Baaghi TV

Tag: کلبھوشن یادیو

  • میرے سینے میں بہت کچھ ، کبھی کبھار جنرل باجوہ کے خلاف بول دیتا ہوں، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میرے دل میں بہت کچھ چھپا ہوا ہے، اور جب میرا مزاج خراب ہوتا ہے تو میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف باتیں کر دیتا ہوں۔ جب میں کچھ کہتا ہوں تو باجوہ میرے بڑوں سے رابطہ کرکے شکایات کرتے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو ہمارے پاس بھارتی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے اور بھارت کو اس بات کی تکلیف ہے کہ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو سب سے بڑا دھچکا یہ لگا ہے کہ کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دو نسلوں نے اتنی سیاست نہیں کی جتنی جنرل باجوہ نے اپنے پانچ سالہ دور میں کی ہے۔ نومبر کے دس دنوں میں جب نئے چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری ہونی تھی، اس دوران جنرل باجوہ روزانہ مختلف منصوبے لے کر آتے تھے جن میں ان کی تصویر بھی شامل ہوتی تھی۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ اگر میں زیادہ بولوں تو پھر شکایات بڑھ جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ آرمی چیف اور جنرل باجوہ میں بہت فرق ہے، اسی وجہ سے باجوہ انہیں روکنے کے لیے سخت کوششیں کر رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ باجوہ کی شرط تھی کہ یا تو ان کی خدمات جاری رکھی جائیں یا ان کے منتخب کیے گئے فرد کو ہی آرمی چیف بنایا جائے۔

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 5 ہزار 900 روپے مہنگا

    اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

    ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان، میدانی علاقوں میں شدید گرمی

    جنرل اوپندر دیویدی کا مذہبی آشرم کا دورہ ،بھارتی فوج کی سیکولر روایت پر سوالیہ نشان

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے کلبھوشن یادیوکو وکیل فراہم کرنے کیلئے بھارت کو ایک اور موقع دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کلبھوشن یادیوکو وکیل فراہم کرنے کیلئے بھارت کو ایک اور موقع دیدیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کے لیے 13 اپریل تک بھارت کو ایک اور موقع دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل لارجر بینچ نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کلبھوشن یادیو کو حکومتی وکیل فراہم کرنے کے لیے وزارت قانون کی درخواست پر سماعت کی-

    اٹارنی جنرل نے بھارت سے کلبھوشن پر ہوئے رابطوں کی پیشرفت سے آگاہ کیا اٹارنی جنرل نے کہا بھارت چاہتا ہے کہ یہاں کارروائی رک جائے اور وہ عالمی عدالت انصاف جا سکے۔

    :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے میں پاکستان کی عدالت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور سزائے موت پر نظرثانی کا معاملہ پاکستان پر ہی چھوڑا گیا، شاید بھارت فیصلہ ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا۔

    عدالت نے استفسار کیا کیا اس معاملے پر کوئی ایکٹ بھی پاس ہو گیا ہے؟ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بتایا گزشتہ برس دسمبر میں اس معاملے پر ایکٹ منظور ہو گیا ہے، جس کے مطابق غیر ملکی سے متعلق ایسی درخواست وزارت قانون دائر کر سکتی ہے، مگر بھارت کلبھوشن کو وکیل فراہمی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور وہ کہتا ہے نہ آپ کا پہلا قانون ٹھیک تھا نہ ہی نیا ایکٹ۔

    اٹارنی جنرل نے کہا بھارت صرف اور صرف پاکستان کو شرمندہ کرنا چاہتا ہے، الحمد اللہ پاکستان نے بھارت کا ہر حربہ اپنے اقدامات سے ناکام بنادیا۔

    چیف جسٹس نے کہا بھارت اپنے شہری کو انسان کے طور پر بھی دیکھے، کلبھوشن بھارتی شہری ہے لیکن ہم اسے ایک انسان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    ہمارے ارکان اسمبلی بکاؤ مال نہیں ، شاہ محمود قریشی

    اٹارنی جنرل نے کہا بھارت کلبھوشن کو صرف ایک اثاثہ سمجھتا ہے انسان نہیں، بھارت نے جب کلبھوشن کو بھیجا تو اس کو انسان کے کاغذوں سے نکال دیا اور کہا تھا یہ مبارک پٹیل ہے کلبھوشن نہیں، جب اس طرح کے انٹیلی جنس افسر بھجوائے جاتے ہیں تو اس کا ایک ڈیزائن ہوتا ہے، بھارت اس لئے اس عدالت نہیں آ رہا کہ اس کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔

    عدالت نے بھارت کو ایک اور موقع دیتے ہوئے کہا بھارت کلبھوشن کو انسان سمجھ کر دوبارہ فیصلہ کرے-

    کلبھوشن یادیو کون ہے؟

    حسین مبارک پٹیل کے فرضی نام سے بھارتی خفیہ جاسوس کلبھوشن سُدھیر یادیو کے پاسپورٹ کی کاپی کے مطابق وہ 30 اگست 1968 کو بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر سانگلی میں پیدا ہوا ممبئی کے مضافاتی علاقے پووائی کے رہائشی کلبھوشن یادیو کا تعلق پولیس افسران کے خاندان سے ہے۔

