Baaghi TV

Tag: کمپنیاں

  • رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں کتنی کمپنیاں جسٹر ہوئیں؟

    رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں کتنی کمپنیاں جسٹر ہوئیں؟

    رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ایس ای سی پی(secp) نے21,668 نئی کمپنیاں رجسٹر کرلیں۔

    ترجمان کے مطابق مذکورہ کمپنیوں نے30.7 ارب روپے کے ادا شدہ سرمایہ میں حصہ ڈالا،جو گزشتہ سال اسی مدت میں رجسٹر ہونے والی 16,839 کمپنیوں کے مقابلے میں29 فیصد زائد ہے ،کل رجسٹرڈ شدہ کمپنیوں کی تعداد279,724 ہوگئی۔

    متعدد شعبوں میں مسلسل ترقی دیکھی گئی سب سے زیادہ نئی کمپنیاں آئی ٹی اور ای کامرس میں رجسٹر ہوئیں،جن کی تعداد4,277 ہے،جس کے بعد ٹریڈنگ کی2,997، سروسز کی2,686 اور رئیل اسٹیٹ کی2,031 کمپنیاں شامل ہیں،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی اور سروسز کے شعبوں میں خدمات بڑھ رہی ہیں۔

    غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی مضبوط رہی اور اس عرصے کے دوران 524 نئی رجسٹرڈ کمپنیوں نے1.26 ارب روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی،جس میں731 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حصہ لیاسرمایہ کاری کے لحاظ سے چین سب سے آگے رہا اور کل سرمایہ کاری کا71 فیصد حصہ ڈالا۔

    ترجمان نے بتایا کہ امریکہ نے2 فیصد جبکہ برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، ناروے، ویتنام، نائجیریا، اور بنگلہ دیش نے بالترتیب ایک فیصد حصہ ڈالا، باقی 11 فیصد سرمایہ کاری دیگر ممالک سے آئی۔

  • برطانیہ میں غیرملکی کمپنیوں کو حقیقی مالکان کی شناخت کروانا ضروری قرار

    برطانیہ میں غیرملکی کمپنیوں کو حقیقی مالکان کی شناخت کروانا ضروری قرار

    برطانیہ میں غیر ملکی کمپنیوں کو سرکاری رجسٹر میں اپنے حقیقی مالکان کی شناخت کروانا ضروری قرار دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق حکومت نے پیر کے روز کہا کہ برطانیہ میں جائیداد رکھنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو سرکاری رجسٹر میں اپنے حقیقی مالکان کی شناخت کرنے کی ضرورت ہوگی۔

    سلمان خان کی جان کو خطرہ، اسلحہ لائسنس جاری

    "اوورسیز اداروں کا رجسٹر”، جو پیر سے فعال ہوگیا ہے، اس سال نافذ کیے گئے وسیع تر اقتصادی جرائم کے قانون کا حصہ ہے تاکہ ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد لندن میں غیر قانونی روسی نقدی کے بہاؤ کو روکا جا سکے۔

    وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ مجرم شیل کمپنیوں کی خفیہ زنجیروں کے پیچھے نہ چھپ سکیں، اور حکومتی کوششوں کی حمایت کریں گے کہ وہ روسی تاجروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں جو برطانیہ میں جائیداد موجود جائیداد سے بلیک منی بنا رہے ہیں-

    جونیئر بزنس منسٹر مارٹن کالانن نے کہا، "اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم مشکوک دولت کے ساتھ کرپٹ اشرافیہ سے پاک ہیں، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کون کس چیز کا مالک ہے ہم پردہ اٹھا رہے ہیں اور ان مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں جو اپنی غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی دولت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں-

    غیر ملکی ادارے جو پہلے سے ہی برطانیہ میں جائیداد کے مالک ہیں جو کہ رجسٹر کے دائرہ کار میں ہے، ان کے پاس کمپنیز ہاؤس میں اپنے حقیقی مالک کی شناخت کرکے تعمیل کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت ہوگا۔

    رجسٹر کا اطلاق جنوری 1999 سے انگلینڈ اور ویلز میں اور اسکاٹ لینڈ میں دسمبر 2014 سے خریدی گئی جائیداد پر ہوگا۔

    نئے قوانین کی تعمیل نہ کرنے والوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں روزانہ 2,500 پاؤنڈ ($3,043) تک کے جرمانے یا پانچ سال قید کی سزا بھی شامل ہے۔

    رجسٹر کو اقتصادی جرائم کے قانون کی ایک اہم شق کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں مارچ میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ایک اہلکار نے اس قدم کو "تہلکہ انگیز تبدیلی” قرار دیا تھا جو غیر ملکی املاک کی ملکیت کو کھلے عام کرنے پر مجبور کرے گا۔

    یہ قانون مارچ میں اس وقت لایا گیا تھا جب حکومت کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے قریبی لوگوں کے لیے لندن میں جائیداد کے ذریعے بلیک منی کو لانڈر کرنے کے لیے مزید کام کرنے کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا تھا-

    روسی بحری بیڑے پر ڈرون حملہ، فوجیوں سمیت پانچ افراد زخمی

  • لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں : شوکت ترین

    لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں : شوکت ترین

    اسلام آباد: لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزنہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ چپ کرکے تماشا نہیں دیکھیں گے، تحقیقات کر رہے ہیں، لوگوں نے دبئی اور باقی جگہوں پر کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے ٹرانسفر پرائسنگ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد آنکھیں کھول دینے والے حقائق قوم کے سامنے ہوں گے اور پھرسب کو پتہ چل جائے گا کہ کون کہاں کھیل رہا ہے

