شمالی کوریا نے اپنے آئین اور جوہری پالیسی میں انتہائی اہم ترمیم منظور کی ہے، جس کے تحت اگر ملک کے سربراہ کِم جونگ اُن کسی غیر ملکی دشمن کے ہاتھوں قتل یا شدید زخمی (غیر فعال) ہو جائیں، تو شمالی کوریا کی فوج خودکار طور پر دشمن پر جوابی جوہری حملہ کرنے کی پابند ہوگی،جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (NIS) نے ان آئینی تبدیلیوں کی تصدیق کی ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق یہ ترمیم 22 مارچ 2026 کو پیانگ یانگ میں 15ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منظور کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو خطرہ لاحق ہو تو جوہری حملہ "فوری اور خودکار” انداز میں ہوگا،یہ فیصلہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے مشیروں کی اسرائیل-امریکا کے مشترکہ حملے میں شہادت کے بعد کیا گیا، جس نے شمالی کوریا کو اپنی قیادت کی سکیورٹی پر تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
اخبار کے مطابق جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (این آئی ایس) نے جمعرات کو اعلیٰ حکام کو بریفنگ کے دوران اس ترمیم سے آگاہ کیا این آئی ایس کے مطابق کم جونگ اُن شمالی کوریا کی جوہری افواج کے سربراہ ہیں تاہم نئی ترمیم میں اس صورت حال کے لیے بھی طریقہ کار طے کر دیا گیا ہے کہ اگر وہ ہلاک ہو جائیں تو فوج کو کیا کرنا ہوگا۔
شمالی کوریا کے آئین کے نظرثانی شدہ آرٹیکل 3 کے مطابق ’اگر دشمن قوتوں کے حملوں سے ریاستی جوہری افواج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو خطرہ لاحق ہو تو جوہری حملہ خودکار اور فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دشمنوں (خاص طور پر امریکا اور جنوبی کوریا) کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کا انجام ایٹمی جنگ ہوگا۔


