Baaghi TV

Tag: کملا ہیرس

  • صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے،کملا ہیرس

    صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے،کملا ہیرس

    امریکی سینیٹر اور سابق نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جاری جنگ پر دیے گئے حالیہ خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے-

    اپنے ایک ویڈیو بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ جنگ امریکی عوام کی مرضی کے خلاف ہے، فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور عوامی مسائل جیسے مہنگائی کو نظرانداز کر رہی ہے صدر ٹرمپ نے وہ فیصلہ کیا ہے جسے امریکا کے عوام نہیں چاہتے اور جس سے امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، ٹرمپ کی ایران جنگ کی پالیسی نے روزمرہ کی زندگی میں قیمتوں کے بڑھنے جیسے مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان معاملات پر توجہ دینے میں ناکام رہا ہے، جن سے امریکی عوام حقیقی طور پر متاثر ہو رہے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ شاید اپنی تقریر میں ’فتح‘ کا دعویٰ کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، نہ کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، عوام کی نگاہیں اس جنگ کے حقیقی اثرات پر ہیں، خاص طور پر جب تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ ہے اور اقتصادی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

    ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ملکی وقت میں ایک خصوصی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں مزید سخت کارروائیاں جاری رکھے گا۔

  • ٹرمپ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے، کملا ہیرس

    ٹرمپ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے، کملا ہیرس

    امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی فوجی حملوں اور خامنہ ای کی شہادت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ‘عزم کے لبادے میں لپٹی لاپرواہی’ قرار دیا ہے۔

    بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے، یہ کارروائی ‘خطرناک اور غیر ضروری جوا’ ہے جو امریکی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے-

    کملا ہیرس نے واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی جنگ کی حمایت نہیں کرتیں اور امریکی فوجیوں کو ایک ‘انتخابی جنگ’ کی خاطر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے آئین کے تحت صدر کو کسی بھی جنگی اقدام سے قبل کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے، اس لیے کانگریس کو چاہیے کہ وہ اپنے اختیارا ت استعمال کرتے ہوئے مزید عسکری پیش قدمی کو روکے،ہم ایران کے خطرات سے آگاہ ہیں اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، لیکن موجودہ راستہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

    امریکی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ

    کملا ہیرس نے امریکی فوجیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان بہادر اہلکاروں کے لیے دعاگو ہیں جو خطرناک مشنز پر تعینات ہیں امریکا کو جنگی جنون کے بجائے ذمہ دار اور متوازن قیادت کی ضرورت ہے تاکہ عوام، اتحادیوں اور فوجیوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے 27 امریکی اڈوں پر شدید حملے

  • کملا ہیرس کو میڈیا، اداروں اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود  شکست کیوں؟

    کملا ہیرس کو میڈیا، اداروں اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود شکست کیوں؟

    امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی واپسی کرتے ہوئے دوسری بار امریکہ کے 47ویں صدر کے طور پر کامیابی حاصل کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی رائے شماری اور الیکٹورل کالج دونوں میں کامیابی حاصل کی۔ خاص طور پر امریکی سینیٹ میں اب ری پبلکنز کی اکثریت ہے، جو 52 سیٹوں پر مشتمل ہے۔ 2004 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ری پبلکنز نے عوامی رائے شماری میں کامیابی حاصل کی، جب جارج بش نے 50.7% ووٹ حاصل کیے تھے اور ان کے ڈیموکریٹ حریف جان کیری نے 48.3% حاصل کئے تھے،امریکی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس اور لبرلز اس نتیجے پر شدید غم و غصے کا شکار ہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کون سے عوامل اس تبدیلی کی وجہ بنے ہیں۔

    ٹرمپ کا پیغام اور مہنگائی کا اثر
    امریکہ میں مہنگائی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جس نے ووٹرز کی رائے پر گہرا اثر ڈالا۔ صدر بائیڈن کے دور میں مسلسل مہنگائی نے زندگی کے اخراجات کو بڑھا دیا، خاص طور پر کھانے، رہائش اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، متوسط طبقے اور غریب عوام نے مہنگائی کا شدید اثر محسوس کیا، اور وفاقی ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے باوجود اقتصادی بحالی کا عمل سست دکھائی دیا۔ ری پبلکن رہنما ٹرمپ نے اس نارضگی کو کامیابی سے اپنے فائدے میں بدلتے ہوئے خود کو وہ امیدوار ظاہر کیا جو اقتصادی استحکام بحال کرنے اور اخراجات کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔نیشنل ایگزٹ پولنگ ڈیٹا کے مطابق تقریباً 31% ووٹرز نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ معیشت ہے، جب کہ 35% نے کہا کہ ان کے لیے جمہوریت کی حالت سب سے اہم ہے۔ مزید یہ کہ جن ووٹرز نے معیشت کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، ان میں سے 79% نے ٹرمپ کو ہیریس کے مقابلے میں حمایت دی۔امریکی حکومت کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق، بائیڈن کے دور میں 45 ماہ کے دوران مہنگائی 20.1% بڑھ گئی، جب کہ ٹرمپ کے دور میں یہ شرح صرف 7.1% تھی۔ یہ فرق سالانہ مہنگائی کی شرح میں 5.4% (بائیڈن کے دور) اور 1.9% (ٹرمپ کے دور) تک نمایاں تھا۔

    ٹرمپ کا مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ
    ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اس بات پر زور دیا کہ امریکی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور ان کے پیغام نے عوام کے دلوں میں گہرا اثر ڈالا۔ بہت سے امریکیوں نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے مہنگائی، قرضوں اور ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس نے ان کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ ٹرمپ نے معیشت کی بحالی، مہنگائی میں کمی اور ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی، اور اس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد نے انہیں اپنے مسائل کا حل سمجھا۔

    غیر قانونی تارکین وطن اور سرحدی تحفظ کا مسئلہ
    امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ بھی ایک اہم موضوع رہا۔ بائیڈن کے دور میں غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ ہوا اور سرحدی تحفظ ایک متنازعہ موضوع بن گیا۔ ری پبلکن پارٹی نے اس مسئلے کو اپنے حق میں استعمال کیا اور ٹرمپ نے امریکہ کی سرحدوں پر سیکیورٹی میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا، جس سے بہت سے ووٹرز ان کی حمایت میں آئے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کا مہنگائی، اقتصادی مسائل اور سرحدی تحفظ جیسے عوامی مسائل پر فوکس کرنا تھا۔ کملا ہیریس اور بائیڈن انتظامیہ کے تمام بیانات اور ہالی ووڈ کی حمایت کے باوجود، امریکی عوام نے اپنی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ٹرمپ کے پیغام کو اپنایا۔ یہ انتخابات اس بات کا غماز ہیں کہ حقیقی مسائل، خاص طور پر معیشت، سیاست میں کامیابی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    واشنگٹن: سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکی صدارتی انتخابات جیت چکے ہیں، ٹرمپ کو 2024 کے انتخابات میں اہم ریاستوں میں برتری رہی ہے یہ تیسرے انتخابات ہیں جن میں ٹرمپ کا نام گونج رہا تھا،حالیہ انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاست میں اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔سی این این کے ایگزٹ پولز کے مطابق، 2016، 2020 اور 2024 کے انتخابات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح خراب معیشت نائب صدر کملا ہیرس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی، خواتین میں ان کی حمایت میں اضافے کی کوششیں ناکام ہوئیں، حالانکہ اس دوران اسقاط حمل کے حق میں حمایت میں اضافہ دیکھنے کو ملا، اور کس طرح لاطینی مرد خاص طور پر ٹرمپ کی طرف مائل ہوئے۔

    اس سال کملا ہیرس کو خواتین میں جو برتری حاصل ہوئی، وہ صدر جو بائیڈن اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے کم تھی، جو نائب صدر کے لیے پریشان کن علامت ہے کیونکہ ان کا مقصد خواتین کو اسقاط حمل کے مسئلے پر متحرک کرنا تھا۔ دوسری طرف، ٹرمپ نے مردوں میں اپنی برتری برقرار رکھی۔ لاطینی ووٹرز، خصوصاً لاطینی مردوں میں، 2016 سے ٹرمپ کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سال، لاطینی مردوں نے پہلی بار ٹرمپ کو حمایت دی۔ 2020 میں جو بائیڈن نے ان کی حمایت 23 پوائنٹس سے حاصل کی تھی، لیکن 2024 میں یہ حمایت ٹرمپ کو حاصل ہوئی۔ لاطینی خواتین نے اب بھی ہیرس کو پسند کیا، لیکن یہ فرق پہلے کی نسبت کم تھا۔ دوسری جانب، ہیرس نے سیاہ فام مردوں اور عورتوں میں مضبوط برتری برقرار رکھی۔ سفید فام مردوں میں ٹرمپ کی برتری کم ہوئی۔سفید فام ناخواندہ ووٹرز ہمیشہ سے ٹرمپ کے حامی رہے ہیں، اور یہ رجحان اب بھی برقرار ہے۔ تاہم، سفید فام تعلیمی ڈگری رکھنے والے ووٹرز میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ 2016 میں یہ ووٹرز ٹرمپ کے حق میں تھے، لیکن 2024 میں ہیرس نے ان میں تقریباً 10 پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جو کہ مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف سے تھی۔ ہیرس نے سفید فام خواتین میں تعلیمی ڈگری کے ساتھ 20 پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جو بائیڈن اور کلنٹن کے مقابلے میں بہتری تھی۔

    حالیہ امریکی انتخابات میں نسل، عمر اور طبقاتی فرق میں واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو جمہوریت کے اصولوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور ترقی پسند نظریات کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اسی طرح خواتین، رنگ دار افراد اور تعلیم یافتہ طبقات نے انتخابی عمل میں حصہ داری بڑھائی ہے، جس کا اثر امریکی سیاست پر گہرا پڑا ہے۔2016 کے انتخاب میں جس طرح سے ٹرمپ کی جیت ہوئی، اس کے بعد سے قدامت پسندوں اور ترقی پسندوں کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ 2020 کے انتخابات میں جو بائیڈن کی جیت نے ایک نئی سیاسی سمت کا آغاز کیا، اور اسی دوران امریکہ میں مروجہ سیاسی تقسیم میں مزید اضافہ ہوا۔ خاص طور پر، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انتخابی گفتگو اور بحث میں نئے رجحانات کو جنم دیا ہے۔معاشی حالات، صحت کی خدمات، موسمیاتی تبدیلیوں اور سوشل جسٹس جیسے مسائل نے عوام کے فیصلوں پر اثر ڈالا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور عوامی شعور میں اضافے نے بھی امریکی ووٹروں کے رویوں کو متاثر کیا ہے۔

    یہ انتخابات امریکی سیاست میں ایک نئے دور کی علامت ہیں، جہاں نہ صرف ٹرمپ کی مسلسل حمایت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہیرس اور بائیڈن کی پالیسیوں کے اثرات بھی واضح ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے  صدر منتخب

    ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے صدر منتخب

    امریکی صدر کے انتخاب کیلئے انڈیانا اور کینٹکی کے بعد جارجیا، جنوبی کیرولائنا، ورمونٹ ، ورجینیا اور فلوریڈا میں بھی پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہےجس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کردیا گیا

    وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،فاکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ صدر منتخب ہو گئے ہیں ،سی این این کے مطابق ابھی تک الیکٹورل نتائج مکمل سامنے نہیں آئے، سی این این کے مطابق امریکی صدارتی انتخاب،538 میں سے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ نے 276 اور کملا ہیرس نے 223 الیکٹورل ووٹ حاصل کرلیے ہیں، سات میں 2 سوئنگ اسٹیٹس جارجیا اور شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کامیاب ہو گئے ہیں، پینسلوینیا کی 19الیکٹورل نشستیں بھی ٹرمپ کے نام ہو گئی ہیں،

    ٹرمپ کی فتخ کے تاریخی اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ کی سیاست میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد امریکہ کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات متوقع ہے، جہاں ان کے اقتدار میں مزید سیاسی اور اقتصادی فیصلے ہوں گے جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار صدر منتخب ہونے پر ٹرمپ ہیڈ کوارٹر میں جشن کا آغاز ہو گیا ہے، ٹرمپ کے حامیوں نے نعرے بازی کی، رقص کیا، اور ٹرمپ کو جیت پر مبارکباد دی،ٹرمپ کے ہزاروں ہامی ٹرمپ ہیڈ کوارٹر میں موجود ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ نے وقت فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں اپنے حامیوں سے خطاب بھی کیا، اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ کی ٹیم نے پارٹی کے شرکاء کو شام کے وقت کنوینشن سینٹر منتقل کر دیا تھا۔

    آپ کا شکریہ،امریکا کے سنہری دور کا آغاز ہونیوالا ہے،ٹرمپ کا ووٹرز سے فاتحانہ خطاب
    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے الیکشن آفس میں جمع ہونے والے کارکنوں سے وکٹری سپیچ میں کارکنان کو مبارکبار دی اور کہ ہم امریکہ کو عظیم تر بنائیں گے،ہم امریکہ میں مہنگائی کا خاتمہ کریں گے، مشرق وسطیٰ میں امن قائم کیا جائے گا،بہترین انتخابی مہم چلائی گئی، یہ امریکا کی سیاسی جیت ہے،امریکا کے سنہری دور کا آغاز ہونیوالا ہے ،یہ امریکیوں کی شاندار فتح ہے، ایک بار پھر منتخب کرنے پر عوام کا بہت شکریہ ہم ایک تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں، ٹرمپ نے امریکی عوام سے وعدہ کیا کہ "ہر دن میں آپ کے لیے لڑوں گا” اور کہا کہ وہ "امریکہ کے سنہری دور” کا آغاز کریں گے۔ٹرمپ کے ساتھ اسٹیج پر ان کے اہل خانہ، بیوی میلانیا ٹرمپ، ان کے نائب امیدوار جی ڈی ونس اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن بھی موجود تھے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب نئی بلندیوں پر پہنچے گا اور ملک کے تمام معاملات کو ٹھیک کیا جائے گا، امریکی عوام نے ایسی کامیابی کبھی نہیں دیکھی، اور ایسی سیاسی جیت پہلے کبھی نہیں ہوئی، "امریکا کو محفوظ، مضبوط اور خوشحال بناؤں گا، اور ہم امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے،ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ باقی کی سوئنگ اسٹیٹ میں جیت کر 315 الیکٹورل ووٹ حاصل کریں گے، اور اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کے ووٹ کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پیر 20 جنوری 2025 کو یو ایس کیپیٹل کمپلیکس کے میدان میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب کے دوران صدر افتتاحی خطاب بھی کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم منگل کی صبح اپنے نتائج کے حوالے سے پراعتماد نظر آرہی تھی جب پولنگ شروع ہوئی اور ووٹنگ کا عمل جاری تھا۔ تاہم، سی این این سے بات کرنے والے مہم کے متعدد معاونین نے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ٹرمپ کی کامیابیاں اتنی جلدی ہوں گی جتنی آج رات کے نتائج میں نظر آ رہی ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے اراکین کو کنونشن سنٹر جانے کی ہدایات
    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے ارکان کو کنونشن سینٹر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سی این این کے مطابق، اس حوالے سے آگاہی رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے افراد اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان کو اب بسوں میں بٹھا کر کنونشن سینٹر روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس پیشرفت کے پیچھے کچھ سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ اقدام خاص طور پر ان موقعوں کے لیے کیا جاتا ہے جب کسی اہم سیاسی شخصیت کی تقریر متوقع ہو۔امریکی انتخابات میں فتح کے بعد کنونشن سنٹر میں ٹرمپ کا خطاب متوقع ہے

    کملا ہیرس آج رات خطاب نہیں کریں گی،اعلان ہو گیا
    امریکی صدارتی امیدوار کملا ہیرس آج رات اپنے حامیوں سے خطاب نہیں کریں گی، لیکن کل خطاب کا امکان ہے، کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے شریک چیئرنے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کملا ہیرس کا خطاب کل متوقع ہے، یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر سے انتخابات کے نتائج آنا جاری ہیں۔کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے شریک چیئر کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس ابھی ووٹ گننے کا عمل جاری ہے۔ ہم ابھی بھی ایسے ریاستوں میں ہیں جن کے نتائج کا اعلان نہیں ہوا۔”ان کے اس بیان کے فوراً بعد سی این این نے یہ پیش گوئی کی کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو اہم بیٹل گراؤنڈ ریاستوں، نارتھ کیرولائنا اور جارجیا میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
    kamala

    امریکا میں صدارتی انتخابات میں 50 میں سے 43 ریاستوں کے نتائج آچکے ہیں،50 ریاستوں میں سے 25 میں ڈونلڈ ٹرمپ اور 18 ریاستوں میں کملا ہیرس کامیاب ہوئی ہیں،ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا، ٹیکساس، لوئزیانا، الاباما، مسی سپی، ارکنساس، اوکلاہوما، اوہائیو، انڈیانا، نبراسکا، وائیومنگ میں کامیاب ہوئے ،ڈونلڈ ٹرمپ ساؤتھ ڈکوٹا، نارتھ ڈکوٹا، میزوری، یوٹا، ٹینیسی، ساؤتھ کیرولائنا، کینٹکی اور ویسٹ ورجینیا میں بھی کامیاب ہوئے ،ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس نیویارک، الی نوائے، ورمونٹ، میساچوسٹس، کنیٹیکٹ، روڈ آئی لینڈ، نیو جرسی، ڈیلاویئر، میری لینڈ میں کامیاب ہوئی ہیں۔امریکا کی 50 ریاستوں میں 538 الیکٹورل کالجز ہیں، کیلیفورنیا 54 الیکٹورل کالجز کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔

    ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے لوزیانہ میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ وہ آج رات سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی واچ پارٹی میں شرکت کے لیے مار اے لاگو روانہ ہوں گے۔جانسن نے کہا، "مجھے امید ہے کہ ہمیں نہ صرف ایوان میں بڑی اکثریت حاصل ہوگی، بلکہ سینیٹ اور وائٹ ہاؤس بھی واپس حاصل ہوگا تاکہ میرا کام آسان ہو سکے۔”

    امریکی انتخابات،واشنگٹن ڈی سی میں سیکورٹی سخت،وائیٹ ہاؤس کے گرد باڑنصب
    امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے پیش نظر واشنگٹن ڈی سی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ شہر کی گلیوں میں پولیس اہلکار اور پولیس موبائلز گشت کر رہی ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ارد گرد 8 فٹ اونچی لوہے کی باڑ نصب کی گئی ہے۔کیپیٹل کی عمارت کے گرد بھی اضافی حفاظتی انتظامات کے تحت باڑ اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، اور حفاظتی تدابیر کے باعث متعدد کاروباری اداروں نے اپنے کاروبار عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔اؤریگن، پنسلوینیا اور کیلیفورنیا جیسے ریاستوں میں بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ، پولنگ کے دوران امریکی ریاست جارجیا کے فلٹن کاؤنٹی کے پانچ پولنگ اسٹیشنز پر بم کی افواہیں پھیلنے سے سنسنی پھیل گئی۔ دھمکیوں کے نتیجے میں دو پولنگ اسٹیشنز سے ووٹرز کے انخلا کے باعث ووٹنگ کے عمل میں تاخیر ہوئی۔ تاہم، عارضی طور پر بند کیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کا عمل بحال کر دیا گیا۔

    جارجیا ،بم دھماکوں کی 60 دھمکیوں کے باوجود ریکارڈ ووٹر نکلے
    جارجیا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ بریڈ رافنسپرگر نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ زیادہ تر انتخابی نتائج رات کے اختتام تک رپورٹ کر دیے جائیں گے۔اس وقت تک ریاست بھر میں کم از کم 88 فیصد ووٹ رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ رافنسپرگر نے کہا کہ اس بار ووٹوں کی گنتی کا زیادہ تر حصہ مکمل ہو چکا ہے، جو کہ "ہمارے تاریخ کا پہلا موقع ہے”۔انہوں نے بتایا کہ "جارجیا کے مختلف اضلاع میں 60 بم دھماکے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، لیکن پھر بھی ریکارڈ تعداد میں ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا”۔ اس کے علاوہ، رافنسپرگر نے کہا کہ جارجیا کے پولنگ اسٹیشنز پر بم دھمکیوں کا ماخذ روس سے تھا۔”اور جو لوگ آج ہمارے انتخابات میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، میں ان کے لیے ایک پیغام رکھتا ہوں، "آپ نے غلط جارجیا کو چیلنج کیا۔ آپ کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔”انہوں نے انتخابی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "جارجیا میں کامیاب انتخاب اس لیے ہوا کیونکہ آپ نے ہر روز ہر قانونی ووٹ کو محفوظ کرنے کے لیے محنت کی۔”یاد رہے کہ جارجیا ریاستی سطح پر اہم ہے، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کمیلا ہیرس کے خلاف انتخابی دوڑ میں۔ جارجیا نے 2020 میں تقریباً 30 سال بعد پہلی بار نیلے رنگ کا رنگ اپنایا تھا جب جو بائیڈن نے 11,000 سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی۔

    فولٹن کاؤنٹی میں امریکی انتخابات کے دوران ، 32 بم دھماکوں کی دھمکیاں
    فولٹن کاؤنٹی میں آج کے ووٹوں کے نتائج کی اپلوڈنگ کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ الیکشن ہب میں آخری میموری کارڈز پہنچ چکے ہیں، جنہیں سکین کرکے فوراً اپلوڈ کیا جائے گا۔ اس کے بعد، نتائج کا مکمل اعلان جلد متوقع ہے۔کاؤنٹی حکام نے اس عمل کو "حیرت انگیز” قرار دیا، خاص طور پر جب یہ بات سامنے آئی کہ آج کاؤنٹی کو 32 بم دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان دھمکیوں کے باوجود ووٹوں کی گنتی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، بریڈ ریفن سپرگر نے تقریباً 11 بجے رات کے قریب ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ رات جلد ختم ہو گی۔ انہوں نے کہا، "میں نے وعدہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی وعدہ کرکے جواب نہیں دیا تھا، لیکن لگتا ہے کہ رات جلد ختم ہو جائے گی۔ یہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ ہاں، ہمیں آخری 400,000 ووٹوں کا انتظار کرنا ہوگا، لیکن موجودہ نتائج کی روشنی میں لگتا ہے کہ جو لیڈز ہیں، وہ مستحکم ہیں۔”کاؤنٹی حکام نے ان نتائج کی پروسیسنگ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بار پورے عمل میں شفافیت اور تیزی سے کام کیا گیا، جو انتخابات کے کامیاب انعقاد کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

    نیواڈا میں نیا مسئلہ،11ہزار بیلٹ پیپر پر دستخطوں کی عدم مطابقت،پنسلوانیا میں سافٹ ویئر خراب،ووٹوں کی ہاتھوں سے گنتی
    نیواڈا میں ایک نیا مسئلہ سامنے آیا ہے جس میں دستخطوں کی عدم مطابقت کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ نیواڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، فرانسسکو ایگیلار نے سی این این کو بتایا کہ 11,000 سے زائد بیلٹوں کو دوبارہ تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان پر دستخط موجود ریکارڈ سے میل نہیں کھاتے۔ ایگیلار نے کہا، "ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ زیادہ تر نوجوان ووٹرز کو دستخط کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہیں اور حقیقی زندگی میں دستخط نہیں کرتے۔”دوسری جانب پنسلوانیا کے کاؤنٹی کیمبیا میں ان بیلٹس کی ہاتھوں سے گنتی کی جا رہی ہے جو پہلے اسکین نہیں ہو سکے تھے کیونکہ اس میں سافٹ ویئر کا مسئلہ تھا۔ پنسلوانیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، ایل اسمتھ نے کہا کہ اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں نارم کارولائنا کے انتخابی ڈیٹا میں وقتی طور پر تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ کئی کاؤنٹیز ایک ہی وقت میں بڑی مقدار میں ڈیٹا شیئر کریں گی، جیسا کہ پیٹرک گینن، اسٹیٹ بورڈ آف الیکشن کے ترجمان نے بتایا۔پنسلوانیا کے ویسٹ چیسٹر کے قریب دو پولنگ اسٹیشنوں پر بم کی دھمکی کے بعد ان پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹنگ کا وقت 10 بجے تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ ان ووٹرز کو سہولت دی جا سکے جو دوسری جگہوں پر منتقل کیے گئے تھے،

    فتح ہماری، سو جاؤ،کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے انچارج کا عملے کو مشورہ
    امریکی صدارتی انتخابات میں کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے انچارج چیئر جین او میللی ڈیلن نے منگل کی رات ایک ای میل میں عملے کو بتایا کہ وہ نتائج کے فوری طور پر سامنے آنے کی توقع نہیں رکھتے، اور وہ اس بات پر پُرامید ہیں کہ نائب صدر کملا ہیریس کے پاس فتح کے لیے ابھی بھی ایک راستہ موجود ہے۔اس ای میل میں 270 انتخابی ووٹوں کے حصول کے لیے کسی بھی راستے کو مسترد نہیں کیا گیا، تاہم او میللی ڈیلن نے "بلُو وال” یعنی مشیگن، وسکونسن اور پنسلوانیا پر زور دیا، جو ہمیشہ سے مہم کے لیے فتح کی سب سے ممکنہ راہ سمجھی جاتی ہے،
    او میللی ڈیلن نے لکھا، "مہم میں ہم نے جو تیاری کی تھی، یہ انتخابی مقابلہ ویسا ہی ہے جیسا ہم نے متوقع کیا تھا۔ ہم ابھی بھی سن بیلٹ ریاستوں سے ڈیٹا آتا ہوا دیکھ رہے ہیں، لیکن ہمیں ہمیشہ سے معلوم تھا کہ 270 انتخابی ووٹوں کا ہمارا سب سے واضح راستہ ‘بلُو وال’ ریاستوں سے ہے۔ اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، اس کے بارے میں ہمیں اچھا لگ رہا ہے۔”انہوں نے مشیگن، پنسلوانیا اور وسکونسن کے میٹرو علاقے، جیسے فلاڈیلفیا، ڈیٹرائٹ اور ملواکی سے آنے والی غیر حتمی ووٹوں کی تعداد کا حوالہ دیا اور بتایا کہ مہم نے اس بات کا اشارہ لیا ہے کہ ان علاقوں میں ووٹرز کی بڑی تعداد نے حصہ لیا ہے، جو انتخابی نتائج کو ان کے حق میں بدل سکتی ہے۔او میللی ڈیلن نے مزید کہا کہ نتائج کے بارے میں کئی گھنٹوں تک کچھ واضح نہیں ہوگا۔ یہ مقابلہ راتوں رات ختم نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں نے 2020 کے انتخابات میں حصہ لیا تھا، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے،انہوں نے مہم کے عملے کو کہا، "یہ وہ چیلنج ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں، تو آج رات جو ہمارے سامنے ہے، اسے مکمل کریں، نیند لیں اور کل سے اپنی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

