ٓٓکشمیری آج ایک قابض فوج کے خلاف آپ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔جب میں ایک دفعہ اپنے والد سے ملنے جیل میں گیا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ جیل میں کیوں ہیں تو میرے بھائی نے کہا کہ ابو ہوم ورک نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے ان کو انڈیا نے جیل میں ڈال دیا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ایک دفعہ مجھے اپنے ابو کی بہت یاد آرہی تھی تو میں نے جان بوجھ کر ہوم ورک نہیں کیا۔میں نے سوچا کہ شائد اس طریقے سے میں اپنے والد کے ساتھ رہ سکوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا تو میں اپنے والد کے پاس گیا تو میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی کمر سے اپنی شرٹ ہٹائی تو اس پر ٹارچر کے نشان تھے۔میں نے اپنی آنکھیں بند کیں میں نہیں دیکھ سکا تو میں نے اپنے ابو سے کہا یہ کس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔یہ کس نے کیوں آپ کے ساتھ کیا ہے تو ابو نے کہا انڈیا۔۔چھوٹا سا تھا تب میں۔۔کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔جو بھی پاکستان میں ارباب اقتدار ہیں آپ انہیں کہیں وہ کشمیر کے لیے کچھ کریں کیونکہ صرف باتوں سے نو لاکھ فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کو ضرورت ہے تب تک جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بہت ظلم ہوچکاہے۔پچھلے سترسال سے کشمیری لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی قوم اس ایشوکو اٹھائے۔کشمیر میں لوگ کیا سڑکوں یا کسی ڈویلپمنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں نہیں انڈیا سب کچھ دینے کو تیار ہے۔وہ سری نگر کو سمارٹ سٹی بنانے کو تیار ہے۔کشمیر ی کہتے ہیں ہمیں روٹی،کپڑااور مکان نہیں چاہیے ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔یہ بات یاد رکھیں کہ کہ کشمیریوں کا آپ پر ایک قرض ہے اویہ مسئلہ کسی خاص فرد یا خاندان کا نہیں سب پاکستانیوں کا ہے۔۔
یہ الفاظ ایک ایسے نوجوان کے ہیں جس کی والدہ اور والدہ اپنے آپ کو تحریک آزادی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔جن کا جر م یہ ہے وہ آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔یہ احمد بن قاسم کے الفاظ ہیں جو انہوں نے شاہراہ دستور پر ملین مارچ سے خطاب کے موقع پر کہے ایک وقت تھا ان کی والدہ پاکستان کے نام پاکستان کے صاحب اقتدار کے نام کشمیریوں کا پیغام بھیجا کرتی تھیں آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی وجہ سے زندان میں ہیں اس لیے آج خود بیٹا اپنی والدہ کا پیغام پاکستانیوں کو پہنچا رہا تھا۔احمد بن قاسم نے ان مختصرالفاظ میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ان کی مشکلات اور ان کی فریاد کو ہمارے سامنے رکھ دیا،احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو جنہیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا بھی کہاجاتا ہے،چھبیس سال سے اودھم پور کی جیل میں پابندسلاسل ہیں۔انہیں پہلی مرتبہ 1993ء میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا اور پھر بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2003ء میں انہیں تاحیات عمر قید کی سزا سنادی تھی۔یوں ان کی ساری زندگی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزری ہے۔بھارتی حکومت اور فوج نے اس طویل عرصہ میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کیں لیکن غاصب بھارت کا ظلم وجبر انہیں جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1993میں گرفتاری اور6سال کی نظربندی کے بعدعدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیاتھا لیکن بھارتی فورسز نے انہیں 2002ء میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائرپورٹ پر اس وقت دوبارہ گرفتار کرلیا جب وہ لندن میں کشمیر کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جرم میں گرفتاررکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی سے شادی کے بعد ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم سیدہ آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتوکی سزا برقرار رہی۔ مسلم دینی محاذ کے سربراہ بھی ہیں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 26 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے لیکن کوئی ان کی آواز سننے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ احمد نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ان کے والد بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔ذرائع کیمطابق احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھارت کی طرف سے بہت بھاری پیشکش کی گئی۔ ان کو اسلامک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے تعینات کرنے کی پیش کش کی گئی،اس کے علاوہ 2002 کے دوران آئی بی کے چند افسران نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی پیش کش بھی کی تھی۔ اسی طرح انہیں وزارت تعلیم کاقلمدان بھی سنبھالنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔احمد کی والدہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ تحریک آزادی کے لیے آوازبلند کرنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں۔آج بھی سیدہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔انہیں بھی صرف پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے وہ اپنے پروگراموں میں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں۔اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہراتی ہیں تو ان کے گھر کو بھارت کی طرف سے سیل کردیا جاتا ہے۔وہ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی ہیں ان پر غداری مقدمہ کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔وہ برملا دوٹوک کہتی ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ جینا مرنا پسند کرتے ہیں۔احمد جس طرح سے کہہ رہے تھے کہ ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔ان کی والدہ کا یہی جرم تھا وہ کہتی تھیں کہ اسلام کی بنیاد پر،ایمان کی بنیاد پر،قرآن کی بنیاد پر،محمدﷺ کی محبت کی بنیاد پر ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔آج کشمیر میں مسلسل کرفیو کو ۱سی سے زائد دن گزر چکے ہیں ہمیں جاگنا ہوگا۔لوگ کہتے ہیں جلسوں،تقریروں اور پرچم لہرانے سے کیا ہوتا ہے آج وہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،جیلیں کاٹ رہے ہیں،گولیاں کھا رہے ہیں ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کرسکیں۔آسیہ اندرابی کہا کرتی ہیں کہ پاکستان مدینہ ثانی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہی کہتے ہیں آج ریاست مدینہ کی بیٹی کا لخت جگر ہم سے فریاد کررہا ہے کہ کشمیریوں کا آپ پر قرض ہے ہمیں اس قرض کا بدلہ چکانا ہوگا۔
Tag: کشمیر ملین مارچ
ابن قاسم کی فریاد۔۔از قلم خنیس الرحمن

پوری پاکستانی قوم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہے ، کشمیر ملین مارچ سےقائدین کاخطاب
اسلام آباد:کشمیر ملین مارچ کے شرکاءسے وفاقی وزرائ، اراکین پارلیمنٹ، سیاسی ،مذہبی و کشمیر ی جماعتوں کے رہنماﺅں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ملین مارچ کی کامیابی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ پوری پاکستانی قوم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہے۔لاکھوں شہداءکا لہو رنگ لائے گا اور مظلوم کشمیری جلد ان شاءاللہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔
بھارت کشمیریوں کو آزادی دے ،پاکستانی خواتین بھی کشمیریوں پرہونے والے مظالم کے خلاف میدان میں آ چکی ہیں۔ مودی ہمیں دھمکیاں نہ دو ہمیں ہزاروں سال پہلے غزوہ ہند کی نوید ملی ہے،عمران خان صاحب جب آپ اعلان کریں گے تو صرف پاک فوج ہی نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام نکلے گی۔مودی کو پیغام دینا چاہتے ہیں کشمیریوں کو آزادی کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔
ان خیالات کااظہار جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ کی چیئرپرسن عظمیٰ گل،وفاقی وزیر علی محمد خان، سینیٹر طلحہ محمود، کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی، سردار عتیق احمد خان، سردار انور،غلام محمد صفی، جنرل ر امجد شعیب، مولانا فضل الرحمان خلیل،سعد ارسلان صادق،نورین فاروق، ڈاکٹر سعدیہ خان،امتیاز نسیم،سردار پرویز اختر، چوھدری سعید گجر، چوھدری ذوالفقار کمبوہ،زاہد رفیق،مہتاب ملک، راجہ آزاد خان،شہیر سیالوی، ریحان زیب خان، کاشف ظہیر کمبوہ ،سردار عثمان عتیق و دیگر نے کشمیر ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ملین مارچ کا انعقاد جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ، کشمیر یوتھ الائنس اور مسلم کانفرنس کی طرف سے کیا گیاجبکہ پروگرام دیگر سیاسی، سماجی و کشمیری جماعتوں کے کارکنان سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے شرکت کی اور پانچ کلومیٹر طویل کشمیر کا پرچم لہرایا جو کہ ایک عالمی ریکارڈ بن گیا ہے۔
جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ کی چیئرمین عظمیٰ گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میری زندگی کا اہم دن ہے ،کل میری والدہ کی وفات ہوئی، والدہ کی آج تدفین ہے، میں والدہ کی میت چھوڑ کر اپنی کشمیری بہنوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آئی ہوں ،اپنے غم کو کشمیریوں کے غم پر ترجیح دیتی ہوں،خواتین سے امید کرتی ہوں آپ اپنے کی تربیت کریں گی کہ وہ کشمیر کی آزادی کیلئے کردار ادا کریں،مسئلہ کشمیر کو حل ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہوں،انہوں نے کہاکہ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے،تحریک آزادی میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے،مسلم خواتین اپنے بیٹوں بچوں کو قربانی دینا سکھاتی ہیں،کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی،دنیا کا طویل ترین پرچم لہرانے کا مقصد دنیا کی توجہ کشمیر پر مبذول کروانا ہے،عظمیٰ گل کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کشمیر کیلئے مضبوط سٹینڈ لیں،میری والدہ کیلئے خصوصی دعا فرمائیں،کشمیر ملین مارچ میری والدہ کا مشن ہے۔
وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ سری نگر پر ا ن شاءاللہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے،آسیہ اندرابی بہادر خاتون ہیں،نوجوانوں کا سوشل میڈیا پر کردار مثالی ہے،قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔مسلمان موت سے نہیں ڈرتا، مسلمان کیلئے بہترین موت اپنے ملک کیلئے قربان ہونا ہے۔علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ مودی ہمیں دھمکیاں نہ دو ہمیں ہزاروں سال پہلے غزوہ ہند کی نوید ملی ہے،عمران خان صاحب جب آپ اعلان کریں گے تو صرف پاک فوج ہی نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام نکلے گی،مودی تم سرینگر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہتے ہے تو ہمارے قائد کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا،علی گیلانی کا نعرہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے،برہان جیسے نوجوان پاکستان کے پرچم میں لپٹ کر دفن ہو رہے ہیں۔
جمعیت علماءاسلام ف کے سینیٹر طلحہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ٹوٹے گا بھارت کے ٹکڑے ہوجائینگے ،بھارت کشمیر کو جھکا نہیں سکے گا،مقبوضہ کشمیر میں اڑھائی ماہ کرفیو کو ہوگئے دنیا سو رہی ہے ، کشمیر بہت جلد آزاد ہوگا، بھارت کے تمام عزائم خاک میں مل جائیں گے۔تاریخی پروگرام کے انعقاد پر عظمیٰ گل صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،دنیا کا طویل ترین کشمیر کا پرچم اٹھانا دنیا کی توجہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر مبذول کروانا ہے،طلحہ محمود نے مزید کہا کہ مشرقی تیمور کا مسئلہ تو حل ہو گیامسلمانوں کے مسئلے کو دہشتگردی کو جوڑنا عالمی ایجنڈا ہے،ہمیں عالمی دنیا کے اس پلان کو سمجھنے کی ضرورت ہے،پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔
کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹرسیدمجاہد گیلانی نے کہا کہ کشمیر ملین مارچ کی کامیابی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ پوری پاکستانی قوم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہے۔لاکھوں شہداءکا لہو رنگ لائے گا اور مظلوم کشمیری جلد ان شاءاللہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔ بین الاقوامی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور ظلم و بربریت کا نوٹس لیں۔ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق ملنا چاہیے۔ اگر کشمیر کے لوگ پاکستان کے پرچم کو سینے پر لگا کر جانیں قربان کر رہے ہیں اور سبز ہلالی پرچم میں ہیں دفن ہو رہے ہیں تو دنیا کا طویل ترین کشمیر کا پرچم لہرا کر اہل کشمیر سے محبت کا اظہارکیا گیا ہے۔کشمیر ملین مارچ میں تمام طبقات کو ناصرف شامل کیا گیا بلکہ طبقات کی بنیاد پر پانچ مختلف اسٹیج بنائے گئے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کشمیر ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام آباد سے نہ صرف کشمیریوں بلکہ عالمی دنیا کو بھی پیغام گیا ہے کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے،کشمیر کو بانی پاکستا ن نے شہہ رگ تھا اس شہہ روگ کو دشمن کے پنجے سے چھڑانے کی ضرورت ہے، سردار عتیق نے مزید کہا کہ بھارت کشمیر کے ساتھ ساتھ ایل او سی کی بھی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے، ہم بھارت کو باور کرواناچاہتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ پاک فوج کے شابہ بشانہ بھارت سے ٹکرانے کو تیار ہے۔ہم کشمیر کے آر پار ہونیوالے تمام مظالم کا انتقام مودی سرکار سے لیں گے۔
سابق صدر آزاد کشمیرسردار انور نے کہا کہ آج مجھے خوشی ہوئی کہ نوجوانان پاکستان نے ایک تاریخ رقم کردی ہے اور ثابت کیا کہ آپ نے اقبال کے شاہین بن کر ستاروں پر کمند ڈالی ہے ،آج جو کام آپ نے کیا ہے اس پر ر±ک نہیں جانا اس سے آگے اور بھی بہت سے کام ہیں،ہم جب ایسا کوئی ایونٹ کرتے ہیں تو کشمیریوں کے مورال بڑھتا ہے ،مودی کو پیغام دینا چاہتے ہیں ہم جھنڈے کے ساتھ ساتھ ڈنڈا بھی استعمال کرنا جانتے ہیں
حریت رہنما غلام محمد صفی نے کہا کہ ہم پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اقدام کو سراہتے ہیں، ایسے اقدامات سے کشمیریوں کو حوصلہ ملتا ہے۔ کشمیری پاکستان کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں ،سات دہائیاں گزر چکیں کشمیری میدان میں ہیں اور استحکام پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دنیا بھی کشمیریوں کی آواز اٹھائے۔
دختران ملت مقبوضہ کشمیر کی چیئرپرسن سیدہ آسیہ اندرابی کے صاحبزادے احمد بن قاسم نے کشمیر ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہندوستان کی غلامی ہرگز منظور نہیں، کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، مجھے اپنی والدہ سے بات کرنے کی اجازت نہیں۔میری والدہ پچھلے تین سال سے قید میں ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں،کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔
تحریک انصاف آزادکشمیر کی رہنما ڈاکٹر سعدیہ خان نے کہا کہ انیس سو سینتالیس میں اکثریتی آبادی ہونے کے سبب کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا،ہندو بنیا نے کبھی اپنے معاہدوں کی پاسداری نہیں کی، ہندوستان میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جاتا ہے، کشمیری عوام بھارت سے آزادی چاہتے ہیں، پاکستان کو عملی اقدامات کرنے ہونگے۔
رکن قومی اسمبلی و ممبر کشمیر کمیٹی نورین فاروق، امتیاز نسیم،سردار پرویز اختر، چوھدری سعید گجر، چوھدری ذوالفقار کمبوہ،زاہد رفیق،مہتاب ملک، راجہ آزاد خان،شہیر سیالوی، ریحان زیب خان، کاشف ظہیر کمبوہ ،سردار عثمان عتیق و دیگر نے کہاکہ کشمیر ملین مارچ سے مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو حوصلہ ملا ہے جو قربانیاں دے رہے ہیں، کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ سردار ابراہیم کے گھر میں کیا گیا ،کشمیر میں وہی حالات ہیں جو 1947 میں تھے اس وقت ڈوگرہ راج تھا آج مودی راج ہے ،کشمیری عوام کسی صورت بھارت کی غلامی قبول نہیں کریں گے ۔

کشمیر ملین مارچ:لاکھوں افراد نے 5 کلومیٹر طویل کشمیرکا پرچم لہراکرعالمی ریکارڈ قائم دیا
اسلام آباد:کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے اسلام آباد میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امڈ آیا۔کشمیر ملین مارچ کے دوران لاکھوں افراد نے پانچ کلومیٹرطویل کشمیر کا پرچم لہرا کر عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ اور کشمیر یوتھ الائنس کے زیر اہتمام ہونے والے اس تاریخی اور منفرد نوعیت کے مارچ میں جڑواں شہروں اور گردونواح سے آنے والے عوام نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ اس موقع پروفاقی دارالحکومت کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتا رہا۔
پانچ کلومیٹر کا طویل ترین کشمیر کا پرچم ڈی چوک سے ایف نائن تک لہرایا گیا،ملین مارچ کے دوران شرکا میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔جڑواں شہروں کی عوام مظلوم کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلی تو عوام کابہت بڑا جم غفیر دیکھنے میں آیا۔ شہر بھر سے خواتین، تاجر، طلبا ،علما، وکلا، سمیت تمام تر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے پانچ کلو میٹر طویل ترین کشمیری پرچم لہرا کر دنیا کو بتا دیا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی،
جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ کی چیئرمین ،جنرل حمید گل مرحوم کی بیٹی عظمیٰ گل اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کی قیادت میں کشمیر ملین مارچ میںبڑے قافلوں نے شرکت کی۔ کشمیر ملین کا مارچ کا آغاز دن ڈھائی بجے ہونا تھا تا ہم شہری ایک بجے سے ہی ڈی چوک اور دوسرے اسٹیج پر پہنچنا شروع ہو گئے۔ شرکاءمیں کشمیر کے حوالہ سے زبردست جوش و جذبہ دیکھنے میں آیا۔
کشمیر ملین مارچ کے شرکاءنے پرچم لہرانے کا آغاز ڈی چوک سے کیاگیا۔ ڈی چوک سے ایف نائن پارک تک پانچ سٹیج بنائے گئے تھے۔ ڈی چوک پر بنائے گئے سٹیج پر جڑواں شہروں سے خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی، خواتین کے سٹیج پر اراکین اسمبلی اورانسانی حقوق کی سرگرم خواتین رہنماﺅں نے خطابات کیے۔دوسرا سٹیج بلیو ایریا کے قریب بنایا گیا جس پر شہر بھر سے کاروباری لوگ، تاجر،یونینز،مزدور نمائندے شریک تھے۔تیسر ا سٹیج طلبا کا تھا ،چوتھا سٹیج سینٹورس مال کے قریب بنایا گیا تھا جس میں حریت رہنماﺅں سمیت کشمیری قیادت شریک تھی۔پانچویں اور آخری سٹیج پرسول سوسائٹی، یوتھ تنظیموں اور اقلیتی برادری کے نمائندگان شریک تھے،پانچوں سٹیجوں کے شرکاءکشمیریوں کے حق میں نعرے لگاتے رہے اور خطابات بھی کرتے رہے۔کشمیر ملین مارچ میں ڈی چوک پر خواتین کے اسٹیج پر سب سے پہلے جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ کی چیئرمین عظمیٰ گل اورکشمیر کمیٹی کی رکن اور ممبر قومی اسمبلی نورین فاروق پہنچیں۔
اسی طرح چیئرمین کشمیر یوتھ الائنس ارسلان صادق، صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی سمیت ہندوکمیونٹی کے نوجوان راہنما اور فاٹا یوتھ کے راہنما بھی ابتداءمیں اسٹیج پر پہنچے۔ مسلم کانفرنس آزاد کشمیر یوتھ کے صدر سردار عثمان عتیق، سٹیٹ یوتھ کے صدر شہیر سیالوی ہزاروں نوجوانوں کے ہمراہ پنڈال پہنچے۔شرکاءکے قافلوں کا بھرپور نعروں سے استقبال کیا جاتا رہا۔ مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عثمان عتیق ہزاروں افراد کے ساتھ سٹیج 5 والے پنڈال میں پہنچے۔
