Tag: کشمیر
-

کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد
ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔
ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟
کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟
یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟
یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟
اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟
کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔
لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔
کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔
اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔
لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔
سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔
اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔
خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔
یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟
معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔
میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔
ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔
ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔
کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔
کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔
سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔
رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ
"پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”
مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ
"کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”
ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ
"حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”
اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ
"ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”
اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ
"اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔
سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔
اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ
"اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”
سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔
کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔
ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔
اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔
میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ
"ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ
"بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔
-

بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!
کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …
گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔
گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …
۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ
۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟
. پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟
۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟
۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟
آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.comیوٹیوب چینل سکرائب کریں
https://www.youtube.com/c/superteamks
فیس بک پروفائل
https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9
ٹویٹر پر فالو کریں
Tweets by naveedsheikh123 -

مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد
کشمیر بانی پاکستان کے الفاظ میں پاکستان کی شہ رگ، اور ہرگز کوئی جذباتی جملہ نہیں بلکہ زمینی حقائق اس کے ناقابل تردید شواھد فراہم کررہے ہیں۔ عرصہ ایک صدی سے بالترتیب ڈوگرہ اورہندو غاصبوں کے خلاف کشمیری نبرد آزما ہیں یعنی تقسیم ہندوسان اور پاکستان بننے سے بھی پہلے، 19 جون 1947 کو ہی ریاست جموں و کشمیر میں الحاق پاکستان کی قراداد پیش ہوکر منظور ہوچکی تھی، بعد ازاں دھوکے بازی سے بھارت سرکار اس پر قابض ہوئی اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ بڑھنے پر معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا جہاں ابھی تک حل طلب ہے۔ بھارت میں نریندرا مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت قائم رکھنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا۔ یوں دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا اب مسئلہ کشمیر حل ہوگیا اور بھارت نے کشمیر کو مستقل اپنا حصہ بنالیا ہے۔ یہ سراسر بے وقوفی تھی جس کی بھارت ہی میں موجود بہت سے صاحب عقل افراد نے بھی مخالفت کی۔ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور پاکستان اس کا باقاعدہ فریق ہے اس لیے بھارت تنہا اس کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا لیکن یہ بات پاکستان میں بہت سے لوگوں کو سمجھانی بہت مشکل ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے پر پاکستان میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں سامنے آنے لگیں۔ ان میں اکثریت اس ملک سے نہایت مخلص تھے۔ ماسوائے چند ایک کے جو صرف یہی راگ الاپتے رہے کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے صاحب الرائے اور لکھنے والے احباب مضطرب تھے کہ بھارت نے اس قدر بڑاقدم اٹھا لیا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ جذبہ حب الوطنی اور کشمیریوں سے محبت ان کے خون کھولائےدیتی تھی اور وہ بار بار شکوہ کناں تھے۔ بظاہر ہماری طرف سےایک خاموشی اور رسمی مذمتوں کے سوا کچھ نا تھا۔ کردیں گے، ہوگا، کیا جائیگا، یعنی مسقبل کے صیغے کی گردان تھی جو حکومتی حلقوں کی طرف سے جاری تھی۔ لیکن ماضی میں کچھ تلخ یادوں کی بدولت ان دعووں پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ اس لیے بہت سے ہمارے احباب سوال اٹھانے پر حق بجانب تھے۔ اس پر انہیں الزامات کا بھی نشانہ بنیا گیا جو سراسر بے وقوفی تھی لیکن ایسا بھی نہیں کہ کشمیر پر پاکستان اس دفعہ روایتی مذمت ہی کررہا تھا تاہم یاد رہے کہ اگر اپنی سٹریٹجی فیس بک پر ہی عام کرنی ہے تو پھر دشمن سے تو لڑلیے ہم، البتہ اپنی افواج اور اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن یہاں تو ابراھیم علیہ السلام جیسے پیغمبر بھی کہہ اٹھے تھے کہ اللہ ایمان تو ہے لیکن آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ حال ہمارا ہے کہ اپنے اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن ہمیں کوئی ایسے آثار بھی تو نظر آئیں کہ کچھ ہورہا ہے۔ اب اگرچہ معمولی لیکن بھر بھی کچھ آثار نظر آنے لگے ہیں کہ پاکستان اس بار معاملے کو سنجیدگی سے لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ایک مثبت خبر ہے۔ اگرچہ اس اجلاس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں تاہم یہ اس بات کی یقین دہانی ضرور ہے کہ پاکستان عالمی دنیا میں تنہا نہیں ہے۔ لیکن ایک تلخ حقیقت اور بھی کہ مسئلہ کشمیر اس بار بھی ہم دنیا میں نمایاں نہیں کرسکے ہیں بلکہ یہ بھارت ہے جس نے اس قدر بڑا قدم اٹھایا ہے کہ دنیا بولنے پر مجبور ہے۔ پاکستان نے ابھی معمولی سنجیدگی دکھائی ہے اور بھارت سرکارکے ہرکارے نیوکلیائی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ حقیقت میں اس وقت مودی سرکار کی اپنے ہی پاؤں پر ماری گئی کلہاڑی کی بدولت بھارت سخت مشکل میں ہے۔ بھارت مخالف عالمی رائے عامہ کی وجہ سے اضطراب میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا کہ یہ جدید ریاست کا دور ہے اور یہاں میکاؤلی کا فلسفہ ہی چلتا ہے۔ ایک ارب انسانوں کی منڈی سے محض انسانی حقوق کی خاطر کچھ سخت معاملہ کرنے آج کل کا دستور نہیں ہے۔ لہذا پاکستان کو نہایت سنجیدگی اور متانت سے اپنے کارڈ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا شاید یہ آخری موقع ہے۔ لیکن ایک گزارش میری ہم وطن دوستوں سے جو سوشل میڈیا پر لکھتے بھی ہیں کہ ایک دوسرے پر فتوے مت بانٹو اور اختلاف کرنے کا ہنر سیکھ لو، پاکستان کے کردار سے اختلاف یا سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اوراس کی وجہ صرف کردار میں کمی ہی نہیں آپ کی معلومات کی کمی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری پاکستان سے ہرگز ناراض نہیں ہے اور آج بھی سبزہلالی پرچم ہی تھام کر کھڑے ہیں۔اس لیے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنے والوں کے پشتیبان بنیں نا کہ آپس میں محاذ آراء ہوں ، اللہ ہمارا حامی ناصر ہو اور جلد کشمیریوں کو آزادی کی نعمت نصیب فرمائے۔ آمین

