Baaghi TV

Tag: کمیشن

  • ہمیں سب سے پہلے با اعتماد الیکشن کمیشن چاہیے، عمران خان کا مطالبہ

    ہمیں سب سے پہلے با اعتماد الیکشن کمیشن چاہیے، عمران خان کا مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ شفاف انتخابات ہے، شفاف انتخابات نہیں ہوں گے تو بحران اور انتشار مزید بڑھے گا، حالات بگڑتے جا رہے ہیں اس صورتحال سے ہم قوم بن کر ہی نکل سکتے ہیں۔

    عمران نیازی نے پاکستان کی عزت داؤ پر لگانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی،وزیراعظم

    عوام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے پاکستانیوں آج سب کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، تین ماہ پہلے ہماری حکومت ہٹا کر کرپٹ لوگوں کو مسلط کیا گیا، ان لوگوں کو مسلط کیا گیا جو تیس سال سے کرپشن کر رہے تھے، قوم کی توہین کی گئی، عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھا گیا، کسی کو بھی مسلط کردو کہ قوم خاموش ہو کر برداشت کرے گی، ہماری حکومت ہٹانے کے بعد ہماری جماعت کو دبانے کا پروگرام بنایا گیا، 25 مئی کو بیرونی سازش اور امپورٹڈ ٹولے کے خلاف پر امن احتجاج کی کال دی۔

     

    پرویز الہیٰ کی عمران خان سے ملاقات، سپیکر کون بنے گا نام پر ہوا اتفاق

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی توڑ پھوڑ کی تاریخ ہی نہیں ہے، لیکن 25 مئی کو ظلم کیا گیا، خواتین اور بچوں پر تشدد کیا گیا آج بھی وہ منظر آنکھوں کے سامنے ہے، یہ سمجھ رہے تھے قوم خاموش ہو کر گھروں میں بیٹھ جائے گی ایسا نہیں ہوا، عوام ایک قوم بن رہی ہے اور گھروں سے نکل رہی ہے، 2018ء کے الیکنش میں بھی عوام کو اس طرح نکلتے نہیں دیکھا، ضمنی الیکشن میں جس طرح عوام نکلے اس کی مثال نہیں ملتی، تشدد کر کے سمجھا گیا کہ ہمیں کچل دیں گے، پہلی مرتبہ قوم بنتے دیکھ رہا ہوں، حمزہ شہباز کو غیر قانونی طور پر بیٹھایا گیا، حکومتی وسائل استعمال کیے گئے، الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر ہمیں الیکشن ہرانے کی پوری کوشش کی گئی، زندہ قوم کھڑی تھی، زندہ قوم نظر آئی اس لیے یہ لوگ ناکام رہے، زندہ قوم نے جس طرح الیکشن لڑا سلام پیش کرتا ہوں، جس طرح آپ نے الیکشن لڑا اس پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔

     

    دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

     

     

    پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ ہمارے سارے معاشی اشاریے درست راستے پر چل رہے تھے، موجودہ حکومت نے اقتصادی سروے رپورٹ جاری کی، رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت 6 فیصد گروتھ کر رہی تھی، 17 سال بعد پاکستان کی معیشت میں اس قسم کی ترقی ہو رہی تھی، مشرف دور میں ڈالرز آرہے تھے اس لیے ترقی ہو رہی تھی، ہمارے دور میں زراعت 4.4 فیصد کیساتھ ترقی کر رہی تھی، ٹیکنالوجی سیکٹر کی مدد کرنے پر دو سال میں آئی ٹی ایکسپورٹ میں 75 فیصد اضافہ ہوا، ہماری حکومت کی پوری توجہ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر پر تھی، خوشی ہے ہم پاکستان کو پہلی بار فلاحی ریاست کی طرف لے جا رہے تھے، پاکستان میں صحت کارڈ متعارف کروایا ، غریب لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دی، بڑے ممالک ایسے ہیں جہاں صحت کارڈ یا ہیلتھ انشورنس کی سہولت نہیں، صحت کارڈ شروع کرنے پر دنیا نے ہماری پالیسی کی تعریف کی، صحت کارڈ سے پہلی بار غریب لوگ پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کروا رہے تھے۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ ہے شفاف انتخابات، شفاف انتخابات نہیں ہوں گے تو بحران اور انتشار مزید بڑھے گا، ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دینا چاہیے جس پر سب کو اعتماد ہو۔۔ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں، موجودہ چیف الیکشن کمشنر پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں ہے، ای وی ایم لانے کی کوشش کی تو چیف الیکشن کمشنر نے اس کی مخالفت کی، جسٹس ناصر الملک کی قیادت میں دھاندلی سے متعلق کمیشن بنا تھا، کمیشن رپورٹ کے مطابق دھاندلی اس وقت ہوتی ہے جب پولنگ ختم ہوتی ہے، ای وی ایم کے ذریعے پولنگ ختم ہوتے ہی بٹن دبانے سے نتیجہ آ جاتا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے پوری سازش کی اور ای وی ایم لانے کی اجازت نہیں دی۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے ایک بااعتماد الیکشن کمیشن چاہیے جس پر سب کو اعتماد ہو، حالات بگڑتے جا رہے ہیں اس صورتحال سے ہم قوم بن کر ہی نکل سکتے ہیں۔ قوم فیصلہ کر لے ہم نے قرضے اُتارنے ہیں تو قوم یہ کر سکتی ہے، قوم فیصلہ کر لے ہم نے ٹیکس دینا ہے تو قوم یہ کر سکتی ہے، قوم مل جائے تو دس سال میں پھرسے اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکتی ہے، قوم بن کر مسائل کا مقابلہ نہیں کرتے تو حل نہیں کر سکتے۔

  • طیبہ گل کیس، انکوائری کمیشن تشکیل، رابعہ جویریہ آغا کمیشن کی سربراہ مقرر

    طیبہ گل کیس، انکوائری کمیشن تشکیل، رابعہ جویریہ آغا کمیشن کی سربراہ مقرر

    طیبہ گل کی جانب سے سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کےخلاف الزامات کی تحقیقات کیلئے وفاقی حکومت نے انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا۔

    وفاقی حکومت نے طیبہ گل کے سابق چیئرمین نیب پر الزامات کے معاملے پر کمیشن قائم کر دیا ہے۔ حکومتی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ چیئرپرسن رابعہ جویریہ آغا ہوں گی۔ رابعہ جویریہ آغا قومی کمیشن انسانی حقوق کی چیئرپرسن بھی ہیں۔

    قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سندھ کی رکن انیس ہارون انکوائری کمیشن کی رکن ہوں گی، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پنجاب کے رکن ندیم اشرف بھی انکوائری کمیشن کے رکن ہوں گے۔ کمیشن کے ٹی او آرز بھی طے کر دیے گئے ہیں، کمیشن جنسی ہراسگی، اختیارات کے غلط استعمال کی تحقیقات کرےگا۔ کمیشن انتظامی انصاف کے عمل کی خلاف ورزی کا تعین کرے گا۔

    قبل ازیں سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی خاتون طیبہ گل کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں دیے گئے بیان پر ڈی جی نیب میجر (ر) شہزاد سلیم نے رد عمل دیا تھا ۔ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میرے علم میں آیا ہے کہ طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آڈیو سنائی، طیبہ گل نے یہ آڈیو سنا کر گمراہ کیا، اس پر شدید احتجاج کرتا ہوں۔شہزاد سلیم کا کہنا تھا کہ آڈیو میں میری بات نگہت بھٹی سے ہو رہی ہے، نگہت بھٹی کو بتایا گیا کیس میرٹ پر پورا اترنے تک کچھ نہیں کر سکتے، طیبہ گل کا کیس اور ہے جبکہ نگہت بھٹی کا اور کیس ہے۔ ڈی جی نیب نے کہا تھا کہ طیبہ گل سے میری کبھی کوئی بات نہیں ہوئی،اگر ایسا کہا گیا تو شدید احتجاج اور مذمت کرتا ہوں۔

  • الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    لاہور:جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں تلخیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور مخالفین نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کا بازار بھی گرم کررکھا ہے ، اس حوالے سے کچھ زیادہ تلخی اس وقت سامنے آئی جب پنجاب کے وزیرداخلہ عطااللہ تارڈ نے یہ خبر وائرل کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں کے پنجاب داخلے پرپابندی لگا دی ہے ،

    عطااللہ تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے پنجاب میں داخلےپرپابندی عائد کیےجانےپر قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئےکہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا۔

    اس حوالے سے اپنا ردعمل دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے پہلےجعلی ایف آئی آرز کاٹیں ان لوگوں نے پھر ہمارےکارکنوں کو بےبنیاد گرفتار کیا ان لوگوں کو اپنی شکست نظرآرہی ہے اس لیےایسی حرکتیں کررہےہیں۔

    پنجاب حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا الیکشن کمیشن کیسےکہہ سکتا ہےکہ میں پنجاب میں کچھ کرنے لگا تھا پنجاب حکومت کیسےکہہ سکتی ہےکہ میں پنجاب میں کچھ کروں گا۔

    پنجاب میں داخلے پر پابندی کے خلاف اپنا نقطہ اعتراض دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پاکستان کاشہری ہوں مجھےپنجاب میں جانےسےکیسے روکا جاسکتا ہے سابق وفاقی وزیر ہوں میرے کو پنجاب جانے سے کیسے روکا جا سکتاہے یہ لوگ سری لنکاجیسےحالات پاکستان میں چاہتےہیں۔

    علی امین گنڈا پور نے پنجاب میں کشمیری رہنما کے داخلے پرپابندی پر بھی سخت ردعمل دیا ،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مقبول گجر کشمیری ہیں ان پر کیسے پنجاب میں جانےپرپابندی لگائی گئی؟ مقبول گجر جیسے کشمیری پر پابندی لگا کر کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے صوبائی حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا ،، وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ نے کہا ہے کہ امن وامان کو یقینی بنانےکیلئے علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر پر پنجاب میں پابندی لگا دی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ضمنی الیکشن کےدوران سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرداخلہ پنجاب عطاتارڑ نے کی۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنےکی اجازت نہیں ہوگی اسلحےسےپاک مہم میں پولیس نےبھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا۔

    عطاتارڑ نے کہا کہ دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کودھمکیاں دینے پر آگئے ہیں تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کرلوگوں کوبدامنی پراکسارہی ہے امن وامان کویقینی بنانےکیلئے مقبول گجر بھی پابندی لگائی گئی ہے اطلاعات تھیں علی گنڈاپور، مقبول گجر پرُتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔4 روزہ پابندی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے نوٹیفکیشن جاری کیا

  • کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی کابینہ نے لاپتہ افرادکے معاملے پر وزرا کی کمیٹی تشکیل دی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے گزشتہ آرڈر میں کیا لکھا تھا وہ ذرا پڑھ کر بتائیں،آرڈر میں لکھا تھا کہ لاپتہ افرادکو بازیاب کر کے پیش کیا جائے، وہ کہاں ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ تحقیقاتی ادارے اپنی کوشش کر رہی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کو کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں، بتائیں عملدرآمد کیا ہوا ہے؟ وفاقی حکومت کا ایکشن کدھر ہے ؟عدالت آئی واش نہیں مانے گی ،اب بھی روزانہ لوگ اٹھائے جا رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، وفاقی حکومت ، پرویز مشرف اور بعد کے تمام وزرائے اعظم کو نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا تھا،وہ نوٹسز اور بیان حلفی کدھر ہیں؟ یہ اہم ترین معاملہ ہے اور اس میں ریاست کا یہ رویہ ہے،کیا وفاقی حکومت کی بنائی گئی کمیٹی کی میٹنگز ہوئی ہیں؟ حکم دیا تھا کہ حکم پر عمل نہیں ہوتا تو موجودہ اور سابقہ وزرائے داخلہ پیش ہوں،وزرائے داخلہ کدھر ہیں؟ کیا یہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد ہو رہا ہے؟ کیا یہ اچھا لگے گا کہ یہ عدالت چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے؟ تمام حکومتیں آئین اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہی ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئی کوششیں نہیں کی جا رہیں، حکم دیا تھا کہ لاپتہ افراد کی کی مشکلات عوام تک پہنچانے کیلئے اقدامات کیے جائیں،وفاقی حکومت نے پیمرا کو ڈائریکشن جاری کی ہے؟ نمائندہ وزارت اطلاعات نے عدالت میں کہا کہ براہ راست پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کو لکھ دیا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل کریں،عدالت نے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کتنے پروگرامز ہوئے ہیں؟اس عدالت کے ساتھ گیم نہ کھیلیں، کس چیز کی گھبراہٹ ہے؟ وفاقی کابینہ نے کمیٹی بنائی گو کہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کوئی اقدام تو اٹھایا گیا،یہ عدالت ان جبری گمشدگیوں کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائے؟ یا تو یہ بتا دیں کہ یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے،یہ جتنے کیسز ہیں ان میں کسی ایک کا بھی بتا دیں کہ اسے کس نے اٹھایا ہے؟

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر دفاع کو نوٹس جاری کرنا چاہیے؟ جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کس کے ماتحت ہے؟ یا تو وزیراعظم کہہ دیں کہ وہ بے بس ہیں،اگر وزیراعظم بے بس نہیں تو آئین انہیں ذمہ دار ٹھہراتا ہے وزیراعظم کو پھرعدالت میں یہ کہہ دینا چاہیے تاکہ کورٹ کسی کے خلاف کارروائی کرے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئندہ سماعت تک وقت دے اٹارنی جنرل خود عدالت کی معاونت کرینگے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو جو اس عدالت کے آرڈر کے ساتھ کیا اس کے بعد تو کچھ کہنا بنتا ہی نہیں، اختلاف نہیں کہ لوگ خود چلے جاتے ہیں لیکن ریاست کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے، اس ملک میں ماورائے عدالت قتل کیے جاتے رہے ہیں، پولیس کیا کرتی رہی ہے،عدالت نے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان کب تک وطن واپس آجائیں گے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ممکنہ طور پر 10 دن میں وطن واپسی ہوجائے گی،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل 25 مئی کے عدالتی آرڈر پر عمل درآمد سے متعلق مطمئن نہیں کر سکے،لاپتہ افراد سے متعلق کابینہ کی طرف سے تشکیل کردہ کمیٹی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا گیا ،وفاقی حکومت بادی النظر میں عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کر کے ناکام رہی عدالت پرظاہر ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد کا معاملہ سیریس نہیں لیا،وزرات داخلہ 25 مئی کے اس عدالت کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنائے، کیس میں مزید کوئی التوا نہیں دیا جائے گا فریقین آئندہ سماعت تک دلائل دیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹ طلب

    دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹ طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں راولپنڈی کے دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کمیشن کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ کمیشن دونوں بھائیوں کی بازیابی کے لیے کاروائی نہ کرنے کی وجوہات بتائے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن خالد نسیم نے عدالت میں کہا کہ رپورٹ جمع کرانے کے لیے کچھ وقت دیا جائے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے رجسٹرار کمیشن سے سوال کیا کہ لاپتہ افراد کیسز میں آپ کو وقت کیوں چاہیے ؟ اب معاملہ لاپتہ افراد کمیشن کے پاس زیر التوا ہے جو اس عدالت کے دائرہ کار میں ہے، عدالت نے لاپتہ افراد کمیشن سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 23 جون تک ملتوی کردی

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے درخواستوں پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی مدثر نارو اوردیگر کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی،عدالت نے استفسار کیا کہ 2010 میں سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر ایک کمیشن بنایا تھا اس کی رپورٹ کہاں ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ اس وقت 800 کے قریب لوگ تاحال لاپتہ ہیں،کل 8 ہزار لوگ لاپتہ ہوئے تھے، جس میں 6 ہزار کیسسز حل ہوگئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پریہ کیسز حل ہوئے؟ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ 2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ اس معاملے کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے، ملوث لوگوں کا احتساب کیسے ممکن ہوگا؟

  • اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ اسلام آبا دہائیکورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا ہے، امید ہے کہ اجلاس میں غور کیا جائے گا ، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں غور کرنے اور رپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسز پر فیصلہ کرنا ہے جب سے یہ معاملہ عدالت نے اٹھایا ہے ریاست مسلسل لاتعلق نظر آتی ہے متاثرہ خاندان اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہیں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ریاست کی اس مسئلے پر اس لاتعلقی کو کیسے ختم کیا جائے ؟ ایک وزارت معاملہ دوسری وزارت پر ڈالتی رہتی ہے،محض رپورٹس منگواتے رہنے سے کچھ فائدہ نہیں ہونے والا ،یہ لاحاصل مشق ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد جن کا پتہ چل چکا وہ کہاں ہیں ،یہ بے بس عدالت نہیں کہ صرف پٹیشن کی استدعا کو دیکھے،عدالت نے لاپتہ افراد کمیشن سے متعلق تفصیلی رپورٹ مانگ لی ،عدالت نے کمیشن کو ہدایت کی کہ کمیشن کس طرح بنا؟ ٹی او آر کیا ہیں؟ کتنا عمل ہوا ؟رپورٹ پیش کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزارت داخلہ سے کوئی آیا ہے؟ بعد ازاں نمائندہ وزارت داخلہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منسٹری کا منفی تاثر ہے، اہم کمیشن کی رپورٹ ہی غائب ہے، عدالت چاہتی ہے کہ دلائل سننے کے بعد موثر فیصلہ سنائے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ چیز ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، اسلام آبا دہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 25 مئی تک ملتوی کر دی

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

  • امریکی کمیشن کی بھارت کو مسلسل تیسرے سال ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش

    امریکی کمیشن کی بھارت کو مسلسل تیسرے سال ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش

    واشنگٹن : بھارت کو مسلسل تیسرے سال ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش ،اطلاعات کے مطابق امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارت کو مسلسل تیسرے سال ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کر دی۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا اور مسلسل تیسرے سال بھارت کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کردی۔

    امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے کہا کہ بھارت مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے امریکی محکمہ خارجہ بھارت کو فوری فہرست میں شامل کرے ، تاہم ٹرمپ اور بائیڈن انتظامیہ 2 مرتبہ بھارت کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے سے انکار کرچکی ہے۔

    امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کےحالات مزیدخراب ہورہےہیں، بھارتی حکومت ہندو قوم پرست ایجنڈے کو فروغ دےرہی ہے اور مسلمانوں، عیسائیوں ، سکھوں، دلتوں پراثر اندازہورہی ہیں۔

    کمیشن نے کہا کہ ہندوریاستی نظریےمذہبی اقلیتوں کیخلاف ہیں، بھارتی حکومت نےانسانی حقوق کے حامیوں اور صحافیوں کو گرفتارکیا، مقبوضہ کشمیرکی رپورٹنگ والے وکیل پر مجرمانہ تحقیقات شروع کیں۔

    امریکی کمیشن کے مطابق خرم پرویز نے جموں وکشمیر میں زیادتیوں کی رپورٹنگ کی تھی ، مساجد پر حملہ کے بارے میں ٹوئٹ کرنے والوں پر بغاوت کامقدمہ کیا گیا ، بھارت میں بغاوت کے قانون کا مسلسل استعمال تشویشناک ہے۔

