Baaghi TV

Tag: کوئٹہ

  • کوئٹہ لہولہو،ریلوے اسٹیشن پر دھماکہ،27 افراد جاں بحق،62 زخمی

    کوئٹہ لہولہو،ریلوے اسٹیشن پر دھماکہ،27 افراد جاں بحق،62 زخمی

    کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر دھماکا ہوا ہے،جس میں 27 افراد جاں بحق ہوئے ہیں،پاکستان ریلو ے نے ابتدائی انکوائری رپورٹ جار ی کر دی ہے-

    ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے میں 27 افراد جاں بحق جب کہ 62 سے زائد زخمی ہیں، زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا پو،ریلوے حکام کے مطابق پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس نے9 بجے روانہ ہونا تھا ،ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی ، دھماکاریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا ،دوسری جانب سول اسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹر نور اللہ کے مطابق اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، طبی امداد کے لیے اضافی ڈاکٹرز اور عملہ طلب کرلیا گیا ہے۔ایس ایس پی آپریشنز محمد بلوچ نے کہا ہے کہ بظاہر دھماکا خود کش لگتا ہے، مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    کوئٹہ دھماکہ، عوام خون دینے ہسپتال جائیں تماشا دیکھنے نہ آئیں، کمشنر کوئٹہ
    کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکہ ہوا ہے ، دھماکے میں 24 افراد جاں بحق ہوئے ، دھماکے میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا، عوام خون عطیہ کرنے کے لئے ہسپتال جائیں، عوام تماشہ دیکھنے کے لئے اسٹیشن اور ہسپتال نہیں آئیں ، بس اڈوں ، اسٹیشن اور رش والی جگوں پر جانے سے گریز کریں، خود کش کو روکنا انتہائی مشکل ہے، دہشتگرد ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں ، دھماکہ خودکش تھا جسکی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کرلی ،

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ ریلوے سٹیشن کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کی ہے،وزیراعظم نےجاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے،وزیراعظم نے زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان حکومت سے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی گئی ہے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ معصوم اور نہتے شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والے دہشتگردوں کو بہت سخت قیمت ادا کرنی پڑے گی،دہشتگردی کی عفریت کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر سرگرم عمل ہیں

    صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ چکے ہیں، واقعے کی رپورٹ بھی طلب کرلی گئی ہے اور دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہےبم ڈسپوزل اسکواڈ موقع سے شواہد اکٹھے کر رہا ہے، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے اور نقصانات کا تعین کیا جارہا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اعلیٰ انتظامی حکام سے رابطہ کر کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث عناصر تک پہنچ چکے ہیں، صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہیں اور متعدد واقعات میں ملوث دہشت گرد پکڑے جا چکے ہیں،بلوچستان سے دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گے۔

    پاکستان ریلوے نے کوئٹہ دھماکہ کی ابتدائی انکوائری رپورٹ جاری کر دی ہے-
    پاکستان ریلوے کی جانب سے ابتدائی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کی نوعیت خود کش لگتی ہے،دھماکے کے وقت پلیٹ فارم نمبرایک پر کوئی ٹرین موجود نہیں تھی.جعفر ایکسپریس نے ساڑھے 8 بجے پلیٹ فارم نمبر 1 پرپہنچنا تھا،دھماکے سے پلیٹ فارم نمبر2 پرموجود مسافر محفوظ رہے،دھماکے کی نوعیت خودکش لگتی ہے،دھماکہ کی پہلی اطلاع کوئٹہ کنٹرول آفس سے 8 بج کر 40 منٹ پرموصول ہوئی۔

    کوئٹہ ڈی سی سعد بن اسد کا کہنا تھا کہ دھماکے کے حوالے سے الرٹ جاری کیا تھا،ریلوے اسٹیشن کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ریلوے پولیس کی ہے،انتظامیہ الرٹ جاری کرتی ہے تو اس کا کچھ مقصد ہوتا ہے،ریلوے کی سیکیورٹی کا آڈٹ کیا جائے گا،دہشت گرد اوپن راستے سے ریلوے اسٹیشن کے اندر آیا۔ آئی جی ریلوے پولیس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ریلوے اسٹیشن پر اٹھارہ پولیس اہلکار تعینات تھے،کہاں پر سیکورٹی لیپس تھا،دیکھ رہے ہیں۔

    کوئٹہ دھماکہ،27 جاں بحق، 62 زخمی، مقدمہ درج
    کوئٹہ: ریلوے اسٹیشن خودکش دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا، مقدمہ ریلوے پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ریلوے اسٹیشن خودکش دھماکے میں 27 افراد جاں بحق، 62 زخمی ہوئے ہیں،

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ہفتہ کے روز کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ قرار دیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی خبروں سے گہرا دکھ پہنچایا ہے۔انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ زخمیوں کی مدد کریں اور ہسپتال میں میڈیکل ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی ۔ مولانا فضل الرحمان نے اللہ تعالیٰ سے ان کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی۔ مولانا فضل الرحمان نے اس افسوسناک واقعے سے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    کوئٹہ ریلوے اسٹیشن دھماکہ کے زخمیوں کی عیادت ،رکن قومی اسمبلی کوئٹہ صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ نے پارٹی وفدکے ہمراہ سول ہسپتال ٹراما سینٹر کا دورہ کیا زخمیوں کے عیادت کیا،وفد میں پارٹی رہنماحیدر خان اچکزئی سحر گل خان نثار اچکزئی شامل تھے،

    ریلوے اسٹیشن دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دھماکہ خودکش تھا حملہ آور نے 7 سے 8 کلو دھماکہ خیر مواد جسم سے باندھا تھا ۔خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا ٹیسٹ کیلئے فرزانزک لیب بھجوائے جائیں گے ،خودکش حملہ اور کی شناخت کیلئے نادرا سے مدد لی جائے گی ۔دھماکے میں سیکورٹی فورسز کی 16جوان شہید اور 43 زخمی ہوئے ہیں ۔

  • کراچی میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف  سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج

    کراچی میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج

    کوئٹہ : ہاکی گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود پی ٹی آئی کارکنان کی جلسہ گاہ جانے کی کوشش، پولیس سے جھڑپوں، پتھراؤ اور تصادم میں ڈی ایس پی سمیت 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف نے آج کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں جلسے کا اعلان کررکھا تھا مگر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آج جلسے کی اجازت نہیں دی گئی ضلعی انتظامیہ نے ہاکی گراؤنڈ جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا، ایدھی چوک، انسکمب روڈ، ریلوے اسٹیشن ایریا سمیت دیگر شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا، ضلعی انتظامیہ نے جلسہ گاہ کو بھی سیل کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی۔

    پولیس کے مطابق جلسے کے وقت پر پی ٹی آئی کے درجنوں کارکن رکاوٹیں توڑ کر جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہوئے جس پر پولیس کی جانب سے کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے بعد کوئٹہ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں، جھڑپوں کے دوران کارکنوں نے پولیس پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی جس کی ٹکر سے ڈی ایس پی سمیت پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے دو طرفہ پتھراؤ اور آنسو گیس کی شیلنگ کا سلسلہ تین گھنٹے تک جاری رہا تاہم جلسہ نہ ہوسکا۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے ریلی نکالنے پر کار سرکار میں مداخلت کے تحت پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ سہراب گوٹھ تھانے میں درج کرلیا گیا ہےپی ٹی آئی کراچی ریجن کی جانب سے صوابی جلسے میں شرکت کیلئے جانے والے قافلے کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تحریک انصاف کراچی کے صدر راجہ اظہر اور جنرل سیکریٹری ارسلان خالد سمیت دیگر کارکنوں کو گرفتار کرلیا جس کے بعد تحریک انصاف کراچی کے صدر سمیت 12 سے زائد عہدیداروں کے خلاف سرکار کی مدعیت میں کار سرکار میں مداخلت سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    جیل سے رہا ہو نیوالے کارکن وزیراعلیٰ کے پی سے ایک ہزار روپے …

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا سابق وزیر دفاع اور فوجی اہلکاروں کی …

