Baaghi TV

Tag: کف سیرپ

  • ڈریپ کی جانب سے کھانسی کے شربت میں زہریلے مادے کا ا لرٹ جاری

    ڈریپ کی جانب سے کھانسی کے شربت میں زہریلے مادے کا ا لرٹ جاری

    اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کھانسی کے شربت میں زہریلے مادے کا ا لرٹ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ڈریپ نے جمعرات کو ایک ”ریپڈ الرٹ“ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کھانسی کے سیرپ میں استعمال ہونے والے خام مال میں زہریلے اجزا پکڑے ہیں یہ زہریلے اجزا خام مال کی ایک خاص کھیپ یا بیچ میں پائے گئے ہیں تاہم جس کمپنی نے یہ کھیپ بھیجی تھی اس کے دیگر بیچزسے تیار کردہ کھانسی کا سیرپ مارکیٹ سے اٹھانے اور جانچ کے بعد ہی جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہےیہ کیمیکل تھائی لینڈ کی کمپنی ڈاؤ کیمیکل سے درآمد کیا گیا تھا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈریپ کے مطابق ڈاؤ کیمیکل کے درآمد شدہ خام مادے پروپلین گلائیکول کی کھیپ نمبر C815N30R41 میں مضرِصحت کثافتوں کی مقدار پائی گئی مذکورہ کھیپ ضبط کر لی گئی ہے اور اس کی پوری سپلائی چین کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں ڈریپ کا کہنا ہےکہ بدنیتی ثابت ہوئی تو ملوث افراد کے خلاف کرمنل کیس فائل کریں گے، تاہم ڈاؤ کییمکل نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں کیا۔

    ٹکٹوں کی تقسیم پر بلوچستان میں پی پی پی اندرونی اختلافات کا شکار

    ڈریپ نے کہاکہ کراچی میں سینٹرل ڈرگ اتھارٹی میں ایک نمونے کا جائزہ لیا گیا جس میں مذکورہ کھیپ میں ایتھلین گلائیکول کی حد سے زیادہ مقدار پائی گئی جو صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے ایتھلین گلائیکول جسم میں جانے سے مرکزی اعصابی نظام، دل اور گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ درآمد شدہ کھیپ کے ذریعے مقامی سطح پر سیرپ تیار کیے گئے تھے یا نہیں، تاہم ڈریپ نے حکم دیا ہے کہ ڈاؤ کیمیکل تھائی لینڈ سے جتنا بھی پروپلین گلائیکول منگوایا گیا ہے اس کی تمام کھیپوں سے تیار کردہ سیرپ کو مارکیٹ میں روک لیا جائے۔

    عام انتخابات، آصفہ بھٹو انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب انڈونیشیا، گمبیا اور ازبکستان میں 300 بچوں کی ہلاکت کا سبب پروپلین گلائیکول کو قرار دیا جا رہا ہے پروپلین گلائیکول کھانسی کے شربت میں عام استعمال ہوتا ہے تاہم درآمدی کھیپ نمبر C815N30R41 میں مضرصحت کثافتیں یا زہریلے مادے شامل پائے گئے ہیں۔

  • عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    گیمبیا اور ازبکستان میں بھارت سے درآمدی کھانسی کے سیرپ سے سیکڑوں بچوں کی موت کے بعد اب عراق میں دستیاب بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : عراق میں دستیاب بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف عالمی نشریاتی ادارہ ’’بلومبرگ نیوز‘‘ نے کیابلومبرگ نیوز کے مطابق عراق میں فروخت ہونے والے ’’سردیوں کے سیرپ میں زہریلے کیمیکلز‘‘ موجود ہیں رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک آزاد امریکی لیبارٹری ’’والیسور ایل ایل سی‘‘ کے مطابق مارچ میں بغداد کی ایک فارمیسی سے سردیوں میں استعمال ہونے والے بچوں کے سیرپ کی ایک بوتل خریدی گئی تھی جس میں 2.1 فیصد ایتھیلین گلائکول کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ کیمیکل عالمی سطح پر منظور شدہ مقدار سے 21 گنا زیادہ ہے جبکہ اس کی معمولی مقدار بھی انسانوں کے لیے مہلک ہے اور اسی ایک کیمیکل کی وجہ سے گزشتہ برس گیمبیا اور ازبکستان میں بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت سے ہونے والی بڑے پیمانے پر بچوں کی اموات میں کردار ادا کیا۔

    عالمی منڈی میں چاول کی قلت شدت اختیار،متحدہ عرب امارات میں چاول کی برآمد پرپابندی

    بلومبرگ نے 8 جولائی کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ عراقی اور بھارتی حکام کے ساتھ ٹیسٹ کے نتائج کا تبادلہ کیا۔ ڈبلیو ایچ او نے بلومبرگ کو بتایا کہ اسے امریکی لیبارٹری کے ٹیسٹ کے نتائج “قابل قبول” ہیں اور اگر عراقی حکومت بھارتی سیرپ سے متعلق تصدیق کرتی ہے تو وہ الرٹ جاری کرے گا کیونکہ عراق میں ابھی تک کسی عوامی الرٹ یا واپسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    عراق کی وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزارت کے پاس "دواؤں کی درآمد، فروخت اور تقسیم کے لیے سخت ضابطے ہیں۔” انہوں نے کولڈ آؤٹ کے بارے میں مخصوص سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

    ایک سال میں یہ پانچواں موقع ہے کہ جانچ میں کسی ہندوستانی برآمد کنندہ کی دوائیوں میں ایتھیلین گلائکول کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔ گیمبیا اور ازبکستان کے پھیلنے کے علاوہ، سرکاری لیبارٹریوں کی جانچ نے مارشل جزائر اور لائبیریا میں دیگر آلودہ مصنوعات کی نشاندہی کی ہے، حالانکہ ان دوائیوں سے منسلک کسی بیماری کی اطلاع نہیں ہے۔

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل …

    کولڈ آؤٹ لیبل اشارہ کرتا ہے کہ اسے Fourrts (India) Pvt. لمیٹڈ، چنئی میں قائم ایک صنعت کار جو برطانیہ، جرمنی اور کینیڈا سمیت 50 سے زائد ممالک کو ادویات برآمد کرتا ہے۔ وہاں کے ایک نائب صدر بالا سریندرن نے کہا کہ بلومبرگ کی پوچھ گچھ کے بعد، فورٹس نے کولڈ آؤٹ کے ایک نمونے کا تجربہ کیا جو اس کے ہاتھ میں تھا اور اسے بے داغ پایا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی ریگولیٹرز نے شرون کے پلانٹ سے دیگر نمونے قبضے میں لیے ہیں اور فورٹس کو ان ٹیسٹوں کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ نیشنل ڈرگ ایجنسی کے حکام اور دو مقامی ریگولیٹرز نے یا تو تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا یا کہا کہ ان کے پاس شیئر کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ شارون کے ایگزیکٹوز نے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    قصور میں کل ہونے والا ن لیگ کا جلسہ ملتوی

    گیمبیا میں گزشتہ سال پھیلنے والی وباء سے 60 سے زائد بچے ہلاک ہوئے تھے، اور ازبکستان میں ہونے والے ایک بچے نے سمیت 20 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے نے بھارت سے منشیات کی برآمدات کے معیار پر تازہ سوالات اٹھائے ہیں، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا عام منشیات بنانے والا ملک ہے اور خود کو دنیا کی "فارمیسی” کہتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے اس ماہ کہا تھا کہ اس سال کیمرون میں 12 بچوں کی موت کا ذمہ دار کھانسی کے شربت میں ڈائیتھیلین گلائکول کی غیر محفوظ سطح موجود تھی، جو کہ ایک ایسا ہی زہریلا مرکب ہے۔ اس صورت میں، دوائیوں کی پیکیجنگ میں کسی بنانے والے کا نام نہیں ہوتا ہے لیکن کسی اور ہندوستانی کمپنی کا مینوفیکچرنگ لائسنس نمبر ہوتا ہےکھانسی کے شربت اور دیگر مائع ادویات زہریلے صنعتی سالوینٹس سے آلودہ پائی گئی-

    انٹر نیشنل کر کٹ کونسل نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2024 کی تاریخ دے دی

  • بھارت نے زہرآلود کھانسی کے شربت پر ایک اور دوا ساز کمپنی کا لائسنس معطل کر دیا

    بھارت نے زہرآلود کھانسی کے شربت پر ایک اور دوا ساز کمپنی کا لائسنس معطل کر دیا

    بھارت نے زہرآلود کھانسی کے شربت پر ایک اور دوا ساز کمپنی کا مینوفیکچرنگ لائسنس معطل کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روئٹرز کے مطابق حکومت نے منگل کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ بھارت نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اپریل میں مشال جزائر اور مائیکرونیشیا میں پائے جانے والے کھانسی کے شربتوں میں آلودگی کی نشاندہی کرنے کے بعد منشیات بنانے والی کمپنی کا لائسنس معطل کر دیا ہے-

    گذشتہ سال گیمبیا اور ازبکستان میں 89 بچّوں کی اموات کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپریل میں مارشل جزائر اور مائیکرو نیشیا میں اس بھارتی کمپنی کےتیارکردہ کھانسی کےشربت میں زہرآلود اجزا کی نشان دہی کی تھی اس کے بعد سے ہندوستانی ریگولیٹرز دوا سازاداروں کامسلسل معائنہ کررہے ہیں اس نے عالمی سطح پرسستی ادویہ مہیا کرنےوالے’’دنیا کی فارمیسی‘‘ کے طور پر مشہور بھارت کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے۔

    یمن میں37 سال پرانے سمندر میں تیرتے بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے شمالی صوبہ پنجاب میں واقع کیو پی فارماکیم لمیٹڈ کے تیار کردہ کھانسی کے شربت کی ایک کھیپ سے لیے گئے نمونوں میں ڈائی تھیلین گلائکول اور ایتھیلین گلائکول کی ناقابل قبول مقدار کی نشان دہی کی ہے یہ زہرآلود مواد کھانے پر انسانوں کے لیے ضرررساں ہوتا ہے اور جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں مگر کمپنی نے اس کی تیاری میں کسی بھی غلط یا نقصان دہ مواد سے انکار کیا ہے۔

    پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    بھارت کے نائب وزیر صحت پروین پوار نے پارلیمنٹ کو بتایاکہ دوا ساز ادارے کے احاطے سے شربت کے حاصل کردہ نمونوں کو معیاری نہیں قرار دیا گیا ہے کیو پی فارماکیم لمیٹڈ اور دو دیگر کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ لائسنس معطل کردیے گئے ہیں۔ان کی مصنوعہ ادویہ ہی سے بچوں کی اموات ہوئی تھیں۔ان کے علاوہ میڈن فارماسیوٹیکل اور ماریون بایوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے لائسنس بھی معطل کردیئےگئے ہیں اور ان کی تیار کردہ ادویہ کی برآمد روک دی گئی ہے تاہم میڈن فارماسیوٹیکل اور ماریون بائیوٹیک نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

    یمن میں37 سال پرانے سمندر میں تیرتے بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع

    واضح رہے کہ بھارت نے جون سے کھانسی کے شربت کی برآمدات کی جانچ سخت کر دی ہے، جس کے تحت کمپنیوں کے لیے مصنوعات برآمد کرنے سے قبل سرکاری لیبارٹری سے تجزیے کا سرٹی فکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

  • کھانسی کے شربت سے ہلاکتیں،بھارتی دوا ساز کمپنی کے 3 ملازمین گرفتار،2 کی تلاش جاری

    کھانسی کے شربت سے ہلاکتیں،بھارتی دوا ساز کمپنی کے 3 ملازمین گرفتار،2 کی تلاش جاری

    بھارتی دوا ساز کمپنی Marion Biotech کے کھانسی کا شربت پینے سے بچوں کی اموات کے معاملے میں کمپنی کے 3 ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا۔

    بھارتی ریاست اترپردیش اسٹیٹ ڈرگ اتھارٹی کے مطابق دوا کے 36 میں سے 26 نمونوں میں زہریلے مادے پائے گئے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے کھانسی کا شربت بنانے والی کمپنی کے 3 ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 2 ڈائریکٹرز کی تلاش جاری ہے۔

    بھارتی دوا ساز کمپنی پرگیمبیا میں 69 بچوں کی ہلاکت کا جرم ثابت،انکوائری کمیٹی کا سخت کاروائی کا مطالبہ

    کھانسی کے شربت میں زہریلے مادوں کے انکشاف کے بعد بھارت کی جانب سے الرٹ جاری ہونے کا امکان ہےدوسری جانب بھارتی وزارت صحت نے واقعے پرکوئی بیان جاری نہیں کیا۔

    رپورٹس کے مطابق بھارتی کمپنی کی دوا پینے سے گیمبیا میں 70 جبکہ ازبکستان میں 19 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جب بھارتی ادویات کا لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں انتہائی زہریلا کیمیکل ایتھلین گلیکول پایا گیا۔

    بھارتی کھانسی کی دوا سے افریقی ملک کے 66 بچے ہلاک

    عالمی ادارہ صحت ڈبلیوایچ او کے مطابق جعلی ادویات سے گزشتہ سال گیمبیا،انڈونیشیا اورازبکستان میں 300 سے زائداموات ہو ئی تھیں، مرنے والوں میں زیادہ تر کی عمریں 5 سال سے کم تھیں۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اکتوبر میں اس سیرپ سمیت بھارت میں بننے والی چار دواؤں سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے ان پر پابندی کا حکم دیا تھا ادارے نے کہا تھا کہ ان ادویات میں ایسے کیمیکلز ہیں جو انسانی جان کےلیے زہر ہیں۔

    گیمبیا میں بھارتی دوا پینے سے بچوں کے گردے میں شدید زخم ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں 69 بچے ہلاک ہوگئے۔

    دوسری جانب میڈن فارما سیوٹیکلزنے الزامات کی تردید کردی تھی جبکہ بھارت میں سرکاری لیبارٹریز سے اس کمپنی کی دواؤں کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں ان ادویات کے ٹھیک ہونے کی رپورٹ آئی ہے بھارتی حکام نے بھی عالمی ادارہ صحت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

    انڈونیشیا:100بچوں کی ہلاکت کے بعد کھانسی کے شربت پر پابندی

    لیکن عالمی ادارہ صحت نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ صرف اپنے مینڈیٹ کی پیروی کر رہی ہے اور "کی گئی کارروائی پر قائم ہے-

    ہفتوں کی تحقیقات کے بعد، گیمبیا کی پارلیمانی کمیٹی نے اب سفارش کی ہے کہ حکام کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں ملک میں میڈن فارماسیوٹیکل کی تمام مصنوعات پر پابندی لگانا اور فرم کے خلاف قانونی کارروائی کرنا شامل ہے۔

    کمیٹی نے کہا کہ وہ "اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ میڈن فارماسیوٹیکلز مجرم ہے اور اسے آلودہ ادویات برآمد کرنے کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے”۔