Baaghi TV

Tag: کلمہ طیبہ

  • کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟

    کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟

    ریاض :سعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اپنے قومی ترانہ اور سبز پرچم سے متعلق شاہی فرمان میں تبدیلی کے قریب ہے جو اسلامی عقائد اور اسلام کے مرکز کی عکاسی کرتا ہے۔

    خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی غیرمنتخب شوریٰ کونسل نے تبدیلیوں کے حق میں ووٹ دیا اور یہ سعودی ولی عہد کی جانب سے سعودی قومیت اور قومی فخر کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

    شوریٰ کے فیصلوں پر موجودہ قوانین اور ڈھانچہ اثرانداز نہیں ہوتا تاہم ووٹ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اس کے اراکین کا تقرر فرماں روا کرتے ہیں اور اس کے فیصلے عموماً قیادت کی رضامندی سے ہوتے ہیں۔

    سرکاری میڈیا نے رپورٹ میں بتایا کہ تبدیلیاں پرچم، نعرہ اور قومی ترانے کے نظام میں ترامیم کے حق میں ہیں لیکن اس کے مندرجات سے نہیں ہیں۔

    مقامی میڈیا نے بتایا کہ مجوزہ تبدیلیاں ریاستی نشانات کے باقاعدہ استعمال کے لیے واضح تعریف، پرچم کی اہمیت کی آگاہی پھیلانے اور پرچم کو بے حرمتی یا نظرانداز ہونے سے بچانے کے حوالے سے ہیں۔

    اس حوالے سے مقامی میڈیا کا کہنا ہےکہ گزشتہ ہفتے سعودی پولیس نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام تھا کہ سعودی پرچم کو کچرا کنڈی میں جمع کرکے اس کی بے حرمتی کی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شوریٰ کونسل نے پرچم سے متعلق تقریباً 50 سالہ پرانے شاہی فرمان میں ترامیم کے ڈرافٹ کی منظوری کے لیے ووٹ دیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ترامیم کونسل کے رکن سعد العطیبی نے پیش کی تھیں اور کونسل کے اراکین میں بحث سے قبل ذیلی کمیٹی میں زیر بحث آئی تھیں۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے بزرگ والد شاہ سلمان کی حمایت کے ساتھ سعودی شناخت کا تعین نو کر رہے ہیں، جس کی تعریف پہلے سے وضع نہیں کی گئی ہے۔اس کی تازہ مثال حال ہی میں جاری ہونے والا شاہی فرمان ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 22 فروری کو سعودی عرب کا یوم تاسیس منایا جائے گا۔

    قومی دن 18 ویں صدی میں محمد بن سعود کی جانب سے پہلی سعودی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی کوشش کی یاد میں منایا جائے گا۔

    حکومت نے ہدایات دی ہیں کہ اسی ہفتے میں سعودی عرب میں ریسٹورنٹس اور کافی شاپس عربک کافی کو سعودی کافی کا نام دیں جو ثفاقتی عناصر کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی کوشش ہے، جس سے سعودی شناخت اور اس کے روایات کا اظہار ہوتا ہے۔

    یاد رہے کہ 1973 میں سعودی پرچم میں سفید رنگ میں کلمہ طیبہ لکھا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدﷺ اللہ کے آخری پیغمر ہیں۔

    سعودی پرچم میں کلمہ طیبہ کے نیچے تلوار ہے، اسی طرح مکہ میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان زائرین عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں جہاں پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی ولادت ہوئی اور وحی نازل ہوئی۔

    سعودی عرب کے پرچم اور قومی ترانے کے قانون میں تبدیلی سے متعلق شوریٰ کونسل کی تجاویز صرف سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کی جارہی ہیں جو حتمی منظوری کے لیے فرماں روا شاہ سلمان کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

  • 3 خاندانوں کا قبول اسلام

    3 خاندانوں کا قبول اسلام

    قصور
    چونیاں کے نواحی گاؤں گہلن ہٹھاڑ میں تین عیسائی خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا قبول اسلام کی تقریب میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور کلمہ طیبہ پڑھنے والوں کو مبارک باد دی اور فضاء اللّٰہ اکبر اور کلمہ طیبہ سے گونج اٹھی
    تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی قصبے گہلن ہٹھاڑ مسجد صوفی دین محمد والی میں قاری سلیم ساجد ربانی چیئرمین تحریک تحفظ نو مسلمین قصور کے زیر نگرانی و کاوش سے تین عیسائی خاندانوں کے چودہ مرد و خواتین اور بچوں نے اسلام قبول کر لیا
    اسلام قبول کرنے والے چودہ افراد میں پانچ مرد سات خواتین اور دو بچے شامل ہیں قبول اسلام اور کلمہ طیبہ پڑھانے کی سعادت پروفیسر ڈاکٹر عبدالسمیع چیئرمین تحریک تحفظ نو مسلمین پاکستان نے ادا کی
    اسلام قبول کرنے والے دو خاندان ضلع قصور کے شہر کوٹ رادھاکشن اور ٹھینگ کھتریاں جبکہ تیسرا خاندان میاں چنوں کا رہائشی ہیں قبول اسلام کی روح پرور عالی شان اور پر نور تقریب میں علاقہ بھر سے سینکڑوں افراد نے شرکت کی کلمہ طیبہ پڑھنے اور اسلام قبول کرنے کے بعد خواتین کے نئے اسلامی نام نسرین ۔پروین۔ رمشاء۔ علشبہ۔مسکان۔ عابدہ اور معافیہ رکھے گئے
    جبکہ دو بچوں کے نئے اسلامی نام ساجد اور ساجدہ رکھے گئے ہیں
    اسلام قبول کرنے والے مردوں کے نئے اسلامی نام۔ ساغر۔ علی ۔محمد شاہد۔محمد سلیم ۔محمد وقار۔ رکھے گئے ہیں ۔ تقریب میں دعاء خیر وبرکت کی سعادت مولانا محمد شفیع امیر مرکزیہ ضلع قصور نے حاصل کی