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران فارن ایکسچینج پر بات کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ پتہ نہیں کیا قدغنیں تھیں کہ ہم نے اپنا کیپٹل اکاؤنٹ ہی کھول دیا جبکہ ہم خود کفیل نہیں تھے۔ 1992 کے فنانس ایکٹ کے تحت آپ کچھ بھی کر سکتےہیں، پھر ہماری فارن ایکسچینج کی کمپنیاں اور بروکرز بھی کافی آزاد ہیں، تو فارن ایکسچینج کے ساتھ اس کو باہر لے جانا اور لے آنا، اس کی کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ ہورہی ہے، پیٹرولیم اور دیگر مصنوعات میں ہماری ٹرانسفر پرائسنگ ہو رہی ہے، اربوں روپے ادھر کے ادھر ہوجاتےہیں، کئی چیزیں پکڑی جارہی ہیں اور اس حوالے سے ایف آئی اے اچھا کام اور بڑا ذمہ داری والا کام کر رہی ہے۔

    ایف آئی اے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بڑا بین باجا نہیں کرتے لیکن اندر ہی اندر چیزوں پر اچھی پیشرفت ہو رہی ہے لیکن ہمیں یہ چیزیں ٹھیک کرنی ہیں اور اس کو آٹومیشن کے تھرو ٹھیک کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کسٹمز میں سنگل ونڈو لے کر آرہے ہیں اور اب وہاں لینس کا سسٹم بھی آئے گا، جو دوسری جگہوں سے قیمتوں کا موازنہ کرے گا اور دیکھے گا کہ جو انوائس آئی ہے وہ متعلقہ ہے یا نہیں اور اگر متعلقہ نہ ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ میرے علم میں آیا ہے پیٹرولیم مصنوعات میں ٹرانسفر پرائسنگ ہو رہی ہے، اس پر بھی ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہوگی۔ ہمارے لیے اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ بہت بڑا مسئلہ رہا ہے اور اس میں عجیب چیز ہے کہ ہم نے آج تک نوٹس ہی نہیں کیا، نوٹس تو کیا ہوگا لیکن ہم دوسری طرف دیکھتےہیں، سامان چین سے آرہا ہے اور انوائسنگ دبئی سے ہو رہی ہے، چین کا دبئی سے کیا تعلق ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ کوئی نہ کوئی دال میں کالا ہے، یہ تو ایک ضعیف اور اندھے آدمی کو بھی نظر آنی چاہیے، لیکن ہم دہائیوں سے چپ کرکے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اب ہم چپ کرکے یہ تماشا نہیں دیکھیں گے، ہم اس میں تحقیقات کر رہے ہیں، لوگوں نے دبئی اور باقی جگہوں پر کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے ٹرانسفر پرائسنگ کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا ہارڈ ارن فارن کرنسی کمپرومائز ہو رہا ہے، یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے لیکن ہم نے ہر سطح پر ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہے، چاہے یہ ٹیکسیشن ہو یا فارن ایکسچینج ہو۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم فرق پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے اور پاکستان میں لوگوں کو جو ٹیکس دینا ہے وہ ادا کریں لیکن اس میں رکاؤٹیں نہیں ہونی چاہیئں۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ جب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں تو انسانی مداخلت ختم کرتے ہیں تو لوگ کم از کم اس کا بہانہ نہیں بنا سکتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر اور دیگر چیئزمینز کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ کم ازکم اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوسکتا، یہ حکومت ہے جو یہ سب کچھ کر رہی ہے۔

  • بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں:     ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:وزیراعظم عمران خان

    بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں: ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد : 100بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں:ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سیرین ایئرمیں تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا 100بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سیرین ایئرمیں 15 سے 44 فیصد تک تنخواہوں میں اضافےکافیصلہ خوش آئند ہے، 100بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں ، ملک کی 100بڑی کمپنیوں نے950ارب روپےکامنافع گزشتہ سال کمایا۔

     

    گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی بزنس کمیونٹی سے اپیل پر اے آر وائی نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

    بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے استدعا پر عمل کرنے اور ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے پر اے آر وائے ڈیجیٹل کے سی ای او اور صدر سلمان اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ سال ریکارڈ منافع کمانے والی دیگر کمپنیوں سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی اپنے ملازمین کی اجرت میں اضافہ کریں۔

  • گورنمنٹ اور کمپنیاں عوام کو چونا لگانے میں

    گورنمنٹ اور کمپنیاں عوام کو چونا لگانے میں

    قصور
    حکومت ٹیکس اور کمپنیاں قیمتیں بڑھانے میں مگن حکومتی دعوے زبانی کلامی لوگ پریشان حکومت و کمپنیاں انجان
    تفصیلات کے مطابق لاک ڈاؤن کی بدولت لوگوں کی آمدن بند ہے جس کے باعث گورنمنٹ نے کئی ٹیکس معاف کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر دوسری جانب خود ہی اشیاء پر ٹیکس بڑھا دیا لاک ڈاؤن سے قبل ڈیٹول کی شیشی کی قیمت 85 روپیہ تھی جس میں سے 12.35 روپیہ سیلز ٹیکس تھا اب لاک ڈاؤن کے بعد اسی ڈیٹول کی شیشی کی قیمت 99 روپیہ جبکہ سیلز ٹیکس بڑھا کر 13.30 روپیہ کر دیا گیا ہے گورنمنٹ نے اپنا سیلز ٹیکس 1 روپیہ 25 پیسے بڑھایا ہے جبکہ کمپنی نے شیشی کی قیمت میں 14 روپیہ اضافہ کر دیا ہے لوگ گورنمنٹ کے دوہرے معیار پر سخت نالاں ہیں