Baaghi TV

Tag: کوئٹہ

  • ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک نیا ویڈیو سیکنڈل سامنے آیا ہے

    کوئٹہ میں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر انہیں بلیک میل کیا جا رہا تھا، ملازمت کے نام پر لڑکیوں کو بلایا جاتا،ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر نازیبا ویڈیو بناتے تھے ان کی نازیبا ویڈیو بنائی جاتیں اور بعد میں انہیں بلیک میل جاتا، ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی جاتی، پیسے نہ دینے پر ملزمان نے مجبور لڑکیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں جس کے بعد پولیس نے ایکشن لیا اور شرمناک ویڈیو سیکنڈل کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، پولیس کے مطابق لڑکیوں کی نازیبا ویڈیو بنانیوالے مرکزی ملزم سمیت 2 افراد حراست میں ہیں، پولیس نے ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز سے ویڈیو برآمد کر لی ہیں،

    پولیس کا کہناہے کہ ملزمان کو عدالت نے ریمانڈ پر بھجوادیا ہے، دونوں ملزمان سگے بھائی ہیں، پولیس نے ایف آئی اے سائبر ونگ سے بھی رابطہ کیا ہے ،ملزمان سے برآمد موبائل، ویڈیوز، یو ایس بیز فرانزک لیبارٹری بھجوا دیئے دوسری جانب وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ویڈیو سیکنڈل پر نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ ویڈیو اسکینڈل انتہائی افسوسناک ہے اس واقعے نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ویڈیو اسکینڈل میں ملوث ملزم کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچا ئیں گے

    ڈی آئی جی پولیس فدا حسن نے ویڈیو سکینڈل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وڈیواسکینڈل کیس کی خود نگرانی کر رہا ہوں, ملزم ہدایت اللہ اور اس کے بھائی خلیل کو گرفتار کیا ہوا ہے ۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں، ویڈیوز کی جانچ پڑتال کے لیے ایف آئی اے کو شامل کر رہے ہیں ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

  • کوئٹہ: پولیس وین پردستی بم حملہ ،رحیم یار خان میں 4 خواتین کا بیہمانہ قتل،

    کوئٹہ: پولیس وین پردستی بم حملہ ،رحیم یار خان میں 4 خواتین کا بیہمانہ قتل،

    کوئٹہ سپینی روڈ مبارک چوک پر پولیس وین پردستی بم حملہ ، 3 افراد زخمی ہو گئے-

    باغی ٹی وی : ابتدائی اطلاعات کے مطابق نامعلوم شرپسند عناصر کی جانب سے کوئٹہ میں پولیس وین پر دستی بم حملہ کیا گیا ہے پولیس وین پر حملہ اس وقت ہوا، جب وین گزر رہی تھی حملے میں تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے اظہر ولد محمد حفیظ اور شاہرخ ولد جمیل کو سول ہسپتال، جبکہ ایک اہلکار کو سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    قتل کرکے لاش نہر میں پھینکنےوالے بااثر مجرمان کے سامنے پولیس بے بس،مقتول کے انصاف کیلئے ٹوئٹرصارفین…

    دوسری جانب صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں چار خواتین کو قتل کردیا گیا ہے علاقہ پولیس کے مطابق قتل ہونے والی مقتول خواتین میں ماں اور تین بیٹیاں شامل ہیں اس ضمن میں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں خواتین جائے واردات پر ہی دم توڑ گئی تھیں فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ پولیس، امدادی ادارے کے اہلکار اور دیگر متعلقہ حکام فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے جنہوں نے مقتول خواتین کی نعشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے آر ایچ سی سینٹر منتقل کردیا تھا۔

    آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے ڈکیتی…آئی جی کے لئے مہنگی ثابت

    پولیس نے جائے وقوع سے تین ملزمان کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر کے مزید تفتیش و تحقیق کے لیے متعلقہ تھانے میں منتقل کردیا ہے جائے وقوع سے ثبوت و شواہد بھی اکھٹے کرلیے گئے ہیں۔

  • کوئٹہ:  ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز نے ساتھیوں کی رہائی کے لیے ڈیوٹیز سے بائیکاٹ کر رکھا ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ کہ کوئٹہ میں دھرنے کے دوران گرفتار کیے گئے ڈاکٹروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی بھی مطالبات میں شامل ہے۔

    بلوچستان حکومت نے پہلے ہی ایم آر آئی میشن کے لیے 250 ملین روپےجاری کر دیئے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے رقم جاری کردی ہے بہت جلد ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینیں کام شروع کر دیں گی۔

    واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے 22 نومبر کو اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دیاتھا جس سے نہ صرف کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا تھا بلکہ تعلیمی اداروں کو جانے والے طلبہ وطالبات بھی کئی دنوں تک مشکلات سے دوچار رہے تھے۔

    کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال: اب کوئی ڈاکٹر بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی عدالت

    جس پر کوئٹہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 30 نومبر کو دھرنے میں شامل19 افرادگرفتار کیے تھے جن میں 15 ڈاکٹرز اور چار پیرامیڈیکس سٹاف ممبرز شامل ہیں- گرفتار افراد کو عدالت نے چھ دسمبرتک قید کی سزا سنائی تھی اور پولیس نے انہیں جیل منتقل کردیا تھا۔

    لوچستان میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کا احتجاج اب ایک معمول بن چکا ہےاور حالیہ احتجاج دو ماہ قبل شروع ہوا تھا لیکن 23 نومبر سے شدید سردی کے باوجود انھوں نے گورنر ہاﺅس کے قریب دھرنا دیا تھا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو مطالبات کی جو فہرست پیش کی گئی ہے وہ 24 نکات پر مشتمل ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سپریم کونسل کے رکن ڈاکٹر ارسلان کے مطابق ان 24 مطالبات میں سے دو تین کے سوا باقی تمام مطالبات مریضوں کی بھلائی کے لیے ہیں حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے بلوچستان میں سرکاری ہسپتال کھنڈرات بنے ہوئے ہیں اور ان میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جب مریض ہسپتال آتے ہیں تو ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے پر وہ اپنا سارا غصہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے عملے پر نکالتے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا سے 8 افراد جاں بحق، 904 مریضوں کی حالت تشویشناک

    ہسپتالوں میں ادویات اور جدید مشنری کو یقینی بنانا ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کا کام نہیں ہوتا بلکہ یہ کام حکومت کا ہے لیکن چونکہ ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے سامنے ڈاکٹر یا دیگر طبی عملہ ہوتا ہے اس لیے انھیں لوگوں کے اشتعال اور غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ینگ ڈاکٹروں کے ذاتی فائدے کے جو مطالبات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور جو پوسٹ گریجوایٹ سٹوڈنٹس ہیں ان کو ملک کے دیگر اچھے اداروں میں پڑھنے کے لیے ڈیپوٹیشن پر جانے کی اجازت دی جائے۔ 2016 میں ان کی تنخواہ 80 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی لیکن اس کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 8 نومبر کو کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال،طبی سہولیات سے متعلق کیس کی ہائی کورٹ میں سماعت میں چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں غلط کام کرتے ہیں؟ نظام کو چلنے دیں آپ میں سے کوئی آئی جی یا ڈی آئی جی پولیس سے ملا چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹر کو ہڑتال اور ریلیاں نہ نکالنے کی ہدایت دی تھی-

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اب کوئی بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پیرامیڈکس کو اپنے آپ سے الگ رکھیں-

  • سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تعینات۔

    سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تعینات۔

    کوئٹہ :سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تعینات۔اطلاعات کے مطابق بلوچستان حکومت نے سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی کو ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تعینات کرکے ان کو جلد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے

    سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی ایک باصلاحیت اور محتنی افسر کی حیثیت سے مشہور ہیں اور کافی عرصے سے ڈی جی لیوز کی حیثیت سے بہترین خدمات سرانجام دے رہیں ،

     

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کی بحیثیت ڈی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی منظوری باہم مشاورت سے طئے پائی ہے اورامید کی جارہی ہےکہ وہ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر گوادر اتھارٹی کو ترقی کیطرف لے کرجائیں گے

    دوسری طرف کوئٹہ میں گفتگو کرتےہوئے میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ کوئٹہ کے کونے کونے میں جائینگے،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سست کاموں کو تیز کرنے کی کوشش کررہے ہیں‌، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے،

    وزیراعلی بلوچستان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی دارلحکومت کی بہتری کیلئے ہر کوشش کرینگے،صفائی پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے،عوام صفائی کے حوالے سے تعاون کریں،کوئٹہ مسائل استان بنا ہوا ہے،گیس پریشر میں بہتری کے حوالے سے وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی،وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ ایسا ماسٹر پلان لانا چاہتے ہیں جس سے کوئٹہ کا نقشہ بدل جائے،

     

     

  • گورنر بلوچستان  سے  بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات

    گورنر بلوچستان سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات

    کوئٹہ:گورنر بلوچستان سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات،اطلاعات کے مطابق گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا سے عبدالمالک کاکڑ کی قیادت میں بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ملاقات کی ہے

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز کو درپیش مشکلات، وفاق میں بلوچستان کیلئے مختص کوٹہ پر تعینات ہونے والے جعلی ڈومیسائل کی منسوخی کے عمل کو تیز کرنے، وفاق اور صوبوں کے درمیان ملازمین میں توازن قائم کرنے کے امور زیر غور آئے.

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا کہ معاشرے کے صاحب اختیار اور ذمہ دار افراد میں اپنی احساس ذمہ داری سے غفلت سب بڑی تباہ کن سوچ ہے.

    اس موقع پر گورنربلوچستان نے کہا کہ گوڈ گورنینس کو قائم اور برقرار رکھنے میں سرکاری آفیسروں کا کلیدی کردار ہے. ہمیں ماضی کی غلط روایات اور فرسودہ طریقہ کار کے مکمل خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھانے ہونگے. آفسرز کو کسی دباﺅ میں آنے کی بجائے ایک سچے خادم کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔

    گورنر بلوچستان نے اس موقع پر کہا کہ ذہن نشین رہے کہ تمام سرکاری آفسرز عوام کے حاکم نہیں بلکہ خادم ہوتے ہیں.بعض سرکردہ افراد اپنے حقیر ذاتی مفاد کے حصول کیلئے مفاد خلق اور پورے اجتماعی نظام کو داو پر لگا دیتے ہیں.گڈ گورننس قائم کرنے اور معاشرے کو ناجائز سفارشوں اور کرپشن سے پاک رکھنے میں آفیسرز حضرات اپنا کرد ار ادا کریں‌، گورنر بلوچستان نے بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز کو ان کے تمام قانونی حقوق دلوانے کی یقین دہانی کرائی.

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے

    کوئٹہ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو آسکانی ہاؤس کوئٹہ پہنچے ، ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیر فشریز و محکمہ حیوانات میر حاجی اکبر آسکانی سے ملاقات بھی کی ہے

    اطلاعات کے مطابق حاجی اکبر آسکانی نے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کو حلقے کے مسائل اورعوامی ضروریات سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر ماہیگیری نے بیروزگاری, گڈ گورننس اور محکمہ ماہیگیری کے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی جس میں غیر قانونی ٹرالنگ اور گوادر کے مقامی ماہی گیروں کے مسائل زیرِ بحث لائے گئے۔

    وزیر فشریز میر اکبر آسکانی نے یقین دلایا کہ محکمہ فشریز میں جتنے بھی حل طلب مسائل ہیں ان تمام مسائل کا ادراک کیا جائیگا اور انہیں پوری طور پر حل کریں گے۔ صوبائی وزیر فشریز نے غیر قانونی ٹرالنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ فشریز کے افسران کو ہدایات جاری کیں کہ بلوچستان کے ساحلی پٹی کو غیر قانونی ٹرالنگ سے پاک کیا جائے اور غریب ماہی گیروں کے مسائل کا تصفیہ کیا جائے۔

    ادھر آج وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نےاہم اقدام کرتے ہوئےصوبائی سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی ریکارڈ وقت میں منظوری دے دی ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلئ کی منظوری سے 232 افسران ترقی پا گیۓ

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بورڈ کا اجلاس چئیرمین چیف سیکریٹری بلوچستان کی زیر صدارت 5 نومبر 2021 کو منعقد ہوا تھا،بورڈ میں مختلف محکموں کے افسران کے گریڈ 17 سے 18 گریڈ 18 سے 19 اور گریڈ 19 سے 20 میں ترقی کے کیسز زیر غور آئے

    چیف سیکریٹری کی جانب سے بورڈ کی سفارشات کی سمری 22 نومبر کو حتمی منظوری کے لیۓ وزیراعلئ کو ارسال کی گئی تھی، وزیراعلئ کی جانب سے بلا تاخیر منظوری دی گئی

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ سمری مزید کاروائی اور ترقیوں کے نوٹیفیکیشن کے اجراء کے لیۓ آج واپس چیف سیکریٹری کو بھجوا دی گئی

    واضع رہے کہ اس قبل سلیکشن بورڈ کی سمری کی منظوری میں وزیراعلئ سیکریٹریٹ میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی تھی،کئی مرتبہ اعتراضات کے ساتھ سمری واپس بھیج دی جاتی تھی ،غیر ضروری اعتراضات سے افسران کی ترقیوں کے کیسز غیر ضروری التواء کا شکار ہو جاتے تھے

    ۔وزیراعلئ نے سمری کی فوری منظوری دیکر افسران کو بروقت انکی ترقی کا حق دیکر ایک نئی روایت قائم کی ہے،ترقی پانے والے افسران نے خوشی اور اطمینان کا ااظہار کرتے ہوۓ وزیراعلئ کا شکریہ ادا کیا ہے

  • "بلوچستان یونیورسٹی کی طلبا تنظیموں کا دھرنا:مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل”

    "بلوچستان یونیورسٹی کی طلبا تنظیموں کا دھرنا:مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل”

    بلوچستان یونیورسٹی کے لاپتہ طالبعلموں کا معاملہ، طلبا تنظیموں کی جانب سے دھرنا جاری ہے،احتجاج کے باعث کوئٹہ کے یونیورسٹیز اور کالجز پر تالے لگ گئے ۔کوئٹہ کے تمام یونیورسٹیز، کالجز کے بعد احتجاج کو صوبہ بھر میں وسعت دی گئی ہے۔اس کے علاوہ کوئٹہ کے بعد ضلع مستونگ، تربت، زہری، کوہلو اور نوشکی میں بھی کالجز بند کردیئے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم طلبا کو مطمئن نہ کرسکی، مذاکرات ناکام ہوگئے۔طلبا تنظیمیں کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ دو طلبا کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا دھرنا جاری رہے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل طلبا تنظیموں کی جانب سے 2 طلبا کے اغوا کے معاملے پر بلوچستان یونیورسٹی کا مین گیٹ آمد و رفت کیلئے بند کردیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق 5 نومبر کو بلوچستان یونیورسٹی کے 2 طلبا لاپتہ ہوئے تھے جس کے باعث بلوچستان یونیورسٹی کے مین گیٹ کو طلبا تنظیموں کی جانب سے بند کیا گیا تھا اور جاری پیپرز کا بھی بائیکارٹ کردیا گیا تھا۔طلبا تنظم کا کہنا تھا کہ جب تک طلبا کو منظرعام پر نہیں لایا جاتا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔خیال رہے کہ رجسٹرار بلوچستان یونیورسٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی میں تعلیمی و انتظامی معاملات نئے احکامات ملنے تک معطل رہیں گے۔

    دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے جامعہ بلوچستان کے دو طلبہ سمیت دیگر افراد کے اغوا کے واقعات کے خلاف کھڑے ہو کر متفقہ طورپر مذمت کی ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ جامعہ بلوچستان کے لاپتہ طلبہ کی بازیابی کیلئےکوشش کررہے ہیں۔

    اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی سے مبینہ لاپتہ طلبہ کے بارے میں اطلاع کے حوالے سے محکمہ پولیس کی جانب سے اشتہارجاری کردیا گیاہے ۔اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ کل تک معاملات بہتر ہوجائیں گے

    اشتہارمیں دونوں مغویوں کی برآمدگی میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔واضح رہے کہ طلبا 5 نومبر کو یونیورسٹی سے لاپتہ ہوئے تھے۔

     

  • کوئٹہ میں اب تک کئی ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن نہ ہو سکی  ،عمل سستی کا شکار

    کوئٹہ میں اب تک کئی ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن نہ ہو سکی ،عمل سستی کا شکار

    کوویڈ ویکسین کا پاکستان میں آنے کے باوجود کوئٹہ میں ویکسینیشن کا عمل سست روی کا شکار ہے- بلوچستان میں 8روز کے دوران اب تک صرف 133 ہیلتھ ورکرز کو ویکسینیت کیا گیا ہے-

    پہلے مرحلے میں 5 ہزار کورونا ویکسن کوئٹہ پہنچے تھے- اس وقت بلوچستان بھر میں 44 ویکسینیشن سینٹر قائم ہیں- کوئٹہ میں ویکسینیشن لگانے کیلئے 9 مراکز قائم ہیں- کورونا ویکسینشن کیلئے 22 ہزار ہیلتھ کیئر پروائڈرز رجسٹرڈ ہیں- حکومت کی ہدایت کع مطابق ویکسین ابھی صرف ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر ہیلتھ کئیر ورکرز کو لگائی جانی تھیں البتہ یہ عمل کوئٹہ میں صحیح طریقے سے انجام نہیں پارہا ہے اور ویکسینیشن کا یہ عمل سست روی کا شکار ہے-

  • صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نےکوئٹہ سی ایم ایچ اسپتال، اور ٹراما سینٹر سول ہسپتال کادورہ کیا

    صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نےکوئٹہ سی ایم ایچ اسپتال، اور ٹراما سینٹر سول ہسپتال کادورہ کیا

    کویٹہ :
    دورے میں صوبائی وزیر داخلہ نے گزشتہ روز کوٹیہ اور سبی  بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی فرداًا فرداً عیادت  اور انتظامات کا جائزہ لیا، ڈپٹی کمشنر کوٹیہ اورنگزیب بادینی صوبائی وزیر کے ہمراہ 
    دہشت گردوں نے عوامی مقام پر معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر بزدلی کی مظاہرہ کیا ہے۔ فوج ،پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے مل کر دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔
    وزیر داخلہ نے موقع پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی.موقع پر وزیر داخلہ نے زخمیوں سے دھماکے کی تفصیلات بھی معلوم کیں.دھماکہ انتہائی افسوسناک ہے جس میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنا یا گیا ۔ پاکستان میں دہشتگردی ہمارے ہمسائے ملک افغانستان کے راستے ہو رہی ہے ۔دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ افسوس کا اظہار اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا ۔ وزیر داخلہ

  • کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا ویکسین لگانےسے متعلق  اقدامات جاری

    کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا ویکسین لگانےسے متعلق اقدامات جاری

    کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری کل سے لسبیلہ تربت اور چاغی میں بھی ویکسین لگانے کا آغاز ہوگا، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی
    کوئٹہ، اب تک 4 ہیلتھ کیئر ورکرز و ڈاکٹرز کو ویکسین لگائی جاچکی ہے، کوئٹہ میں ویکسین لگانے کیلئے 9 مراکز قائم ہیں، پروانشل کوارڈینیٹر ای پی آئی بلوچستان
    کوئٹہ، کورونا ویکسین کیلئے 22 ہزار ہیلتھ کیئر پروائڈرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں، کوئٹہ، رجسٹرڈ افراد موبائل پر پیغام موصول ہونے کے بعد مقررہ سینٹر جاکر ویکسین لگواسکیں گے، صوبائی کوآرڈینیٹر ای پی آئی
    کوئٹہ، ویکسین مضر اثرات سے پاک اور کورونا سے بچاو کا تناسب 95 فیصد ہے ، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی
    کوئٹہ، کل سے لسبیلہ تربت اور چاغی میں بھی ویکسین لگانے کا آغاز ہوگا، کوئٹہ، بلوچستان بھر میں 44 ویکسین سینٹرز قائم ہوں گے، کوئٹہ، مرحلہ وار دیگر اضلاع میں ویکسین لگانے کا عمل شروع کریں گے، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی