Baaghi TV

Tag: کنڑ

  • طالبان دھڑوں میں ٹی ٹی پی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    طالبان دھڑوں میں ٹی ٹی پی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    افغانستان میں طالبان کے قندھار گروپ، کابل حکومت اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ قندھار شوریٰ ٹی ٹی پی پر سخت کنٹرول کی حامی ہے جبکہ حقانی گروپ اور کابل حکومت اس مؤقف سے متفق نہیں۔

    ذرائع کے مطابق حقانی نیٹ ورک پاکستان کے قبائلی علاقوں کو اپنی اسٹریٹجک گہرائی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ مستقبل کی کسی داخلی جنگ میں دیگر طالبان دھڑوں کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔شیخ ہیبت اللہ کے فتویٰ کے باوجود، جس میں افغان شہریوں کو ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان میں لڑنے سے منع کیا گیا تھا، ٹی ٹی پی کے زیرِ اثر علاقوں میں اس پر عمل نہیں ہوا۔ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، پکتیکا اور خوست میں ٹی ٹی پی کا عملی کنٹرول ہے جہاں وہ ٹیکس وصولی اور عدالتی نظام چلا رہی ہے۔

    ٹی ٹی پی نے ازبک، افغانی اور شام سے آئے جنگجوؤں کو بھی اپنی صفوں میں شامل کر رکھا ہے اور مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف جہاد پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ کابل حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر اس نے ٹی ٹی پی کے کنٹرول کو چیلنج کیا تو ملک دوبارہ کھلی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے

    ایمل ولی خان کے بطور سینیٹر انتخاب کے خلاف درخواست مسترد

    جنگ بندی معاہدے کے تحت 15 فلسطینی شہدا کی لاشیں منتقل

    لاہور ہائی کورٹ نے شوکت خانم ٹرسٹ کا مؤقف مسترد کر دیا

    چین نے امریکہ پر اضافی محصولات ایک سال کے لیے معطل کردیے

  • پاک افغان سرحد کے قریب برفانی تودے کی زد میں آکر19 افراد جاں بحق

    پاک افغان سرحد کے قریب برفانی تودے کی زد میں آکر19 افراد جاں بحق

    کنڑ: افغانستان سے پاکستان سفر کرنے والے برفانی تودے کی زد میں آکر کم از کم 19 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جب کہ دیگر افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے”دی گارجئین” کے مطابق طالبان کے ایک عہدیدار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کو افغانستان سے ایک دور دراز پہاڑی درہ عبور کرتے ہوئے کم از کم 19 افراد برفانی تودے کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق روزآنہ بڑی تعداد میں افغان شہری روزگار یا تجارت کے لیے غیر قانونی طریقے سے پاکستان جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ پہاڑی سرحد کا راستہ استعمال کرتے ہیں۔

    صوبہ کنڑ کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ نجیب اللہ حسن عبدل کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے 19 نعشیں نکال لی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنان مزید افراد کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اگست میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان-افغان سرحد کے پار غیر قانونی آمدورفت بڑھ گئی ہے، جس نے ملک کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے اور دسیوں ہزار افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔

    واضح رہےکہ پاکستان 2670 کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سرحد ڈیورنڈ لائن کہلاتی ہے۔

    تاجروں اور اسمگلروں نے صدیوں سے خطوں کو عبور کرنے اور ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے دور دراز کے پہاڑی راستوں کا استعمال کیا ہےلیکن اس علاقے میں جان لیوا برفانی تودے گرنا عام بات ہے 2015 میں ملک بھر میں تباہ کن برفانی تودے گرنے سے 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے-

    بیوی کا سرتن سے جدا کر کے سڑکوں پر گھمانے والا شخص گرفتار

  • کالعدم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کا سربراہ مفتی بور جان افغانستان میں ہلاک

    کالعدم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کا سربراہ مفتی بور جان افغانستان میں ہلاک

    پشاور: کالعدم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کا سربراہ مفتی بور جان افغانستان میں ہلاک ،اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کا مالا کنڈ ڈویژن کا سربراہ مفتی بور جان بم حملے میں ہلاک ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق 19 جنوری کی شب کنڑ میں مفتی بور جان کی گاڑی پر بم سے حملہ کیا گیا تھا، حملے میں وہ زخمی اور ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا تاہم اب مفتی بور جان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جلال آباد میں ہلاک ہوگیا۔ذرائع کے مطابق مفتی بور جان کی تدفین افغانستان میں نامعلوم مقام پر کردی گئی ہے۔

    ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ مفتی بور جان ٹی ٹی پی کے سابق امیر ملا فضل اللہ کا دست راست تھا، وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر میں سے سمجھا جاتا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے حلقے میں مفتی بور جان کی ہلاکت پر نئے گورنر پر مشاورت شروع کردی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ٹی ٹی پی کا مطلوب کمانڈر رفیع اللہ مارا گیا تھا، مطلوب کمانڈر دہشت گرد رفیع اللہ نے اپنے کئی کوڈ نام رکھے ہوئے تھے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ رفیع اللہ این ڈی ایس، داعش اور مختلف بلوچ دہشت گرد تنظیموں کی معاونت بھی کر رہا تھا۔

    اس کے علاوہ کمانڈر رفیع اللہ سال2011سے ملک بھر میں ہونے والی متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی ملوث رہا تھا۔ تربیت یافتہ خود کش بمباروں کی ہرممکن معاونت اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا بھی رفیع اللہ کا کام تھا۔

    کمانڈر رفیع اللہ سول اسپتال کوئٹہ میں خودکش بمبار تیار کرنے کا سہولت کار تھا، اس کے علاوہ اسلام آباد میں سرینہ ہوٹل پرخود کش بمبار پہنچانے میں بھی اسی کی معاونت حاصل تھی۔