یوں تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندوستان کئی مرتبہ پاکستان سے منہ کی کھا چکا مگر پھر وہی اب کی مار کے دکھا کے مصداق پھر نئے سرے سے مار کھانے کو تیار رہتا ہے
ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ کارگل اور پھر 27 فروی 2019 کے بعد اب سب سے بڑی ذلت انڈیا کی مقبوضہ وادی کشمیر میں بننے جا رہی ہے
اس جنوری میں پلوامہ میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملے کے بعد 20 کمپنی فوج کا اضافہ کیا گیا حریت راہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا ساری حریت قیادت ابھی بھی جیلوں میں قید ہے مودی سرکار نے سوچا تھا کہ اب فوج میں اضافہ کرکے حریت قیادت کو جیل میں ڈال کے وہ آزادی کی تحریک کو ڈبا لے گا مگر نتجہ میں ہندوستانی فوج میں خودکشیاں بڑھیں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے مجاھدین نے بھی اپنے حملے انڈین فوج پر تیز کر دیئے نیجہ میں بھارتی فوج کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا تو دوسری جانب برسر پیکار مسلح فریڈم فائٹرز کی شہادتوں میں بھی اضافہ ہوا اس وقت تقریبا ریاض نیکو کے علاوہ سارے ٹاپ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں جسے شاید ہندوستانی فوج اپنی فتح سمجھ رہی ہے مگر وہ بھول گئے کہ برہان مظفر وانی بھی تو ایک غیر مسلح فریڈم فائٹر تھا اور ایک شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھا پھر پھر آخر کیا ہوا کہ وہ غیر مسلح سے مسلح ہو کر ایسا لڑا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونگ گیا دنیا خاص طور پر ہندوستانی فوج برہان وانی کی دلیری کا برملا اعتراف کرچکی ہے
اب اگر اس بنیاد پر انڈیا فوج میں اضافہ کرے کہ سارے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں اور وہ فوجی اضافے سے غیر مسلح کشمیری عوام کے دلوں میں اپنی ڈھاک بٹھا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے انڈیا ابتک کتنی بار فوجی اضافہ کر چکا سیاحت کے بہانے ہندءوں کو کشمیر میں بسا چکا کچھ دیگر تھوڑی بہت سہولیات کا لالچ دے کر کشمیریوں کے دل جیتنے کی کوشش کر چکا مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ کشمیریوں کے نزدیک آزادی کے سوا دوسرا راستہ ہے ہی نہیں لہذہ انڈیا فوجی اضافہ کرنے کی بجائے کشمیریوں کو ان کا حق حق آزادی اور کشمیر سے فوجیں نکال کر فوج پر صرف ہونے والے پیسے سے اپنی عوام کو سہولیات دے جو جو عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے
Tag: کشمیر
-

مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری
-
کیا ہندوستان خطے کا امن تہہ و بالا کرنے جا رہا ہے — فہیم شاکر
2 اگست 2019 دوپہر 1 بجکر 3 منٹ ہوئے ہیں
جیو نیوز کے ٹویٹر ہینڈلر سے ٹویٹ کی جاتی ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ معاملات بگڑتے جا رہے ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں
دوسری طرف انڈیا ٹوڈے نے خبر لگائی کہ 28 ہزار فوجی وادی کشمیر کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ہفتے عشرے قبل 10 ہزار فوجی روانہ ہوئے تھے
تیسری طرف ANI نے خبر لگائی کہ موجودہ حالات کی سنگینی کے تناظر میں حکومت نے بھارتی فضائیہ اور آرمی کو ہائی آپریشن الرٹ موڈ پر کر دیا ہے اسی طرح 2 اگست 2019 دوپہر 3 بجکر 13 منٹ پر ANI ٹویٹ کرتا ہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی تیارکردہ اینٹی پرسنل مائن (فرد شکن بارودی سرنگ) سیکیورٹی فورسز نے برآمد کر لی ہے اور اس کے ذریعے بھارتی میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے جبکہ دنیا واضح طور پر جانتی ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے
یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ انڈیا نے کہانی پہلے سے ہی لکھ رکھی تھی اب اس پر عمل ہو رہا ہے
ورنہ کشمیریوں کو یہ نہ کہا جاتا کہ مہینے بھر کا راشن جمع کر لیں
انڈیا کے عزائم صرف خطرناک ہی نہیں ہیں بات اس سے بہت آگے جا چکی ہے
مقبوضہ وادی میں ایک بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی آمد اور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے تحاشہ گولہ باری تاکہ پاکستان کو اشتعال دلایا جا سکے اور شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا کہ حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں یہ سب کسی بڑے حادثے کی طرف اشارہ دے رہے ہیں
ہندوستان لائن آف کنٹرول پر پاکستانی علاقوں میں گولہ باری کر کے عام آبادی کو نشانہ بناتا ہے جس سے افراد شہید اور زخمی ہوتے ہیں جبکہ پاکستان ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ بارڈر کے دونوں اطراف مسلمان آباد ہیں اور انڈیا اسی ایک بات کا بے تحاشہ فائدہ اٹھاتا ہے
کچھ عرصہ قبل ہندوستانی معروف کرکٹر دھونی کی مقبوضہ کشمیر آمد اور فوج میں ایک ماہ کے لیے خدمات انجام دینے کی خبریں بھی زیر گردش رہیں انڈیا سے کچھ عبث نہیں کہ وہ دھونی کو مروا کر الزام پاکستان پر دھر دے اور بڑی جنگ چھیڑ دے
اب آئیے پاکستان کی طرف
کوئٹہ بم دھماکہ،طیارہ حادثہ، افغان بارڈر پر شہادتیں، بارشوں سے ہلاکتیں، سیلابی صورتحال، وادی نیلم بھارتی شیلنگ، اور آج پشین دھماکہ جس میں 10 افراد کی شہادت کی اطلاع،
اور دوسری طرف پاک فوج پاکستان کے اندر سیلابی صورتحال سے نبرد آزما جبکہ سیاہ ست دان ملکی سپریم اداروں پر لاف زنی میں مصروف، کسی کو احساس ہی نہیں دشمن پر تول چکے ہیں، اور پاکستان کی سلامتی اس وقت شدید خطرے میں ہے، ملکی دفاع صرف فوج ہی کا کام نہیں، عوام کو ہر حال میں فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ہوگا سیاہ ست دانوں کی بات البتہ الگ ہے وہ تو کبھی پاکستان سے مخلص رہے ہی نہیں
لیکن اس کے باوجود ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اگر انہیں کسی بھی طریقے سے نقصان پہنچا یا قتل کرنے کی کوشش کامیاب ہو گئی تو ان کی پارٹی کے افراد ریاست کے خلاف بغاوت کر کے دشمنوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دے سکتے ہیں اور یہی خواہش پاکستان دشمنوں کی ہے اور یہی سیاہ ست دان چاہتے ہیں،. جیسے کہ مریم نواز آئے روز ریاست کو للکارتی اور طیش دلاتی ہے لیکن ریاست صرف برداشت کرنے کی اصول پر کاربند ہے ورنہ مریم نواز نے اپنی طرف سے کمی کوئی نہیں چھوڑی، اور حکومتِ وقت پر الزامات کی بوچھاڑ کر اپنے پارٹی کارکنان کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہی کہ پاکستان کے تمام کردہ و ناکردہ جرائم، موجودہ و ماضی کے تمام مسائل کی جڑ خان ہی ہے تاکہ اگر خدانخواستہ مریم نواز کو کچھ ہوتا ہے (جس کے چانسز 70 فیصد موجود ہیں) تو پارٹی کارکنان خان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیں اور اس ساری صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچے گا یہ ہم سب جانتے ہیں تو یہ بالکل واضح ہے مریم نواز دانستہ کن قوتوں کی آلہ کار بن چکی ہے؟ اور وہ یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے کر رہی ہے
اور قوم کو بغاوت پر اکسانے والے بالکل تیار بیٹھے ہیں
میں نے اپنی گذشتہ تحاریر میں اس بات کس شُدمُد سے اظہار کیا تھا کہ مودی سرکار پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرے گی تو کچھ دوستوں نے اس بات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب انڈو پاک جنگ کا لالی پاپ دینا بند کیا جائے اور پاکستان ہندوستان مُڈبھیڑ کا چورن بیچنا بند ہونا چاہیے لیکن انہی دوستوں کی خدمت میں آج ساری صورتحال پیش کر کے یہ کہہ رہا ہوں کہ دیکھ لیجیے ہماری کہی بات پوری ہو رہی ہے
حالانکہ ہم نے کسی قدر کم خطرے کا اظہار کیا تھا لیکن موجودہ خطرہ بیان کردہ سے 10x زیادہ ہے
کیونکہ ہندوستان نے جس انداز سے مقبوضہ وادی میں موجود سیاحوں کو فوری وادی سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان یا تو مقبوضہ وادی کو چاروں طرف سے گھیر کے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے جا رہا ہے یا پھر پاکستان کے ساتھ کوئی نئی پنجہ آزمائی کا ارادہ رکھتا ہے لیکن کیا پاکستان بے خبر ہے؟
سوشل میڈیا کے شیروں کو خبر ہو کہ پاکستان بالکل تیار کھڑا ہے اور پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں جواب دینے کی پوزیشن میں ہے
لیکن کیا ہم سوشل میڈیا کے محاذ پر پاکستان اور مسلح افواج کی پشتیبانی کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم. اس محاذ پر جنگ لڑنے کو تیار ہیں؟
یاد رکھیے اب نعروں سے کام چلنے والا نہیں، اب دشمن پراپیگینڈہ تیز کرے گا اور من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلائے گا تاکہ وطن عزیز کے اندر انتشار پھیلے لیکن آپ ہی وہ تازہ دم دستہ ہیں جنہوں نے ملک و قوم کو اصل حالات سے باخبر رکھنا ہے اور دشمن کی پھیلائی جھوٹی افواہوں کو ختم کرنا ہے
پاک فوج وطن عزیز کے چپے چپے کے دفاع کے لیے بالکل مستعد ہے لہذا آپ بھی وطن کے دفاع کی خاطر *استعدوا* ہوجاو
-

کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد
ایک طرف پاکستان کی جانب سے کشمیر پر اٹھنے والی ھر آواز پابند ھے۔۔۔ کشمیریوں کے نعروں کا جواب دینے والا اب کوئی نہیں رھا۔۔۔ سیاسی طور پر چئیرمین کشمیر کمیٹی مشہور زمانہ "شہد والی سرکار” جو شاید زیادہ شہد پی بیٹھے ھیں۔۔۔ اور کشمیر پر بات کرنے کے لئے نہ میڈیا تیار ھے نہ عوام۔۔۔ دو روز قبل بھارت کی جانب سے ایل او سی پر ھونے والی فائرنگ کی خبر ھمارے میڈیا کی زینت بن سکی، نہ سیاسی ایوانوں میں کہیں اسکا ذکر مناسب سمجھا گیا ھے۔۔۔ اور شاید ستو یا شہد پینا اب راولپنڈی میں بھی عام ھو گیا ھے۔۔۔
انکل ٹرمپ نے ھمارے خان صاحب کو کشمیر پر ثالثی کی آفر تو کر دی ھے، مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجئے۔۔۔
انڈیا کی قومی سلامتی کا مشیر اجیت دووال اور انکا وزیر داخلہ امیت شاہ پچھلے 4 ماہ سے کشمیر کو اپنا دوسرا گھر بنائے ھوئے ھیں۔۔۔ انڈین میڈیا کے مطابق 27 جولائی سے کشمیر میں 10 ھزار تازہ دم فوجیوں کے دستے کشمیر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جبکہ درحقیقت یہ تعداد کم ازکم 25 ھے۔۔۔ محکمہ ریلوے اور دیگر سرکاری محکموں میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ھے۔۔۔ اور اگلے 4 ماہ تک چھٹیاں منسوخ اور راشن سٹور کرنے کی ھدایات جاری کر دی گئی ھیں۔۔۔
تمام حریت راھمنا نظر بند یا جیلوں میں ھیں۔۔۔ جمون کشمیر کے پانچوں ایس پیز کو فی الفور اپنے علاقوں کی تمام مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ھے۔۔۔
بھارتی سرکار کے مطابق یہ سب کچھ 15 اگست (بھارت کے یوم آزادی) اور امرناتھ یاترا کی سیکیورٹی کے مدنظر کیا جارھا ھے۔۔۔درحقیقت 15 اگست پر ھر سال کشمیری سرینگر سمیت پورے جموں کشمیر میں سبز ھلالی پرچم لہرا دیتے ھیں، جبکہ اس سال بڑے پیمانے پر سرکاری سطح پر انڈین پرچم لہرانے کے بندوبست کیے جارھے ھیں۔۔۔
جموں میں امرناتھ کے مقام پر ہندوؤں کا ایک بڑا اھم مندر ھے، جسکا راستہ ایک بڑے پہاڑی غار سے ھوکر جاتا ھے۔۔۔ جو سارا سال برف کی وجہ سے ڈھکا رھتا ھے اور گرمیوں میں یہ راستہ کھلتا ھے تو ھزاروں ھندو اسکی یاترا کے لئے جمع ھوتے ھیں۔۔۔ 1989 تک اس یاترا میں 10 سے 12 ھزار ھندو آیا کرتے تھے۔۔۔ 1991 سے 1996 تک حرکت المجاھدین کی دھمکی کی وجہ سے یہ یاترا بند رھی اور اسکے بعد مسلسل تقریبا ھر سال یہ یاترا مجاہدین کے نشانے پر رھی۔۔۔ بھارتی سرکاری سرپرستی کے سبب یاتریوں کی تعداد میں ھر سال اضافہ ھوتا رھا اور 2017 میں یہ تعداد 6 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔۔۔ ویسے تو یکم جولائی سے 15 اگست تک 45 دن اس ایونٹ کے لئے مختص ھیں۔۔۔ مگر اس سال 4 اگست کو امرناتھ یاترا کا سرکاری اعلان کیا گیا ھے۔۔۔
20 دسمبر 2018 کو 6 ماہ کے لئے جموں کشمیر میں صدارتی حکم یا گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور 3 جولائی کو اسے مزید 6 ماہ کے لئے نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جو خلاف قانون بھی ھے۔۔۔ اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی سیٹ اپ نہ ھونے پر دونوں سابق چیف منسٹرز پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ مسلسل الیکشنز کا مطالبہ بھی کررھے ھیں اور موجودہ صورتحال پر احتجاج کناں بھی ھیں۔۔۔
تقسیم کے وقت سے ھی دونوں اطراف کے کشمیر کی خصوصی حیثیت برقرار رکھی گئی تھی، جسکے تحت 4 شعبوں دفاع، خزانہ، خارجہ، اور اطلاعات کے علاوہ کشمیر اپنے لئے قانون سازی میں خود مختار ھوگا۔۔۔
اسی لئے 1949 میں ایک ترمیم کے تحت انڈین آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا گیا۔۔۔ جس کے تحت بھارت سرکار کو اپنا کوئی بھی قانون کشمیر میں لاگو کرنے کے لئے کشمیری حکومت سے اجازت لینا ھوگی۔۔۔
آرٹیکل 370 کی ایک شق 35A کے تحت کشمیر میں سوائے کشمیریوں کے کوئی دوسرا شہری مستقل رھائش اختیار نہیں کر سکتا۔۔۔ 2019 کے الیکشن میں بی جے پی کے ایجنڈے میں سرفہرست اسی آرٹیکل کا خاتمہ تھا۔۔۔ اور کشمیریوں کے بقول اب ساری منصوبہ بندی اسے قانون کے خاتمے کے لئے کی جارھی ھے۔۔۔مگر کیوں۔۔۔؟
امرناتھ یاترا کے بڑے پیمانے پر بندوبست اور 35A کے خاتمے کے پیچھے صرف ایک مقصد ھے کہ کسی طرح اسرائیلی یہودیوں کی طرح پورے بھارت سے ھندوؤں کو لاکر جموں و کشمیر میں بسایا جائے۔۔۔ اور بالخصوص جموں کو ھندو اکثریت کے نام پر ھندو سٹیٹ بنا دیا جائے۔۔۔ اور مسلمان اپنی ھی زمین پر بے گھر ھو جائیں یا قیدی۔۔۔
بقول محبوبہ مفتی: "کشمیر میں بارود کو آگ لگائی جا رھی ھے۔۔۔” اب دعاؤں کے سوا اور کوئی ھتھیار بچا بھی نہیں ھے ھمارے پاس۔۔۔!