-

پاکستانی بچوں کا جوش و خروش عروج پر ممبئی اور دلی کو بھی پاکستان کا حصہ بنانے کا ٹھان لیا.
https://youtu.be/2MiRHXsdWDk
-

مودی خطے کیلئے خطرہ،بھارت میں بھی مودی کی پالیسیوں کو ناپسند کیا جانے لگا:شاہ محمود قریشی
اسلام آباد:سلامتی کونسل کی طرف سے کشمیر کے معاملے پر اجلاس بلانے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں سفارتی میدان میں بہت بڑی کامیابی ملی ہے، سیکورٹی کونسل کے اجلاس بلانے کی خبر کے بعد بھارت شدید اضطراب میں ہے ، بھارت سیکورٹی کونسل اجلاس کی مخالفت کر رہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمیں نیک نیتی سے اپنا مقدمہ سیکورٹی کونسل میں پیش کرنا اور لڑنا ہے، ہمارا راستہ امن کا راستہ ہے،نریندر مودی خطے کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے، بھارت اس وقت بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے ، بھارت میں بہت بڑا طبقہ مودی کی سوچ سے متنفر دکھائی دے رہا ہے، کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے ۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو جیل خانہ میں تبدیل کردیا ہے، فروری میں مودی نے الیکشن جیتنے کے لیے کشیدگی کو ہوا دی ، کروڑوں مسلمان او آئی سی کی طرف دیکھ رہے ہیں، بھارت میں اشیائے خورونوش کی شدید قلت ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر مکمل بلیک آؤٹ ہے،پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
-

بھارت کوشکست: 50 سال بعد مسئلہ کشمیر زندہ و تابندہ ، کہاں شکست ہوئی جانیئے اس رپورٹ میں
واشنگٹن :بھارت کو مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے عالمی فورم پر آنا ہی پڑےگا. عالمی سطح پر بھارت کو بڑی سفارتی کا شکست کرنا پڑا ہے اور کشمیر پر بھارتی قبضے کا معاملہ 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے اور مقبوضہ وادی میں کرفیو کے بعد پیدا ہونے کشیدہ صورت حال پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا۔اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر اجلاس جمعے کو طلب کر لیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر جوانا رونیکا نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں بند دروازے کے پیچھے 16 اگست کو زیر بحث آئے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ہمیشہ بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہا۔



