Baaghi TV

Tag: کورونا وائرس

  • ملک بھر میں کورونا کے مزید 47 کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں کورونا کے مزید 47 کیسز رپورٹ

    قومی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے مزید 47 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق گزشتہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 12ہزار 369 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 47 افراد کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے۔

    کورونا وبا اپنے اختتام کے قریب ہے، ڈبلیو ایچ او

    این ایچ آئی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.38 فیصد رہی، جبکہ ملک بھر میں کورونا کے 73 مریضو ں کی حالت تشویش ناک ہے، جب کہ گزشتہ24 گھنٹے میں کورونا کے باعث کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی-

    واضح رہے کہ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبریاسیس نے ورچوئل کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دنیا سے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے اس سے بہتر حالات پہلے نہیں تھے ہم ابھی تو وہاں نہیں پہنچے ہیں۔ لیکن اس کا خاتمہ نظر آرہا ہے۔ ہم اس وبائی مرض کو ختم کرنے کی اس سے بہتر پوزیشن میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ قبل اس کے کہ اس وبائی مرض کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہو جائے، دنیا کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اگر ہم ابھی اس موقع کو ضائع کر دیتے ہیں، تو پھر ہم کورونا کی مزید اقسام کےخطرات کومول لیں گے، جس سے زیادہ اموات، زیادہ خلل اور زیادہ غیر یقینی صورتحال کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

  • ملک بھر میں کورونا کے مزید 90 کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں کورونا کے مزید 90 کیسز رپورٹ

    قومی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے مزید 90 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کے 268 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 14 ہزار 663 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 90 افراد کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے۔


    این ایچ آئی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.61 فیصد رہی، جبکہ ملک بھر میں کورونا کے 89 مریضو ں کی حالت تشویش ناک ہے، جب کہ اس دوران کوئی مہلک وبا کے باعث ایک موت رپورٹ ہوئی-

    کراچی اور حیدرآباد میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی 6 روزہ خصوصی ویکسینیشن مہم 19 ستمبر سے شروع ہوگی، ڈور ٹو ڈور مہم کے دوران 5 سے 11 سال کی عمر کے 24 لاکھ بچوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

    کراچی میں کرونا وائرس کے نتیجے میں اب تک 5 سے 11 سال کی عمر کے 62 اور حیدرآباد میں 2 بچے انتقال کرچکے ہیں، کرونا وائرس سے سب سے زیادہ بچوں کی اموات کراچی کے ضلع جنوبی میں ہوئیں، کراچی اور حیدرآباد میں 9 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔محکمہ صحت سندھ نے کراچی اور حیدرآباد میں 19 ستمبر سے 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی 6 روزہ ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مہم کے دوران 3 افراد پر مشتمل 4 ہزار 554 ٹیمیں حصہ لیں گی، جن میں سے 3 ہزار 987 آؤٹ ریچ ٹیمیں، 536 فکسڈ سینٹر اور 3 موبائل ٹیمیں شامل ہوں گی، مہم کے دوران 5 سے 11 سال عمر کے 34 لاکھ 13 ہزار 884 بچوں کی ویکسینیشن کا ہدف رکھا گیا ہے، جنہیں فائزر کی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی جائے گی تاہم 70 فیصد ہدف کیلئے 24 لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنایا جائے گا۔

    کراچی: 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کی کورونا ویکسینیشن کا فیصلہ

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبریاسیس نے ورچوئل کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا سے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے اس سے بہتر حالات پہلے نہیں تھے ہم ابھی تو وہاں نہیں پہنچے ہیں۔ لیکن اس کا خاتمہ نظر آرہا ہے۔ ہم اس وبائی مرض کو ختم کرنے کی اس سے بہتر پوزیشن میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ قبل اس کے کہ اس وبائی مرض کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہو جائے، دنیا کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اگر ہم ابھی اس موقع کو ضائع کر دیتے ہیں، تو پھر ہم کورونا کی مزید اقسام کےخطرات کومول لیں گے، جس سے زیادہ اموات، زیادہ خلل اور زیادہ غیر یقینی صورتحال کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    سانس کے ذریعے دی جانے والی پہلی کورونا ویکسین کو منظوری مل گئی

