Baaghi TV

Tag: کلائمٹ چینج

  • شمسی توانائی سے چلنے والے ماحول دوست ”شمسی چولہے“

    شمسی توانائی سے چلنے والے ماحول دوست ”شمسی چولہے“

    گیس کی قلت اور مہنگائی کا متبادل افغانستان اور افریقی ممالک میں شمسی توانائی سے چلنے والے ”شمسی چولہے“ متعارف کرائے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں مسلسل کاٹے جارہے جنگلات اور کم ہوتے گیس کے ذخائر کے باعث ایندھن کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کیلئے اٹھایا گیا قدم اب دوڑ کی شکل اختیار کرگیا ہےلکڑی کو بطورایندھن استعمال کرنا اور جلانا ہی بنیادی طورپرجنگلات کٹنےاورگلوبل وارمنگ کا ایک سبب ہے اس صورت حال میں شمسی توانائی ایک حل ہے جس کی مدد سے ایندھن کی کمی پوری کی جا سکتی ہے۔

    ساس نے حاملہ بہو کو زندہ جلا دیا

    ان چولہوں یا کُکرز میں سورج کی روشنی کو ایک مرکزی نقطہ پر مرکوز کرنے کے لیے آئینے کا استعمال کیا جاتا ہے، یہ توانائی کی ایک انتہائی سستی شکل ہے اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ اس طرح کھانا بنانے کا عمل انتہائی سست ہوجائے گا توآپ غلط سوچ رہے ہیں یہ کُکرز بالکل اسی طرح کھانا بناتے ہیں جس طرح آگ والے چولہوں پر بنتا ہے۔

    لکڑی جلائے جانے پر دھواں خارج کرتی ہے، لیکن جب سولر ککر استعمال کیا جائے تو اس مضر صحت دھوئیں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو سانس کے ساتھ اندر جاتا ہے اوربعض اوقات کینسر جیسے موذی مرض کا باعث بن جاتا ہےفغانستان اور بعض افریقی ممالک میں ان چولہوں کا استعمال جاری ہے، اور یہ پاکستان کے ریگستانی یا دیہی میں بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں یہ چولہے کمرشل سطح پر بھی تیار کئے جاتے ہیں-

    قبول نہیں کرتے کہ سعودی عرب کو ہمارا دشمن سمجھا جائے،ایران

    کابل کے غلام عباس سولر تندور اور چولہے بناتے ہیں انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے غلام عباس بے بتایا کہ ’یہ چولہا پہلی بار غزنی میں بنتا ہوا میں نے دیکھا تھا، پھر کئی جگہ اور بنتا دیکھا، چونکہ یہی میرا پیشہ تھا تو پہلے میں نے 2 چولہے بنائے پھر میرے دوستوں اور ہمسایوں نے حوصلہ افزائی کی ،لوگ میرے بنائے ہوئے چھوٹے سائز کے سولر چولہے بطور خاص پسند کرتے ہیں اگرچہ کارکردگی بڑے چولہوں کی بہتر ہوتی ہے، مثلاً چار لیٹر والےجو 18 سے 20 منٹ میں پانی کو ابالتے ہیں۔

    اسلام آباد: دفعہ 144کی خلاف ورزی پر تحریک انصاف کے خلاف مقدمہ درج

    غلام عباس کا کہناتھا کہ ہمارے پاس بجٹ کی کمی ہے اس لیے اس کاروبار کو وسعت نہیں دے سکتےمیرا ارادہ ہےاس مفید کام کو انٹرنیشنل لیول تک لے جاؤں، حالانکہ فی الوقت لوگوں کےمطالبے کے باوجود میں افغانستان کےدوسرےصوبوں تک بھی اپنے کام کو وسعت نہیں دے پایا۔ لوگ میرے چولہوں کو یہاں کابل،خوست وغیرہ میں خرید کر اپنےساتھ دوسرے صوبوں کو لے جاتے ہیں ابھی مجھے پختون بھائی کی دبئی سے کالآئیآج کل مجھے دبئی سے کالز زہادہ آ رہی ہیں-

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    برطانوی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے غلام عباس نے بتایا کہ اس کا کچھ سامان تو ہمارے ملک کا بنا ہوا ہے جبکہ لوہے کی پلیٹس پاکستان، چین اور روس سے آتی ہیں۔ اس کا شیشہ بھی چین اور ایران سے آتا ہے یہ بازارمیں خام مواد پرانحصار کرتا ہےجبکہ بازار میں کسی بھی چیزکی مقررقیمت نہیں تو ان چولہوں کی قیمتیں بھی مقرر نہیں۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے افغان اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات

  • 2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ 2100 تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی کارنیگی میلن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے زمین کو درپیش مختلف گرین ہاؤس گیس کے اخراج کے سبب ہونے والے برف کے پگھلاؤ کا اندازہ لگایا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    تحقیق میں سامنے آیا کہ زمین کا درجہ حرارت اگر 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود بھی کر دیا جائے تو زمین پر موجود تقریباً نصف گلیشیئر پگھل سکتے ہیں گلیشیئرز کا ختم ہونا مقامی آبی چکر پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے اور تودوں کے گرنے اور سیلابوں میں اضافے کا سبب ہوسکتا ہے۔

    ماضی میں بھی ماہرین خبردار کر چکے ہیں ہیں دنیا بھر میں گلیشیئرز گلوبل وارمنگ کے سبب تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ایمیزون جنگلات کی تباہی سے بہت دور واقع مستقل برفانی ذخائر مثلاً ہمالیہ اور انٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

    بیجنگ نارمل یونیورسٹی سے وابستہ سینی یانگ اور ان کےساتھیوں نے 1979 سے 2019 کےدرمیان آب و ہوا میں تبدیلی کےاثرات کےان دونوں مقامات کا جائزہ لیا ان رابطوں کو ٹیلی کنیکشن (دور سے روابط) کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں بطورِ خاص ایمیزون پر توجہ دی گئی جو ایک جانب کاربن جذب کرنے کا اہم ترین مقام اور خود کلائمٹ چینج کی جگہ بھی ہے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون برساتی جنگلات کی تیزی سے کٹائی 15,000 کلومیٹر دور تبتی سطح مرتفع پر درجہ حرارت اور بارش کو متاثر کر سکتی ہے اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت اور نمی میں کمی سےدوردرازسطح مرتفع تبت اورانٹارکٹیکا کی برف پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں اگرچہ تبت اور ہمالیہ، ایمیزون سے 15000 کلومیٹردورہےلیکن چینی ماہرین نےان دونوں کے باہمی اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

    ماہرین نے دیکھا کہ 1979 سے ایمیزون کا درجہ حرارت بڑھنے سے تبت اور مغربی انٹارکٹک برف کی اطراف پر درجہ حرارت بڑھا لیکن ایمیزون میں بارش اور نمی کی زیادتی انٹارکٹک اور تبت پر نمی اور برسات کم ہوئی۔

    گزشتہ برس ستمبر میں سائنس دانوں نے بتایا کہ اینٹارکٹیکا کا تھویٹس گلیشیئر گزشتہ 200 سالوں سے زیادہ عرصے میں جتنا پگھلا ہے اس سے دُگنی رفتار سے گزشتہ چند سالوں میں پگھلا ہے۔

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    تیزی سے پگھلتا یہ گلیشیئر اکیلا ہی سطح سمندر میں 10 فِٹ کا اضافہ کر سکتا ہے لیکن دیگر محققین نے پیش گوئی کی ہے کہ دوسرے بڑے گلیشیئرز بھی سطح سمندر میں بڑا اضافہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اینٹارکٹیکا کے پائن آئی لینڈ آئس شیلف 1.6 فِٹ جبکہ مشرقی اینٹارکٹیکا کی برف کی چادر 2500 تک 16 فِٹ تک کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

    سطح سمندر میں اضافے سے شینگھائی اور لندن جیسے کئی شہر کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    جرنل سائنس میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ریاست پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ٹیم نے بتایا کہ اگر زمین کا درجہ حرارت اس ہی طرح بڑھتا رہا تو زمین پر موجود 2 لاکھ 15 ہزار گلیشیئرز میں سے کتنے باقی رہیں گے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

  • موسمی تبدیلیوں نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی، ماحول سے متعلق مسائل کی سنگینی میں اضافہ

    موسمی تبدیلیوں نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی، ماحول سے متعلق مسائل کی سنگینی میں اضافہ

    موسمی تبدیلیوں نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی،ماحول سے متعلق مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے موثر اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی : سال رواں کے سیلاب سے متعلق ’’پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ‘‘ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے ہونے والے براہ راست نقصانات کا تخمینہ 14.9ارب ڈالر لگایا گیا ہے جبکہ مجموعی معاشی خسارہ 15.2ارب ڈالرکا ہوا ہے، جو ملکی معیشت کو ناک آؤٹ کردینے والا نقصان ہے۔

    عالمی بینک کی جانب سے رواں ماہ جاری کردہ ’’کنٹری کلائمیٹ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ‘‘ میں پاکستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کے بعد بحالی اور مرمت وتعمیرنو کے کاموں پر کم سے کم 16.3ارب ڈالر کے اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

    بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے 2050 تک پاکستان کی جی ڈی پی میں کمی کا خدشہ ہے 2030 پاکستان کو جی ڈی پی کا 10 فیصد موسمیاتی تبدیلی پر خرچ کرنا ہوگا جبکہ زراعت اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دینا ہوگی موسمیاتی تبدیلی سے بچنے کے لیے شعبہ زراعت، توانائی میں اصلاحازت ناگزیر ہیں۔

    حالیہ سیلاب سے پاکستان میں 80 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے، سیلاب کے باعث تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر جبکہ 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے تباہ کن سیلاب کے براہ راست نتیجے کے طور پر پاکستان میں غربت کی شرح میں 3.7 تا 4.0 فیصد اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مزید 84 لاکھ سے 91 لاکھ افراد غربت کے شکنجے میں جکڑے جائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 1700 افراد کی اموات ہوئی جبکہ فوری طور پر موسمیاتی تبدیلی سے بچنے کے لیے انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے موسمیاتی تبدیلی سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    موسمی تبدیلیوں نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے کیونکہ ایک طرف تو پاکستان کے پاس گلیشیئرز کی صورت میں دنیا بھر میں برف کے تیسرے سب سے بڑے ذخائر ہیں اور دوسری جانب ملک میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافے کے باعث پارہ مسلسل اوپر کی طرف جارہا ہے۔

    پاکستان بزنس فورم کی ڈاکٹر عروہ الٰہی کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو بڑھتا ہوا درجہ حرارت بحیرہ عرب کو گرما رہا ہے، دوسری جانب گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے ماحول سے متعلق مسائل کی سنگینی میں اضافہ ہورہا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی بینک نے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لیے 3 ارب ڈالر سے زیادہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے-

    پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ عالمی بینک داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں معاونت بھی فراہم کرے گا، اسی طرح یہ توانائی کی استعداد اور بچت کے پروگرام میں بھی مدد کرے گا، یہ صوبوں کو سولر پروجیکٹ کی تنصیب کے منصوبوں کو دی جانے والی مدد کے علاوہ ہوگا-

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے خرم دستگیر نے وفد کو بتایا تھا کہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں سخت اور مشکل فیصلے کیے ہیں حالانکہ یہ سیاسی طور پر کرنا مشکل تھا لیکن حکومت پُرعزم ہے کہ توانائی کے شعبے میں پائیداری کو یقینی بنایا جائے گا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، انہوں نے عالمی بینک کے کردار کو سراہا کہ انہوں نے مشکل دور میں کیے گئے سخت فیصلوں کو تسلیم کیا موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان کی معیشت اور توانائی کے شعبے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں وفد کو سی اے ایس اے-1000 اور داسو پاور پروجیکٹ پر بھی بریفینگ دی گئی۔

    قبل ازیں عالمی بینک نے 50 کروڑ ڈالر قرض کے دو معاہدے کیے تھے، جو علیحدہ علیحدہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومت کے ساتھ کیے گئے تھے پنجاب ریزیلینٹ اینڈ انکلوسیو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن منصوبے کے لیے 20 کروڑ ڈالر جبکہ خیبرپختونخوا ایکسسیبلٹی پروجیکٹ کے لیے 30 کروڑ ڈالر کے قرضے تھے۔

  • کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی:وزیراعظم شہباز شریف

    کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی:وزیراعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ پاکستان کلائمیٹ کونسل کو موسمیاتی تبدیلی پر مؤثر قومی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

    امریکی سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد…

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پاکستان کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی جیسے کہ تخفیف، موافقت اور موسمیاتی فنانس۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی کونسل کو مکمل فعال ادارہ بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مستقبل میں موسمیاتی خطرات کی نشاندہی اور قومی سطح پر جامع پلان تیار کیا جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے اور بروقت تیاری کے لئے مستقل بنیادوں پر وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کا اشتراک عمل تیار کیا جائے۔

    لاہور:چڑیا گھر کے شیروں اور شیرنیوں کے ڈی این اے کروانے کا فیصلہ

    وزیراعظم کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کونسل مشترکہ مفادات کونسل کی طرز پر بنائی گئی تھی جس میں وفاق اور تمام صوبائی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حامل گھروں اور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لئے نیشنل پلان بنانے کی بھی ہدایت دے دی۔

  • عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج سے برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کئی صدیوں سے برطانیہ میں کھلنے والے پھول گویا کسی گھڑی کے پابند تھے لیکن اب موسمِ بہار سے قبل ہی یہ پھول کھل چکے ہیں اور ان میں لگ بھگ ایک ماہ کا وقفہ ہوا ہے-

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    ماہرین کے مطابق پھول کھلنے کا دورانیہ دھیرے دھیرے پیچھے ہوا ہے۔ ورنہ 1980 سے قبل پھول اپنے وقت پر کھل رہے تھے اور موسمِ بہار پر رنگ بکھیرتے رہے تھے لیکن اب پھولوں کے کھلنے کا وقت ایک ماہ تک پیچھے آچکا ہے۔

    برطانوی سائنسدانوں نے 1753 سے 2019 تک 406 اقسام کے پھولوں کا جائزہ لیا ہے ڈیٹا کے تجزیئے کے بعد پریشان کن صورتحال سامنے آئی ہے معلوم ہوا کہ 1986 کے مقابلے میں 2019 میں پھول کھلنے کا دورانیہ ایک ماہ پیچھے چلا گیا ہےلیکن تمام اقسام کے پھولوں کے کھلنے کا وقت یکساں نہیں تھا تمام پودے ایک ہی وقت میں نہیں کھلتے۔ جڑی بوٹیاں اور درخت سب سے پہلے پھول ہوتے ہیں، کبھی اپریل کے وسط میں۔ جب کہ جھاڑیوں کو کھلنے میں تقریباً ایک ماہ کا وقت لگتا ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    ماہرین نے اس کی وجہ عالمی تپش اور کلائمٹ چینج کو قرار دیا ہے اور یوں بہار آنے سے پہلے ہی پھول کھلنے لگے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے برفبار، گرمی، بارش اور برف پگھلنے کے معمولات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس طرح بعض فصلوں کی کونپلیں اور پھول وقت سے پہلے ہی کھلنے لگے ہیں۔

    ان میں وہ پھول سرِ فہرست ہیں جن کی زندگی کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے یعنی وہ بدلتے درجہ حرارت کو زیادہ تیزی سے اختیار کررہے ہیں اگر درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہتا ہے تو ماہرین کو خدشہ ہے کہ پہلے پھول آنے کی تاریخوں میں مزید تبدیلی آئے گی، ممکنہ طور پر مارچ یا اس سے بھی پہلے تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ یہی سلسلہ جاری رہا تو اس سے فصلیں شدید متاثر ہوں گی اور غذائی تحفظ کو دھچکا لگے گا۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    دوسری جانب پھول کھلنے کے بعد مکھیاں اور دیگر جاندار زردانوں کو ایک سے دوسرے مقام تک لے جاکر پھولوں کے فروغ میں اہم اضافہ کرتے ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ پھول کھلے رہ جائیں لیکن اس پر منڈلانے والے بھنورے اور شہد کی مکھیاں غائب ہوں اس عمل سے کئی امراض ، جانوروں کی نقل مکانی اور دیگر مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں –

    دوسری جانب عین اسی طرح کی کیفیت جاپان میں بھی دیکھی گئی ہے جہاں چیری کے پھول وقت سے پہلے کھلنے لگے ہیں۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت