Baaghi TV

Tag: کورونا

  • بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی

    بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی

    نئی دہلی: بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق مسلسل چار دنوں سے کووڈ19 کی تیسری لہر سے گزر رہے ملک میں کورونا وائرس کے دو لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے ایکٹیو کیسز کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے

    اسی دوران ملک میں ہفتہ کے روز 66 لاکھ 21 ہزار 395 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی ی ،اتوار کی صبح 7 بجے تک موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک ارب 56 کروڑ 76 لاکھ 15 ہزار 454 افراد کو کووڈ ویکسین دی جا چکی ہے

    اتوار کی صبح مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ 65 ہزار 404 کووڈ ٹسٹ کیے گئے جن میں دو لاکھ 71 ہزار 202 افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 71 لاکھ 22 ہزار 164 ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کو دو لاکھ 47 ہزار 417، جمعہ کو دو لاکھ 64 ہزار 202 اور ہفتہ کو دو لاکھ 68 ہزار 833 کیسز درج کیے گئے تھے۔

    اس کے ساتھ ہی ایکٹیو کیسز کی تعداد بڑھ کر 15 لاکھ 50 ہزار 377 ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مزید 314 مریضوں کی موت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4,86,066 ہو گئی ہے۔

    دنیا بھر میں کرونا سے متاثرین کی تعداد326,885,054ہو چکی ہے اور اس سے اموات کی تعداد 55 لاکھ چون ہزار سے تجاوز کرچکی ہے

    دنیا بھر میں پھیلی وبا کورونا کے دو نئے علاج کی منظوری دے دی گئی ہے۔برٹش میڈیکل جرنل کے ماہرین کہتے ہیں جوڑوں کے درد کی دوا باریسیٹی نیب (baricitinib) کورٹیکو اسٹیرائیڈز (corticosteroids) کے ساتھ کورونا سے شدید متاثر مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جس سے زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ اور وینٹی لیٹر کی ضرورت کم ہوتی ہے۔

    ماہرین نے کم مدافعت رکھنے والےافراد کے لیے مصنوعی اینٹی باڈی ٹریٹمنٹ سوٹرو ویمیب (Sotrovimab) کی بھی سفارش کی ہے۔

    تاہم ڈبلیو ایچ او کے حکام کا کہنا ہے کہ اومی کرون کے خلاف اس علاج کی تاثیر ابھی تک غیر یقینی ہے

  • سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری

    سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری

    کراچی :سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری ،اطلاعات کے مطابق سمیت سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر عوامی مقامات پرماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں سندھ اور بالخصوص کراچی میں کورونا کی بڑھتی ہوئی شرح کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں صوبے بھر میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ عوامی مقامات پر ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت تمام شادی ہالز، مارکیٹس اور عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہوگا، اس کے علاوہ شادی کی تقریبات میں کھانا ڈبوں میں فراہم کیا جائے گا۔

    مارکیٹس میں ویکسین شدہ افراد کے داخلے کی اجازت ہوگی اور انتظامیہ کو ویکسی نیشن کارڈ کا ریکارڈ چیک کرانا لازمی ہوگا۔

    حکومت نے ویکسی نیشن مہم پورے صوبے میں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔اس کے علاوہ ریسٹورینٹس پر نگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جو ریسٹورینٹس ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز میں اضافہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے کا نتیجہ ہے، عوام تعاون کریں گے تو اس جاری کورونا لہر پر بھی کنٹرول ہوجائے گا۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ دنوں بعد دوبارہ ٹاسک فورس اجلاس ہوگا جس میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

  • پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگے

    پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگے

    اسلام آباد :پاکستان میں کورونا سے اموات 29 ہزار سے تجاوز کر گئیں:نئی لہرکے پھرخطرات منڈلانے لگےاطلاعات کے مطابق پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4 افراد انتقال کر گئے اور 4286 نئے مریض بھی سامنے آئے۔

    پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 52522 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 4286 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 4 افراد انتقال کر گئے۔

    سرکاری پورٹل کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 8.16 فیصد رہی۔

    ادھر این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 29003 ہو چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ 20 ہزار 120 تک پہنچ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2598 افراد کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کی تعداد 12 لاکھ 63 ہزار 5 ہو گئی ہے۔

    ادھر کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی مثبت شرح 35 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔وفاقی حکام کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز 8063 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 2846 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

    حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر قائد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 35.30 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں کورونا کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں مجموعی طور پر کورونا سے 4 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 4286 افراد میں وبا کی تصدیق ہوئی جبکہ کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.16 فیصد رہی۔