    کلبھوشن یادیو کو یہ فرضی نام، جس کا اس نے اپنی اعترافی ویڈیو میں انکشاف کیا، بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان میں خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے لیے دیا گیا تھا اپنے بیان میں بھارتی شہری نے کہا تھا کہ وہ نیوی میں حاضر سروس افسر ہے، تاہم اس کے اس دعوے کی بھارت نے تردید کی تھی۔

    8 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالرتک پہنچ گیا

    کلبھوشن یادیو نے مزید کہا کہ اس نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں شمولیت اختیار کی، جہاں اس نے دسمبر 2001 تک فرائض انجام دیئے پارلیمنٹ حملے کے بعد اس نے بھارت میں انفارمیشن اینڈ انٹیلی جنس جمع کرنے کے لیے اپنی خدمات دینے کا آغاز کیا میں اب بھی بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہوں اور بطور کمیشنڈ افسر میری ریٹائرمنٹ 2022 میں ہوگی۔‘

    جبکہ بھارت نے کہا کہ وہ نیوی کا سابق افسر ہے۔

    کلبھوشن کے اہلخانہ نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ کلبھوشن یادیو وقت سے قبل نیوی سے ریٹائرمنٹ لے کر کاروباری شخص بن گیا تھا اور اسی سلسلے میں وہ اکثر بیرون ملک بھی جاتا تھا۔

    تھر کول پلانٹ میں دھماکہ،5 افراد زخمی

    ڈی این اے انڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’کلبھوشن یادیو ایرانی بندرگاہ شہر بندر عباس سے فیریز آپریٹ کرنے کے قانونی کاروبار سے منسلک تھا۔

    کلبھوشن کا کہنا تھا کہ اس نے 2003 میں انٹیلی جنس آپریشنز کا آغاز کیا اور چابہار، ایران میں کاروبار کا آغاز کیا جہاں اس کی شناخت خفیہ تھی اور اس نے 2003 اور 2004 میں کراچی کے دورے کیے 2013 کے آخر میں اس نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کی اور کراچی اور بلوچستان میں کئی تخریبی کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔

    کلبھوشن نے کہا کہ پاکستان میں اس کے داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا اور قتل سمیت مختلف گھناؤنی کارروائیوں میں ان سے تعاون کرنا تھا بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی متعدد کارروائیوں کے پیچھے ‘را’ کا ہاتھ ہے۔

    ناکے پرگاڑی نہ روکنے پرپولیس نے فائرنگ کردی،کار سوار نوجوان زخمی

    کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو پاکستان کے حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔

    تاہم انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے الزام لگایا کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستان نے ایران سے اغوا کیا۔

    بھارتی انٹیلی جنس عہدیداروں نے شبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی انٹیلی جنس کلبھوشن یادیو کے فون کی نگرانی کر رہی تھی اور اس کی فون کالز سے اس کی شناخت ظاہر ہوئی۔

    فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور سزائے موت سنائی

    عدم اعتماد ق لیگ، ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں کے بغیر بھی ہوجائے گی، شاہد خاقان…

  • کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست،دلائل طلب

    کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست،دلائل طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے نئی قانون سازی کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے سے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کوجواب دیا کہ ایک ایکٹ پاس ہوا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی اٹارنی جنرل سے نئی قانون سازی کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے گئے

    @MumtaazAwan

    وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،

    قبل ازیں اس حوالہ سے وزیرقانون فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل اورکلبھوشن کیس پروضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بل کی مخالفت کرنے والوں نے شاید اسے پڑھا نہیں ،قونصلر رسائی نہ ملنے پر بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیاپاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کا بھرپور دفاع کیا بھارت نے کلبھوشن کی بریت کی استدعا کی تھی،عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کی بریت کی درخواست مسترد کی،عالمی عدالت انصاف نے قونصلر رسائی کی درخواست منظور کی،عالمی عدالت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بل لائے،کلبھوشن کیس ملکی سیکیورٹی کا معاملہ ہے،کلبھوشن کا معاملہ ریڈ لائن ہے،کیسے پارلیمان ہیں جنہیں ملکی مفاد کا ہی پتہ نہیں ،بھارت کے ناپاک عزائم تھے،کلبھوشن سے متعلق قانون سازی پر بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں ،اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوں کو سمجھ نہیں، وہ کیسے سیاستدان ہیں،اپوزیشن کو قومی سلامتی کا ادراک کیوں نہیں،قانون سازی کے معاملے پر ڈس انفارمیشن پھیلائی گئی،پاکستان کلبھوشن کیس جیت چکا ہے،پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے،

    پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

    کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

    کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

    کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

    کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

    کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

    کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    پاکستانی عدالت کلبھوشن کا کیس نہیں سن سکتی، بھارت

    کلبھوشن کیس،وزیر قانون اور ن لیگی رہنما لڑ پڑے،کمیٹی کا چیئرمین نہیں لیکن آپکا نوکر بھی نہیں،فروغ نسیم کا جواب

    بھارت کلبھوشن کے ساتھ اکیلے کمرے میں قونصلر رسائی چاہتا،اٹارنی جنرل،عدالت کا حکم بھی آ گیا

    گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

    کلبھوشن کیس،مناسب ہے بھارت کو ایک اور موقع دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