Baaghi TV

Tag: کمیشن

  • توہینِ مذہب کے الزامات پر کمیشن کی تشکیل پر عملدرآمد روک دیا گیا

    توہینِ مذہب کے الزامات پر کمیشن کی تشکیل پر عملدرآمد روک دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے الزامات پر کمیشن تشکیل دینے کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین اور جسٹس اعظم خان نے حکم جاری کرتے ہوئے کمیشن کی تشکیل کاجسٹس سردار اعجاز اسحاق کا فیصلہ معطل کر دیا،راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ نےکمیش کی تشکیل کےخلاف انٹراکورٹ اپیل دائرکی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کی درخواستوں پر سماعت کی تھی اور درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکومت کو کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو 30 دن میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا اور کہاکہ وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن 4 ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں ہمیں دبانے کی کوشش ہے،بیرسٹر گوہر

    راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ نے کمیشن کی تشکیل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی، راؤ عبدالرحیم کی جانب سے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے فیصلہ کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل میں سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے قرار دینے کی استدعا کی گئی انٹرا کورٹ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا سنگل بنچ نے درخواست میں استدعا سے آگے بڑھ کر سو موٹو اختیار استعمال کیا۔

    آخری ٹی ٹوئنٹی : بنگلا دیش کی ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت

  • ارشد شریف  کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کی حامد میر کی درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی

    حامد میر کے وکیل ،آئی جی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ارشد شریف قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی حامد میر کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آرز تو بہت سے لوگوں پر ہو جاتی ہیں لیکن کیا وجہ بنی کہ ارشد شریف کو ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ارشد شریف پر 9 مقدمات درج تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ سے وہ صرف حفاظتی ضمانت پر تھے، انکو میسج کیا گیا تھا کہ ہم آپکو ننگا کریں گے، اس وجہ سے ارشد کو ملک چھوڑنا پڑا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آئی جی اور جے آئی ٹی سربراہ کے مطابق ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کیونکہ ثبوت کینیا میں ہیں، حکومت کا کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے کیا موقف ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں دو غیرممالک اورایک پاکستان شامل ہے،دوسرےممالک میں ایم ایل اےکے ذریعےہی رسائی دی جاسکتی ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو دنیا سے چلے گئے وہ واپس تو نہیں آ سکتے لیکن جو ہوا کم از کم سچ تو سامنے آسکتا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا مقصد کیا ہوتا ہے، کیا اُس نے چالان جمع کرانا ہوتا ہے؟جوڈیشل کمیشن نے انکوائری کرنی ہوتی ہے اور اسکی رپورٹ پبلش ہونی چاہیے، آپ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک پاکستانی شہری کینیا کی پولیس سے کیوں مارا جائے گا؟اس سال 7 صحافی مارے گئے، یہ جوڈیشل کمیشن صرف ارشد شریف کےلئے نہیں بلکہ تمام صحافیوں کے لیے ہیں،ارشد شریف کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون کے مجاز افسر کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا.اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر کمیشن بنانے کا عندیہ دے دیا وزارت قانون اور وزارت داخلہ حکام 6 اگست کو طلب کر لیا.

    ارشد شریف کی اہلیہ سمیعہ نے بھی ارشد شریف قتل کی جوڈیشل انکوائری کے کیس میں فریق بننے کیلئے درخواست دائر کر دی

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

  • فیض آباد دھرنا کمیشن کو دیا گیا شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    فیض آباد دھرنا کمیشن کو دیا گیا شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    فیض آباد دھرنا کمیشن میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کمیشن کو دیا گیا بیان سامنے آیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت کے وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ ” پنجاب میں امن و امان کے معاملات پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے امن تشکیل دی گئی تھی جو صوبائی وزیر قانون اور بعض دیگر اہم صوبائی وزراء پر مشتمل تھی تحریک لبیک پر پابندی سے متعلق انٹیلی جنس کی کوئی رپورٹ صوبائی حکومت سے شیئر نہیں کی گئی تھی، اس وقت فیض آباد دھرنے کا اندازہ نہیں تھا، ڈی سی راولپنڈی، کمشنر، سی پی او اور آر پی او کو ذیلی کمیٹی برائے امن و امان سے واضح ہدایات موصول ہوئی تھیں، افسران کو ہدایات تھیں کہ اسلام آباد انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں”۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کسی تنظیم پر پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ میں دیے گئے سخت معیار کے تحت ہوتی ہے، پابندی وزارت داخلہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق عائد کر سکتی تھی، طاقت کے استعمال سے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے،تحریک لبیک کے رہنماؤں کے ساتھ سیاسی مذاکرات ہو رہے تھے، تحریک لبیک اور وفاقی حکومت کے درمیان معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا، طے ہوا تھا ٹی ایل پی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات قانونی طریقہ کار کے بعد واپس لیے جائیں گے

