رقم دے کر واپس کشمیر بھیج کر بھارتی فوج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے عسکریت پسندی ختم نہیں ہو رہی کیونکہ نئی کمک مل جاتی ہے ، خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں ثبوت ملے ہیں، سی آئی ڈی، سی آئی کے بھی اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں،

    پولیس نے حریت کانفرنس کے گروپ سالویشن موومنٹ کے صدر محمد اکبر بھٹ عرف ظفر اکبر بھٹ کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے جس میں عبدالجبار، فاطمہ شاہ، الطاف احمد بھٹ قاضی یاسر، محمد عبداللہ شاہ، سبزار احمد شیخ، منظور احمد شاہ، سید خالد گیلانی ، محمد اقبال میر کے نام بھی شامل ہیں، اس چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر پولیس نے تحقیقات کے دوران زبانی اور دستاویزی ثبوت جمع کئے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان طلبا کو بھیجا جاتا ہے جو شہید ہونے والوں کے قریبی رشتے دار ہوتے ہیں، پھر انکو رقوم دے کر واپس بھیجا جاتا ہے اور کشمیر میں عسکریت پسندی کو فروغ دیا جاتا ہے،

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کشمیری طلبا کو تعلیم سے روکنے کے لئے مودی سرکار نے ایسا حربہ استعمال کیا ہو، پہلے بھی ایسا ہوتا رہا اور کشمیری طلبا پر غداری کے مقدمے بھی مودی سرکار نے درج کئے ہیں،گزشتہ برس مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی

    مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے طلبا کو کہا گیا ہے آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے طلبا کے خلاف کاروائی ہو گی، کوئی بھی مقبوضہ کشمیر کا طالب علم آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ نے لے کیونکہ آزاد کشمیر کے تعلیمی ادارے بھارت میں تسلیم شدہ نہیں ہیں

    آل انڈیا کونسل برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی جانب سے ایک پبلک نوٹس جاری کیا گیا ہے جسے کشمیری اخبارات نے شائع کیا ہے، جس میں کشمیری طلبا کو کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیز، میڈیکل کالجر، ٹیکنیکل اداروں میں داخلے لینے سے گریز کریں کیونکہ بھارت ان اداروں کو تسلیم نہیں کرتا

    واضح رہے کہ جموں کشمیر ہائیکورٹ میں ایک کیس آیا تھا جس میں ایک کشمیری طالبہ نے درخواست دائر کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں ایک یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی تھی جسے بھارت سرکار تسلیم نہیں کر رہی، سری نگر سے تعلق رکھنے والی ھادیہ چشتی نے عدالت کا دروازہ اس وقت کٹھکٹھایا تھا جب انہیں نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشن نے فارن میڈیکل گریجویٹ ایگزامینیشن سکریننگ ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

  • وزیراعظم صاحب : ہمیں آپ پراعتبار بھی اور اعتماد بھی ہے:کشمیریوں‌ کا عمران خان پربھرپوراعتماد کا اعلان

    وزیراعظم صاحب : ہمیں آپ پراعتبار بھی اور اعتماد بھی ہے:کشمیریوں‌ کا عمران خان پربھرپوراعتماد کا اعلان

    لندن :عمران خان ہمیں آپ پراعتبار ہے:کشمیریوں کا عمران خان کی قیادت پربھرپوراعتماد،اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی طرح بیرون ممالک موجود لاکھوں کشمیریوں نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر بھرپوراعتماد کا اعلان کیا ہے ،

    اس حوالے سے کشمیریوں نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی کشمیریوں کےلیے جدوجہد کو پسند کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پرکشمیریوں کو اعتبار بھی اور اعتماد بھی ہے،

    بیرون ملک مقیم کشمیریوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے اسلام آباد میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں کشمیریوں کے نصب العین کی حمایت کا اعادہ کرنے کاخیرمقدم کرتے ہوئے اسے حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عمران خان نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ سے ملاقات میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جس سے کشمیریوں کی منصفانہ اور حق پر مبنی جدوجہد آزادی کی حمایت کے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے ۔

    انہوں نے دنیا بھر میں اور برطانیہ میں مقیم کشمیریوں نے وزیر اعظم پاکستان کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے ۔فہیم کیانی نے کہاکہ عمران خان نے او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں کشمیر اور فلسطین کے عوام کیلئے آواز بلند کی ۔انہوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے پاکستان کی اپیل پر توجہ دیں۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی ضمانت انہیں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں میں فراہم کی گئی ہے ۔

    وزیر اعظم خان نے او آئی سی کے اجلاس کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے عوام اپنی منصفانہ جدوجہد میں مدد کیلئے عالم اسلام کی توجہ کے منتظر ہیں ۔تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر نے کہا کہ 41سال بعد او آئی سی کی خصوصی سربراہی کانفرنس کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں اب بھی ضمیر اور انسانیت ابھی زندہ ہے۔

    انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام بھی چاہتے ان کی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اس طرح کا سربراہ اجلاس مددگارثابت ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ او آئی سی ہی مقبوضہ علاقے میں کشمیریوںکی نسل کشی اور جنگی جرائم بند کرانے اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنے سے روکنے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھانا کیلئے اہم فورم ہے ۔

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سے ذرائع کے مطابق کشمیری قوم نے بیرون ممالک کشمیریوں کے اس موقف کی حمایت اور اسے درست قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ ہمیں امید ہے کہ عمران خان کشمیری قوم کے حقیقی سفیر کے طور کشمیریوں کا کیس ہرفورم پرلڑیں‌ گے

  • قابض بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا

    قابض بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا

    سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری ،ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا-

    باغی ٹی وی : کشمیری میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے نوجوان کوپونچھ کے علاقے میں فائرنگ کرکے شہید کیا۔ پونچھ اورقریبی علاقوں میں بھارتی فورسز کا نام نہاد آپریشن جاری ہے۔

    بریکنگ، سرینگر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر حملہ

    بھارتی فوجیوں نے پونچھ اورقریبی علاقوں کا محاصرہ کرلیا۔ موبائل اورانٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی ہے جبکہ دکانوں کوبھی بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بھارتی فوجی گھرگھرتلاشی کی آڑ میں کشمیری خواتین اوربچوں کوبھی ہراساں کررہے ہیں۔

    بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    گزشتہ روز سری نگرمیں پولیس بس پرنامعلوم افراد کی فائرنگ سے تین اہلکار ہلاک اور12 زخمی ہوگئے تھے واقعہ کے بعد علاقے کا گھیراؤ کر لیا گیا، بھارتی سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے ، بھارتی فوج نے گھر گھر آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے حکام کے مطابق تمام زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہان انکا علاج جاری ہے-

    بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر حملہ ایسے وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل پلوامہ میں بھارتی فوج نے ایک کشمیری نوجوان کو عسکریت پسند کہہ کر شہید کر دیا تھا، کشمیری نوجوان کی شناخت سمیر احمد سکنہ بارگام کے طور پر ہوئی تھی-

    یاد رہے کہ قابض فوج نے 9 دسمبر کو بھی چک چولان میں محاصرے اور تلاشی کے دوران3 نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے بھاری اسلحہ اور کیمیائی مواد کا استعمال کرتے ہوئے ایک رہائشی مکان کو بھی تباہ کر دیا گیا جبکہ آپریشن کے دوران علاقے میں انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل رکھا گیا-

    قابض بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا

  • کشمیر کاز اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے ہمیشہ کوشاں رہوں گا ، شاہد آفریدی

    کشمیر کاز اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے ہمیشہ کوشاں رہوں گا ، شاہد آفریدی

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کشمیر پریمئیر لیگ کے دوسرے سیزن میں بھی برانڈ ایمبیسڈر ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین کشمیر پریمئیر لیگ ارشد خان تنولی کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ کشمیر اور کشمیری عوام سے میرا دل کا رشتہ ہے، کشمیر کاز اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے ہمیشہ کوشاں رہوں گا۔

    شاہد آفریدی نے نئے چیئرمین ارشد خان تنولی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ میں ارشد خان تنولی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتا ہوں امید ہے ان کی سربراہی میں لیگ نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 7 کی ڈرافٹنگ میں فرینچائزز نے اپنے اپنے من پسند کھلاڑیوں کا انتخاب کرلیا ہے پی ایس ایل 7 کا پلیئرز ڈرافٹ نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں فرنچائزز آفیشلز کے ساتھ ساتھ ان کی ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی تھی-