    ایری زونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے طلباء کی بڑی تعداد نے طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالے
    ایری زونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی 27 سالہ گریجویٹ طالبہ، ٹیری سروےور نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ وہ آج رات اپنے یونیورسٹی کے فٹنس سینٹر میں ایک گھنٹہ تک ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑی رہیں۔ اس دوران وہاں 300 سے زائد افراد کی لائن لگ چکی تھی۔ہوپی اور ناواجو نسل سے تعلق رکھنے والی سروےور نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں امیدواروں کے بارے میں متذبذب تھیں، کیونکہ وہ نہ تو کملا ہیرس کے حق میں تھیں اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہی تھیں، لیکن آخرکار انہوں نے ہیرس کا انتخاب کیا۔ تاہم، وہ یہ دیکھ کر خوش ہوئیں کہ نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد لائن میں کھڑی ہو کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہی تھی۔ان کے پیچھے فرسٹ ایئر طالب علم اینڈریو آرمور کھڑے تھے، جنہوں نے بھی دونوں امیدواروں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا لیکن ان کا ماننا تھا کہ ٹرمپ بہتر انتخاب ہیں، خاص طور پر امیگریشن، اسرائیل اور اسقاط حمل جیسے مسائل کی بنیاد پر۔21 سالہ لارنس پیریٹ، جو پہلی بار ووٹ ڈال رہے تھے اور کملا ہیرس کی حمایت کر رہے تھے، نے کہا کہ انہیں اس تاریخی انتخابات کا حصہ بننے پر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے لائن کتنی ہی لمبی ہو، ان کے لیے ووٹ دینا ضروری تھا اور وہ خوش ہیں کہ انہوں نے صبر سے اپنی باری کا انتظار کیا۔ اس دوران مختلف مقررین اور رضا کاروں نے ان کے تجربے کو مزید خوشگوار بنایا، جیسے ووٹر گائیڈز، کھانا، پانی ،فاطمہ الارا جی، ایک اور طالبہ، نے کہا کہ انہیں اپنے ساتھی طلباء اور دیگر ووٹروں کی حوصلہ افزائی دیکھ کر خوشی ہوئی جو طویل لائن میں کھڑے ہو کر اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے آئے۔اس دوران، فینکس کی 25 سالہ ڈینیلا، جو کی سابقہ طالبہ ہیں اور اپنا آخری نام شیئر کرنے سے گریز کر رہی تھیں، نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب وہ اس انتخاب میں ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دے رہی ہیں۔ وہ میکسیکن نژاد امیگرنٹس کی بیٹی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان اور کاروبار کو ٹرمپ انتظامیہ کے تحت فراہم کی جانے والی گرانٹس اور قرضوں کی وجہ سے کووڈ-19 کی وبا کے دوران زندہ رہنے میں مدد ملی۔ ایک مسیحی ہونے کے ناطے، ڈینیلا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اسقاط حمل پر حکومت کا موقف ان کے اپنے نظریات سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔یہ انتخابات نہ صرف اہم سیاسی انتخاب ہیں، بلکہ یہ نوجوانوں اور مختلف پس منظر رکھنے والے ووٹروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کی غمازی بھی کرتے ہیں، جو اپنے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوریت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

    امریکا میں پولنگ مکمل ہونے کے اوقات بھی مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں، 6 مختلف ٹائم زون کے باعث مختلف امریکی ریاستوں میں پولنگ کا اختتام الگ الگ وقت پر ہوگا۔امریکا کی دیگر ریاستوں میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہےامریکی میڈیا کے مطابق 7 کروڑ 89 لاکھ افراد پہلے ہی ووٹ کاسٹ کرچکے ہیں اور کسی بھی امیدوار کو جیت کیلئے کل 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوں گے،آج ہونے والے انتخابات میں ووٹرز ایوان نمائندگان کے 435 ارکان کو منتخب کریں گے،ایوان نمائندگان پر کنٹرول کیلئے 218 سیٹیں درکار ہیں، امریکی سینیٹ کے100 میں سے34 ارکان کا انتخاب بھی آج ہوگا، اس وقت سینیٹ میں ریپبلکن ارکان 38، ڈیموکریٹس 28 ہیں۔ 11 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی ہو گا۔

    خیال رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دور اقتدار کیسا رہا؟ انتخابی مہم میں حملے،الزامات
    سابق امریکی صدر اور 2024 کے لیے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دورِ اقتدار کئی تنازعات سے بھرپور رہا ہے، انہوں نے 91 الزامات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی دوسری صدارتی مہم شروع کی، اور اس دوران اُن پر دو ناکام قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ٹرمپ امریکا کی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ بری ہوگئے، ان پر طاقت کے غلط استعمال، کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اپنے حامیوں کو بغاوت پر اکسانے کے الزامات عائد ہوئے۔اپنے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے امریکی فوجی فنڈز کو امریکا-میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کی طرف موڑا، غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک متنازعہ خاندانی علیحدگی پالیسی نافذ کی، اور سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی عائد کی۔انہوں نے امریکا کو پیرس ماحولیاتی معاہدے اور ایرانی جوہری معاہدے سے الگ کیا، امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا، ملک میں ریکارڈ ٹیکس چھوٹ دی، چین کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑی اور شمالی کوریا کے ساتھ تاریخی ملاقاتیں کیں، جس سے وہ شمالی کوریا جانے والے پہلے امریکی صدر بنے۔اپنے صدراتی دور میں ٹرمپ نے کورونا وائرس کے خلاف غیر سائنسی اقدامات کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں امریکا میں اس وبا سے 4 لاکھ اموات ہوئیں۔2020 کے صدارتی انتخابات میں شکست کو تسلیم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دھاندلی کے الزامات بھی لگائے۔ انتخابی فراڈ کے 60 سے زائد دعووں میں وہ عدالتوں میں شکست سے دوچار ہوئے۔ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزام بھی ہے کہ 2020 کے انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے اپنے حامیوں کو کیپیٹل ہل کے باہر جمع ہونے کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں ان کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا، جس دوران پانچ افراد ہلاک ہوگئے،انتخابی مہم کے دوران جان لیوا حملے، جنسی ہراسانی کے الزامات بھی ٹرمپ کی فتح میں رکاوٹ نہ بنے اور ٹرمپ کامیاب ہو گئے، ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ایک دو دہائی پرانے جنسی ہراسانی کے الزام کو سامنے لایا گیا تھا، ٹرمپ پر قائم مقدمات کو بھی انکے خلاف انتخابی مہم میں استعمال کیا گیا تھا لیکن ٹرمپ نے اس سب کے باوجود فتح حاصل کر لی.

    امریکی سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے میدان مارلیا
    امریکی سینیٹ میں ریپبلکن نے 51نشستیں حاصل کرلیں ، امریکہ کی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی ہے، جس کے بعد سینیٹ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے۔ سینیٹ میں اب ری پبلکن پارٹی کی نشستوں کی تعداد 51 ہو گئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 43 نشستیں ہیں۔امریکی سینیٹ میں کل 100 نشستیں ہیں، اور اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی پارٹی کو کم از کم 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کی اکثریت حاصل کرنے کے بعد، اب ان کے پاس سینیٹ میں قانون سازی اور دیگر اہم فیصلوں پر اثر ڈالنے کی طاقت ہوگی۔اس تبدیلی کا اثر آئندہ سیاست پر بھی پڑے گا، کیونکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا کسی بھی حکومت کے لیے اہم حکومتی فیصلوں میں اثر ڈالنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ 51 نشستوں کے ساتھ ری پبلکن پارٹی اب سینیٹ میں زیادہ تر اہم کمیٹیوں پر بھی قابض ہو سکتی ہے، جس سے قانون سازی کے عمل پر ان کا کنٹرول مزید مستحکم ہو گا۔ری پبلکنز کی اکثریت سینیٹ کو اس پوزیشن میں لا کر رکھے گی کہ وہ ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو مضبوط بنا سکیں گے،چند انتخابات کے نتائج ابھی آنے ہیں، لیکن اس وقت ری پبلکنز کے پاس سینیٹ میں 51 سیٹیں ہیں اور وہ جنوری میں نیا کانگریس شروع ہونے پر کنٹرول سنبھال لیں گے۔ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنا ری پبلکنز کی اس رات کی پہلی بڑی کامیابی ہے، ری پبلکنز کی کامیابی کی ابتدا الیکشن کی رات کے ابتدائی اوقات میں ہوئی، جب ویسٹ ورجینیا کے گورنر جم جسٹس کو سینیٹ کی وہ نشست جیتنے کے لیے منتخب کیا گیا جو ڈیموکریٹک سینیٹر جو مینچن کے ریٹائر ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ مینچن نے دوبارہ انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ڈیموکریٹس نے اس نشست کے لیے مقابلہ کرنا چھوڑ دیا تھا۔

    امریکی انتخابات،پولنگ مقامات پر بم دھمکیوں کی ای میل روسی ڈومین سے آئیں،دعویٰ
    واشنگٹن: امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد ریاستوں میں پولنگ مقامات کو ملنے والی بم دھمکیوں میں سے کچھ روسی ای میل ڈومینز سے آئیں۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں اور ایف بی آئی نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی کہ دھمکیوں کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔امریکی سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کی سربراہ جین ایسٹرلی نے منگل کی رات صحافیوں کو بتایا کہ "ایف بی آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دھمکیاں روسی ڈومینز سے آئی ہیں۔ اگر یہ واقعی کسی غیر ملکی دشمن یا روس سے جڑی ہوئی ہیں، تو ہم اس کے اثرات پر غور کریں گے کہ حکومت کے طور پر ہمارے لیے اس کا کیا مطلب ہو گا۔”ایف بی آئی مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان چار ریاستوں کے حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے جہاں پولنگ اور انتخابات سے متعلق مقامات کو بم دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ سی این این کو منگل کی رات ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے بتایا کہ ان ریاستوں میں مِشیگن، وسکونسن، ایریزونا اور جارجیا شامل ہیں، جنہوں نے دھمکیوں کے بعد اپنے پولنگ اسٹیشنز کو خالی کر لیا تھا،ایف بی آئی نے پہلے ہی تصدیق کی تھی کہ بعض دھمکیاں روسی ای میل ڈومینز سے آئی تھیں اور ان کو غیر معتبر قرار دے دیا تھا۔تحقیقات جاری ہیں اور مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ کی قیادت میں معیشت بہتر،مہنگائی میں کمی ہو گی،ووٹرز کی رائے
    امریکی شہریوں نے ٹرمپ کو ووٹ کیوں دیئے، اس ضمن میں خبر رساں ادارے سی این این نےووٹرز سے بات چیت کی ہے،30 سالہ شہری ڈینزیل کسیمایو کا کہنا تا کہ ان کا خاندان کینیا سے امریکہ میں ہجرت کر کے آیا تھا۔ ایریزونا میں ایک رجسٹرڈ ریپبلکن، کسیمایو نے 2020 میں صدر جو بائیڈن کو ووٹ دیا تھا، لیکن اب وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں معیشت بہتر ہو گی، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی، اور دوسرے ممالک امریکہ کی عزت کرتے تھے۔ انہیں یہ بھی پسند ہے کہ ٹرمپ نے اصلاحات کی بات کی تھی۔ تاہم، وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ خواتین کو اسقاط حمل کے بارے میں اپنے فیصلے خود کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

    59 سالہ مری ویپریکٹ کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال بہت مشکل تھے، معیشت بدتر تھی اور سرحدوں کی صورتحال بھی خراب تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اب وہ زیادہ لوگوں کو جانتی ہیں جو ٹرمپ کی حمایت میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ٹرمپ کی پالیسیوں کی اہمیت ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس کے دوبارہ صدر بننے سے ملک کی صورتحال بہتر ہو گی۔

    45 سالہ برُوس ٹویئر اسکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے فینکس کے علاقے میں 100 سے زیادہ دروازے کھٹکھٹائے ہیں اور ریپبلکن ووٹرز کو پہلے ووٹ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ بنے انہیں "100 فیصد اعتماد ہے” کہ ٹرمپ ایریزونا جیتیں گے۔ وہ امریکہ کی سرحدی سیکیورٹی اور اسرائیل کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، اور ان کے مطابق یہ دو موضوعات ان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں۔

    امریکی عوام نے ٹرمپ کو تبدیلی کے لیے صاف اور واضح مینڈیٹ دیا،ایلون مسک
    ٹیسلا اور اسپیس ایکس ،ٹویٹر،ایکس کے مالک ایلون مسک نے حالیہ ایک بیان میں کہا ہے کہ "امریکہ کے عوام نے آج رات ڈونلڈ ٹرمپ کو تبدیلی کے لیے صاف اور واضح مینڈیٹ دیا ہے۔”مسک نے یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دیا جس میں انہوں نے امریکہ کے عوام کی خواہشات اور سیاست میں تبدیلی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عوام نے اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ میں تبدیلی کی سمت متعین ہوگی اور یہ وقت ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرے۔ اس بیان کے بعد ایلون مسک کے حمایتی اور ناقدین دونوں کی طرف سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔

    elun

  • امریکی انتخابات،پہلی بار ووٹ ڈالنے والی 20 سالہ لڑکی کی ٹرمپ کی حمایت

    امریکی انتخابات،پہلی بار ووٹ ڈالنے والی 20 سالہ لڑکی کی ٹرمپ کی حمایت

    فلوریڈا میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والی خاتون نے ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا ہے

    فلوریڈا میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والی 20 سالہ دَویانا پورٹر نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیتیں کیونکہ انہیں "ٹرمپ کے موقف” پسند ہیں۔ پورٹر نے بتایا کہ وہ پورٹو ریکن ہیں اور اگرچہ ٹرمپ کے میڈیسن اسکوائر گارڈن کے جلسے میں پورٹو ریکو کے بارے میں کی جانے والی تبصرے انہیں پسند نہیں آئیں، مگر وہ سمجھتی ہیں کہ "ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے، اور اگر وہ پورٹو ریکن لوگوں کو پسند نہیں کرتے تو یہ تکلیف دہ ہے، لیکن آخرکار میں اپنے آپ سے مطمئن ہوں۔”

    دوسری جانب پنسلوانیا کے مغربی علاقے کی ایلیگینی کاؤنٹی میں منگل کی صبح دو پولنگ مراکز میں تاخیر دیکھی گئی، تاہم اب وہ مراکز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ کاؤنٹی کی ترجمان ایبِگیل گارڈنر نے کہا کہ وائٹ ہال کے پولنگ اسٹیشن پر انتخابی جج دیر سے پہنچے، لیکن اب وہ وہاں موجود ہیں اور پولنگ مرکز فعال ہے۔پٹسبرگ کے لنکن پلیس علاقے میں، پولنگ اسٹیشن پر انتخابی جج وقت پر نہ پہنچ سکے،تا ہم اب وہاں پولنگ معمول کے مطابق جاری رہے گی۔”

    ریپبلکن نائب صدر کے امیدوار جے ڈی وینس نے آج صبح سینٹ انتھونی آف پیڈویا چرچ میں اپنی بیوی عائشہ اور بچوں کے ساتھ پولنگ اسٹیشن پر جا کر ووٹ ڈالا۔ سینٹر جے ڈی وینس نے خوشگوار مزاج میں ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی اور کہا کہ "ہم سب کو اپنے ملک کے مستقبل کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔”

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے آخری روز امریکی معروف موسیقار، سپر اسٹار لیدی گاگا نے نائب صدر کملا ہیرس کی آخری ریلی میں "گاڈ بلیس امریکہ” پیش کیا ہے

    میوزک کی سپر اسٹار لیدی گاگا نے فیلڈلفیا میں نائب صدر کملا ہیرس کی آخری ریلی میں "گاڈ بلیس امریکہ” کا خوبصورت انداز میں گایا۔لیدی گاگا ریلی میں آئیں تو مداحوں نے پرجوش استقبال کیا، پرفارمنس کے بعد، لیدی گاگا نے مختصر طور پر کہا، "اس ملک کی زندگی کے نصف سے زیادہ حصے تک، خواتین کی آواز نہیں تھی۔ پھر بھی ہم نے بچوں کی پرورش کی، خاندانوں کو برقرار رکھا، اور مردوں کی حمایت کی جب وہ فیصلے کرتے تھے۔ لیکن کل، خواتین اس فیصلے میں حصہ لیں گی۔”

    علاوہ ازیں اوپرا وِنفری نے کملا ہیرس کی حمایت میں پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں کے ساتھ ریلی میں شرکت کی،اوپرا وِنفری نے پیر کی رات کملا ہیرس کی آخری ریلی میں 10 نوجوانوں کے ساتھ اسٹیج پر آ کر خطاب کیا، جن میں سے سبھی پہلی بار ووٹ دینے والے تھے۔ایک ووٹر نے اوپرا سے کہا، "وہ پالیسیاں جو کملا ہیرس نے خواتین کے تولیدی حقوق اور تعلیم میں برابری کے لیے تجویز کی ہیں، یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر میں نے ان کے حق میں ووٹ دیا۔”ایک اور پہلی بار ووٹ دینے والے نے کہا کہ ایک افریقی امریکی کے طور پر اس کے لیے یہ خاص طور پر اہم ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کرے، "جو میرے آبا اجداد نے اتنی جدوجہد کے بعد حاصل کیا تھا۔”اوپرا وِنفری نے مزید کہا، "جو آپ اپنے ملک کے لیے کر سکتے ہیں، جو آپ جمہوریت کے لیے کر سکتے ہیں، اور جو آپ جان لوئیس اور ان تمام افراد کے لیے کر سکتے ہیں جنہوں نے سلیما کے پل پر چل کر انصاف کے لیے لڑا ، وہ سب کچھ آپ کے ووٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ ہر اس نوجوان حاملہ خاتون کے لیے ہے جو اسقاط حمل کے قانون کی وجہ سے ایمرجنسی میڈیکل کیئر حاصل نہیں کر سکی۔ آپ جو کچھ بھی قیمتی سمجھتے ہیں، اس کے لیے آپ کا ووٹ ضروری ہے۔”

    یہ ریلی کملا ہیرس کے سیاسی سفر کے ایک اہم موڑ کی علامت تھی، جس میں اوپرا وِنفری اور لیدی گاگا کی موجودگی نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

  • ٹرمپ یا کملا؟ کون جیتے گا، پنڈتوں کی حیران کن پیشگوئی

    ٹرمپ یا کملا؟ کون جیتے گا، پنڈتوں کی حیران کن پیشگوئی

    امریکہ میں آج صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں ، کون وائیٹ ہاؤس پہنچے گا فیصلہ عوام کریں گے تا ہم مستقبل پر نظر رکھنے والے پنڈتوں نے ٹرمپ کی شکست کی پیشگوئی کی ہے

    امریکی مورخ لچ مین،جو امریکا میں ہونے والے گزشتہ دس انتخابات کی پیش گوئی کر چکے ہیں اور ان میں سے نو درست ثابت ہوئی ہیں کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ صدارتی الیکشن ہار جائیں گے،لچ مین کی 2000 کی پیش گوئی صرف غلط ہوئی تھی ، اسکے علاوہ تھامس ملر نے 2016 میں ٹرمپ کی جیت کا کہا تھا اورو ہ اس بار کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ہاریں گے اور کملا ہیری جیتیں گی،امریکی جریدے فارچیون کے مطابق، مہم کے آخری مرحلے میں یہ پیش گوئیاں اچانک ٹرمپ سے ہٹ کر کملا ہیرس کی طرف آ گئی ہیں، ایک ہفتہ پہلے تک پیش گوئیاں ٹرمپ کی جیت کی طرف اشارہ کر رہی تھیں، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور کملا ہیرس کو برتری حاصل ہے۔

    یہ پیش گوئیاں اس بات کی غماز ہیں کہ انتخابات کا نتیجہ غیر متوقع ہو سکتا ہے۔ ایک طرف، جہاں لچ مین جیسے مورخ کی درست پیش گوئیاں ماضی میں قابل اعتماد رہی ہیں، وہیں تھامس ملر کا بدلا ہوا موقف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی نتائج میں کوئی بڑا موڑ آ سکتا ہے۔ کملا ہیرس کی جیت کی پیش گوئی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عوامی رائے میں تبدیلی آ رہی ہے، اور سیاسی منظرنامہ وقت کے ساتھ بدل رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات کی تیاریاں مکمل ہوگئیں، بیلٹ باکسز، پیپرز اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں پولنگ سینٹرز میں پہنچادی گئیں، جہاں 24 کروڑ سے زائد افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے،امریکی صدارتی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور الیکشن عملے پر تشدد کے خدشات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتطامایت کیے گئے ہیں امریکی ریاست اوریگان، واشنگٹن اور نیواڈا میں نیشنل گارڈز کو فعال کردیا گیا جبکہ خطرات کے پیش نظر ایف بی آئی کی جانب سے بھی کمانڈ پوسٹ قائم کردی گئی جبکہ ایری زونا، مشی گن اور نیواڈا سمیت 19 ریاستوں میں 2020 سے الیکشن سیکیورٹی قوانین نافذ ہیں، 7 سوئنگ ریاستوں میں ووٹرز کے اعتماد، سیکیورٹی اور شفاف الیکشن کے لیے حکام بھی پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

  • بل گیٹس کا کملا ہیرس کی انتخابی مہم کیلئے 50 ملین ڈالر کا عطیہ

    بل گیٹس کا کملا ہیرس کی انتخابی مہم کیلئے 50 ملین ڈالر کا عطیہ

    واشنگٹن:مائیکروسافٹ کے شریک بانی، امریکی کھرب پتی بل گیٹس نے کملا ہیرس کی انتخابی مہم کیلئے 50 ملین ڈالر عطیہ کردیئے۔

    باغی ٹی وی : امریکا کے کھرب پتی ڈیموکریٹس اور ری پبلکن صدارتی امیدوار کے حق میں صف آرا ہو گئے، ٹیسلا کے بانی ایلون مسک سوشل میڈیا پر کھل کر ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں، ایلون مسک کو اکثر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلیوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کی حمایت کر رہے ہیں،انہوں نے کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے لیے 50 ملین ڈالر عطیہ کردیے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مائیکرو سافٹ کے بانی کا پلڑا ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کی طرف ہے۔

    مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کا حامی ہوں مگر یہ الیکشن مختلف ہے،، میں نے ہمیشہ ان سیاسی رہنماؤں کی حمایت کی ہے جن کی پالیسیاں ہیلتھ کیئر، غربت کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے واضح ہوں۔

    بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،نپیرا نے کے الیکٹرک صارفین پر بم …

    دوسری جانب پیش گوئیاں کرنے والے پانچ اہم اداروں نے دعویٰ کیا ہےکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر امریکا کے صدر منتخب کرلیے جائیں گے۔

    امریکی اخبار کے مطابق 5 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں مقابلہ انتہائی کانٹے کا ہوگا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کا امکان 51 فیصد جب کہ کملا ہیرس کے جیتنے کا امکان 49 فیصد ہےدعویٰ کیا گیا ہےکہ بطور صدارتی امیدوار نامزدگی کے بعد سے کملا ہیرس اپنی مقبولیت کھورہی ہیں۔

    شمالی اور سن بیلٹ ریاستوں میں کملا ہیرس کی پوزیشن رفتہ رفتہ کمزور ہونا شروع ہوگئی ہے جب کہ داہل کے سروے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کے امکانات 52 فیصد اور کملا ہیرس کے جیتنے کے امکانات 48 فیصد ظاہر کیے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی …

    اکانومسٹ کے مطابق ٹرمپ کےجیتنے کے امکانات 54 فیصد ہیں، اسی طرح رئیل کلیئر پالیٹیکس کے سروے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو پانسہ پلٹنے والی 7 ریاستوں ایری زونا، جارجیا، نیواڈا، مشی گن، شمالی کیرولینا، پنسلوانیا اور وسکونسن میں کملا ہیرس پر معمولی برتری دکھائی ہے۔

    دعویٰ کیا گیا ہےکہ کملا ہیرس پاپولر ووٹ 1.6 فیصد زیادہ حاصل کرلیں گی مگر الیکٹرول کالج جیت کر صدر بننے کے ٹرمپ کے امکانات 53 فیصد ہیں۔، 2016 میں بھی ہیلری کلنٹن پاپولر ووٹ جیت گئی تھیں جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکٹرول کالج کے 270 ووٹ لے کر صدر بننے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

    ایک ہی دن میں انڈیا کے درجنوں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول

  • امریکا کی پانسہ پلٹنے والی 3 اہم ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں اضافہ

    امریکا کی پانسہ پلٹنے والی 3 اہم ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں اضافہ

    واشنگٹن: امریکا کی پانسہ پلٹنے والی 3 اہم ریاستوں میں صدارتی انتخابات میں کملا ہیرس کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن سے بہتر ہو گئی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی جریدے نیویارک ٹائمز اور سائینا کالج کے سروے میں ایری زونا، جارجیا اور شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کی مقبولیت کاملا سے بہتر نظر آتی ہے۔

    امریکی صدارتی انتخابات سے 6 ہفتے قبل جاری کیے گئے اس نئے سروے کے نتائج کے مطابق ریاست ایری زونا میں کملا ہیرس کی مقبولیت 45 فیصد، جارجیا میں 45 فیصد اور نارتھ کیرولائنا میں 47 فیصد رہی،مقبولیت کے اعتبار سے ڈونلڈ ٹرمپ ایری زونا میں 50 فیصد، جارجیا میں 49 فیصد اور نارتھ کیرولائنا میں بھی 49 فیصد کے ساتھ کملا ہیرس سے آگے نظر آئے۔

    امریکی انتخابی سیاست میں تینوں ریاستوں کو پانسہ پلٹنے والی ریاستیں سمجھا جاتا ہے جبکہ تینوں ریاستوں میں گزشتہ ہفتے کیے گئے سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ بہت سخت ہونے جا رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ: ملزم کا خفیہ نوٹ اور منصوبے کی تفصیلات سامنے آئیں

    کملاہیرس سے ہار گیا تو دوبارہ الیکشن نہیں لڑوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ

    صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر پیجر پھٹنے سے کریش ہوا،ایرانی رکن پارلیمنٹ …