اے اللہ۔۔۔! مظلوم کشمیریوں کی مدد و نصرت فرما۔۔۔
دشمن کی چالوں کو نیست و نابود فرما۔۔۔
ھمارے حکمرانوں کو عقل و دانش عطا فرما۔۔۔ -

کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل
کشمیر پر انڈیا کا غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ ہے۔قبضے سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر پر ڈوگرا راج تھا۔انڈیا کے آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفع 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے لیے بھارتی کوششیں آخر کیوں؟؟ اس سوال کا جواب یہ ھے کہ جس طرح فلسطین یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ کیا تو کچھ سال بعد اس کی قانونی حثیت ختم کی اور ادھر اپنا سفارت خانہ قائم کر لیا۔اسی طرح بھارت بھی کشمیر کی قانونی حثیت ختم کرنا چاہتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قانون ختم ہو جاتا ہے تو بھارت ایک حربہ استعمال کرے گا وہ یہ کہ کشمیر میں کثیر تعداد میں ہندو متین کر دے گا اور جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر میں استصواب رائے کا ہے تو یہاں کشمیری عوام اکثریت میں پاکستان سے الحاق چاہتی ہے تو جب وہ اپنے نمائندے متین کرے گا وہ بھی کثیر تعداد میں تو استصواب رائے کا فیصلہ بھارت کے حق میں ہو جائے گا۔میں حیران ہوں جب میں نے تحریر کے لیے ریسرچ کی تو سامنے آیا کہ آرٹیکل 35 اے کو بنانے کے پیچھے جو نظریہ تھا وہ یہ تھا کہ کشمیر کا تعلق لاہور، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ سے بھرپور تھا جب ہندو پنڈتوں نے دیکھا کہ مسلمان ادھر کشمیر میں دوسرے علاقوں سے آنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ ہم تو صرف 2 سے 3 فیصد ہے اگر باہر سے بھی مسلمان آنا شروع ہو گے تو ہمارا اقتدار، ہمارا ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم نہ ہوجائے اب 2019 کو دیکھ کے بے جے پی کا نریندر مودی جس کو بھی یہ ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ جس طرح اب بین الاقوامی سطح پر مسلہ کشمیر اجاگر ہو چکا ہے۔اگر کشمیر میں استصواب رائے شروع ہو گئی تو میرا تو کام خراب ہو جائے گا میرے ہاتھوں سے تو کشمیر پھسل کر پاکستان سے مل جائے گا ۔اسے بھی پتہ ہے کی کشمیر کو بالآخر آزادئ ملنی ہی ملنی ہے میرا یہ ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم ہونا ہے ۔اس لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔اس کے بعد اگر دیکھے تو بھارت نے 10 ہزار مزید فوج وادی کشمیر میں بھیج دی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اب تک تقریبا 10 لاکھ کے قریب بھارت کی فوج ایک چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔کیا یہ اقوام متحدہ کو نظر نہی آ رہا۔غیر مسلم ممالک کا کوئی کتا بھی مر جائے تو قوانین آ جاتے ہیں ادھر ہمارے کشمیری مظلوم اور غیور مسلمانوں پر انڈین مظالم کی انتہا ہے۔اب تک سینکڑوں نہی ہزاروں نہی لاکھوں کو انڈین آرمی اپنے ظلم و ستم کا شکار کر چکی ہے۔میرا سوال ہے کدھر اقوام متحدہ ہے ،کیا سلامتی کونسل سو گئی ،کہاں گئے انسانی حقوق، کہاں گئی بین الاقوامی وہ تنظیمیں اور ادارے جو آزادی پسند ہے۔اقوام متحدہ کا رویہ نا قابل برداشت ہے۔وہ کشمیری عوام پاکستان کو پکار رہی ہے ۔پاکستان کو چاہیے یہ مسلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں
-
عمران خان کامیاب دورہ امریکہ اور بھارت کا ردعمل — تبریز احمد ممریز ایڈووکیٹ
قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے سربراہان کی طرف سے امریکہ کے درجنوں دورے کیے جاچکے ہیں. جن سے امریکہ پاکستان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کی صورت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
کبھی پاکستانی وزیر اعظم کو واشنگٹن لانے کے لیے ذاتی طیارے بھیجے جاتے. کبھی افغانستان میں Do More کی پالیسی پر زور دیا جاتا، کبھی ایڈ نہ دینے کی دھمکی دی جاتی. اور آج یہ حالت کہ عمران خان کا واشنگٹن میں تاریخی اور غیر معمولی جلسے کا انعقاد اور امریکی صدر کی عمران خان کی تعریف کرنا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سراہنا اور کشمیر کے ایشو پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرنا شامل ہیں.
مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب رہا یا پھر گزشتہ ادوار کی طرح قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا. ویسے تو اس دورے کی کامیابی، ناکامی یا ردعمل کا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا.
مگر میرے نزدیک پاکستان کے کسی بھی قومی یا عالمی رویئے یا واقعہ کے بارے میں اندازہ لگانے کے لئے بھارت اور بھارتی میڈیا کا اہم کردار رہا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ دور امریکہ کی کامیابی کا اندازہ لگانے والا صحیح پیمانہ بھارتی میڈیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا بھارتی سرکار کی زبان طوطے کی طرح بولتا ہے
وزیر اعظم عمران خان کے وائٹ ہاؤس کے دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات میں سب سے بڑی پیش رفت جو رہی ہے وہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ کا ثالث کا کردار ہے. جو میرے نزدیک ایک اچھی پیش رفت ہو گی. قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان 72 سالوں میں بھارت اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جو رہا ہے وہ مسئلہ کشمیر ہے. جس پر بھارت نے ہمیشہ ڈبل پالیسی کا سہارا لیا ہے.
وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں بڑا انکشاف جو صدر ٹرمپ نے کیا وہ بھارت کی دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کر دیا. بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر یہ ہی واویلا مچایا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے کشمیر کے مسئلہ پر کسی ثالث یا تیسرے ملک کا کردار نہیں چاہتا جبکہ کل صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب سے چند روز قبل G20 کے سالانہ اجلاس میں مودی نے صدر ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ہماری مصلحت اور کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کریں.
مگر دوسری طرف آج بھارتی میڈیا ہے جو نہ صرف مسئلہ کشمیر پر امریکہ کا ثالث کے کردار پر رو رہے ہیں بلکہ اک عالمی طاقت امریکہ کے اس عمل کو جھوٹا اور غلط بول رہے ہیں.
جس پر نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی واویلا مچا ہوا ہے.
جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش کی تو بھارتی ذرائع ابلاغ میں کہرام مچ گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل نے تو سرخی لگا دی کہ (امریکہ نے بھارت پر کشمیر بم گرادیا ہے۔) بھارتی سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ڈالے جانے والے بے سر و پا شور شرابے سے مجبور ہوکر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی امریکی صدر سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ہے۔انہوں نے گھسا پٹا روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے.
مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی جن کا شمار دنیا کے سوشل میڈیا کے فعال ترین صارفین میں ہوتا ہے وہ اب تک اپنے یا امریکی صدر کے بیان پر چپ کا سہارا لیے بیٹھے ہیں. جس سے بہت زیادہ نئے سوالات جنم لے رہے ہیں.دلچسپ امر ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔دوسری جانب کشمیر میں پاکستان کے امریکہ میں ایسے عمل کو ایک مثبت قدم جانا گیا ہے. بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہم امریکہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کی ہرزہ سرائی کے سوال و جواب اور مودی کی خاموشی کیا رنگ لاتی ہے. اور ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوشش کیا اثر دکھاتی ہیں.
میری تو دعا ہے کہ کشمیریوں کے لئے یہ دورہ امریکہ اور پاکستانی کوشش رنگ لائیں. اور کشمیریوں کے لیے ایک روشن اور آزاد صبح کی نوید ثابت ہو.خدا کرے میرے ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ۶ زوال نہ ہو

ایڈووکیٹ تبریز احمد ممریز
-

ٹرمپ نے مودی کو سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے … احمد قریشی
کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے. یہ صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو سفارتی اور سیاسی ڈنڈا دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اتنی بات آج تک کسی امریکی صدر نے نہیں کی. اس بات سے مجھے امریکی انتخابات میں میرا اپنا موقف یاد آتا ہے جو میں نے اپنے ٹی وی پروگرامز میں بار بار دہرایا تھا کہ أوباما پاکستان کیلیے بد ترین امریکی صدر ثابت ہوا ہے، لیکن ایک سیدھی بات کرنے والا ٹرمپ جیسا بزنس مین پاکستان کیلیے بہتر ہو سکتا ہے اور ہمیں ان سے روابط بنانے چاہیں.
کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئے کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور علانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں دھماکے ہو رہے ہیں. بڑی پسپائی ہے کشمیر پر بھارتی موقف کی.
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو علانیہ یہ بات نہیں بتانی چاہیے تھی کہ مودی کشمیر پر انکی مدد مانگ رہا ہے کیونکہ اب بھارت میں پریشر پیدا ہوگیا ہے جو ممکنہ ثالثی کو مشکل بنا دے گا.
لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے. بھارت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایسا ہی کرنے جا رہا تھا. لیکن صدر ٹرمپ نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارت روایتی سخت موقف سے پیچھے ہٹنے کیلیے تیار ہوسکتا ہے، اور یہ بات پاکستان اور کشمیریوں کے ہاتھوں ایک نیا سفارتی ہتھیار بن گئی ہے.

احمد قریشی -

وائٹ ہاوس اعلامیے میں کشمیر کا ذکر کیوں نہیں؟ … رضی طاہر
وضاحت : کشمیر پر سرکاری طور پر بات کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر مودی کو آئینہ دکھایا ہے. امریکی وزارت خارجہ شاید اس پات پر کبھی متفق نہ ہو لیکن ٹرمپ نے یہ کام کر دکھایا. اچھی بات ہے. کشمیر پر اب ہمارے پاس یہ مثال بھی آ گئی کہ امریکی صدر نے کشمیر کو متنازع علاقہ مانا اور اعلانیہ کہا کہ اس خوبصورت جگہ میں ظلم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان بھارتی موقف کی پسپائی ہے۔ جبکہ پاکستان کی بھارت کے خلاف مسلسل پانچویں فتح ہے۔
1۔ پہلی فتح : بھارتی طیارے گرانا اور بزدلانہ کاروائی کا منہ توڑ جواب
2۔ دوسری فتح : بھارتی فنڈنگ کے باوجود قبائلی علاقہ جات میں بھارت کے ہر ہتھکنڈے کو الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے شکست دینا، پی ٹی ایم کی ناکامی
3۔ تیسری فتح : کلبھوشن کو عالمی عدالت سے رہائی نہ ملنا اور عالمی عدالت کا کلبھوشن کے دہشتگرد ہونے پر مہر ثبت کرنا
4: چوتھی فتح : بلوچستان کو لے کر بھارتی پروپیگنڈے کا اپنی موت آپ مرنا اور بی ایل اے کو عالمی دہشتگرد قرار دیئے جانا۔
5۔ پانچویں فتح: امریکی صدر کا کشمیر کو متنازعہ علاقہ ماننا اور ثالثی کی پیشکش کرنا۔

رضی طاہر -

سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ
گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا کہنا تھا نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا جائے. سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے یا افسوس کہ بالآخر پاکستان کے آفیشلز کو مسئلہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے کردار کی اہمیت کا اندازہ ہی ہوگیا اگرچہ بہت تاخیر کے ساتھ ہی ہوا.
جناب عزت مآب ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان!
بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے کشمیر میں انڈین مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حوالے سے نوجوانوں سے مدد مانگی کہ سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو اجاگر کرے. آپ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں تو ہمیں اس ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کریں.سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
جناب عالی! آپ کے اس بیان کو سن کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور آپ کی سادگی پر ہنسی بھی آئی کہ گزشتہ دس بارہ سالوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کشمیر کا مقدمہ سوشل میڈیا پر لڑتے رہے. ان دس بارہ سالوں میں کشمیر ایشو، نظریہ پاکستان یا بھارت کے ہندو توا پر کام کرنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس میں شاید ہی کوئی ہو جس کے بیسیوں، سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کی طرف انڈین دباؤ میں آکر بلاک نہ کیے گئے ہوں. ہم تب سے چیخ چلا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس میں اپنا کردار ادا کرے اگر بھارت دھونس اور دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروا سکتا تو پاکستان کیوں نہیں؟ میں کتنے ہی فعال ترین ایکٹوسٹس کو جانتا ہوں جو کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے تھے مگر اکاؤنٹس کی مسلسل بندش کے سلسلوں اور پاکستانی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر کچھ تو سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ گئے اور کچھ نے دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیں. تب پاکستان کی انتظامیہ میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم بہت بڑا نقصان کر رہے ہیں ان ایکٹوسٹس کی مدد نہ کرکے، رہی سہی کسر کشمیر ایشو کے لیے اپنی ساری زندگی تیاگ دینے والے رہنماؤں اور جماعتوں پر لگنے والی پابندیوں اور ان پر لگنے والے دہشت گردی کی دفعات نے پوری کردی اب کوئی کشمیر کا نام سنتے ہی ہاتھ کانوں پر لگاتا ہے کہ نہ بابا میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں کٹوانا ، کشمیر کا نام لینا ہی دہشت گردی بنا دی گئی ہے. کسی سے کہہ دو کہ آؤ کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ بات کرلیں تو وہ صاف انکار کرتا کہ بڑی مشکل سے میرے اکاؤنٹ کی کچھ "ریچ” بنی ہے آپ کیوں بلاک کروانا چاہتے ہیں. ہمارے کتنے ہی بڑے بڑے پیجز اور اکاؤنٹس کہ جن کی رسائی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی وہ پاکستان انتظامیہ کی بے حسی اور بھارتی غنڈہ کردی کی نذر ہوکر بلاک کردیئے گئے. اب جب آپ لوگوں کو نظر آیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائلوں اور سستے پیکجز سے کشمیر پر کام کرنے والے غائب ہوگئے اور کشمیر کا نام بھی سوشل میڈیا سے ختم ہوتا جا رہا ہے تو آپ نے نوجوانوں سے مدد مانگنا شروع کردی کہ آئیں اس فیلڈ میں کام کریں تو عالی جناب نوجوان تو برسوں سے اس فیلڈ میں موجود تھے مگر ان کو اس فیلڈ میں کس نے بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو اس میدان سے منہ پھیرلینے پر مجبور کیا؟؟؟
مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
جناب عالی ڈاکٹر فیصل صاحب! اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ ہم سوشل میڈیا پر کشمیر ایشو کو کیسے اجاگر کریں، کیسے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کریں کہ بھارت پوری طرح سے اس فیلڈ میں چھایا ہوا ہے اور کسی بھی پاکستانی اکاؤنٹ یا پیج کو کشمیر پر بات کرنے کے جرم میں بلاک کردیا جاتا ہے تو ایسے میں تھوڑی سی مزید رہنمائی کردیں کہ کیسے اجاگر ہوگا یہ مسئلہ کشمیر؟ ؟؟

Muhammad Abdullah -

کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …
عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا کلبھوشن یادیو کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات لگے ۔ کلبھوشن یادو عرف مبارک حسین پٹیل نے ان تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا۔ جس پر کلبھوشن کوفوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ شروع میں تو بھارت کلبوشن کی گرفتاری پر لاتعلقی کا ظاہر کرتا رہا۔ اور اسے اپنا شہری تک تسلیم کرنے سے انکاری رہا۔ پھر جب پاکستان نے ٹھوس ثبوت پیش کیے ۔ کلبوشن کا ویڈو پیغام سامنے آیا کہ وہ بھارتی نیوی کا سرونگ افسر ہے اور را کے خفیہ مشن پر پاکستان کا امن و امان برباد کرنے کیلئے خفیہ طور پر جعلی نام سے پاکستان میں سرگرم ہے تو بھارت کو کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کالا ہوتا نظر آیا ۔ پھر بھارت نے تسلیم کیا کہ ۔ کلبوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا سابق کارندہ ہے۔ اس کے بعد بھارت بھاگا بھاگا عالمی عدالت جا پہنچا ۔

مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …
بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ۔ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف تین اعتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی نام پر پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو تا رہا ۔ بھارت کلبھوشن کی شہریت کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہا ۔ جبکہ کلبوشن پاکستان میں جاسوسی اور دہشتگردی کی کاروائیوں میں بھی ملوث رہا۔ اور ان واقعات میں کئی پاکستانی خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کا موقف انتہائی مضبوط تھا۔ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کو 3/1 سے فتح حاصل ہوئی ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیلئے مندرجہ ذیل چار چیزیں مانگی تھیں۔
قونصلر رسائی
جاسوسی اور دہشتگردی کے الزامات سے بریت
سول کورٹ میں ٹرائل
کلبھوشن کی بھارت کو حوالگی
عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کو چار میں سے صرف ایک چیز دی ہے۔ عدالت نے کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی کا حق دیا ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارتی جاسوس پاکستان کے پاس ہی رہے گا اور یہیں اس کے کیس پر نظر ثانی کی جائے گی جو کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔
مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ
عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر نظر ثانی کا کہا ہے لیکن یہ حکم نہیں دیا کہ اس کا ٹرائل بھی دوبارہ ہوگا اور نہ ہی ری ٹرائل کیلئے سول کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ صرف اس کی سزائے موت پر نظر ثانی کا کہا ہے۔ آج عالمی عدالت کے فیصلے کے پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ کلبوشن یادو ہندوستان کا جاسوس بیٹا ہے۔ جو امن پسند ملک پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہو ئے پکڑا گیا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑ ہے مانگا انھوں نے کچھ تھا اور ملا کچھ ہے ؟ آج ریاست پاکستان ۔ اداروں اور پاکستانی قوم کی فتح کا دن ہے۔
ویسے تو بھارت کی مکاری کی مثالیں تاریخ کے صفحات پہ درج ہیں۔ بھارت ہمیشہ دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوششیں کرتا رہا ہے مگر اس بار اس کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں ۔ بھارتی حکومت اپنے ہی عوام کو بھی الو بنا رہی ہے ۔۔ کہ ہم کیس جیت گئے۔ جیت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ
بھارتی میڈیا بھی فیصلے کو بھارت کی فتح قرار دیتے ہوئے بغلیں بجانے میں مصروف ہے ۔ جیسا پہلے وہ جھوٹی سرجیکل سٹرائکس میں خوشی سے پاگل ہو گئے تھے۔ پھر جب ہم نے ان کا ابھی نندن پکڑا تو عقل ٹھکانے آئی۔ اور بھارتی میڈیا نے رنگ بدلتے ہوئے انسانی ہمدردی کا راگ الاپنا شروع کیا۔ اب ایک بار پھر بھارتی میڈیا نے مودی کو سر پر بیٹھا لیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اب سب پر عیاں ہوچکا ہے کہ بھارت ۔ اسکی ایجنسیاں اور ادارے دوسرے ملکوں میں دہشتگردی اور جاسوسی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بھارت پورے خطے اور ہمسائے ممالک کوdestablize کررہا ہے ۔
We exposed india internationally & caught their monkey red handed
آج پاکستان کو عالمی عدالت۔ اقوام عالم اور سفارتی سطح پر ایک بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ انشااللہ وہ دن دور نہیں جب بھارت کو کشمیر کے مقدمہ میں بھی شکت فاش ہو گی ۔
پاک فوج زندہ باد ۔۔۔
پاکستان زندہ باد ۔۔۔
دشمنان وطن مردہ باد ۔۔۔
اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.comیوٹیوب چینل سکرائب کریں
https://www.youtube.com/c/superteamks
فیس بک پروفائل
https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9
ٹویٹر پر فالو کریں
-

حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی
خدمت انسانیت کی بدولت میں بچپن سے ایک بندے کا فین ہوں جس نے دین کی پرچار بھی خوب کی اور انسانیت کی خدمت بھی بلاتفریق سرانجام دی خواہ ہندو ہو یا سکھ عیسائی ہو یا مسلمان چھوٹا ہو یا بڑا سب ان کی خدمت اور محبت کے گرویدہ ہیں.
انہوں نے کبھی بھی فرقہ پرستی فتنہ و فساد کی لہر کو ہوا نہیں دی بلکہ ایسی چیزوں کا رد کیا ہے اور مسلمانوں کو ایک ہو کے اسلام کی تعلیمات پہ عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ہے.
سادہ لباس والے منہ پہ داڑھی سجاۓ یہ معصوم لوگ جن کے پاس انسانیت کی خدمت کے علاوہ کوئی پہچان نہیں ان کو محض دوسروں کی خوشنودی کے لیے بار بار بین کر دیا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے رب پہ بھروسہ رکھتے ہوۓ صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھام لیتے ہیں.
یہ واحد جماعت اور شخصیت ہے جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکی اور اس تحریک کو جاری و ساری رکھتے ہوۓ مزید تقویت بخشی جس کی وجہ سے کشمیری بھی ان سے بے پناہ محبت کرنے لگ گئے.
یہ وہ جماعت ہے جو تھر کے ریگستانوں میں بھی بلکتے بچوں کا سہارا بن جاتے ہیں اور ان کو راشن مہیا کرتے ہیں حالانکہ تمام وسائل ہونے کے باوجود وہاں کی گورنمنٹ تمام وسائل کو اپنی عیاشیوں اور مے کدوں کی نظر کر دیتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں وہ خدمتگاروں پہ.
مجھے اپنے انتخاب پہ فخر بھی وتا ہے اور حیرانگی بھی بہت ہوتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہے جن پہ جب بھی کوئی پابندی لگتی ہے الزام لگتے ہیں کیس بنتے ہیں یا نظر بندیاں اور پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی گالی گلوچ والا سین نہیں ہوتا اور نہ ہی سڑکیں بند ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا سامان بھی سرکاری تحویل میں لینے والوں کی گاڑیوں میں خود رکھواتے ہیں.
اس ملک میں جو بھی مصائب آۓ چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب آندھی ہو یا طوفان انہوں نے بغیر سرکاری وسائل کے قوم کی خوب اچھے طریقے سے خدمت کی اور ان کو راشن پہچانے کے ساتھ ساتھ ان کو گھر بھی تعمیر کر کے دیے.
بلوچستان میں ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں حافظ سعید کا بہت بڑا کردار رہا ہے ان کی وجہ سے بلوچستان میں بھی پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا.
یہ وہی حافظ سعید ہیں جنہوں نے سب سے پہلے فتنہ و فساد پھیلانے والے تکفیری طالبانوں (داعش و ٹی ٹی پی) کو دہشت گرد قرار دیا اور اس پہ کئی کتابوں کو بھی شائع کروایا.
محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے انہوں نے کبھی بھی توڑ پھوڑ والا راستہ نہیں اپنایا بلکہ اپنے تمام کارکنان کو بھی پرامن رہنے کی تربیت بھی دی اور کسی قسم کا کوئی جلاؤ گھیراؤ کرنے سے بھی منع کیا.
ایک بے قصور آدمی جس کا جرم صرف اور صرف انسانیت کی خدمت ہے اور اسے بار بار بین کر دیا جاتا ہے لیکن پھر جب کوئی ثبوت نہیں ملتا تو عدالتیں کئی دفعہ اس کو کلین چٹ دے چکی ہیں کیونکہ ان کا کوئی جرم تو نہیں ہے کوئی تو پھر بار بار کیوں پابندی لگا دی جاتی ہے کیوں کفار کو خوش کر کے محب وطن پاکستانیوں کو تنگ کیا جاتا ہے ہم دوسروں سے بناتے بناتے اپنوں سے ہی بگاڑ رہے ہیں آخر کیوں؟
گھر کی خاطر
سو دکھ جھیلیں
گھر تو آخر اپنا ہےبے قصور ہونے کے باوجود اس بندے نے کبھی بھی ریاست سے ٹکرانے توڑ پھوڑ فتنہ و فساد کا کبھی نہیں سوچا کیونکہ یہ محب وطن پاکستانی ہیں ان کا مقصد خدمت ہے اور یہ کام نہیں رکے گا اور پاکستان ترقی بھی کرے گا لیکن پھر بھی بتا دیں کیا جرم ہے ان کا؟
زندگی کاٹی ہے جبر مسلسل میں
نا جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیںخدمت انسانیت اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے یہ پابندیاں پکڑ دھکڑ سب عارضی ہیں ان شاء اللہ یہ جماعت اور حافظ سعید ہمیشہ کی طرح عدالتوں سے رجوع کریں گے اور ہمیشہ کی طرح سرخرو بھی ہوں گے کیونکہ یہ ملک کو توڑنے والے اور ریاست سے ٹکرانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنی فوج کو للکارا ہے یہ تو امن کے داعی ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرنے والے ہیں.
دوسری طرف جو سیاستدان جیلوں میں قید ہیں انہوں نے اقتدار کی آڑ میں اس ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے کرپشن ہو یا غداری چوری ہو یا بغاوت سب جرم کیے ہیں انہوں نے کبھی یہ اداروں سے ٹکراتے ہیں کبھی عدالتوں سے اور کبھی اپنی ہی فوج پہ گولیاں چلا دیتے ہیں اور کونسا ایسا کام ہے جو انہوں نے اس ملک کے خلاف نہ کیا ہو؟
کیا چوروں کرپٹ لوگوں اور غنڈوں کا انسانیت کے خدمتگاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟
بالکل بھی نہیں کیونکہ ہمیں پاکستان سے محبت کرنے والوں سے محبت ہے اور اس کے دشمنوں سے سخت دشمنی ہے.
اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین
پاکستان پائندہ باد