    قبل ازیں سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی سی فیض حمید اور دو افسران نے فیض آباد دھرنے کے دوران ان سے ملاقات کی اور استعفے کا کہا تھا،زاہد حامد نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو بتایا کہ 26 نومبر 2017 کی شام آئی ایس آئی کے جونیئر افسران لاہور میں میرے گھر مجھ سے استعفیٰ لینے آئے، فیض حمید نے تجویز دی کہ مختصر وقت کے لیے استعفے پر غور کرسکتے ہیں  فیض حمید سمجھتے تھے کچھ عرصہ چھٹی پر بھی چلا جاؤں تو تحریک لبیک مطمئن ہو جائے گی، انہوں نے فیض حمید کو کہا وزیراعظم کو پیشکش کر چکا ہوں مگر وہ ماننے کو تیار نہیں، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےکہا تھا حکومت توڑ دیں گے وزیرکو استعفیٰ نہیں دینے دیں گے، جب پولیس ایکشن ناکام ہوا تو احساس ہوا واحد متبادل فوج کی مداخلت ہوگی جو اچھی نہیں ہوگی،

    فیض آباد کمیشن ایک مذاق تھا، اس رپورٹ کی کوئی وقعت نہیں،خواجہ آصف

    احسن اقبال نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کے حوالے نئے راز افشا ں کر دئے

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو گا،

    اٹارنی جنرل کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک خط آیا جس کی سوشل میڈیا پر گونج تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے اپنی شکایات سپریم کورٹ کو بھیجیں،چیف جسٹس پاکستان نے خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان ان سے اس معاملے پر گفتگو کریں، دو بجے ہونے والی اس ملاقات میں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی، وزیر اعظم اور میں بطور وزیر قانون بھی شریک ہوا،اس گفتگو میں ٹیکس سے متعلقہ کیسز بھی زیر بحث آئے، ہم خود ان سب مسائل کا شکار رہے ہیں، اس معاملے کی چھان بین حکومت کا فرض ہے،سب سے پہلے اس معاملے کی انکوائری کی ضرورت ہے، کل یہ معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائیگا اور کسی نیک نام ریٹائرڈ شخصیت سے اس کمیشن کی سربراہی کی درخواست کی جائیگی،ہر ادارے کو اپنی ڈومین میں آئین کے مطابق رہ کر کام کرنا پڑے گا، وزیر اعظم کل یہ معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے،کابینہ کے ٹی او آرز نا صرف ان معاملات سے متعلق ہوں گی بلکل کوشش ہو گی ماضی کے معاملات بھی اس میں شامل ہوں، کمیشن کے سربراہوں میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس بھی ہو سکتے ہیں، کمیشن آف انکوائریز ایکٹ کے تحت تعیناتی کی جائے گی،وزیراعظم نے کہا ہے کہ مملکت پاکستان آئین اور قانون کے مطابق چل رہی ہے اور تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کر رہے ہیں،ججز کا معاملہ پہلی بار سامنے نہیں آیا بلکہ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے، وزیراعظم نے ملاقات میں یہ یقین دہانی کروائی کہ اس حوالے سے چھان بین ہونی چاہئے، مس کنڈنکٹ ہوا یا نہیں معاملہ عدلیہ پر چھوڑ رہے ہیں،وزیراعظم کا کہنا ہے عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

  • فیض آباد دھرنا کمیشن، خواجہ آصف نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    فیض آباد دھرنا کمیشن، خواجہ آصف نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے پیش ہو گئے

    خواجہ آصف نے پیشی کے دوران فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے سوالات کے جواب دیئے، پیشی کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ "آج فیض آباد دھرنا کمیشن میں پیش ہوا، بیان نامکمل رہا انشاءاللہ جلد مکمل ہو جاۓ گا۔۔ میری ناچیز ر اۓ ہے کہ کمیشن کی کاروائی اوپن ہو میڈیا کوریج ہو۔ عوام کو معلوم ہونا چاہئیے کہ ملک کے ساتھ 75سال کیا کھلواڑ ہواھے۔ وطن عزیز میں جتنے کمیشن بنے انکا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انکے نتائج بھی عوام کے سامنے نہیں آۓ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کا سامنا کریں اور کفارہ ادا کریں”

    واضح ہے کہ کمیشن نےسابق وزیراعظم شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے طلب کر رکھا ہے، انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ 22 جنوری کوسپریم کورٹ میں جمع کرانی ہے

    لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید نے بھی فیض آباد دھرنا کمیشن کو بیان رکارڈ کرادیا ہے،فیض حمید نے کمیشن کی طرف سے دیے گئے سوالوں کے جواب دے دیئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق فیض حمید نے جواب میں کہا حکومت کی ہدایت پر تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات کیے ،فیض حمید نے حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے، فیض حمید کے لئے ایک سوال نامہ تیار کیا گیا تھا، فیض حمید نے تمام سوالوں کے جواب جمع کروا دیئے ہیں، فیض حمید نے حکومت کیخلاف سازش کے الزام کا انکار کیا اور کہا کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ مذاکرات حکومت کے کہنے پر کئے تھے، اسوقت شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، احسن اقبال وزیر داخلہ تھے، کابینہ اجلاس میں مشترکہ ہدایت کے بعد دھرنے والوں سے فیض حمید نے مذاکرات کئے تھے

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,

  • لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کردی ہے

    وفاقی حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں توسیع کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق کمیشن کی مدت میں تاحکم ثانی توسیع کی گئی ہے،

    2011 میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں لاپتہ افراد کمیشن قائم کیا گیا تھا اور ماضی میں لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں 6 ماہ سے 3 سال تک کی توسیع کی جاتی تھی،لاپتہ افراد کمیشن تین افراد پر مشتمل ہیں جن میں کمیشن کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال ہیں جبکہ ممبران میں جسٹس (ر) ضیاء پرویز اور سابق آئی جی شریف ورک شامل ہیں

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    واضح رہے کہ جبری گمشدگی کیس میں سپریم کورٹ میں چند دن قبل لاپتہ افراد کمیشن کا تذکرہ ہوا تھا جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کون ہیں، انکی کتنی عمر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں جن کی عمر 77سال ہے،وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے 2011میں ریٹائرڈ ہوئے،رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے رجسٹرار کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹر ار لاپتہ افراد کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں یا کوئی کام بھی کرتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کتنی مرتبہ کمیشن کا اجلاس ہوتا ہے، کتنی ریکوری ہوتی ہے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ اس ماہ 46 لوگ بازیاب ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ آپکے پاس کیسز آ رہے ہیں ؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ جی کمیشن کے پاس کیسز آ رہے ہیں ، کیسز آنے کے بعد کمیشن جے آئی ٹی بناتی ہے ،آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ہم لوگ لاپتہ کمیشن کے پاس گئے ، ہم ان سے مطمن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتزازاحسن صاحب آپ مطمئن ہیں اس کمیشن سے یا نہیں ؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کیلیے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزاروں سے استفسارکیا کہ جن کے مسنگ پرسنز کے مقدمات ہیں کیا وہ لاپتہ افراد کمیشن سے مطمئن ہیں یا نہیں، عدالت میں موجود درخواست گزاروں نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے بڑی عمارت لاپتہ افراد کمیشن والوں کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کے لوگ کا تقرر کیسے ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمیشن کے نمائندگان کی معیاد میں توسیع ہوتی رہی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ارکان کو تنخواہ ملتی ہے؟رجسٹرار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ممبران کو عدالت عالیہ کے مطابق پیکج ملتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ممبران کو پنشن نہیں ملتی ؟ رجسٹرار نے کہا کہ پنشن الگ سے ملتی ہے اور بطور کمیشن تنخواہ الگ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن 2011 میں بنا تھا اب تک اسے ہی توسیع دی جا رہی ہے،

  • سانحہ جڑانوالہ،جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ

    سانحہ جڑانوالہ،جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ: سانحہ جڑانوالہ پر جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے کابینہ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سرکاری وکیل نے جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا،عدالت نے کیس کی سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کردی،ایڈوکیٹ جنرل خالد اسحاق نے کہا کہ ہم کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا از سر نو جائزہ لیں گے،عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جے آئی ٹی رپورٹ ایک افسر کی انکوائری رپورٹ لگتی ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حکومتی رپورٹ کے مطابق 22 چرچ جلے ہیں، اگر اس چیز کو پیسوں کی ادائیگی سے جوڑیں گے تو انتہائی غلط ہے، عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے طور پر درخواست گزاروں کے کسی شخص کو اپنے پاس بلا کر بات بھی کریں، کچھ چیزیں فیصلہ سازی میں مدد کریں گی، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم ہر وقت موجود ہوں،

    جسٹس عاصم حفیظ نے بشپ آزاد مارشل سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی،بشپ آزاد مارشل سمیت دیگر کی جانب سے ایڈوکیٹ محبوب کھوکر عدالت میں پیش ہوئے،درخواست گزار نے کہا کہ پنجاب حکومت نے رپورٹ جاری کی ہے کہ سانحہ جڑانوالہ پر کمیشن نہیں بنا سکتے، رپورٹ حقائق کے منافی ہے،عدالت سانحہ جڑانوالہ پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم جاری کرے،

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے جڑانوالہ سانحہ کے حوالہ سے پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کئے ہیں

  • فیض آباد دھرنا کیس، کمیشن نے سابق وزیراعظم کو طلب کر لیا

    فیض آباد دھرنا کیس، کمیشن نے سابق وزیراعظم کو طلب کر لیا

    فیض آباد دھرنا کیس میں کمیشن نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کر لیا

    شاہد خاقان عباسی کو 29 نومبر کو فیض آباد کمیشن میں طلب کیا گیا ہے،اسرار احمد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان ریکارڈ کریں گے ،شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیر اعظم تھے جب فیض آباد دھرنا ہوا تھا

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیاہے، ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ محمد ایاز کو بھی کمیشن میں شامل کرلیا گیا۔ ڈپٹی سیکرٹری وزرات داخلہ محمد ایاز بطور سیکرٹری کمیشن مقرر کردئیے گئے ہیں، سابق آئی جی طاہر عالم تاحال والدہ کی بیماری کے باعث کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے، فیض آباد دھرنا کمیشن نے تحقیقات کے لیے متعدد ویڈیو حاصل کرلی ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ مسترد کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اختر علی شاہ کی سربراہی میں تشکیل دیا تھا،ہ 20 نومبر سے فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں تمام ریکارڈ بھی طلب کیا گیا تھا،کمیشن اپنی رپورٹ جمع کروائے گاجو سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    سپریم کورٹ ،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل تھے،درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات کیخلاف چمبر اپیل دائر کی ہے۔تمام متفرق درخواستوں کو نمبرز لگے ہیں میری اپیل پر نمبر نہیں لگا اپیل کو اوپن کورٹ میں لگا کر سماعت کر لیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے درخواست پر اعتراض کیا لگا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے توہین عدالت کی درخواست کے درخواست گزار کی سرزنش کی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معلوم ہے آپ نے توہین عدالت کی درخواست کس کیخلاف دائر کی ہے آپ نے ججز پر توہین عدالت کا الزام لگایا ہے عمومی طور پر ججز کو توہین عدالت کی درخواستوں میں فریق نہیں بنایا جاتا مناسب ہے پہلے توہین عدالت کی درخواست پر لگے اعتراضات کو دور کریں توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور متعلقہ شخص کے مابین ہوتا ہے ،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق آج ججز کیخلاف دائر اعتراضات پر دلائل ہونے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراضات پر دلائل شروع کریں

    اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ کس نقطے پر بات کرنا چاہیں گے؟ آپ ایک چیز مس کر ریے ہیں،چیف جسٹس پاکستان ایک آئینی عہدہ ہے، مفروضہ کی بنیاد پر چیف جسٹس کا چارج کوئی اور نہیں استعمال کر سکتا، اس کیس میں چیف جسٹس دستیاب تھے جنہیں کمیشن کے قیام سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا، چیف جسٹس کے علم میں نہیں تھا اور کمیشن بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ان نکات پر آپ دلائل دیں، اٹارنی جنرل نے بنچ پر اعتراض کی درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ عدالت نے حکم نامہ میں جن فیصلوں پر انحصار کیا وہ ججز کی جانبداری سے متعلق ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنسز ان فیصلوں کے دیے گئے ہیں جہاں متبادل نہ ہو تو فیصلہ مجاز فورم ہی کرتا ہے، ایسی صورتحال میں جانبداری کا الزام واحد دستیاب فورم پر نہیں لگ سکتا، چیف جسٹس کا عہدہ آئینی ہے جس کے انتظامی اختیارات بھی ہوتے ہیں، چیف جسٹس دستیاب نہ ہوں تو آئین کے تحت قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر ہوتا ہے،چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے اختیارات کسی اور کو تقویض نہیں کیے جا سکتے، موجودہ کیس میں کیا الزامات ہیں معلوم نہیں، چیف جسٹس نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کمیشن کیلئے ججز دستیاب ہیں یا نہیں، مفادات کا ٹکرائو ہو بھی تو چیف جسٹس آفس ہی فیصلہ کرے گا کیونکہ یہ آئینی عہدہ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک اعتراض بنچ کی تشکیل دوسرا کمیشن کے ٹی او آرز کی بنیاد پر ہے، چیف جسٹس کی جانب سے کمیشن کیلئے نامزدگی دوسرا اعتراض ہے، ججز ضابطہ اخلاق کے تحت موجودہ بنچ کے کچھ ممبران کیس نہیں سن سکتے، مفادات کا ٹکرائو ہو تو ججز کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ اختیارات کی آئینی تقسیم اور قانونی نکات پر بات کریں،عدلیہ کی آزادی کے نکتے اور ماضی کے عدالتی فیصلوں سے متفق ہیں یا نہیں پہلے یہ بتائیں،آپ عدالتی فیصلوں کے حوالے پڑھنے سے پہلے قانون کو سمجھیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے بنچ کی تشکیل پر دلائل دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس نقطے پر جا رہے ہیں کہ ہم میں سے تین ججز متنازعہ ہیں؟ اگر اس پر جاتے ہیں تو آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے کس بنیاد پر فرض کر لیا کہ ہم میں سے تین کا کنفلکٹ ہے،میں چاہوں گا آپ دوسروں سے زیادہ اہم ایشو پر فوکس کریں،دوسرا اور اہم ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجاز الاحسن جسٹس منیب اختر کا آڈیو لیکس سے تعلق ہے آپ تینوں ججز کیس نہ سنیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی موجودگی میں پوچھے بغیر ججز پر مشتمل کمیشن تشکیل دے دیا گیا، یہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس پر دلائل دیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا قانونی طور پر درست ہے جسے آڈیوز کی حقیقت کا نہیں پتہ وہ بنچ پر اعتراض اٹھائے؟ میں آپ کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا پوچھ رہا ہوں وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کیوں کی، کیا ایسی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے؟ ایسے بیان کے بعد تو اس وزیر کو ہٹا دیا جاتا یا وہ مستعفی ہوجاتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا ایک وزیر کا بیان پوری حکومت کا بیان لیا جا سکتا ہے؟میرے علم میں نہیں اگر پریس کانفرنس کسی نے کی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اتنے اہم ایشو پر کابینہ کی اجتماعی زمہ داری سامنے آنی چاہیے تھی، وزیر اگر چائے پینے کا کہے تو الگ بات، یہاں بیان اہم ایشو پر دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت یہ دیکھے کہ وزیر داخلہ کا بیان نو مئی سے پہلے کا ہے یا بعد کا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واہ کیا خوبصورت طریقہ ہے اورعدلیہ کے ساتھ کیا انصاف کیا ہے، پہلے ان آڈیوز پر ججز کی تضحیک کی پھر کہا اب ان آڈیوز کے سچے ہونے کی تحقیق کروا لیتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بڑا آسان ہوجائے گا کسی بھی جج کو کیس سے ہٹانا ہے تو اس کا نام لے کر آڈیو بنا دو،کیس سے الگ ہونے کے پیچھے قانونی جواز ہوتے ہیں، یہ آپشن اسلیے نہیں ہوتا کوئی بھی آکر کہہ دے جج صاحب فلاں فلاں کیس نہ سنیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اسی لیے اس معاملے کو انجام تک پہنچانا چاہتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آڈیوز کس نے پلانٹ کی ہیں، کیا حکومت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ کون کر رہا ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ حکومت کمیشن کے زریعے اس معاملے کو بھی دیکھے گی،کالز کیسے ریکارڈ کی گئیں کمیشن کے زریعے تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا،ابھی تو یہ معاملہ انتہائی ابتدا کی سطح پر ہے، وفاقی حکومت کے مطابق یہ آڈیوز مبینہ آڈیوز ہیں، وفاقی حکومت کا یہی بیان دیکھا جانا چاہیے،کابینہ کے علاوہ کسی وزیر کا ذاتی بیان حکومت کا بیان نہیں،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ اگر وزیر خزانہ کچھ بیان دے تو کیا وہ بھی حکومت کا نہ سمجھا جائے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی معاملہ اگر سپریم کورٹ کے تمام ججز سے متعلق نکل آئے پھر یہ نظریہ ضرورت پر عمل ہوسکتا ہے،اگر تمام ججز پر سوال ہو پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی نے تو سننا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت نے اپنے وسائل استعمال کر کے پتہ کیا کہ آڈیوز ریکارڈ کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہیں؟ کون یہ سب کر رہا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ نے آڈیوز کو مبینہ قرار دیتے ہوئے کمیشن تشکیل دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بدنام کرکے معاملہ حقائق جاننے کیلئے بھیج دیا گیا،واہ کیا خوبصورتی سے یہ کام کیا گیا، ججز کی تضحیک کی آخر کیا وجہ تھی؟ کابینہ نے خود کو ایسے بیانات سے الگ کیوں نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم میڈیا اور پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر آپ کو شرمندہ کریں؟ حقائق جانے بغیر ججز کی تضحیک کی گئی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سائل نے جج تبدیل کرانا ہو تو ایک آڈیو بنا کر لیک کروا دے گا، اکثر سائلین خود پیش ہوتے ہیں کیس نہ بنتا ہو تو جج پر الزام لگا دیتے ہیں،کیا ایسے موقع پر جج نظام انصاف کو دیکھے یا اٹھ کر چلا جائے اور کیس نہ سنے؟ کل کوئی جج کا نام لے کر ویڈیو بھی ٹوئٹر پر ڈال سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیوز کو پلانٹ کیا گیا حکومت کے پاس وسائل ہیں کہ تعین کر سکے کس نے پلانٹ کیا، کمیشن بھی حکومت سے ہی معاونت لے گا، کیا حکومت نے آڈیوز کے حوالے سے کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے آڈیوز کیلئے کمیشن تشکیل دیا ہے کمیشن جس بھی ادارے کو کہے گا وہ معاونت کرینگے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کیس سننے والے سات میں سے چار ججز کی فون ٹیپنگ کی گئی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں صدر کے اختیارات کا سوال تھا،بینظیر کیس میں بینچ پر اعتراض نہیں ہوا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا اس کیس میں ججز نے ٹھیک فیصلہ نہیں کیا جن کی کالز ٹیپ ہوئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کیس تعصب کا نہیں مفادات کے ٹکراو کا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ اعتراض صرف جوڈیشل کاروائی پر بنتا ہے یا انتظامی امور کی انجام دہی پر بھی ہے؟ ایک ٹویٹر ہینڈل بار بار ایسا مواد جاری کر رہا ہے، یہ سوال ہے ایسی آڈیوز لیک کون کرتا ہے، جس ٹویٹر اکاؤنٹ نے یہ آڈیوز جاری کی اسکے خلاف کیا قانونی کاروائی کی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری اس سارے معاملے پر کوئی بدنیتی نہیں ہے، بنچ تبدیل ہونے سے کمیشن کے خلاف عدالت آئے درخواست گزاروں کا حق متاثر نہیں ہوگا،استدعا ہے کہ بنچ تبدیلی کی درخواست کو زیر غور لائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دو اور ججز پر بھی ہے، ہماری درخواست کا متن آپ کے سامنے ہے اس کا جائزہ لے لیں، کمیشن آڈیو سے متعلق تمام عوامل کا جائزہ لے گا۔وفاقی حکومت کا موقف ہے یہ آڈیوز مبینہ ہیں۔کسی نے پریس کانفرنس کی ہے تو اسکا انفرادی فعل ہے انفرادی فعل پر کابینہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر وزراء کے بیانات کو حکومت کی پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تحریری اعتراض جج پر اٹھایا جائے تو صورتحال مختلف ہوجاتی ہے ،وفاقی حکومت کا کسی جج کیخلاف تعصب کا نہیں ،وفاقی حکومت کا کیس ججز کے مفادات کے ٹکراو کا ہے ،ججز پر اعتراض کسی منفی مقصد کے تحت نہیں اٹھایا گیا

