Baaghi TV

Tag: کمسن ملازمہ

  • رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

    رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے رضوانہ تشدد کیس میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ ملزمہ صومیہ عاصم پر فرد جرم عائد کردی ہے

    عدالت میں کیس کی سماعت سول جج عمر شبیر نے کی،کمسن ملازمہ رضوانہ کی والدہ اور ملزمہ صومیہ عاصم اپنے اپنے وکلا کے ساتھ عدالت پیش ہوئیں،دوران سماعت عدالت نے فردجرم پڑھ کر سنائی،ملزمہ صومیہ عاصم نے صحت جرم سے انکار کر دیا ،عدالت نے ملزمہ صومیہ عاصم کے خلاف ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کردیا ہ، عدالت نے اگلی سماعت پر گواہان کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کر لیا، عدالت نے کیس کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی،

    گزشتہ برس24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

    گھریلو تشدد کی شکار بچی رضوانہ کو 4 ماہ تک جنرل اسپتال میں زیر علاج رکھنے کے بعد ڈسچارج

  • رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے،وکیل

    رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے،وکیل

    رضوانہ تشدد کیس کی ملزمہ کے ریمانڈ میں عدالت نے توسیع کر دی ہے.

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے رضوانہ تشدد کیس میں ملزمہ سومیاعاصم کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی، ملزمہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دنوں کی مزید توسیع کی گئی ،

    رضوانہ تشدد کیس میں فیصل جٹ ایڈوکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 روز کا جوڈیشل ریمانڈ آج مکمل ہوا ،ملزمہ صومیہ کا ابھی تک انتظار کر رہے ہیں ،خیرپور میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ،رضوانہ کی سرجری ہوئی اس کی پنڈلی سے گوشت لیکر چہرے کی سرجری کی گئی ،بچی کی حالت ایسی ہے جیسے کوئی ڈھانچہ ہوتا ہے ،پوری قوم سے درخواست ہے کہ بیٹی رضوانہ کے لیے دعا کریں رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے ،جے آئی ٹی میں جتنی دفعہ ہمیں بلایا گیا ہم پیش ہوئے سابقہ سول جج صاحب ابھی تک جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے کوئی بھی جے آئی ٹی سے بالاتر نہیں ہے ،ہمیں جے آئی ٹی پر مکمل اعتماد ہے

    قبل ازیں چیئرپرسن نیلوفر بختیار نے ٹیم کےہمراہ لاہورکے ہسپتال میں رضوانہ کی خیریت دریافت کی.اس موقع پر پرنسپل پی جی ایم آئی ڈاکٹر فرید ظفر نے بچی کی صحت پر تفصیلی بریفنگ دی.کمیشن نے بچی کی والدہ کو مکمل قانونی مدد کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ بچی کو انصاف ضرور ملے گا

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے جب کہ متاثرہ بچی کی پٹیاں 24 سے 48 گھنٹے بعد تبدیل کی جاتی ہیں،ڈیڑھ ماہ تک رضوانہ کے زخموں کی بھرائی کا عمل جاری رہےگا اور بچی کی پلاسٹک سرجری کی رپورٹ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو پیش بھی کی جائے گی

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا