Baaghi TV

Tag: کورونا وائرس

  • مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد

    مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد

    سوشل میڈیا پر چل رہا پے بیڈز اور وینٹی لیٹر موجود نہیں. کتنے بیڈز ہیں، کتنے وینٹی لیٹر موجود سب ویب سائٹ پر ہے. 1122 کو ایپ دے دی گئی، تمام قریبی اسپتال اس پر موجود ہوں گے. سپیلائزڈ ہیلتھ کئیر کے اسپتالوں میں 27 ہزار بیڈز موجود ہیں. 239 ایچ ڈیو میں بستر موجود ہیں. گھروں میں آئسولیشن کے اگر کوئی سیریس مریض وہ اسپتال آئیں. لوگ اپنی گاڑیوں میں کورونا مریض نہ لائیں، صرف 1122 کے ذریعے مشتبہ مریض پہنچایا جائے. 1122 کی ایپ پر سب کچھ موجود ہوگا.پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر نے لائیو ڈیٹا کی ایپ تیار کی ہے. انفرمیشن ڈیپارٹمنٹ نے پرائمری اینڈ سیکنڈری پیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کی تعریف کی.تمام ڈیٹا آن لائن ہونے پر ہماری تعریف کی گئی. ڈاکٹر یاسمین راشد

    تمام دوسرے ڈیپارٹمنٹس کو پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کو فالو کرنے کا کہا گیا ہے. ہمارے ایکسپرٹس پیر سے پریس بریفنگ دے کر مرض کے بارے میں بتایا کریں گے. پیر سے وزیراعلی پنجاب کی زیر صدارت ایک آگاہی مہم شروع کی جائے گی. ہائیڈروکسی کلوروکئین کے ٹرائلز ہورہے تھے مگر اچھے نتائج نہیں ہے. ٹوسیلوزیمیب کے استعمال سے سیریس مریضوں کی حالت بہتر ہوئی. 1 لاکھ بیس ہزار روپے کا ایک انجکشن ہے جو حکومت نے خرچہ اٹھا لیا ہے.پلازمہ تھراپی صرف ایک ٹرائل ہے. ڈاکٹر یاسمین راشد

    ٹرائل کے لیے ہم نے 200 لوگوں کو رابطہ کیا، 37 لوگوں نے ہمیں پلازمہ دینے کے لیے ہامی بھری. پلازمہ تھراپی ابھی علاج نہیں، صرف ٹرائلز کررہے ہیں.ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں ہوا، عید بھی بھرپور منائی گئی. کیسز میں مزید اضافہ ہونے سے تشویشناک مریض بڑھ رہے ہیں.زندگی اور جان آپ کی ہے، حکومت صرف کوشش کرسکتی ہے ڈاکٹر یاسمین راشد

  • سینیٹر رحمان ملک کا کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال پر بیان

    سینیٹر رحمان ملک کا کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال پر بیان

    سینیٹر رحمان ملک کا بیان:
    آنے والے دنوں میں کورونا مزید تباہی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے، عوام اپنی و دوسروں کی حفاظت کیلئے سخت اختیاطی تدابیر اختیار کرے.
    عوام سے اپیل ہے کہ گھروں سے نہ نکلے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے بتائے تدابیر پر عمل کرے، حکومت مستحق و غریب مریضوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے چارجز خود برداشت کرے. میری ہدایات پر سیکرٹری داخلہ نے متعلقہ ادارے کو غریبوں کا فری کورونا ٹیسٹ کیلئے خط لکھاہے.سیکرٹری داخلہ کو داد دیتا ہوں کہ انھوں نے میرے ہدایات پر بروقت خط لکھا، حکومت اگر کورونا ٹیسٹ کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتی تو کورونا فنڈ تشکیل دے.فنڈ میں مخیر حضرات سے چندہ و عطیات جمع کرنے کی اپیل کیجائے، امید ہے کہ غریبوں کے فری ٹیسٹ کے لئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی بھرپور مدد کرینگی. صرف تین لاکھ سے نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنے سے کورونا پھیلاؤ کا صحیح اندازہ لگے گا.

  • ASI عبدالکریم کے اہل خانہ بازیاب ہوگئے

    ASI عبدالکریم کے اہل خانہ بازیاب ہوگئے

    (عبدالغفار شاکر ، قصور)
    کھڈیاں خاص محلہ شکیل ٹاون کے اے ایس آئی عبدالکریم کے اہلخانہ کی کروناوائرس رپورٹ نیگٹو آگئی ہے۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تھانہ صدر پھولنگر کے اے ایس آئی گزشتہ دنوں کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے جس پر ان کے اہل خنہ کے ٹیسٹ بھی کرواۓ گئے تھے اور محلہ شکیل ٹاؤن کی گلی اور ان کے گھر کو سیل کر دیا گیا تھا اور گھر کے باہر پولیس کی نفری تعینات کی گئی تھی۔

    تفصیلات کے مطابق اہل خانہ کی رپورٹ منفی آنے پر گھر کے باہر تعینات پولیس نفری ہٹادی دی گئیہے۔
    کھڈیاں خاص محلہ شکیل ٹاون کے رھائشی اے ایس آئی عبدالکریم جو تھانہ صدر پھول نگر میں تعینات تھے کو کروناوائرس کے سلسلہ میں دیگر پولیس ملازمان کے ھمراہ قرنطینہ سنٹرمنتقل کردیا گیا تھا۔..
    گذشتہ روز انتظامیہ نے انکے اہلخانہ کے سمپل لیکر بھیجے تھے جو آج ان تمام افراد کی کروناوائرس رپورٹ نیگٹو آئی ھے۔گھر کے باہر تعینات نفری ہٹادی گئی۔..

  • موجودہ صورتحال میں ہوٹلز/ریسٹورنٹز کھولنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو

    موجودہ صورتحال میں ہوٹلز/ریسٹورنٹز کھولنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو

    صوبائی وزیر برائے صنعت وتجارت اور محکمہ امداد باہمی و انسداد بدعنوانی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا ہے کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی لوکل ٹرانسمیشن کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ہوٹلز/ ریسٹورنٹز کھولنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

    یہ بات آج انہوں نے کورونا وائرس کی صورتحال پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز کے تحت ہونے والے وڈیو لنک اجلاس میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر برائے صنعت وتجارت حماد اظہر نے اجلاس کی صدارت کی۔سندھ کے وزیر برائے صنعت وتجارت جام اکرام اللہ دھاریجو کی صوبہ سندھ کی نمائندگی کی ۔ اجلاس میں سیکریٹری صنعت وتجارت سندھ عبدالغنی سہتو نے بھی شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے صنعت وتجارت جام اکرام اللہ دھاریجو نے مزید کہا کہ شاپنگ مالز ایس او پیز کے مطابق کھلنے چاہیں۔ ہمیں کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہوٹلز کھولنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے جبکہ ایس او پیز کے تحت آٹو موبائل انڈسٹری کھولی جاسکتی ہے۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی جانوں کو اولیت دیتے ہوئے روزگار کے مواقع مہیا کئے جائیں۔ کورونا وائرس کے باعث طرز زندگی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ہر سطح پر عوام کی بہتری کے لئے وفاقی حکومت سے تعاون کررہی ہے۔ کورونا وائرس کو مل کر ہی شکست دے سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر صنعت وتجارت نے کہا کہ حکومت سندھ نے ایس او پیز کے تحت مخصوص صنعتوں کو کھولنے اور کاروبار چلانے کی اجازت دی ہے۔ اگر ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جائے گا تو عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ کاروباری طبقے کو چاہیے کہ وہ خود بھی ایس او پیز پر عمل کریں اور اپنے عملے اور گاہکوں کو بھی ایس او پیز پر عمل کروائیں۔

  • سندھ میں کورونا وائرس کی صورتحال

    سندھ میں کورونا وائرس کی صورتحال

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال کے متعلق بیان۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 3730 ٹیسٹ کیے گئے۔ آج 537 کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جو ٹیسٹوں کا 14.4 فیصد ہے۔ اس وقت تک 95053 ٹیسٹ کئے گئے، جس میں 12017 کیسز آئے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 11 مریض انتقال کرگئے۔ اللہ پاک انتقال کرنے والوں کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر دے۔ اس وقت تک 200 مریض کورونا کے باعث انتقال کر چکے ہیں۔ آج 68 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے۔ صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2149 ہے۔ 537 کیسز میں سے 432 نئے کیسز کا تعلق کراچی سے ہے۔ ملیر میں 142، وسطی میں 62 اور شرقی میں 61 نئے کیسز سامنے آئے۔ جنوبی اور کورنگی میں 58-58 جبکہ غربی میں 51 مزید کیسز رپورٹ ہوئے۔ سکھر میں 22، شکارپور میں 19اور قمبرشہداد کوٹ میں 11 نئے کیسز ظاہر ہوئے۔ ٹنڈوالہیار 8، لاڑکانہ 7، حیدرآباد، سانگھڑ اور مٹیاری میں 4-4 مزید کیسز آئے۔ جیکب آباد 3، سجاول 2، میرپور خاص، جامشورو اور بدین میں ایک ایک کیسز آئے آج سے کاروبا ر ایس او پی کے تحت دئے گئے وقت کے مطابق شروع ہوا ہے۔ تمام کاروباری دوستوں کو بتائی گئی ایس او پی تحت کام کرنا ہے۔ میں خود بھی شہر کا دورہ کر کے جائزہ لوں گا۔
    انتظامیہ کسی کو ہراساں نہیں کرےلیکن ایس او پی پر عمل کویقینی بنائیں: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

    عبدالرشید چنا
    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ

  • وفاقی وزیرداخلہ عجاز احمدشاہ کی زیر صدارت ٹائیگرفورس اور کورونا وائرس کے حوالے سے اجلاس منعقد

    وفاقی وزیرداخلہ عجاز احمدشاہ کی زیر صدارت ٹائیگرفورس اور کورونا وائرس کے حوالے سے اجلاس منعقد

    ننگانہ صاحب۔ 6 مئی (اے پی پی ) وفاقی وزیرداخلہ بریگیڈئیر(ر)اعجاز احمدشاہ کی زیر صدارت ٹائیگرفورس اور کورونا وائرس کے حوالے سے ڈی سی آفس میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے وفاقی وزیر داخلہ کو کورونا وائرس اور ٹائیگر فورس کے حوالے سے مکمل بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم کو اپنے عوام کی بہت فکر ہے، لوگ حکومتی ہدایات پر عمل کر ر ہے ہیں‘ ٹائیگرز قومی فرض سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں‘ ٹائیگرز کا کردار مکمل طور پر غیر سیاسی ہو گا‘ ٹائیگرز وزیر اعظم عمران خان کی توقعات پر پورا اتریں۔ اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ٹائیگرز کا کردار بہت اہم ہے۔ کورونا کے خاتمے کے لئے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہم سب کو احتیاطی تداببیر پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہاکہ سندھ میں ایک ارب تقسیم کئے گئے پتہ نہیں کن کو پیسے ملے۔۔؟؟ ان حالات میں بھی لوگ کرپشن سے باز نہیں آرہے۔وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ کورونا سے متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ہم بہت جلد خود N95 ماسک بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔اس وقت ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے زیادہ غربت کا ڈر ہے۔20 نکاتی ایجنڈہ علماء کی مشاورت سے طے کیا گیا۔ علماءکرام حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام تہواروں پر حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ضلعی افسران بلا امتیاز حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کروائیں۔ ضلعی انتظامیہ ٹائیگرز کے موثر استعمال کے لئے حکمت عملی استعمال کریں۔ وزیراعظم لاک ڈاون کے نقصانات سے مکمل آگاہ ہیں۔

    جولائی کے پہلے ہفتے میں کورونا کا عروج ہو گا۔ قوم سے درخواست ہے کہ حفاظتی انتظامات پرمکمل عملدرآمد کریں۔ وفاقی وزےر نے کہا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے لیے کوئی نیا ضابطہ اخلاق جاری نہیں کررہے۔نماز عید کے لیے علماءمتفق ہیں کہ مساجد کی بجائے کھلی جگہوں پر نماز ادا کی جائے۔درخواست ہے کہ مسجد میں کم سے کم لوگ اعتکاف کریں۔امیر لوگ چاہتے ہیں کہ لاک ڈاﺅن کا سلسلہ جاری رہے۔بھوکے اور ضرورت مند لوگ لاک ڈاﺅن میں نرمی چاہتے ہےں۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے زیادہ غربت کا ڈر ہے۔اگرحفاظتی اقدامات پر عمل کیاجائے تو زندگی کا پہیہ مناسب انداز میں چل سکتاہے۔ وزیراعظم کے احساس ایمرجنسی پروگرام کے تحت مستحق گھرانوں میں رقوم تقسیم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا متاثرین میں سیاسی وابستگی کے بغیر امداد تقسیم کی گئی موجودہ حالات میں مخیرحضرات کومستحق افراد کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر آگے آ نا چاہیے ۔

  • وزیراعلیٰ  بلوچستان کا کورونا وائرس کے کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کورونا وائرس کے کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ

    کوئٹہ: وزیراعلیٰ جام کمال خان کا کورونا وائرس کے کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کادورہ/ انچارج عمران گچکی نے بریفنگ دی،
    کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو وزیراعلیٰ کی گائیڈ لائن کے مطابق بھرپور طور پر فعال بنایا گیاہے۔ سینٹر کے مختلف شعبوں کے ماہرین اور اکیڈیمیا کی خدمات بھی حاصل کی گئ ہیں۔ کوروناوائرس کے پھیلاؤ کے مختلف شعبوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کیا جا رہاہے ۔ سینٹر میں وائرس کے پھیلاؤ کے رجحان کا جائیزہ بھی لیا جارہاہے۔

    ڈویژنل سطح پر بھی سینٹر قائم کر دیۓ گیۓ ہیں. کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو کورنا وائرس کے اثرات کے بعد بھی مستقل بنیادوں پر فعال رکھا جاۓ گا. آپریشن سینٹر میں تمام شعبوں سے متعلق دستیاب ڈیٹا کو مربوط میکنیزم کے تحت استعمال کرنے میں مدد ملے گی ۔ماضی میں نہ تو اداروں میں کام کرنے کا ماحول دیا گیا اور نہ ہی افسران کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا گیا۔ پولیٹیکل لیڈر شپ کی زمہ داری ہے کہ صوبے کی ضروریات کے مطابق ماہرین کی ہر شعبہ میں خدمات حاصل کرے.۔کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق مزید وسعت دے کر بھرپور استفادہ کیا جاۓ گا ۔وزیراعلیٰ بلوچستان.

  • صدر لاھور چیمبر کا  ذخیرہ اندوزی کے ارڈیننس پر تحفظات کا اظہار.

    صدر لاھور چیمبر کا ذخیرہ اندوزی کے ارڈیننس پر تحفظات کا اظہار.

    صدر لاھور چیمبر عرفان اقبال شیخ، ذخیرہ اندوزی کے ارڈیننس پر تحفظات کا اظہار کردیا. حکومت کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے سخت رویہ ہے. ارڈیننس جاری کردیا مگر مشاورت کی گئی اور نہ اعتماد میں لیا گیا، کاروباری برادری میں تشویش ہے. رائس پولٹری سیڈ اور فوڈ انڈسٹری مشکلات کا شکار ہے، ایس او پیز کو مشاورت کے ساتھ طے کیا
    جائے اور ارڈیننس کے اطلاق پر احتیاط برتی جائے.

    رائس کی ڈھائی بلین کی انڈسٹری ہے. پچہتر فیصد ایکسپورٹ کیا جاتا ہے. چاول کی ملک میں سات ملین میں سے پانچ ملین رائس ایکسپورٹ ہوتا ہے،چاول کی ڈومیسٹک کھپت کم ہوگی ہے.

    چوہدری فرخام کا کعھنا ہے کہ پولٹری سیکٹر15 لاکھ کو روزگار فراہم کررہی ہے. کورونا وائرس کی وجہ سے 45 فیصد کھپت اور کاروبار میں فرق پڑا ہے.40 سے 45 فیصد شیڈ بند پڑے ہیں،پچاس فیصد کاسٹ سے کم پر بچنے پر مجبور ہیں. انڈہ اور مرغی بھی ذخیرہ اندوزی ارڈنیس میں شامل کرلیا گیا ہے،انڈہ اور مرغی کو ذخیرہ اندوزی کے ارڈنیس سے استشنی دیا جائے ۔ ایران اور افغانستان انڈہ اور مرغی ایکسپورٹ سے پابندی اٹھائی جائے ۔

    سیڈ انڈسٹری
    ساڑھے آٹھ ملین ایکٹر کاٹن لگانے کے لیے سیڈ نہیں ہے.حکومت ملک کو قحط سالی کی طرف لیکر جارہی ہے .آج گندم۔کا سیڈ پروکیور نہ ہونے دیا تو اگلے سال گندم کی فصل متاثر ہوگی ،جو دو ملین ایکٹر گندم لگتی ہے وہ اگلے سال ایک ملین ایکٹر بھی نہیں لگے گی ۔۔

    عرفان قیصر شیخ کا کہنہ تھا کہ ایس او پیز طے نہیں ہوتے معاملات خراب ہونگے. میان اسلم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں. پہلے ہی مشکلات ہیں.41 شعبہ جات اس سے متاثر ہورہے ہیں. قانون بنانے سے پہلے مشاورت کرنی چاہیے.

  • کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ہوم آئسولیشن کی تیاری

    کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ہوم آئسولیشن کی تیاری

    محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر نے پالیسی وزیر اعلی پنجاب کو پیش کر دی۔ معمولی علامات والے 60 سال سے کم مریض اپنے گھروں ہی میں قرنطینہ کرسکیں گے۔ ہوم آئسولیشن کے لیےمریض کے پاس علیحدہ کمرہ ہونا لازمی ہوگا۔ ہوم آئسولیشن کے لیے کمرے کے ساتھ واش روم بھی لازمی ہونا چاہیے۔ ہوم آئسولیشن میں کورونا کا مریض اہل خانہ کے ساتھ نہیں بیٹھ سکے گا۔

    مریض کی اپنے گھر میں نقل و حمل محدود ہوگی۔ ہوم آئسولیشن میں مریض کی دیکھ بال کے لیے گھر کا ایک ہی فرد مختص ہوگا۔
    مریض کے گھر کے کام کاج، کھانا پکانے پر پابندی ہوگی۔ ہوم آئسولیشن کرنے والے کورونا مریض کے گھر میں روز ڈس انفیکٹنٹ کرنا لازمی، کپڑے بھی روزانہ کی بنیاد پر دھونے ہوں گے۔ آئسولیشن کے دن مکمل ہونے تک کوئی فرد مریض سے نہیں مل سکے گا۔ دل، پھپھڑوں، اور قوت مدافعت کم کرنےوالی بیماریوں میں مبتلا افراد ہوم آئسولیشن نہیں کرسکیں گے۔ گھروں میں اکیلے رہنے والے افراد بھی ہوم آئسولیشن نہیں کر سکیں گے۔

  • بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس اور قیدی ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
    یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
    بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
    سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔

    باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔

    امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
    دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
    سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
    اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
    کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