Baaghi TV

Tag: کشور کمار

  • بالی وڈ اداکاردیو آنند کی 99 ویں سالگرہ اور ان کے پانچ لازوال مشہور گیت

    بالی وڈ اداکاردیو آنند کی 99 ویں سالگرہ اور ان کے پانچ لازوال مشہور گیت

    دھرم دیو پشوریمل آنند، جو دیو آنند کے نام سے مشہور تھےوہ ایک اداکار، مصنف، پروڈیوسر، اور ہدایت کار تھے،ان کی ہندی سینما کے لئے لازوال خدمات ہیں. دیو آنند کا کیرئیرلگ بھگ چھ دہائیوں پر محیط رہا،اس دوران انہوں نے لازوال فلموں‌میں نہ صرف کام کیا بلکہ فلمیں تخلیق بھی کیں.انہوں نے گائیڈ، سی آئی ڈی، ٹیکسی ڈرائیور، جیول تھیف اور کالا پانی جیسی لازوال کلاسیک فلموں میں کام کیا. دیوآنند 26 ستمبر 1923 کو پیدا ہوئے اور 2011 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے.آج ان کا 99 جنم دن ہے اس موقع پر ہم ان کے بہترین پانچ گانوں کو یاد کررہے ہیں. پہلے نمبر پر گانا ”گاتا رہے میرا دل” فلم گائیڈ کے اس گانے کو آج تک مقبولیت حاصل ہے یہ گانا کشور کمار نے گایا اور 1965 میں بنی فلم گائیڈ میں یہ دیو آنند اور وحیدہ رحمان پر فلمایا گیا اس گیت کی موسیقی ایس ڈی برمن نے دی. دوسرے نمبر پر ابھی نہ جائو چھوڑ کر فلم دونوں کے لئے بنایا گیا یہ گانا دیوآنند پر پکچرائز کیا گیا جس میں ان کے

    ساتھ اداکارہ سادھنا تھیں اس گیت کو محمد رفیع نے گایا تھا. 1961 میں بنی اس فلم کے اس گیت کو ساھر لدھیانوی نے لکھا تھا.تیسرے نمبر پر اچھا جی میں ہاری چلو مان جائو نا، یہ گیت فلم کالا پانی کے لئے بنایا گیا تھا اس گیت کو آشا بھوسلے اور محمد رفیع نے گایا اور پکچرائز دیوآنند کے ساتھ مدھوبالا پر ہوا اس گانے کو مجروح سلطان پوری نے لکھا تھا اور کمپوز ایس ڈی برمن نے کیا تھا. چوتھے نمبر پر سو سال پہلے ، یہ گیت فلم جب پیار کسی سے ہوتا ہے کے لئے بنایا گیا تھا 1961 میں بنی اس فلم کا یہ گیت دیو آنند اور آشا پاریکھ پر فلمایا گیا اس گیت کو گایا محمد رفیع اور لتا نے تھا گانے کو لکھا حسرت جے پوری نے تھا.پانچویں نمبر کھویا کھویا چاند ، یہ گیت فلم کالا بازار کے لئے بنایا گیا تھا 1960 میں بنی اس فلم کا یہ گیت دیوآنند اور وحیدہ رحمان پر فلمایا گیا تھا اس کو کمپوز ایس ڈی برمن نے کیا تھا اور گایا محمد رفیع نے تھا.

  • آشا بھوسلے کو کس گلوکار کے ساتھ گانا پسند تھا؟

    آشا بھوسلے کو کس گلوکار کے ساتھ گانا پسند تھا؟

    آشا بھوسلے سے ایک انٹرویو ہوا اس میں ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ابھی تک جتنے بھی گلوکاروں‌ کے ساتھ گایا ہے کس کے ساتھ گا کر انہیں بہت مزا آیا . تو آشا بھوسلے نے کہا کہ مجھے کشور کمار کے ساتھ گانے کا بہت مزا آتا تھا وہ ایسے گلوکار تھے جو اپنی طرف سے گانے میں حرکتیں شامل کر لیتے تھے ان کے ساتھ میرے سب سے زیادہ گیت ہوئے. ان کے ساتھ گا کر اس لئے بھی مزا آتا کیونکہ وہ ہر وقت ہنستاتے رہتے تھے گانے کے دوران خود سے آلاپ شامل کر لیتے تھے اور باقی وقت ہنستاتے رہتے تھے . انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسی حرکتیں کرتے تھے کہ جس سے لوگوں‌ کو لگتا تھا کہ وہ بے وقوف ہیں لیکن ایسا نہیں‌تھا وہ بہت ہوشیار تھے. آشا بھوسلے نے کہا

    کہ کلاسیکل گانے کا مزا منا دے کے ساتھ آتا تھا ان کی تو آواز ایسی تھی کہ جس کو سن کر دل کرتا تھا کہ بس سنتے ہی جائیں رکیں نا. انہوں‌نے مزید کہا کہ ہیمنت کمار جیسی آواز نہ کبھی میں نے آج تک سنی ہے نہ ہی پیدا ہو گی ، ان کے جیسا سر کوئی نہیں لگ سکتا تھا بھگوان نے ان کو جو گلہ اورسر دیا تھا وہ کم کم گلوکاروں کے حصے میں آتا ہے. محمد رفیع کے لئے لیکن انہوں نے کہا کہ رفیع بہت اچھے گلوکار تھے اچھے انسان تھے لیکن ان کو میوزک ڈائریکٹر جیسا سکھاتے تھے بس وہ ویسا ہی گاتے تھے خود سے گانے میں کچھ شامل کرنے کی کوشش نہیں‌کرتے تھے. مجھے ایسا لگتا تھا کہ وہ اس سے زیادہ گا سکتے ہیں اور بہتر گا سکتے ہیں لیکن وہ دھیان نہیں‌دیتے تھے بس جو سکھایا گا کر چلے جاتے تھے. بہت ہی شانت طبیعت کے مالک تھے.

  • محمد رفیع نے کیسے کشور کمار کے کیرئیر کو بچایا؟

    محمد رفیع نے کیسے کشور کمار کے کیرئیر کو بچایا؟

    محمد رفیع اور کشور کمار اپنی اپنی جگہ منفرد گلوکار تھے محمد رفیع کی آواز نہایت ہی سافٹ تھی یہی وجہ تھی کہ ہر دوسرے ہیرو کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی آواز میں گائے گیت ان پر فلمائے جائیں،. دوسری طرف کشور کمار بھی کم نہیں تھے ان کی بھی فین فالونگ تھی لیکن ظاہر ہے کہ اُن وقتوں میں محمد رفیع کا ڈنکا بج رہا تھا.کشور کمار فلموں میں اداکاری کے ساتھ گلوکاری کرتے تھے. پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ محمد رفیع کے گیت کم اور کشور کے زیادہ ہونے لگے لیکن رفیع کی مقبولیت مرتے دم تک قائم رہی وہ نمبر ون کی پوزیشن پر پہ رہے. اُس دور کے میڈیا نے بڑی کوشش کی کہ چوٹی کے ان دونوں

    گلوکاروں کے درمیان مقابلے کی فضا قائم کی جائے لیکن ایسا ہو نہ سکا. محمد رفیع کسی کے بھی ٹیلنٹ کو کھلے دل سے تسلم کرتے تھے. وہ کشور کمار کی گائیکی کی بھی تعریف کیا کرتے تھے.یہاں تک کہ جب کشور کمار پر برا وقت آیا تو محمد رفیع نے ان کا کیرئیر بچایا. ہوا یوں کہ 1975 میں جب کانگریس سرکار نے کشور کمار اور ان کے گیتوں پر آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن پر چلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ کانگریس سرکار اس وقت کی پرائم منسٹر اندرا گاندھی کی پالیسیوں کی تشہیر کے لیے جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی تھی جس کے لیے کشورکمار نے زیادہ پیسے مانگ لیے تھے۔جب یہ معاملہ بگڑا تو کشور کمار پر پابندی لگا دی گئی جس سے وہ بہت پریشان تھے۔ کانگریس میں چونکہ محمد رفیع کی سنی جاتی تھی انہوں نے رفیع کا مان رکھتے ہوئے کشور کمار پر سے پابندی اٹھا لی.محمد رفیع چاہتے تو موقع کا فائدہ اٹھا سکتے تھے کشور کمار کے کیرئیر کو اچھی خاصی بریک لگ سکتی تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا. کہا جاتا ہے کہ محمد رفیع انتقال پر کشور کمار ان کے پائوں پر سر رکھ کر کئی گھنٹے روتے رہے.