    ڈرافٹ سے قبل کرکٹرز کی ٹریڈنگ، ٹرانسفر اور برقرار رکھنے کی ونڈوز بند ہوگئیں، پی ایس ایل تاریخ کے کامیاب کھلاڑی فخر زمان اور کامران اکمل بھی ڈرافٹ میں شامل ہوئےہر فرنچائز کو آخری ایونٹ کے زیادہ سے زیادہ 8 کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کی اجازت تھی، سب نے اپنے پلانز اور ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرلیے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز، لاہور قلندرز اور پشاور زلمی نے ریٹینشن کا پورا کوٹہ استعمال کیا، ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 7، 7 کھلاڑی برقرار رکھے جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑی کراچی میں ویسٹ انڈیز کی سیریز میں مصروف ہونے کی وجہ سے ڈرافٹ میں شریک نہیں ہیں۔

    پلیئرز ڈرافٹ کے لیے 32 ممالک سے 425 کھلاڑی رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ڈرافٹنگ میں پلاٹینیم میں کیٹیگری میں پہلی پک لاہور قلندرز کی تھی۔

    پلاٹینم کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ کی پہلی پک میں لاہور قلندرز نے فخر زمان کا انتخاب کرلیا، ملتان سلطانز نے ٹم ڈیوڈ کا انتخاب کیا، کراچی کنگز نے کرس جارڈن کو اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جیسن رائے کا انتخاب کیا جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے کولن منرو کو اور پشاور زلمی نے حضرت اللہ زازئی کا انتخاب کیا۔

    ڈائمنڈ کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ میں اسلام یونائیٹڈ نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مرچنٹ ڈی لانگا کو اور کراچی کنگز نے لوئس گریگوری کو منتخب کیا متان سلطانز نے جمیکا سے تعلق رکھنے والے اوڈین اسمتھ کو منتخب کیا ہے جبکہ ڈائمنڈ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جیمز فولکنر کو چُنا-

    گولڈ کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ میں لاہور قلندرز نے عبداللہ شفیق کو منتخب کرلیا جبکہ اسی راؤنڈ کی ایک اور پک میں انگلینڈ کے فل سالٹ کا انتخاب کیا اور تیسری پک میں ہیری بروک کو بھی چن لیا جبکہ گولڈ کیٹیگری میں پشاور زلمی نے لیگ اسپنر عثمان قادر کا انتخاب کیا۔

    سلور کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ میں پشاور زلمی نے سلمان ارشاد، کراچی کنگز نے عمید آصف اور لاہور قلندرز نے کامران غلام کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے محمد اخلاق کو جبکہ ملتان سلطانز نے اس راؤنڈ کی اپنی دو پکس میں پہلے رومان رئیس اور پھر آصف آفریدی کا انتخاب کیا۔

    سلور کیٹیگری کے دوسرے راؤنڈ میں انور علی کو ملتان سلطانز نے چنا تو اسلام آباد یونائیٹڈ نے ریسی ٹوپلے کا انتخاب کیا کراچی کنگنز نے سلور کیٹیگری کے دوسرے راؤنڈ میں ٹام ابیل کو چنا اور لاہور قلندرز نے ڈین فوکس کرافٹ کا انتخاب کیا اسی راؤنڈ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے عمر اکمل کا انتخاب کیا اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے دوسری پک میں دانش عزیز کو اپنے گروہ کا حصہ بنالیا۔

    سلور کیٹیگری کے تیسرے راؤنڈ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے تجربہ کار سہیل تنویر کو شامل کرلیا، جبکہ کراچی کنگز نے نوجوان وکٹ کیپر بیٹسمین روہیل نذیر کا انتخاب کیا اسلام آباد یونائیٹڈ نے ظفر گوہر کو چنا تو ارشد اقبال کو پشاور زلمی نے پک کیا جبکہ ملتان سلطانز نے رومین پاول کا انتخاب کیا۔

    سلور کیٹیگری کے چوتھے راؤنڈ میں پشاور زلمی نے ثمین گل کا انتخاب کر لیا کوئٹہ گلیڈی ایٹرزنے سلور کیٹیگری کے چوتھے راؤنڈ میں انگلینڈ کے بین ڈکٹ کو شامل کرلیا جبکہ ملتان سلطانز نے عمران خان سینئر، کراچی کنگنز نے محمد عمران جونیئر کو چنا۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سلور کیٹیگری کے پانچویں راؤنڈ میں پہلی پک میں خرم شہزاد اور دوسری پک میں افغانستان کے نوین الحق کا انتخاب کیا، جبکہ پشاور زلمی نے سلور کیٹیگری کی پانچویں راؤنڈ میں کامران اکمل کا انتخاب کیا۔

    لاہور قلندرز نے ایمرجنگ کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ کی پہلی پک میں زمان خان کو چنا اور کراچی کنگز نے پہلی پک میں فیصل اکرم اور دوسری پک میں قاسم اکرم کا انتخاب کیا ایمرجنگ کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ میں ملتان سلطانز نے عباس آفریدی، پشاور زلمی نے سراج الدین، اسلام آباد یونائیٹڈ نے مبشر خان اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے عبدالواحد بنگلزئی کو چنا۔

    ایمرجنگ کیٹیگری کے دوسرے راؤنڈ میں ملتان سلطانز نے امیر عظمت، اسلام آباد یونائیٹڈ نے زیشان ضمیر، پشاور زلمی نے محمد عامر خان، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے عشر قریشی اور لاہور قلندرز نے معاذ خان کو چنا۔

    سپلیمنٹری کیٹیگری کے پہلے راؤنڈ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے افغانستان کے نور احمد کا انتخاب کیا تو کراچی کنگز نے طلحہ احسن کو چنا ملتان سلطانز نے زمبابے کے بلیسنگ مزرابانی کو منتخب کیا تو پشاور زلمی نے آسٹریلیا کے بین کٹنگ کو اپنے اسکواڈ کا حصہ بنالیا اسلام آباد یونائٹڈ نے افغانستان کے رحمان اللہ گرباز کو چنا اور لاہور قلندرز نے انگلینڈ کے سمت پٹیل کا انتخاب کیا۔

    سپلیمنٹری کیٹیگری کے دوسرے راؤنڈ میں پشاور زلمی نے محمد حارث، اسلام آباد یونائیٹڈ نے اطہر محمود کا انتخاب کیا کراچی کنگز نے اپنی پک پر ویسٹ انڈیز کے روماریو شیفرڈ کو چنا جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے احسن علی اور ملتان سلطانز نے احسن علی کا انتخاب کیا لاہور قلندرز نے اس کیٹیگری میں سید فریدون کا انتخاب کیا-

  • سید رفاقت علی گیلانی کے زیر قیادت کشمیری یکجہتی کیلئے ریلی نکالی

    سید رفاقت علی گیلانی کے زیر قیادت کشمیری یکجہتی کیلئے ریلی نکالی

    لاہور 05فروی:سیاسی معاون خصوصی برائے مذہبی امور سید رفاقت علی گیلانی کی قیادت میں لیہ شہر سے آج کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی۔ریلی میں ضلعی انتظامیہ کے افسران ملازمین، دانشوروں،مفکروں اورمختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ا فرادنے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پرانہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار نے ایک بار پھر خطے میں امن کو داؤ پر لگا دیا ہے اور بھارتی اقدام سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مزید خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ سیکولر بھارت کے چہرے پر بدنما داغ ہے اور پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے فوجی جارحیت کے ذریعے مقبوضہ و جموں کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا۔ مودی سرکار نے گھناؤنے اقدامات کرکے جنت نظیر وادی کشمیر کو جہنم بنا دیا ہے اور بھارتی فوج نے کشمیری عوام کو آزادی کے اپنے پیدائشی حق سے باز رکھنے کیلئے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں۔بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے معصوم کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے لیکن بھارت کا ہر حربہ کشمیری عوام کی آواز کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور مودی سرکار کا یہ فیصلہ انسانی حقوق پر کھلم کھلا حملہ ہے۔ انہو ں نے کہا کہ مودی سرکار کا یہ متنازعہ اقدام پاگل پن ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ بھارت نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے انحراف کیا ہے۔ مودی سرکار کو نہتے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا حساب دینا ہوگا۔ عالمی برادری کو اب ہر صورت بیدار ہونا پڑے گا اور بھارت کے متنازعہ اقدام کا نوٹس لینا ہوگا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستانی قوم کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور مشکل کی ہر گھڑی میں کشمیری بہن بھائیوں کا ساتھ دیں گے۔ریلی کے اختتام پر کشمیریوں کی کامیابی اور بھارت کے تسلط سے آزادی کے لئے دعا بھی کی گئی۔

  • بھارت کشمیری جدوجہد کو روک نہیں سکتا۔ قمر  زمان کائرہ

    بھارت کشمیری جدوجہد کو روک نہیں سکتا۔ قمر زمان کائرہ

    5فروری،یوم کشمیر/پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کا بیان
    بھارتی جبر کے خلاف کشمیری حریت جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ لاہور۔ہم حریت قیادت کو تاریخی جدوجہد پر سلام پیش کرتے ہیں۔ظلم زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔بھارت آخرکار شکست سے دو چار ہو گا۔بھارت کشمیری جدوجہد میں رکاوثیں توکھڑی کرسکتا ہے۔لیکن اسے روک نہیں سکتا۔کشمیر میں بھارتی بربریت کو آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے. برطانیہ اور امریکہ میں بھی بھارتی ظلم کے خلاف بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ برطانوی پارلمنٹیرینز نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مزمت کی ہے۔پیپلز پارٹی کا کشمیر کاز کے ساتھ ایک جذباتی رشتہ ہے۔شہید ذولفقار علی بھٹو نےپہلی بار کشمیر پر سودے بازی کو بے نقاب کیا۔شہید بے نظیر بھٹو نے بھی ہر فورم پر کشمیر کی ازادی کیلئے آواز بلند کی۔صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو کشمیر کاز کے ساتھ کھڑے ہیں۔آج پی ڈی ایم مظفرآباد میں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی۔ کا اظہار کرے گی۔قنر زمان کائرہ

  • مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
    محمد عبداللہ کی تحریر

    مقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
    مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
    مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.

  • ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ۔۔۔ نعمان علی ہاشم

    ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ۔۔۔ نعمان علی ہاشم

    1931 سے اس پاکستان کے نام پر کشمیریوں نے جانیں دی ہیں میرے حکام بالا….. جب پاکستان نہیں تھا تب بھی کشمیریوں کے دل میں پاکستان تھا….. پاکستان بننے کے بعد ہر اٹھنے والے جنازے ہر لٹنے والی عزت اور یتیم ہونے والے بچے ہر بے سہارا ماں اور ہر بے کس بوڑھے نے پاکستان کے پرچم کی سربلندی کے لیے سب برداشت کیا.. قائد گئے تو تم سے ایک چپہ بھی نہ لیا گیا. ظلم یہ کیا کہ ایل او سی بنوا دی. ہم نے مصلحت کہہ دیا. ستر سالوں سے تمہاری منہ سے نکلتی گولیوں پر اعتبار کیا. تمہارے چھوٹے موٹے ایڈوینچرز میں ہزاروں کشمیری جان سے گئے املاک تباہ ہوئی. مگر تمہاری ٹویٹس نے خاموش کروا دیا. ہم نے مان لیا. ہمارے بزرگوں نے کہا کہ اقوام متحدہ تمہیں کچھ نہیں دے گا. پر تم نے کہا جی ہم نے سائن کیے ہیں اسی پر فیصلہ ہو گا. ہم بے مان لیا. مجاہدین پر پابندیاں، نظربندیاں، گرفتاریاں اور مقدمات ہوئے ہم نے کہا کہ مشکل حالات میں سٹیٹ کی ساتھ کھڑے ہو جاؤ اللہ خیر کرے گا. تم نے ترانے بنا کر رانجھا راضی کیا اور کشمیریوں کے خون پر ناچ گانا شروع کر دیا. ہم نے مان لیا کہ چلو شاید یہی سفارتی زبان ہے. پوری دنیا میں مستقل مندوب رکھے مشیر بھیجے عیاشیاں کی مگر ہم نے کہا چلو کام تو ہو رہا ہے. میرے کشمیری شیروں کی طرف جانیں دیتے رہے. اور تم گیدڑوں کی طرح اپنی بیرکوں اور سرکاری بنگلوں سے ٹویٹ کرتے رہے. افسوس صد افسوس… ایک لاکھ جانیں جانا، ہزاروں عصمتیں لٹ جانا بچوں کا یتیم ہونا ماؤں کی آہیں سب کے لیے چند ٹویٹس اور گانے ہی تھے. کیا سفارتکاری کا یہ ثمر ہوتا ہے. ہم نے ہر موڑ پر آپکا ساتھ دیا مگر یاد رکھیں محبت کی وجوہات مٹ رہی ہیں، اسلام محفوظ نہ پاکستان گالی نہیں دیتا مگر اپنے گریبان میں جھانکے گا ضرور جانیں دینے والوں کو دہشت گرد کہلوایا تم نے. امن کے لالی پاپ دے کر بیغیرتی کی نیند سلایا تم نے. کشمیر پر ستر سال سیاست سیاست اور سیاست. ابھی بھی وقت ہے اس سے پہلے کشمیری پاکستان کے منکر ہو جائیں ان کی چیخوں سسکیوں آہوں کا حساب لو. ہندو بنیے سے جواب لو. کشمیر بزور شمشیر لو. اعلامیے مذمتیں اور یو این او کے لالی پاپ اب پرانے ہو چکے. تم اپنے بے پناہ چاہنے والوں کو اپنا دشمن بنا لو گے اگر تم نے کشمیر سے غداری کی. کہنے سننے کو بہت کچھ ہے مگر………..