  • سانس کے ذریعے دی جانے والی پہلی کورونا ویکسین کو منظوری مل گئی

    سانس کے ذریعے دی جانے والی پہلی کورونا ویکسین کو منظوری مل گئی

    چینی دوا ساز کمپنی کینسائنو بائیولوجکس نے دنیا کی پہلی سانس کے ذریعے دی جانے والی کورونا وائرس کی ویکسین کو ہنگامی طور پر بوسٹر کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس سے اس کے کاروبار کو ممکنہ طور پر فائدہ ہو گا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کے اعلان کے بعد اس کے حصص میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا کمپنی نے اتوار کے روز کہا کہ کینسائنو کی حال ہی میں تیار کردہ ویکسین کے استعمال کو نیشنل میڈیکل پروڈکٹس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بھی اجازت مل گئی ہے۔

    آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    سانس کے ذریعے دی جانے والی اس ویکسین کو باآسانی محفوظ کیا جاسکتا ہے اور یہ سابقہ ویکسین کے مقابلے کم تکلیف دہ ہے کیونکہ اسے نیبولائزر کی مدد سے دیا جاسکے گا۔

    کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیانیے میں کہا گیا ہے کہ اگر مذکورہ ویکسین متعلقہ سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے خریدی اور استعمال کی جائے تو اس کی منظوری سے کمپنی کی کارکردگی پر مثبت نتائج مرتب ہوں گے۔

    تاہم کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اسے چین میں دیگر ویکسینز سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا جنہوں نے حکومتی منظوری بھی حاصل کر لی ہے یا وہ کلینیکل ٹرائلز میں ہیں۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    چین نے Livzon فارماسیوٹیکل گروپ کی کوویڈ 19 ویکسین کو ایک بوسٹر کے طور پرہنگامی طورپراستعمال کی اجازت دی ہے، Livzon نے جمعہ کو کہا، ملک نے ایک سال سے زیادہ عرصے میں اس بیماری کے خلاف صرف دو نئی مصنوعات میں سے ایک کو صاف کیا ہے۔

    کینسائنو نے یہ بھی کہا کہ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی ویکسین کب مارکیٹ میں متعارف کروائی جاسکے گی کیونکہ اضافی انتظامی منظوریوں کی ابھی ضرورت ہے جبکہ فروخت کا انحصار اندرون اور بیرون ملک کورونا کی صورتحال کے ساتھ ساتھ چین میں ویکسی نیشن کی شرح پر ہوگا۔

    چین میں کورونا کا پھیلاؤ جاری ہے شینزین کے جنوبی ٹیک ہب نے ہفتے کے روز شہر کے بیشتر حصوں میں ہفتے کے آخر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا، جبکہ چینگڈو کے جنوب مغربی میٹروپولیس نے جمعرات کو اپنے 21 ملین افراد کو لاک ڈاؤن میں رکھا-

  • آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    ایمسٹر ڈیم، ہالینڈ:انسانی آواز سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا وہ کورونا وبا سے متاثر ہے یا تندرست ہے-

    باغی ٹی وی : یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی کی بین الاقوامی کانگریس میں پیش کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے اب صرف ایک ایپ کے ذریعے صرف انسان کی آواز سے یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کاشکار ہے یا نہیں۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    یہ ایپ کسی بھی موبائل فون میں انسٹال کی جاسکتی ہے اور اس میں ممکنہ مریض کو کچھ بولنا ہوتا ہے جس کے بعد آواز کے نمونے ایک ڈیٹابیس سے ملائے جاتے ہیں اور اس بنا پر الگورتھم اپنی تشخیص بتاتا ہے-

    ابتدائی تجربے کے لئے 4 ہزار 5 سو 36 تندرست اور کووڈ کے شکارافراد سے رابطہ کیا گیا اوران سے کل 893 آوازیں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں سے 308 افراد پہلے ہی کووڈ کے شکار تھے اور ان کے ٹیسٹ پوزیٹو تھے ان سب کے موبائل پر ایپ انسٹال کی گئی اور اپنی سانس کی آواز اور کچھ گفتگو ریکارڈ کرنے کو کہا گیا۔

    پھر ان سے کہا گیا کہ وہ تین مرتبہ کھانسیں اور اس کی آواز ریکارڈ کریں، اس کے بعد کہا گیا کہ وہ پھیپھڑے بھرکر سانس لیں اور تین سے پانچ مرتبہ منہ سے سانس خارج کرکے اس کی آواز ریکارڈ کریں۔ آخر میں اسکرین پر لکھے ایک جملے کو تین مرتبہ پڑھنے کو کہا گیا پھر ان آوازوں کا تجزیہ کیا گیا تو سافٹ ویئر نے نہایت کامیابی سے مریضوں کی شناخت کی-

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    یہ ماڈل ڈاکٹر وفاالجباوی اور ان کے ساتھیوں نےتیار کیا ہے ٹیم کے مطابق، یہ اے آئی ماڈل اتنا مؤثر ہے کہ اس کی تشخیص ہوبہو لیٹرل فلو یا فوری اینٹی جن ٹیسٹ جیسی ہی ہے اور کئی معاملات میں تو اس سے بہتر ہے اس اسمارٹ فون ایپ کو دور دراز ایسے غریب ممالک میں استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں پی سی آر کے مہنگے ٹیسٹ اور عملہ دستیاب نہیں ہیں۔

    ڈاکٹر وفاالجباوی نے اس اسمارٹ فون ایپ کو ماسٹریخٹ یونیورسٹی میں تیار کیا ہے اور ابتدائی تجربات میں89 فیصد درستگی کے ساتھ کورونا کے کیسز کے نتائج معلوم کیے گئے ہیں جبکہ لیٹرل فلو ٹیسٹ کی افادیت مختلف برانڈ کی وجہ سے مختلف ہوسکتی ہے، بالخصوص کسی طرح کی ظاہری علامت والے مریض کا یہ ٹیسٹ ناکام بھی ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ہرکوئی نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ہزاروں میل دور بیٹھے مریض کا ورچول ٹیسٹ بھی اس سے ممکن ہے اور آبادی کی بڑی تعداد کو پرکھا جاسکتا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا وبا کے حملے کے بعد چونکہ پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور یوں آواز میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • جاپانی وزیر اعظم کورونا میں مبتلا ہو گئے

    جاپانی وزیر اعظم کورونا میں مبتلا ہو گئے

    ٹوکیو: جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہو گئے جس کے بعد افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے طے شدہ دورے منسوخ کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انہوں نے اپنی تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں اور کورونا کی تصدیق کے بعد جاپانی وزیراعظم نے خود کوسرکاری رہائش گاہ میں قرنطینہ کرلیا ہے۔

    جاپانی کابینہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ 65 سالہ وزیراعظم فومیو کیشیدا ایک ہفتے کی بیرون ملک تعطیلات سے واپس لوٹے تھے اور انہیں آج (پیر) سے سرکاری مصروفیات کا آغاز کرنا تھا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ کورونا کے باعث جاپانی وزیراعظم کا متحدہ عرب امارات کا متوقع دورہ بھی ملتوی کردیا گیا ہے-

    کیشیدا اس ماہ کے آخر میں تیونس میں افریقی ترقی سے متعلق کانفرنس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کریں گی بلکہ آن لائن شرکت کریں گی انہوں نےمشرق وسطیٰ کا آئندہ دورہ بھی ملتوی کردیا جس میں کویت، قطراور متحدہ عرب امارات میں سٹاپ شامل ہونا طے تھا۔

    جاپان نے حالیہ ہفتوں میں ابھی تک کوویڈ کیسز میں اپنے سب سے بڑے اضافے کا تجربہ کیا ہے، حالانکہ زیادہ تر آبادی کو ویکسین لگا دی گئی ہے-

    کیشیدا کی اپنی بیرون ملک مصروفیات کا التوا اس وقت ہوا جب ان کی حکومت کو یونیفیکیشن چرچ سے اپنے تعلقات کی جانچ پڑتال اور وبائی امراض کے بارے میں اس کے ردعمل کے درمیان منظوری میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

    حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے چرچ سے روابط، جس کی بنیاد 1950 کی دہائی میں جنوبی کوریا میں رکھی گئی تھی، اس وقت سے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جب سابق وزیر اعظم شنزو ایبے کے قتل کے شبہ میں اس شخص نے مذہبی گروپ پر اپنی والدہ کو دیوالیہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

    ہفتے کے آخر میں مینیچی شمبن کے ذریعہ کئے گئے ایک سروے میں، 36 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہوں نے کیشیدا کی کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ ایک ماہ قبل یہ شرح 52 فیصد تھی کیشیدا نے اپنی حمایت کو تقویت دینے کی کوشش میں اس ماہ کے شروع میں اپنی کابینہ میں ردوبدل کیا، چرچ سے تعلق رکھنے والے کابینہ کے کچھ ارکان کو ہٹا دیا۔

  • شمالی کوریا کے صدر کورونا سے صحتیاب

    شمالی کوریا کے صدر کورونا سے صحتیاب

    شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے کورونا وائرس کے خلاف فتح کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر کم جونگ اُن نے وائرس کے پیش نظر مئی میں لگائی گئی سخت پابندیاں اٹھانے کا حکم دے دیا ہے۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    قبل ازیں شمالی کوریا کے صدر کی بہن نے تصدیق کی تھی کہ کم جونگ ان میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد سے اُن کی حالت تشویشناک ہے ان کی ہمشیرہ نے اجلاس سے خطاب کیا اور بتایا تھا کہ کم جونگ کو بھی بخار کی علامات تھیں۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے کبھی بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد نہیں بتائی لیکن یومیہ بنیادوں پر بخار میں مبتلا شہریوں کی تعداد سے آگاہ کیا 29 جولائی تک شمالی کوریا میں 47 لاکھ 70 ہزار افراد بخار میں مبتلا ہوچکے تھے۔

    صدر کم جونگ نے وائرس پر قابو پانے کا اعلان بدھ کو ایک اجلاس میں کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری عہدیدار ماسک کے بغیر موجود تھے کم یو جونگ نے پڑوسی ملک جنوبی کوریا پر الزام عائد کیا کہ جنوبی کورین حکام شمالی کوریا کے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ کورونا وائرس ہماری وجہ سے پھیل رہا ہے۔

    کم جونگ نے متنبہ کیا کہ اگر جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے خلاف منفی پروپیگنڈا بند نہیں کیا تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا شمالی کوریا میں کورونا کے حالیہ لہر کے دوران جنوبی کوریا نے گیس کے غباروں کے ذریعے منفی پروپیگنڈے کے پمفلٹ سرحد کے اس پار بھیجے تاکہ شمالی کوریا کو بدنام کیا جاسکے-

    امریکی صدرجوبائیڈن پہلی بار کورونا میں مبتلا ہوگئے ہیں:وائٹ ہاوس

  • پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید ایک شخص جاں بحق

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید ایک شخص جاں بحق

    اسلام آباد: پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید ایک شخص جاں بحق ہو گیا-

    باغی ٹی وی : قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں 20 ہزار 800 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں 661 افراد میں کورونا کےمثبت کیسزکی تشخیص ہوئی ملک میں مثبت کیسزکی شرح 3.29 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ 171 افراد کی حالت تشویش نا ک ہے-


    واضح رہے کہ کورونا وائرس کے ایک بار پھر سر اٹھانے پر حکومت کی جانب سے ٹیسنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے-

    دوسری جانب محرم الحرام کا چاند نظر آگیا ہے جس کے پیش نظر قومی ادارہ برائے صحت نے محرم الحرام سے متعلق بھی ہدایات جاری کردی ہیں۔


    ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ کورونا ایس او پیز پر عمل کرنا خود کو کورونا سے محفوظ رکھنے کا ایک واحد طریقہ ہے لہٰذا ماسک پہنیں ، سماجی دوری رکھیں اور ویکسین لگوائیں۔

  • کورونا وائرس کے بعد سے عالمی سطح پر معیادِ زندگی میں کمی،اقوام متحدہ

    کورونا وائرس کے بعد سے عالمی سطح پر معیادِ زندگی میں کمی،اقوام متحدہ

    اقوامِ متحدہ کے مطابق کورونا وائرس کے بعد سے عالمی سطح پر معیادِ زندگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : پیر کو شائع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی دنیا کی آبادی کے متعلق تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2019 کی نسبت 2021 میں عالمی سطح ہر لوگوں کی اوسط عمر میں تقریباً دو سال کمی آئی ہے بولیویا اور روس جیسے دیگر کچھ ممالک میں اوسط عمر میں چار سال سے زیادہ کی ڈرامائی کمی سامنے آئی۔

    کورونا کا پہلا کیس چین میں 2019 کے آخر میں ریکارڈ ہوا، جبکہ باقی دنیا میں یہ انفیکشن 2020 میں پھیلنا شروع ہوا۔تب سے ایک اندازے کے مطابق 67 لاکھ سے زائد افراد وائرس کے سبب ہلاک ہو چکے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 2021 میں عالمی معیادِ زندگی 71 سال تک گِر گئی۔ یہ معیاد 2019 میں 72.8 سال تھی ایسا ہونے کی بڑی وجہ کورونا وائرس ہے کورونا کا معیادِ زندگی پر اثر مختلف خطوں اور مملک میں مختلف ہے بولیوا، بوٹسوانا، لبنان، میکسیکو، عمان اور روس میں 2019 سے 2021 کے درمیان زندگی کے دورانیے میں چار سال سے زائد کی کمی ہوئی۔

    اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق عالمی معیادِ زندگی 2050 تک دوبارہ بڑھ کر 77.2 سال تک ہوجائے گی۔

    دوسری جانب کورونا وائرس اومیکرون کی نئی قسم اس وقت کئی ممالک میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے کورونا کی بی اے 2.75 نامی اس قسم کو سینٹورز کا نام بھی دیا گیا ہے جو سب سے پہلے مئی 2022 کے شروع میں بھارت میں دریافت ہوئی تھی اس کے بعد سے یہ کئی ممالک میں اومیکرون کی ایک اور بہت تیزی سے پھیلنے والی قسم بی اے 5 کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    بی اے 2.75 کو اب تک برطانیہ، امریکا، آسٹریلیا، جرمنی اور کینیڈا سمیت 10 سے زیادہ ممالک میں دریافت کیا جاچکا ہے یورپین سینٹرز فار ڈیزیز پریونٹیشن اینڈ کنٹرول (ای سی ڈی سی) نے اومیکرون کی اس نئی قسم کو انڈر مانیٹرنگ ویرینٹ قرار دیا تھا۔

    برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر اسٹیفن گرافن نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس بہت تیزی سے خود کو بدل رہا ہے اس سے وائرس کی اپنے اسپائیک پروٹین میں تبدیلیاں لانے کی حیرت انگیز صلاحیت کی مثال ملتی ہے-

    ڈاکٹر اسٹیفن گرافن نے کہا کہ اسپائیک پروٹین کو یہ وائرس انسانی خلیات متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور بیشتر ویکسینز میں وائرس کے اسی حصے کو ہدف بنایا گیا ہے پہلے بیشتر افراد ڈیلٹا کو ہی وائرس کا ارتقائی عروج تصور کررہے تھے، مگر اومیکرون کی آمد اور اینٹی باڈیز کے خلاف وائرس کی بڑھتی مزاحمت سے عندیہ ملتا ہے کہ اس وائرس کو انفلوائنزا جیسا سمجھنا ٹھیک نہیں-

    کورونا وبا ختم نہیں ہوئی ہجوم والی جگہوں پر شہری احتیاط کریں ،قومی ادارہ صحت

    امپرئیل کالج لندن کے وائرلوجسٹ ڈاکٹر ٹام پیکاک نے بتایا کہ ابھی اس نئی قسم میں ہونے والی میوٹیشنز کے بارے میں کوئی پیشگوئی کرنا مشکل ہے، یعنی اس سے وائرس کو پھیلنے میں کس حد تک مدد ملے گی ابھی کہنا مشکل ہے۔

    ڈاکٹر ٹام پیکاک نے ہی نومبر 2021 میں سب سے پہلے اومیکرون قسم کو شناخت کیا تھا اور اب ان کا کہنا ہے کہ یہ نئی قسم بی اے 5 کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے بھارت میں یہ نئی قسم بہت تیزی سے پھیل رہی ہے مگر وہاں کا ڈیٹا ابھی بہت زیادہ واضح نہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی کورونا کی اس نئی قسم کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور ادارے کی عہدیدار ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن کے مطابق ابھی بی اے 2.75 کے حوالے سے دستیاب نمونوں کی تعداد ناکافی ہےماہرین نے کہا ہے کہ بی اے 2.75 میں بہت زیادہ تعداد میں میوٹیشنز ہوئی ہیں-

    کینیڈین وزیراعظم کا کورونا ٹیسٹ ایک مرتبہ پھر مثبت آ گیا

  • سری لنکن کرکٹ ٹیم کے مزید 3 کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت

    سری لنکن کرکٹ ٹیم کے مزید 3 کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت

    سری لنکن کرکٹ ٹیم کے مزید 3 کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔

    باغی ٹی وی :” آئی سی سی کرکٹ” کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل سری لنکن کرکٹ ٹیم مشکل میں پڑ گئی۔ سری لنکن ٹیم کے 3 اہم کھلاڑی کورونا کا شکار ہوگئے ہیں کورونا کا شکار کھلاڑیوں میں دھنجایا ڈی سلوا،پیسر آسیتھا فرنینڈو اور جیفری ویندرسے شامل ہیں-

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریزکا انعقاد تین شہروں میں ہونے کا امکان

    کورونا کے باعث تینوں کھلاڑی کل سے گال میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کا حصہ نہیں ہوں گے تینوں کھلاڑی گال میں پہلے ٹیسٹ میں نمایاں تھے۔

    گال میں آسٹریلیا کے خلاف 8 جولائی سے شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ سے قبل سری لنکا کو کووڈ-19 کے مزید تین کیسز نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ7 روز کے دوران سری لنکا کے 5 کرکٹرز کورونا کا شکار ہوئے ہیں اس سے قبل آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران سری لنکن کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر انجیلومیتھیوز کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ جس پر انہیں آئیسولیٹ کر دیا گیا تھا انجیلو میتھیوز کے بعد سری لنکا کے اسپنر پراوین جے وکراما کورونا میں مبتلا ہو ئے تھے۔

    اگرچہ سابق کپتان اینجلو میتھیوز کی واپسی سے ٹیم کو تقویت ملے گی، جو انتخاب کے لیے دستیاب ہوں گے۔ میتھیوز پہلے ٹیسٹ کے دوران کورونا کے مثبت ٹیسٹ کے بعد میچ سے باہر ہو گئے تھے ، ان کے متبادل کے طور پر اوشادا فرنینڈو کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

    اسکواڈ کے دیگر تمام ارکان کا ٹیسٹ منفی آیا ہے اور میزبان ٹیم نے اسپنر لکشن سنداکن کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔

    اسی مقام پر پہلا ٹیسٹ 10 وکٹوں سے ہارنے کے بعد سری لنکا فی الحال دو میچوں کی سیریز میں 1-0 سے پیچھے ہے۔ سیریز میں برابری کرنے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے کچھ اہم پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے ایک فتح ان کے لیے اہم ہوگی۔

    نیوزی لینڈ‌ کرکٹ بورڈ کا مرد اور خواتین کرکٹرز کو برابر معاوضہ دینے کا فیصلہ

  • ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی

    ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی

    ملک بھر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی جبکہ مزید ایک شخص انتقال کرگیا جب کہ 168 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 17 ہزار 150 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 805 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 4 اعشاریہ 69 فیصد رہی جب کہ اب بھی 168 افراد کی حالت خطرے میں ہے۔

    خیال رہے کہ ملک بھر میں یومیہ رپورٹ ہونے والےکورونا کیسز میں صوبہ سندھ سب سے آگے ہے۔