Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

    مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔

    گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
    ۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
    ۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
    ۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
    ۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
    ۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟

    ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
    ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
    ۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
    ۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
    ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
    ۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔

    کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    . پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

    ۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟

    ۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟

    آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد

    مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد

    کشمیر بانی پاکستان کے الفاظ میں پاکستان کی شہ رگ، اور ہرگز کوئی جذباتی جملہ نہیں بلکہ زمینی حقائق اس کے ناقابل تردید شواھد فراہم کررہے ہیں۔ عرصہ ایک صدی سے بالترتیب ڈوگرہ اورہندو غاصبوں کے خلاف کشمیری نبرد آزما ہیں یعنی تقسیم ہندوسان اور پاکستان بننے سے بھی پہلے، 19 جون 1947 کو ہی ریاست جموں و کشمیر میں الحاق پاکستان کی قراداد پیش ہوکر منظور ہوچکی تھی، بعد ازاں دھوکے بازی سے بھارت سرکار اس پر قابض ہوئی اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ بڑھنے پر معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا جہاں ابھی تک حل طلب ہے۔ بھارت میں نریندرا مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت قائم رکھنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا۔ یوں دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا اب مسئلہ کشمیر حل ہوگیا اور بھارت نے کشمیر کو مستقل اپنا حصہ بنالیا ہے۔ یہ سراسر بے وقوفی تھی جس کی بھارت ہی میں موجود بہت سے صاحب عقل افراد نے بھی مخالفت کی۔ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور پاکستان اس کا باقاعدہ فریق ہے اس لیے بھارت تنہا اس کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا لیکن یہ بات پاکستان میں بہت سے لوگوں کو سمجھانی بہت مشکل ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے پر پاکستان میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں سامنے آنے لگیں۔ ان میں اکثریت اس ملک سے نہایت مخلص تھے۔ ماسوائے چند ایک کے جو صرف یہی راگ الاپتے رہے کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے صاحب الرائے اور لکھنے والے احباب مضطرب تھے کہ بھارت نے اس قدر بڑاقدم اٹھا لیا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ جذبہ حب الوطنی اور کشمیریوں سے محبت ان کے خون کھولائےدیتی تھی اور وہ بار بار شکوہ کناں تھے۔ بظاہر ہماری طرف سےایک خاموشی اور رسمی مذمتوں کے سوا کچھ نا تھا۔ کردیں گے، ہوگا، کیا جائیگا، یعنی مسقبل کے صیغے کی گردان تھی جو حکومتی حلقوں کی طرف سے جاری تھی۔ لیکن ماضی میں کچھ تلخ یادوں کی بدولت ان دعووں پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ اس لیے بہت سے ہمارے احباب سوال اٹھانے پر حق بجانب تھے۔ اس پر انہیں الزامات کا بھی نشانہ بنیا گیا جو سراسر بے وقوفی تھی لیکن ایسا بھی نہیں کہ کشمیر پر پاکستان اس دفعہ روایتی مذمت ہی کررہا تھا تاہم یاد رہے کہ اگر اپنی سٹریٹجی فیس بک پر ہی عام کرنی ہے تو پھر دشمن سے تو لڑلیے ہم، البتہ اپنی افواج اور اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن یہاں تو ابراھیم علیہ السلام جیسے پیغمبر بھی کہہ اٹھے تھے کہ اللہ ایمان تو ہے لیکن آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ حال ہمارا ہے کہ اپنے اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن ہمیں کوئی ایسے آثار بھی تو نظر آئیں کہ کچھ ہورہا ہے۔ اب اگرچہ معمولی لیکن بھر بھی کچھ آثار نظر آنے لگے ہیں کہ پاکستان اس بار معاملے کو سنجیدگی سے لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ایک مثبت خبر ہے۔ اگرچہ اس اجلاس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں تاہم یہ اس بات کی یقین دہانی ضرور ہے کہ پاکستان عالمی دنیا میں تنہا نہیں ہے۔ لیکن ایک تلخ حقیقت اور بھی کہ مسئلہ کشمیر اس بار بھی ہم دنیا میں نمایاں نہیں کرسکے ہیں بلکہ یہ بھارت ہے جس نے اس قدر بڑا قدم اٹھایا ہے کہ دنیا بولنے پر مجبور ہے۔ پاکستان نے ابھی معمولی سنجیدگی دکھائی ہے اور بھارت سرکارکے ہرکارے نیوکلیائی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ حقیقت میں اس وقت مودی سرکار کی اپنے ہی پاؤں پر ماری گئی کلہاڑی کی بدولت بھارت سخت مشکل میں ہے۔ بھارت مخالف عالمی رائے عامہ کی وجہ سے اضطراب میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا کہ یہ جدید ریاست کا دور ہے اور یہاں میکاؤلی کا فلسفہ ہی چلتا ہے۔ ایک ارب انسانوں کی منڈی سے محض انسانی حقوق کی خاطر کچھ سخت معاملہ کرنے آج کل کا دستور نہیں ہے۔ لہذا پاکستان کو نہایت سنجیدگی اور متانت سے اپنے کارڈ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا شاید یہ آخری موقع ہے۔ لیکن ایک گزارش میری ہم وطن دوستوں سے جو سوشل میڈیا پر لکھتے بھی ہیں کہ ایک دوسرے پر فتوے مت بانٹو اور اختلاف کرنے کا ہنر سیکھ لو، پاکستان کے کردار سے اختلاف یا سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اوراس کی وجہ صرف کردار میں کمی ہی نہیں آپ کی معلومات کی کمی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری پاکستان سے ہرگز ناراض نہیں ہے اور آج بھی سبزہلالی پرچم ہی تھام کر کھڑے ہیں۔اس لیے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنے والوں کے پشتیبان بنیں نا کہ آپس میں محاذ آراء ہوں ، اللہ ہمارا حامی ناصر ہو اور جلد کشمیریوں کو آزادی کی نعمت نصیب فرمائے۔ آمین