    اٹارنی جنرل نے دوران سماعت ارسلان افتخار کیس کا حوالہ دیا،اور کہا کہ ارسلان افتخار کیس میں بنچ سربراہ جسٹس افتخار چوہدری تھے،ایک فریق کی استدعا پر جسٹس افتخار چوہدری نے خود کو بنچ سے الگ کر لیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دیگر دو ججز پر بھی ہے، کیا آپ دیگر دو ججز پر اعتراض واپس لینگے یا باری باری ہر جج پر دلائل دینگے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست اور اعتراضات کا متن عدالت کے سامنے ہے،بنچ کی تشکیل پر اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کر لئے

    وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تمام آڈیوز 16 فروری کے بعد کی ہیں، عدالت نے انتخابات کا مقدمہ سننا شروع کیا تو آڈیوز آنا شروع ہوگئیں، ایک ہیکر کے اکائونٹ سے تمام آڈیوز لیک کی جاتی ہیںحکومت انتخابات کیس میں فریق ہے وہی کمیشن بھی بنا رہی ہے، پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آڈیوز ریکارڈ اور لیک کون کر رہا ہے، کمیشن کے ٹی او آرز میں آڈیوز ریکارڈ کرنے والے کا ذکر ہوتا پھر تو بات تھی، یہاں عدالت کے سامنے ایک آئینی نوعیت کا معاملہ ہے، یہاں سوال ایگزیکٹو کی عدلیہ میں مداخلت کا ہے، اس بنچ نے کسی کے حق میں یا خلاف فیصلہ نہیں دینا ایک تشریح کرنی ہے،جس بنیاد پر بنچ تبدیلی کی درخواست ہے وہ دیکھی، کیا ہم آڈیوز کو پہلے ہی تسلیم کر لیں؟یہ تو بلیک میلنگ کا بہت آسان طریقہ ہوجائے گا، کسی بھی فیک آدمی کے زریعہ جعلی آڈیوز بنوا دی جایا کریں گی،اس عدالت نے صرف الیکشن کرانے کا کہا تھا،اس پر آڈیوز آنے لگی اور ٹاک شوز میں کیا نہیں کہا گیا پیمرا اس دوران کہاں ہے دیکھ لیں پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر دیکھ لیں،عدلیہ کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی،عدلیہ کی آزادی بہت اہم ہے، لوگ عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں،لوگوں کے سیاسی نظریات پر ان کے بیاسی سال کے والد کو اٹھا لیا جاتا ہے،کیا عدلیہ میں ایگزیکٹو ایسے مداخلت کرے گی،

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار رکھا گیا ہے، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • سپریم کورٹ،آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع

    سپریم کورٹ،آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بھی بینچ میں شامل تھے ،رجسٹرار سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کیس سننے والے ججز پر اعتراضات کی حکومتی درخواست واپس کر دی، کہا کہ جو درخواست کرنی ہو وہ کھلی عدالت میں کریں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیکس کمیشن کا جواب موصول ہوگیا ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن نے جواب میں ٹاک شوز کا بھی ذکر کیا ہے، ٹاک شوز میں ایک سال سے عدلیہ کا دفاع کرنے جاتے ہیں، ٹاک شوز میں جو گفتگو ہوتی ہے وہ عدالت کے سامنے ہے، عدالت کے دروازے پر جو زبان استعمال کی گئی وہ ڈھکی چھپی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شعیب شاہین کو ہدایت کی کہ کمیشن کے جواب پر تحریری موقف جمع کروا دیں،تحریری موقف آئے گا تو جائزہ لیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ پر اعتراضات کی درخواستیں بھی آئی ہیں، آئندہ سماعت پر درخواستیں سن کر فیصلہ کرینگے، بنچ پر اعتراض پر مبنی درخواستیں پہلے سنی جائیں گی، بنچ پر اعتراض کی حکومتی درخواست کو نمبر الاٹ نہیں ہوا، اعتراض پر مبنی درخواستیں کمرہ عدالت میں دی جاتی ہیں، چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کی درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کر دی ،درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی عدولی ہو رہی ہے، توہین عدالت کی درخواست دائر کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست آفس میں فائل کریں جو مروجہ طریقہ ہے،ریاض حنیف راہی نے کہا کہ بنچ پر اعتراض تو عدالت مسترد کر چکی ہے، سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی ،سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع کر دی

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل تھے تا ہم سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور سپریم کورٹ نے کمیشن کو کام سے روک دیا، کمیشن کی آخری سماعت ہفتہ کو ہوئی جس میں کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے کام روک دیا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے