Baaghi TV

Tag: کم عمر

  • دو جانیں لینے والے کم عمر ڈرائیور کو تھانے میں پروٹوکول

    دو جانیں لینے والے کم عمر ڈرائیور کو تھانے میں پروٹوکول

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، پولیس کی سر توڑ کوشش کے باوجود کم عمر ڈرائیور سڑکوں‌پر آنے سے باز نہ آ رہے، ایک اور حادثہ پیش آیا، کم عمر ڈرائیور کی تیز رفتاری کی وجہ سے دو افراد کی موت ہو گئی ہے

    واقعہ گرین ٹاؤن تھانے کی حدود میں پیش آیا،حادثے میں دو خواتین کی موت ہوئی ہے، خواتین کی شناخت 45 سالہ رضیہ اور 50 سالہ غفوراں کے نام سے ہوئی جنہیں انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دونوں خواتین زندگی کی بازی ہار گئی ہیں

    پولیس کے مطابق کم عمر ڈرائیور نے چند روز قبل تیز رفتار کار رکشہ میں مار دی تھی،ملزم کی شناخت 13 سالہ ابراہیم کے نام سے ہوئی تھی، پولیس نے کم عمر ڈرائیور کو حراست میں لے لیا تھا، مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس ملزم کو تھانے میں پروٹوکول دے رہی ہے، کم عمر ڈرائیور کو کمرے میں ہیٹر لگا کر دیا گیا ہے اور وہ موبائل پر گیمیں کھیلتا ہے

    ڈی ایچ اے حادثہ کی کہانی، افنان شفقت کے والد کی زبانی

    ملزم افنان کے والد شفقت کا مکمل انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں

     عدالت نے حکم دیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کو گرفتار کیاجائے

  • عدالت   کا بغیر لائسنس گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

    عدالت کا بغیر لائسنس گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں ڈیفنس میں چھ افراد کی ہلاکت کے واقعہ پر ملزم افنان کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ یہ درخواست کیسے قابل سماعت ہے؟ جسٹس علی ضیا باجوہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کو بتائیں لائسنس کے بغیر گاڑی چلانا کون سا جرم بنتا ہے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ بغیر لائسنس گاڑی چلانا جرم ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ڈرائیور کے علاوہ گاڑی کے مالک کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے؟کیا ٹریفک حادثے کے مقدمہ میں دفعہ 302 لگ سکتی ہے؟یہ دیکھنا پڑے گا کہ مقدمہ میں دفعہ 302 لگ سکتی ہے یا نہیں، لاہور ہائیکورٹ نے سی ٹی او لاہور اور ایس ایس پی آپریشنز کو فوری طلب کرلیا.

    وقفے کے بعد سماعت ہوئی، عدالتی حکم پر سی ٹی او لاہور اور ایس ایس پی ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ، عدالت نے حکم دیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کو گرفتار کیاجائے،جسٹس علی ضیاء باجوہ نے سی ٹی او لاہور کوہدایت کی کہ بغیر لائسنس کوئی گاڑی روڑ پر نہ آئے، عدالت نے لائسنس کے بغیر گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دے دیا،اور کہا کہ تمام شہریوں کے ساتھ ایک سلوک کیا جائے ،جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کار حادثہ بہت افسوسناک واقعہ ہے،اگر سڑک پر10 لاکھ گاڑیاں ہیں تو لائسنس صرف 2 لاکھ ہیں، سی ٹی او لاہور نے عدالت میں کہا کہ 73لاکھ گاڑیاں ہیں اور13 لاکھ لائسنس ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑیوں کے خلاف کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ واقعے کے بعد ہی بتا دیں کہ کیا کارروائی کی ہے؟ سی ٹی او لاہور نے کہا کہ گزشتہ 3دن ہم نے کریک ڈاؤ ن کیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹریفک وارڈن کسی کوروکتا ہے تو اگلا بندہ کہہ دیتا ہے میں وکیل ہوں،بغیر لائسنس گاڑیوں کوچلانے والوں کے خلاف کارروائی بلا تفریق ہونی چاہیے،جو لوگ بچوں کو گاڑیاں دیتے ہیں انکے خلاف کیا کر رہے ہیں؟ سی ٹی او نے عدالت میں جواب دیا کہ قانون موجود ہے انکے خلاف کارروائی ہوتی ہے، بغیر لائسنس کے گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف 999 مقدمات درج کیے گئے ہیں

    واضح رہے کہ ملزم افنان کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں‌ دائردرخواست میں نگران وزیراعلیٰ اور سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نگران وزیراعلیٰ سمیت دیگر کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا جائے، کم عمر ہوں میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے ،کم عمر بچوں کے قوانین کی خلاف وزری کی جارہی ہے ،
    مجھے تحفظ فراہم کیا جائے،

    واضح رہے کہ تحقیقات کے مطابق چھ افراد کی جان لینے والے کم عمر ڈرائیور افنان کی حادثے سے قبل جاں بحق افراد کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی، افنان وائی بلاک سے گاڑی میں بیٹھی خواتین کا کافی دیر تک پیچھا کرتا رہا۔متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور حسنین نے کئی بار گاڑی کی اسپیڈ تیز کی کہ افنان پیچھا چھوڑ دے تاہم ملزم افنان نے گاڑی کا پیچھا نہیں چھوڑا اور مسلسل خواتین کو ہراساں کرتا رہا۔وائی بلاک نالے پر متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور حسنین نے گاڑی روک کر افنان کو ڈانٹا اور دوسری گاڑی سے حسنین کے والد نے بھی ملزم افنان کو سمجھایا کہ خواتین کو ہراساں مت کرو لیکن اس دوران ملزم افنان انہیں دھمکیاں اور گالیاں دیں ، ملزم نے دھمکی دی کہ میں دیکھتا ہوں تم لوگ ڈیفنس میں گاڑی اب کیسے چلاتے ہو۔ حسنین اپنی بہن اور بیوی کو لے کر آگے نکلا تو ملزم نے دوبارہ پیچھا شروع کر دیا اور میکڈونلڈ چوک پر گھوم کر ملزم افنان نے 160 کی اسپیڈ سے گاڑی خواتین والی گاڑی سے ٹکرا دی، حادثے کے بعد حسنین کی گاڑی 70 فٹ روڈ سے دور جا گری اور سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے

    واضح رہے کہ ڈیفنس لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا،کم عمر نوجوان نے گاڑی چلاتے ہوئے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری جس سے دو بچوں سمیت چھ افراد کی موت ہو گئی ہے. ریسکیو حکام کے مطابق ٹریفک حادثے میں مرنیوالوں میں 45 سالہ رخسانہ، 4 سالہ عنابیہ، 4 ماہ کا حذیفہ، 27 سالہ محمد حسین، 30 سالہ سجاد، 23 سالہ عائشہ شامل ہیں،حادثہ ڈرائیور کی تیز رفتاری، غفلت اور زگ زیگ کے باعث پیش آیا،ڈرائیور کی شناخت افنان شفقت کے نام سے ہوئی، پولیس نے کم عمر ڈرائیور کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

  • نوعمربچوں کے حلق سے سکہ ،سیفٹی پن نکالنے کی کامیاب اینڈوسکوپی

    نوعمربچوں کے حلق سے سکہ ،سیفٹی پن نکالنے کی کامیاب اینڈوسکوپی

    جنرل ہسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب انور نے پیڈیا ٹرک اینڈو سکوپی کے ذریعے تین معصوم بچوں کی حلق میں پھنسا ہوا دھات کا سکہ،سیفٹی ،ہئیر پن اور بٹن کی بیٹری (سیل) نکال کر انکی جانیں بچالیں جس سے انکے والدین کی خوشیاں ماند پڑنے سے بچ گئیں۔ پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے معالجین ہی صحیح معنوں میں مسیحا کہلوانے کے اصل حقدار ہیں جو اپنے” پروفیشنل سکلز”کو بروئے کار لاتے ہوئے دوسروں کی جانیں بچاتے ہیں اور انہیں اُن کی خوشیا ں لوٹاتے ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ جنرل ہسپتال کے تمام شعبوں میں مریض دوست ماحول کو دوام بخشنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کے جاتے ہیں اور مذکورہ واقعہ بھی اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینڈو سکوپی کے ذریے 2تا6سال کے بچوں کے حلق سے دھاتی سکے،سیل اور سیفٹی/ہئیرپن نکال کر تین خاندانوں کو اجڑنے سے بچالیا ہے جو انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے۔

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب انور نے بتایا کہ پیڈیاٹرک اینڈوسکوپی ایک جدید طریقہ علاج ہے جس میں چھوٹے کیمرے کی مدد سے بچے کے جسم کے اندر پڑی اشیاء نظر آتی ہیں اور یہ طریقہ بچے کی جان کی حفاظت کے لئے بہترین ہے اور اس سے کوئی زخم بھی نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بچہ کھلونوں کے ساتھ کھیل رہا ہو یا کچھ کھاتے پیتے ہوئے غلطی سے کوئی چیز نگل جائے تو ا سے نکالنے کے لئے پیڈیاٹرک اینڈوسکوپی بہترین طریقہ ہے کیونکہ چھوٹے بچے عام طور پر کوئی بھی چیز منہ میں ڈال لیتے ہیں جو کبھی کبھار حادثاتی طور پر نگلی بھی جاتی ہے جس سے یہ چیزیں خوراک کی نالی میں اٹک کر بچے کی جان کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ڈاکٹر آفتاب انور نے بتایا کہ پیڈیاٹرک اینڈوسکوپی ایک اہم ترین علاج ہے جو بچوں کی خوراک کی نالی میں پڑی ہوئی چیزوں جیسے کانٹے، سیفٹی پن اور بٹن بیٹری (سیل) کو نکالنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچھلے ہفتے تین ایسے ہی بچے لائے گئے جن کا علاج کامیابی سے کیا۔

    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    ڈاکٹر آفتاب انور نے مزید بتایاکہ دھاتی سکوں، حفاظتی پنوں، انگوٹھی، بٹن کی بیٹریوں کے معاملے میں پیڈیاٹرک اینڈوسکوپی خاص طور پر کارآمد ہے۔ اسی طرح سکے اور حفاظتی پن عام طور پر چار سال سے کم عمر کے بچے کھاتے ہیں جبکہ بٹن کی بیٹریاں آٹھ سال تک کے بچوں کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اشیاء انہضام کے راستے کو خاصا نقصان پہنچا سکتی ہیں، بشمول سوراخ اور خون بہنا اگر یہ طویل عرصے تک جسم میں رہیں۔انہوں نے بچوں کے والدین سے اپیل کی کہ وہ چھوٹی چیزوں کونو عمر بچوں کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے چوکس رہیں تاکہ حادثاتی طور پرکسی نا گہانی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر ان بچوں کے والدین نے دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ،ڈاکٹرز اور نرسز کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ انتہائی پریشانی کے عالم میں ہسپتال آئے جہاں اُن کے بچوں کی زندگیاں بچا کر والدین کو دوبارہ خوشی دی گئی ہے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر آفتاب انور کی سربراہی میں ڈاکٹرز کی ٹیم ہم سب کی محسن ہے جن کیلئے ہم دلی طور پر دعا گو ہیں۔