  • مودی خطے کیلئے خطرہ،بھارت میں بھی مودی کی پالیسیوں کو ناپسند کیا جانے لگا:شاہ محمود قریشی

    مودی خطے کیلئے خطرہ،بھارت میں بھی مودی کی پالیسیوں کو ناپسند کیا جانے لگا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد:سلامتی کونسل کی طرف سے کشمیر کے معاملے پر اجلاس بلانے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں سفارتی میدان میں بہت بڑی کامیابی ملی ہے، سیکورٹی کونسل کے اجلاس بلانے کی خبر کے بعد بھارت شدید اضطراب میں ہے ، بھارت سیکورٹی کونسل اجلاس کی مخالفت کر رہا ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمیں نیک نیتی سے اپنا مقدمہ سیکورٹی کونسل میں پیش کرنا اور لڑنا ہے، ہمارا راستہ امن کا راستہ ہے،نریندر مودی خطے کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے، بھارت اس وقت بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے ، بھارت میں بہت بڑا طبقہ مودی کی سوچ سے متنفر دکھائی دے رہا ہے، کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے ۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو جیل خانہ میں تبدیل کردیا ہے، فروری میں مودی نے الیکشن جیتنے کے لیے کشیدگی کو ہوا دی ، کروڑوں مسلمان او آئی سی کی طرف دیکھ رہے ہیں، بھارت میں اشیائے خورونوش کی شدید قلت ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر مکمل بلیک آؤٹ ہے،پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

  • بھارت کوشکست: 50 سال بعد مسئلہ کشمیر زندہ و تابندہ ، کہاں شکست ہوئی جانیئے اس رپورٹ میں

    بھارت کوشکست: 50 سال بعد مسئلہ کشمیر زندہ و تابندہ ، کہاں شکست ہوئی جانیئے اس رپورٹ میں

    واشنگٹن :بھارت کو مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے عالمی فورم پر آنا ہی پڑےگا. عالمی سطح پر بھارت کو بڑی سفارتی کا شکست کرنا پڑا ہے اور کشمیر پر بھارتی قبضے کا معاملہ 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچ گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے اور مقبوضہ وادی میں کرفیو کے بعد پیدا ہونے کشیدہ صورت حال پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا۔اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر اجلاس جمعے کو طلب کر لیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر جوانا رونیکا نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں بند دروازے کے پیچھے 16 اگست کو زیر بحث آئے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ہمیشہ بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہا۔