    لاہور میں مصنوعی بارش کی تیاریاں شروع

  • ناکام احتجاجی مظاہرے، بلوچ یکجہتی کمیٹی غیور بلوچوں کو بہکانے میں مکمل ناکام

    ناکام احتجاجی مظاہرے، بلوچ یکجہتی کمیٹی غیور بلوچوں کو بہکانے میں مکمل ناکام

    اسلا بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ناکام احتجاجی مظاہرے، بلوچ یکجہتی کمیٹی غیور بلوچوں کو اپنی باتوں میں بہکانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 20 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو خضدار، تربت اور پنجگور کے عوام نے یکسر مسترد کردیا۔بلوچستان کے غیور عوام پر اب ماہرنگ اور سمی دین جیسے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کی حقیقت کھل چکی ہے جسکا ثبوت انکے مظاہروں کی ناکامی سے واضح ہوتا ہے، 26 اکتوبر بروز ہفتہ کوئٹہ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں تقریباً 250 افراد نے شرکت کی، یاد رہے کہ اسی سال جولائی کے مہینے میں بلوچ اتحاد کمیٹی کے زیر اہتمام ہونے والی ریلی میں تقریباً 12 ہزار افراد نے شرکت کی تھی، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام حالیہ جلسوں میں چند لوگوں کی شرکت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مقبولیت میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے، یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جھوٹے دعوؤں سے تنگ آ چکے ہیں اور ان جیسے ضمیر فروشوں کی آوازوں کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں.

  • بلوچستان حکومت کا صوبے کی جامعات میں نئی بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ

    بلوچستان حکومت کا صوبے کی جامعات میں نئی بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ

    وزیر اعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی زیر صدارت پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے مالی و انتظامی امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا.

    اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، صوبائی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میر ظہور بلیدی، رکن بلوچستان اسمبلی خیر جان چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسیپل سیکرٹری عمران زرکون، سیکرٹری خزانہ بابر خان، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن حافظ محمد طاہر اور پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز نے شرکت کی. اجلاس میں بلوچستان کی جامعات کے مالی و انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کی جامعات میں کوئی نئی بھرتی نہیں ہوگی اشد ضروری تدریسی اسٹاف کی ایڈہاک پر تعیناتی نئے ایکٹ کے تحت ہوگی اس ضمن میں کنٹریکٹ پالیسی سے متعلق بلوچستان اسمبلی میں جلد قانون سازی کی جائے گی مالی بحران کے باعث یونیورسٹیز میں نئے تعمیراتی پروجیکٹس تشکیل نہیں دئیے جائیں گے اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں جامعات کی کمرشل سرگرمیوں کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اقدامات کے لئے کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان نے تمام یونیورسٹیز کے اساتذہ و اسٹاف کی تنخواہوں اور پینشن کی فوری ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہیں کام کرنے والے اساتذہ اور ملازمین کا حق ہے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ جو استاد ڈیوٹی کرے گا ، تنخواہ کا حق دار ہوگا تاہم گھر بیٹھے کسی کو تنخواہ نہیں دے سکتے غیر حاضر اور ڈیوٹی سے غفلت برتنے والے اہکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی وزیر اعلٰی بلوچستان نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں غیر ضروری بھرتیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ غیر ضروری اور اضافی اسٹاف کم کرکے رائٹ سائزنگ کی جائے نئی بھرتیوں اور تعمیراتی پروجیکٹس سے گریز کیا جائے پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں اپنے فنانشل مینجمنٹ نظام کو بہتر بنائیں وزیر اعلی نے کہا کہ جامع کنٹریکٹ پالیسی کی تشکیل کے لئے ضروری قانون سازی کی جارہی ہے عارضی بنیادوں پر بھرتی کے لئے بلوچستان کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ ایکٹ لایا جاررہا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیم کی ترقی ہمارا نصب العین ہے ڈویلپمنٹ پروجیکٹس اوع دیگر مدات سے فنڈز کاٹ کر جامعات کو وسائل فراہم کریں گے تاہم پھر جوابدہی کے موثر عمل کے ذریعے بہتر نتائج کا حصول بھی چاہیں گے وزیر اعلی نے جامعات کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی کہ غیر مقبول اور غیر سود مند فیکلٹیز کو بتدریج ختم کیا جائے اور جامعات کے غیر ضروری اخراجات کو کم کرتے ہوئے بتدریج ختم کیا جائے وسائل کی فراہمی کارکردگی سے مشروط ہوگی جامعات میں جدید تحقیقی عمل و علم کو فروغ دیا جائے اور طلبہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کار آمد اسکلز اور تعلیم دی جائے۔

    بلوچستان حکومت کا صوبے کی جامعات میں نئی بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

  • آن لائن جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ میں ملوث شخص گرفتار

    آن لائن جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ میں ملوث شخص گرفتار

    کوئٹہ: آن لائن جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ میں ملوث شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سائبر کرائمز سرکل کوئٹہ نے کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے خاتون کو ہراساں اور بلیک میلنگ کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتارکرلیا ملزم حمید اللہ کو سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا ملزم کے قبضے سے موبائل فون ضبط کرکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر شواہد بھی برآمد کر لیے گئے۔

    ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے متاثرہ خاتون کے نام پر جعلی فیس بک اکاؤنٹس بنا کر قابلِ اعتراض تصاویر اور ویڈیوز شئیرکی تھیں ملزم ان اکاؤنٹس کے ذریعے متاثرہ خاتون اور اس کے گھر والوں کو بلیک میل کر رہا تھا ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • کوئٹہ میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن ،پولیس اورمسلح افغان افراد میں تصادم، 4افراد جاں بحق

    کوئٹہ میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن ،پولیس اورمسلح افغان افراد میں تصادم، 4افراد جاں بحق

    صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں غیرقانونی طور پر قبضہ کی گئی زمین کو مافیا سے واگزار کرانے کے دوران پولیس اور مسلح افراد کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہو گئے۔

    زرئع کے مطابق پولیس نے بتایا کہ چشمہ اچوزئی میں پولیس اور شہریوں میں تصادم ہوا جس میں 5پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔پولیس کے مطابق زخمیوں کو سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں دوران علاج چار زخمی دم توڑ گئے۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ زمین کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے دوران پیش آیا اور اب چشمہ اچوزوزئی میں حالات کنٹرول میں ہیں۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی واقعے میں چار افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ڈپٹی کمشنر سعد بن اسد نے میڈیاے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چشمہ اچوزئی میں عدالتی احکامات پر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کی گئی جہاں غیرملکی افغان مہاجرین غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تھے۔کارروائی کے دوران اسسٹنٹ کمشنر سمیت پوری ٹیم پر مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق 9 زخمی ہو گئے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مسلح افراد نے سرکاری مشینری کو بھی جلانے کی کوشش کی۔

    ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ، بھارت نے پاکستان کو شکست دیدی

    اسرائیل: مرکزی بس اسٹیشن پر فائرنگ، خاتون ہلاک،متعدد زخمی

  • بلوچ طلبا کو ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ،وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

    بلوچ طلبا کو ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ،وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

    کوئٹہ:وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے معصوم لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے اور نوجوانوں کو ریاست کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : خودکش حملہ ترک کرنے والی خاتون عدیلہ بلوچ کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ عدیلہ بلوچ جیسے سینکڑوں بچے اور بچیاں دہشت گردوں کے کمیپ میں موجود ہیں، خودکش حملہ ترک کرنے والے بچی کو سی ایم ہاؤس بلانا ضروری سمجھا،کہ سب کو پتا چلنا چاہیے کہ دہشتگرد کیسے لوگوں کو جھانسہ دے کر خودکش حملہ کرواتے ہیں جب عدیلہ کے والد کو میسج آیا کہ اس کی بچی دوبارہ گھر نہیں آئے گی تو اس نے جدوجہد کی اور واپس بلایاخودکش حملہ کرکے جانیں ضائع ہونے سے بچانے کا کریڈٹ عدیلہ بلوچ کے والد کو جاتا ہے۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ تمام والدین عدیلہ بلوچ کے والد کی طرح بچوں سے رابطہ منقطع ہونے پر حکومتی نمائندوں سے رابطہ کریں، حکومت خودکش حملے کرانے کے بجائے بلوچ خواتین کو پی ایچ ڈی کرا رہی ہے پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں کو دہشت گردی کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔

    نئے ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک آج عہدے کا چارج سنبھالیں گے

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ پنجگور میں سوفٹ ٹارگٹ کے ذریعے مزدوروں کو قتل کیا گیا، ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں ملٹری آپریشن نہیں کرنا چاہتے، عدیلہ بلوچ کا خودکش حملہ ترک کرکے دائرے میں داخل ہونا ایک اہم پیشرفت ہے، دہشت گرد جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے عورتوں کے ذہن خراب کرتے ہیں،یہ صرف ڈالرز کے لیے ہماری عورتوں کو اس جنگ میں ڈال رہے ہیں، دہشت گرد معصوم شہریوں کو قتل کر رہے ہیں، یہ خون کی ہولی کھیل رہے ہیں، بلوچستان ایسے آزاد نہیں ہوگا بلوچستان کے بچوں کو ورغلایا گیا ہے۔