    کمیشن نے بتایا کہ بغاوت کے قانون کا سب سے زیادہ استعمال جموں و کشمیرمیں ہورہا ہے، بغاوت کا قانون ہر تنقیدی آواز اور خوف کی فضا پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ مذہبی اقلیتوں کے رہنماؤں کو بغاوت کے قانون پر گرفتار کیا گیا، مسلمانوں،عیسائیوں پر مظالم کی شکایت کرنے والوں بھی نشانہ بنایاگیا، انسانی حقوق، مذہبی آزادی کی تنظیموں کو بھارت میں کام بند کرنے پر مجبور کیا گیا۔

    امریکی کمیشن نے کہا تبدیلی مذہب کے خلاف قوانین پر سخت تشویش ہے، بھارتی حکومت نے بین المذاہب شادی کرنے والوں پر تشدد کی سرپرستی کی۔

    امریکی کمیشن نے مطالبہ کیا کہ بھارت میں مذہبی آزادیوں کی صورتحال بدتر ہوئی ہے ، امریکا کو بھارت کیساتھ تعلقات میں مذہبی آزادی کا معاملہ اٹھانا ہوگا۔

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

  • الیکشن کمیشن کا قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں 24 مئی تک مکمل کرنے کا اعلان

    الیکشن کمیشن کا قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں 24 مئی تک مکمل کرنے کا اعلان

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی ابتدائی حلقہ بندیاں 24 مئی تک مکمل کر لی جائیں گی۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں پر کام 11 اپریل سے جاری ہے جو بلاتعطل 3 اگست تک جاری رہے گا۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں آئین و قانون کے مطابق مکمل ہو جائیں گی، چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لیے قائم حلقہ بندی کمیٹیوں کی ٹریننگ جاری ہے۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں کے لیے نقشے اور دیگر ڈیٹا متعلقہ اداروں سے حاصل کر لیا گیا ہے، کمیٹیاں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی ابتدائی حلقہ بندیاں 24 مئی تک مکمل کر لیں گی جبکہ حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 28 مئی کو کر دی جائے گی۔

    ادھر دوسری طرف فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔

    ترجمان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنوری میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جارہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سی ای سی میں فیصلہ ہوا تھا کہ بروقت امیدواروں کا چناؤ کرکے انہیں انتخابی مہم شروع کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

    فیصل کریم کنڈی نے یہ بھی کہا کہ پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند اپنی درخواستیں تیس اپریل تک پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر کے نام بھجوائیں۔

    ترجمان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ درخواستیں بلاول ہاؤس کراچی یا اسلام آباد سنٹرل سیکریٹریٹ ہاؤس نمبر ایک سٹریٹ 85. جی 6/4 اولڈ ایمبیسی روڈ اسلام آباد بھجوائیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایم این اے کے لیئے چالیس ہزار روپے اور ایم پی اے کے لئے تیس ہزار روپے کا ڈرافٹ درخواست کے ساتھ جمع کرایا جائے۔

    ترجمان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ 23 اپریل کے بعد متعلقہ کمیٹی اس حوالے سے فیصلے کرے گی اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز کے نام فائنل کرے گی۔

  • پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا،مریم اورنگزیب

    پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی پریس کانفرنس پرردعمل میں کی گئی پریس کانفرنس میں مریم اور نگز یب ے کہا کہ عمران خان مسلسل جھوٹ بول رہے اور سازش کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، انہوں نے 4 سال تک عوام کو لوٹا اور معیشت کو تباہ کیا، اتحادیوں کے چھوڑجانے کے بعد عمران خان کو بیرونی سازش نظر آنے لگی عمران خان نے کئی دن تک مراسلے کو کیوں چھپائے رکھا اور وہ سازش کرنے والے ملک کے نمائندوں سے کیوں ملتے رہے؟ اتحادیوں نے عمران خان کی کرپشن، نااہلی پر ساتھ چھوڑا جبکہ اپنی جماعت کے اراکین رویے کی وجہ سے علیحدہ ہوئے عمران خان عوام کو بے وقوف بنانا بند کریں، قومی سلامتی کمیٹی میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ کوئی سازش نہیں ہوئی، عمران خان نے کشمیر کا سودا کیا۔

    آج پھر کہتا ہوں کہ مراسلے سے متعلق جو بھی کہا تھا وہ سچ ہے،عمران خان

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے والا ہے، عمران خان نے الیکشن کمیشن سے اپنے اکاؤنٹس چھپائے، عمران خان شوکت خانم کے نام پارٹی کے لیے فنڈ اکٹھا کرتے رہے ہیں، جس کا پردہ جلد چاک ہوجائے گا انتخابی اصلاحات کا نہ ہونا عمران خان کی نالائقی ہے، اتحادیوں کے چلے جانے کے بعد عمران خان کو نئے انتخابات کی یادآنے لگی، بجلی،آٹا، چینی چور ہمیں لیکچر نہ دیں عمران خان جھوٹا،چور اور منافق شخص ہے، جس نے توشہ خانہ کے تحائف کو ذاتی کاروبار کے لیے استعمال کیا، عوام عمران خان کی اصلیت جان چکے ہیں، انہوں نے کبھی عوام کی بہتری کا نہیں سوچا، ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھرو ں کا جھوٹ بولا، عوام کی ادویات اور کورونا فنڈ پر ڈاکا ڈالا، عمران خان کا سازش کا بیانیہ دفن ہوچکا ہے، عمران خان کو فارن فنڈنگ کا حساب دینا پڑے گا۔

    مریم اونگزیب نے مزید کہا کہ پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا، عمران خان اپنی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں، عمران خان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، تحریک انصاف کے جلسوں ،ر یلیوں کو سکیورٹی فراہم کریں گے صدر مملکت کا کابینہ اراکین سے حلف لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت آئینی طریقے سے بنی ہے۔

    جب تک بلوچستان ترقی میں باقی صوبوں تک نہیں پہنچ جاتا، چین سے نہیں بیٹھوں گا،وزیر اعظم

    واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا تھا کہ کل نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں واضح ہوگیا کہ ہمیں مراسلہ موصول ہوا، کہا تھا کہ مراسلے میں پاکستان کو دھمکی دی گئی جب مراسلے سے متعلق بتایا تو کہاگیا یہ سب جھوٹ ہے،آج پھر کہتا ہوں کہ مراسلے سے متعلق جو بھی کہا تھا وہ سچ ہے،کہا گیا عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے نہیں ہٹایا گیا توپاکستان کیلئے مشکلات ہوں گی کہا گیا اگر عمران خان کو ہٹادیا گیا تو پاکستان کو معاف کردیں گے، ملک کے وزیراعظم کے خلاف سازش کی گئی،سازش کرنے والوں کو پتہ تھا کہ عمران خان کے بعد کون آئے گا جیسے ہی ہمارے سفیر سے امریکی آفیشل کی میٹنگ ہوئی اگلے ہی دن عدم اعتماد آگئی،عدم اعتماد پیش ہونےکے بعد ہمارے اتحادی اور پارٹی ارکان ہمارے خلاف ہوگئے،سب کو بلایا دیکھیں مراسلہ یہ نہیں آئے ! مراسلہ حقیقت تھا، جو زبان استعمال ہوئی اس میں تکبر تھا، قومی سلامتی کمیٹی نے میری بات کی تصدیق کر دی،

    چند ماہ بعد عمران خان خود کہیں گے کہ مراسلے والی بات غلط تھی،مبشر لقمان

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ایکسپورٹ ہوئی،بیرون ملک پاکستانیوں نے سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجا،لندن میں بیٹھ کر نوازشریف نے سازشیں کیں، نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تسلیم کرلیا جو ہم نے کہا وہ درست تھا،لندن میں بیٹھ کر نوازشریف نے سازش کی اور چھوٹا بھائی پاکستان میں اس کا حصہ تھا،سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک میر جعفر اور میر صادق ملوث نہ ہوں،سپریم کورٹ سے سارے معاملے پر کھلی سماعت مانگتے ہیں،سپریم کورٹ کو یہ کام اسپیکر کے استعفے کے وقت کرنا چاہیے تھا،مشرف نے دھمکی پر ہاتھ کھڑے کردیئے اور این ار او دے دیا سپریم کورٹ کو اس معاملے کی تحقیقات کرانی چاہیےتھی،جب جنوری سے یہ سارا معاملہ شروع ہوا تھا مجھے بھی خبریں آرہی تھیں، سفارتخانوں نے ان لوگوں کو پہلا بلایا جو لوٹے تھے،ہمیں جنوری سے پتہ چلا کہ کیا سازش ہونے والی ہے، چاہتے ہیں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ ووٹ بیچنےوالوں کیخلاف سماعت کرے،پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے،اگر کوئی ایکشن نہیں ہوا تو پیسے لینے والے بچ جائیں گے،آج پورے قوم کو کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے الیکشن کمیشن کو مستعفی ہوجانا چاہے، الیکشن کمیشنر جانبدار آدمی ہے، ہمیں اس پر اعتماد نہیں ہے، اگر ہمارے ادارے آج ہماری خودداری اور آزادی کے ساتھ نہ کھڑے ہوئے تو یہ نا صرف ہماری بلکہ ہمارے بچوں کی آزادی کیلئے بھی بہت بڑا خطرہ ہے-

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف نے ایک اور درخواست دائر کر دی

  • الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان

    الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان ،تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلہ ہوا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کروائے جائیں گے۔الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے پولنگ 29 مئی کو ہوگی۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بہاولپور، ساہیوال، پاک پتن اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی بلدیاتی انتخابات پہلے مرحلے میں ہوں گے، خوشاب، سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، جہلم اور اٹک بھی پہلے مرحلے میں شامل ہیں۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی خالی نشست پر الیکشن کا اعلان کردیا ہے۔الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی خالی نشست کا شیڈول جاری کردیا، سینیٹ کی خالی نشست پر 9 مارچ کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں پولنگ ہوگی، کاغذات نامزدگی 17 سے 19 فروری تک جمع کروائے جاسکیں گے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کی ابتدائی فہرست 21 فروری کو جاری کی جائے گی، کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی 24 فروری تک کی جائے گی، امیدواروں کی حتمی فہرست 3 فروری کو جاری کی جائے گی۔واضح رہے کہ پولنگ 9 مارچ کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی۔

    واضح رہے کہ 9 فروری کو 2018 کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کے ساتھ دہری شہریت کے معاملے پر جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے پر الیکشن کمیشن نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما فیصل واوڈا کو نااہل قرار دے دیا تھا الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹیفیکشن بھی واپس لینے کے احکامات جاری کیے تھے

     

     

    فیصل واوڈا کو الیکشن کمیشن نے نااہل کیا تھا، الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا نااہلی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا،تحریری فیصلے پر چیف الیکشن کمشنرز سمیت 3ممبران نے دستخط کیے فیصل واوڈا کی نااہلی کا فیصلہ 27 صفحات پر مشتمل ہے 27صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر راجہ سلطان نے تحریر کیا فیصل واوڈا کو 3 رکنی کمیشن نے متفقہ طور پر نااہل کیا،

    فیصل واوڈا کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا ،کاغزات نامزدگی کے وقت فیصل واوڈا انتخاب لڑنے کے اہل نہیں تھے،فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا،جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جاتا ہے فیصل واوڈا تمام تنخواہیں اور مراعات سیکریٹری قومی اسمبلی کو 2 مہینوں میں جمع کرائیں،کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا دہری شہریت کے حامل تھے،امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرایا گیا