    خلائی جہازتکنیکی خرابی کے باعث امریکی خلابازوں کو لئے بغیر زمین پر واپس

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے طلبا کو اسکالر شپس دے رہے ہیں، ریاست ماں کا کردار ادا کر رہی ہے، بلوچستان کی خدمت بلوچ کے حق کی بات ہے۔جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے معصوم نوجوانوں کو ریاست کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے دہشت گردوں نے پسپائی کے بعد سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے،ہم بلوچ طلبا کو ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے تشدد کے ذریعے بلوچستان کی خدمت کیسے ہوگی؟ بلوچستان کے نوجوانوں کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • ڈان نیوز کاکوئٹہ میں دفتر بند

    ڈان نیوز کاکوئٹہ میں دفتر بند

    پاکستان کے تاریخی اخبار ڈان نیوز نے اپنا کوئٹہ دفتر بند کر دیا

    ڈان نیوز پاکستان کا نامور اور معروف اخبار ہے، ڈان گروپ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے تشکیل دیا تھا ڈان گروپ ان چند اور پہلے پاکستانی صحافتی اداروں میں سے ایک ہے جو اردو و انگریزی اخبار بھی چھاپتے ہیں۔ڈان گروپ نے 2007 میں ٹی وی چینلز کی نشریات کا آغاز کیا تھا، ڈان نیوز اخبار بھی پاکستان کے تمام بڑے شہروں سےشائع ہوتا ہے تا ہم اب خبر آئی ہے کہ ڈان نیوز نے کوئٹہ میں اپنا دفتر بند کر دیا ہے

    صحافی حافظ اللہ شیرانی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ "ڈان نیوز پیپر نے اپنا کوئٹہ،بلوچستان دفتر مستقل طور پر بند کر دیا ہے، جو کہ صحافت اور بلوچستان کے لیے ایک افسوسناک دن ہے۔ برسوں پہلے ڈان ٹی وی بیورو کی بندش کے بعد، اب اخبار کا دفتر بند ہو گیا ہے۔ ہارون حمید کی قیادت میں، یہ واقعی ڈان تھا، لیکن محترمہ ناز آفرین سہگل کے بعد یہ افسوسناک طور پر ڈان نہیں بلکہ زوال ہے۔

    ڈان نیوز کی کوئٹہ میں بندش سے مقامی صحافی بھی بے روزگار ہو گئے ہیں،مہنگائی کے دور میں صحافیوں کے لئے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں

    واضح رہے کہ 26 اکتوبر 1941ء کو قائداعظم محمد علی جناح کی ذاتی سر پرستی میں مسلم لیگ کے ترجمان کی حیثیت سے ہفت روزہ کے طور پر جاری کیا گیا۔ 1942ء میں یہ روزنامہ ہو گیا۔ اس نے مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کی ترجمانی کے فرائض شاندار طریقے سے سر انجام دیے۔ روزنامہ ڈان کے پہلے ایڈیٹر پاتھن جوزِف تھے جو اپنے صحافتی کیریئر اور تجربے کے باعث کافی مقبولیت رکھتے تھے۔ 1945ء میں الطاف حسین کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت روزنامہ ڈان اور اس قسم کے دیگر اخبارات کے روزانہ اشاعت کا اندازہ تقریباً 50 ہزار پرچے تھے۔

  • توہین مذہب کے  ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار دی

    توہین مذہب کے ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار دی

    کوئٹہ میں تھانے میں بند ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد خود کر سرینڈر کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق توہین رسالت کے الزام میں زیرِ حراست ایک ملزم کو ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ملزم عبدالعلی کو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد تھانے کی پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی اور یہ ہجوم ملزم کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نےبتایا کہ ’خروٹ آباد پولیس سٹیشن مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے غیرمحفوظ تھا اس لیے ملزم کو کینٹ پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا تھا۔‘

    پولیس اہلکار کے مطابق کینٹ تھانے میں ہی ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ملزم عبدالعلی کو ہلاک کیا ہے۔‘خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ عبدالعلی پر گولی چلانے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے تفتیش کی عمل جاری ہے۔پولیس کے مطابق عبدالعلی کی لاش کو سول ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے متعلقہ پولیس سرجن کو پوسٹ مارٹم کے لیے ایک محفوظ مقام پر بلا لیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستان میں توہین مذہب کے معاملے میں ملزم کے خلاف قانون ہاتھ میں لیا گیا ہو۔ رواں برس جون میں خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کو مشتعل ہجوم نے پولیس کی حراست سے زبردستی نکال کر قتل کر دیا تھا۔

    عبدالعلی کے خلاف توہینِ مذہب کے الزام کی وجہ بننے والی مبینہ ویڈیو ایک چلتی گاڑی میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کے مواد کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق گاڑی عبدالعلی خود چلا رہے تھے اور اس دوران گاڑی میں سوار ایک شخص ان سے تحریک انصاف کے ایک رہنما کی گرفتاری پر ان کا ردِعمل پوچھتا ہے۔اس گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اب لوگوں کو ہر علاقے میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ حالات کو کس جانب لے جا رہے ہیں۔‘ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے اسی گفتگو کے دوران مذہبی اعتبار سے ’نازیبا‘ الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بدھ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں جبل نورالقرآن کے قریب مغربی بائی پاس پر جمع ہو گئی تھی۔

    لوگوں نے مغربی بائی پاس اور اسپنی روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بند کر دی تھی اور وہ ملزم کی گرفتاری اور اسے سزا دینے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔تاہم ملزم کی گرفتاری کے بعد بھی مظاہرین منتشر نہیں ہوئے بلکہ خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے باہر جمع ہو گئے تھے اور وہ پولیس سے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ایس پی صدر پولیس شوکت مہمند کے مطابق ’ہجوم کی جانب سے یہ غیر قانونی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے۔‘ انھوں نے ہجوم کے مطالبے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا بلکہ اسے گرفتار بھی کیا گیا۔بدھ کی شام ہجوم کی جانب سے تھانے پر پتھراؤ کیا گیا اور مشتعل افراد نے تھانے کے مرکزی دروازے کو توڑ کر تھانے کی حدود میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی تھی جس پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔مظاہرین کی جانب سے تھانے کا گھیراؤ اور اس پر پتھراؤ کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہا اور اسی دوران ملزم کو کینٹ تھانہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

  • 3 سال بعد بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ میں کیتھ لیب فعال

    3 سال بعد بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ میں کیتھ لیب فعال

    3 سال بعد بی ایم سی ہسپتال کوٸٹہ میں کیتھ لیب کو فعال کیا

    کوئٹہ ( آغا نیاز مگسی ) محکمہ صحت بلوچستان نے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ میں عرصہ تین سال سے زائد غیر فعال کیتھ لیب کو عوام کے لئے مکمل طور پر فعال کر دیا ہے بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ میں کیتھ لیب چھ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے مرمت کے بعد عوام کے لیے اب مکمل طور پر فعال کرکے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر افضل زرکون نے باقاعدہ طور پر افتتاح کردیا ہے،افتتاحی تقریب میں ہیڈ آف کارڈیالوجی ڈاکٹر ہما نعیم ترین نے بتایا کہ عرصہ تین سال سے بی ایم سی ہسپتال میں تنصیب کیتھ لیب فنی خرابی کے باعث غیر فعال ہوگیا تھا، محکمہ صحت بلوچستان نے چھ کروڑ روپے کی لاگت سے فلپس کمپنی کے تعاون سے مشین کو فعال بنایا ہے اور اگلے تین سال تک مشین کی دیکھ بھال فلپس کمپنی سے ایگریمنٹ کیا گیا ہے اب بلوچستان کے عوام پانچ ہزار کے معمولی فیس ادا کرکے اینجو گرافی اور اینجو پلاسٹی کراسکیں گے، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر افضل زرکون نے کہا کہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں کیتھ لیب کی سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔افتتاحی تقریب میں کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر عبدالباری، ڈاکٹر فرہان فیصل، ڈاکٹر قادر بخش بلوچ، نرسنگ سپرنٹنڈنٹ عنایت اللہ پانیزئی اور دیگر موجود تھے۔