  • 12 سال سے بڑے بچوں کی کوورنا ویکسی نیشن نہ کرانے والے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ

    12 سال سے بڑے بچوں کی کوورنا ویکسی نیشن نہ کرانے والے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ

    کراچی :12 سال سے بڑے بچوں کی کوورنا ویکسی نیشن نہ کرانے والے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں کورونا کی تشویشناک صورتحال پر اہم اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    دوسری جانب کراچی میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے کمشنر کراچی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق متعدد فیصلے کیے گئے۔

    ترجمان کمشنر کے مطابق اجلاس میں شادی ہالز میں کورونا ایس او پیز مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 1000 سے زائد مہمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔کمشنر کراچی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بازاروں، ہوٹلوں اور شاپنگ مالز میں ماسک کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اس کے علاوہ اسکولوں میں 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کی ویکسی نشن مکمل کرنے کا فیصلہ بھی ہوا اور کہا گیا کہ تعاون نہ کرنے والے اسکولوں کو بند کر دیا جائے گا۔

    ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی مثبت شرح 35 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

    وفاقی حکام کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز 8063 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 2846 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر قائد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 35.30 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں کورونا کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں مجموعی طور پر کورونا سے 4 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 4286 افراد میں وبا کی تصدیق ہوئی جبکہ کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.16 فیصد رہی۔

  • اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    تل ابیب :اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے ،اطلاعات کے مطابق رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں کووڈ 19 کے ویرئنٹ اومی کرون کی جدید شکل کے 20 مریض پائے گئے ہیں۔ اس نئے ویرئنٹ کو ” بی اے ٹو” کا نام دیا گیا ہے۔

    ریسرچرزکا کہنا ہے کہ کووڈ 19” بی اے ٹو” وائرس میں اورجنل اومیکرون کی نسبت زیادہ میوٹیشنز پائی گئی ہیں اور یہ ممکنہ طور پر زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔ تاہم اسرائیل کی وزارت صحت کاکہنا ہے کہ ابھی اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ” بی اے ٹو” ویرئنٹ کورونا وائرس کی مہلک شکل ہے۔

    جے پوسٹ کے مطابق ” بی اے ٹو” کا سب سے پہلے چین میں انکشاف ہوا تھا جہاں یہ ممکنہ طور پر بھارت سے آیا تھا۔ یاد رہے گذشتہ دس دنوں سے اسرائیل میں روزانہ 12 ہزار سے 48 ہزار کوروناکے مریض سامنے آرہے ہیں جبکہ خطرناک حالت کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے۔

    اسرائیلی محکمہ صحت کے حکام کا کہناہے کہ کورونا کی پہلی، دوسری اور تیسری لہروں کے مقابلے میں موجودہ لہر سے متاثرہ مریضوں کی حالت بہتر ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اسرائیل میں کرونا وائرس نے ایک اور شکل اختیار کر لی ہے جو کووِڈ نائٹین اور عام فلو کے وائرس کے امتزاج سے چند دن قبل سامنے آئی تھی

    تفصیلات کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب دنیا کرونا کی مختلف اقسام ڈیلٹا اور اومیکرون سے نبرد آزما ہے، اسرائیل میں کرونا وائرس اور فلو انفیکشن کے پہلے مشترکہ ‘فلورونا’ کیس کی تصدیق ہوئی ۔

    ڈیلٹا اور اومیکرون کے امتزاج کو ‘ڈیلمیکرون’ کہا جاتا ہے، اس کے کیسز بھی اسرائیل میں سامنے آئے، جب کہ اسرائیل میں سامنے آنے والے کرونا وائرس اور فلو انفیکشن کے امتزاج کو ‘فلورونا’ کا نام دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پہلا ‘فلورونا’ وائرس ایک خاتون میں پایا گیا، جس نے حال ہی میں وسطی اسرائیل کے شہر پیتاہ تکوا کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نوجوان خاتون کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی اور اسپتال کی رپورٹس میں فلو اور کرونا وائرس دونوں پیتھوجینز کی مشترکہ موجودگی کا پتا چلا تھا۔خاتون میں بیماری کی نسبتاً ہلکی علامات ہیں اور اسے جلد ہی ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

  • بھار ت میں کورونا وائرس سے دوسری لہر جیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کا خدشہ:اقوام متحدہ

    بھار ت میں کورونا وائرس سے دوسری لہر جیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کا خدشہ:اقوام متحدہ

    نئی دلی:بھارت میں کورونا وائرس سے دوسری لہرجیسی تباہی اوربڑے پیمانےپراموات کاخدشہ،اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ نے بھارت کیلئے کورونا وائرس کے حوالے سے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کی مہلک قسم اومی کرون تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے وبا کی دوسری لہر جیسی تباہی اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کی عالمی اقتصادی صورتحال اور امکانات کے بارے میں ڈبلیو ای ایس پی2022 رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھار ت میں کورونا کی دوسری لہر یعنی ڈیلٹا ویرینٹ کی وجہ سے اپریل سے جون کے درمیان دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور معیشت کی بحالی شدید متاثر ہوئی تھی۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت میںاومی کرون تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے آنے والے وقت میں جلد ہی پھر سے ویسی ہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھار ت میںگزشتہ سال اپریل سے جون تک مہلک ڈیلٹا ویرینٹ کی لہر کے دوران 2لاکھ 40ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارت کو اومیکرون کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے کورونا کی تیسری لہر کا سامنا ہے۔بھارت میں کورونا کی دوسری لہر نے بڑے پیمانے پرتباہی مچائی تھی اور انفیکشن اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اس کی وجہ سے ملک کا نظام صحت بھی درہم برہم ہو گیا تھا۔

    رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے انفیکشن کی نئی لہریں پیدا ہو رہی ہیں اور معیشتوں پر اس کے اثرات میں اضافہ ہونا طے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کے پھیلا ئوکو روکنے کیلئے لوگوں کی ویکسین تک رسائی سمیت عالمی نقطہ نظر نہ اپنایا گیا تو یہ وبا پوری دنیا کی معیشت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے اور جنوبی ایشیا کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم

    کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم

    لندن:کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم،اطلاعات کےمطابق اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس سیزن کے وائرل فلو کی طرح COVID-19 کو ایک عام بیماری قرار دیتےہوئے اس کے حوالے سے یورپین برادری کی ایک متفقہ رائے لینے کے لیے رابطے شروع کردیئے ہیں‌

    "صورتحال وہ نہیں ہے جس کا ہم نے ایک سال پہلے سامنا کیا تھا،” سانچیز نے اسپین کے کیڈینا ایس ای آر کے ساتھ ایک ریڈیو میٹنگ میں کہا۔ "میرے خیال میں ہمیں اب تک جس وبائی بیماری کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے ہمیں COVID کے ارتقاء کا ایک مقامی بیماری کی طرف جائزہ لینا ہوگا۔”

    ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات اٹھانے سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کورونا اب وبائی مرض نہیں بلکہ موسمیاتی اور عارضی بیماری کے طور پردیکھا جائے گا، جیسا کہ یہ اس وقت موسمی انفلوئنزا کا سراغ لگاتا ہے،

    اسپین کی طرف سے دباؤ اسی طرح یوروپی ممالک کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو اس بیماری میں بُری طرح مبتلاہیں‌ ، جیسا کہ جرمنی جو ایک شدید حفاظتی ٹیکوں کا آرڈر پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ، اور فرانس ، جہاں صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ انہیں غیر ویکسین شدہ افراد کو "پریشان” کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ ویکسین لگوا کر دوسروں کے لیے مسائل پیدا کرنے سے دور رہیں‌

    اسپین کی اس تنظیم کی طرف سے کیے گئے اقدامات اس فریم ورک اس کی عکاسی کرتا ہے جو ملک میں انفلوئنزا کے بھڑک اٹھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بیماری کی لہروں کا اندازہ لگانے اور ان پر رد عمل ظاہر کرنے کے لیے منتخب ماہرین سے ٹیسٹ کی معلومات کا استعمال کرتا ہے

    اسپینی حکام کا کہنا ہے کہ اس کو فلو کی حیثیت سے ڈیل کیا جائے گا اور ملک میں جو سخت پابندیاں ہیں ان کو ختم کردیا جائے گا تاکہ عوام الناس آزادانہ چل پھر سکیں اور اس سلسلے میں ماسک کی پابندی کو بالکل ختم کردیا جائے گا لیکن اس کےلیے پہلے یورپین ممالک کے ساتھ مشاورت ضروری ہے

  • خواجہ معین الدین چشتیؒ  کے سالانہ عرس کی تقریب کورونا ہدایات کے مطابق ہو گی

    خواجہ معین الدین چشتیؒ کے سالانہ عرس کی تقریب کورونا ہدایات کے مطابق ہو گی

    اجمیرشریف: اجمیر انتظامیہ کے مطابق خواجہ معین الدین چشتی (رح) کا 810 واں سالانہ عرس ریاستی حکومت کی کورونا ہدایات کے مطابق منعقد کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اجمیر کے ضلع کلکٹر پرکاش راج پروہت نے درگاہ شریف سے متعلق انتظامیہ کے ساتھ گزشتہ روز میٹنگ میں واضح کیا کہ ریاست اور اجمیر میں پھیل رہے کورونا انفیکشن کی وجہ سے عرس کا انعقاد صرف اور صرف ریاستی حکومت کے کورونا قوانین کے تحت کیا جائے گا-

    لتا منگیشکرمیں کورونا کے بعد نمونیا کی تشخیص

    انہوں نے کہا کہ کورونا کی نئی ہدایات کے تحت ضلع انتظامیہ نے ہفتہ وار نائٹ کرفیو اور دیگر مجبوریوں کے پیش نظر فی الحال کوئی تیاری نہیں کی کورونا کے مدنظرخواجہ غریب نواز کے 810 ویں سالانہ عرس میں ریاستی حکومت کی رہنما ہدایات کی پوری طرح پاسداری کی جائے گی اور اجمیر ضلع انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول…

    خواجہ غریب نوازؒ کے 810 ویں سالانہ عرس کے انتظامات کے موضوع پر درگاہ کمیٹی کی ورچول میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ ہوا کہ خواجہ کے عرس میں مذہبی رسومات کو پورا کیا جائے گا۔

    برصغیر پاک وہند کے معروف صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے والد کا اسم گرامی غیاث الدین حسنؒ اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ ام الورع ؒبی بی تھا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی شادی 590ہجری 1194ء کو بی بی امت ؒکے ساتھ ہوئی ، آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی آپ کے پیرو مرشد حضرت خواجہ شیخ عثمان ہارونی ؒ سے آپ کو بہت محبت اور عقیدت تھی ، اس کی محبت اور عیقدت کو دیکھ کر خواجہ عثمان ہارونی ؒ نے آپ کو (امیر تبرک) کے شرف سے نوازا، اور آپ کو اپنا سجادہ نشین مقرر فرمایا۔

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے…

    آپؒ بیس سال تک سفر وحضر میں حضرت خواجہ عثمان ہارونی ؒ کی خدمت میں حاضر رہ کر مرشد پاک کے ہاتھوں خلافت کے منصب پر سرفراز ہوئے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی پرتھوی راج کے دور حکومت میں اجمیر (ہندوستان) میں تشریف لائے جہاں اس وقت پتھورا رائے اس علاقے کا حکمران تھا۔اجمیرشریف تشریف لانے کے بعد آپ عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔

    بچ جاو:بچالو:احتیاط اپنالو:اومیکرون نہیں چھوڑے گا: بوسٹر شاٹ بھی نہیں بچا پائےگا:ڈاکٹروں کی…

  • بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ:توپھرہوگا کیا؟اس کے متعلق بھی تفصیلات آگئیں

    بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ:توپھرہوگا کیا؟اس کے متعلق بھی تفصیلات آگئیں

    اسلام آباد:بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ:توپھرہوگا کیا؟اس کے متعلق بھی تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سنٹرل قرنطینہ پالیسی منسوخ کردی گئی ہے۔

    بیرون ملک سے پاکستان پہنچنے والے کرونا پازیٹو افراد کیلئے نئی ہدایات تیار کرلی گئی ہیں جس کے مطابق چاروں صوبوں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سے پہنچنے والے کورونا پازیٹو مسافر گھر پر قرنطینہ کریں گے ۔

    ہدایات کے مطابق بیرون ملک سے آئے کورونا پازیٹو مسافر گھر پر 10 روز قرنطینہ کریں گے جبکہ سرکاری قرنطینہ سنٹرز میں موجود مسافروں کو گھر منتقل کیا جائے گا ۔

    اُدھر پاکستان میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر وفاقی وزارت تعلیم نے صوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں سکولوں کی بندش کا جائزہ لیا جائے گا۔

    وفاقی وزارت تعلیم کے نوٹی فیکیشن کے مطابق صوبائی وزرائے تعلیم کے ساتھ کانفرنس 11 بجے ہوگی، جس میں کورونا وائرس کے پیش نظر سکولوں کی ممکنہ بندش سے متعلق صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو مختلف امور پر بریفنگ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کا اومی کرون ویریئنٹ پاکستان میں تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا ہے، مثبت کیسز کی شرح 1.8 فیصد ہو گئی ہے۔ اومی کرون کے حوالے سے اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہ زیادہ مہلک نہیں ہے۔

    انہوں نے پاکستانی عوام پر زور دیا تھا کہ اگر کسی وجہ سے ویکسین نہیں لگوائی تو فوری طور پر لگوائیں۔ پاکستان میں بھی شواہد ملے ہیں کہ 12، 14 اور 15 سال کے بچوں میں بھی اومی کرون پایا گیا ہے۔

    دوسری جانب ملک میں کورونا تیزی سے بڑھنے لگا، مہلک وائرس کی شرح پانچ ماہ بعد 4.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ کورونا وائرس سے 13 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 28 ہزار 987 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 9 ہزار 248 ہوگئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو ہزار 74 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 4 لاکھ 48 ہزار 924، سندھ میں 4 لاکھ 90 ہزار 10، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 81 ہزار 842، بلوچستان میں 33 ہزار 664، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 433، اسلام آباد میں ایک لاکھ 9 ہزار 660 جبکہ آزاد کشمیر میں 34 ہزار 715 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک 2 کروڑ 39 لاکھ 35 ہزار 232 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 44 ہزار 120 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 12 لاکھ 59 ہزار 699 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 628 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 13 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 28 ہزار 974 ہوگئی۔ پنجاب میں 13 ہزار 83، سندھ میں 7 ہزار 691، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 945، اسلام آباد میں 967، بلوچستان میں 367، گلگت بلتستان میں 186 اور آزاد کشمیر میں 748 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

  • بچ جاو:بچالو:احتیاط اپنالو:اومیکرون نہیں چھوڑے گا:    بوسٹر شاٹ بھی نہیں بچا پائےگا:ڈاکٹروں کی وارننگ

    بچ جاو:بچالو:احتیاط اپنالو:اومیکرون نہیں چھوڑے گا: بوسٹر شاٹ بھی نہیں بچا پائےگا:ڈاکٹروں کی وارننگ

    بیجنگ :بچ جاو:بچالو:احتیاط اپنالو:ورنہ اومیکرون کسی کو نہیں چھوڑے گا:بوسٹر شاٹ بھی نہیں بچا پائے گا’:ڈاکٹروں کی وارننگ ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ اس کی نئی قسم اومیکرون کے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

    ایک طرف جہاں اومیکرون سے بچاو کے لیے حکومتیں بوسٹر شاٹس لگانے پر زور دے رہی ہیں تو وہیں ایک اعلیٰ طبی ماہ نے دنیا کے لیے خطرے کی انتباہی گھنٹی بجا دی ہے۔

    انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولاجی میں سائنٹیفک ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر جے پرکاش مولائل کا کہنا ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ کو روکا نہیں جا سکتا، تقریباً ہر کوئی اس سے لازمی متاثر ہوگا۔

    ڈاکٹر جے پرکاش نے دعویٰ کیا کہ کورونا ویکسین کی بوسٹر خوراک یا احتیاطی خوراک بھی اس پر کام نہیں کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ اومیکرون خود کو زکام کے طور پر پیش کر رہا ہے۔مولائل نے اومیکرون انفیکشن کے بارے میں کئی چونکا دینے والے دعوے کیے ہیں۔

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب کووڈ 19 کوئی خوفناک بیماری نہیں ہے کیونکہ کورونا کا نیا ویریئنٹ بہت ہلکا ہے۔ اس سے اسپتال میں داخل ہونے کے نوبت بھی کم آرہی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ اومیکرون ایک ایسی بیماری ہے جس سے ہم نمٹ سکتے ہیں۔ ہم میں سے 80 فیصد لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ ہم اس سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انفیکشن کے ذریعے قدرتی طور پر حاصل کی گئی قوت مدافعت زندگی بھر رہ سکتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین آنے سے پہلے ہی بھارت کی 85 فیصد آبادی کورونا سے متاثر ہو چکی تھی۔ ایسی صورتحال میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک نے بوسٹر ڈوز کا کام کیا۔

    ڈاکٹر جے پرکاش نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ خیال کیا جاتا ہے قدرتی طور پر ہونے والا انفیکشن مستقل طور پر امیونٹی نہیں دیتا، لیکن میں مانتا ہوں کہ یہ غلط ہے۔

    ڈاکٹر جے پرکاش مولائل نے کہا کہ صرف دو دنوں میں کورونا وائرس کا پھیلاو دوگنا ہو رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں جب تک کورونا ٹیسٹ سے اس کے بارے میں پتہ چلے گا، متاثرہ شخص پہلے ہی بہت سے لوگوں کو متاثر کر چکا ہوگا۔

    لاک ڈاؤن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم زیادہ دیر تک گھر میں بند نہیں رہ سکتے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈیلٹا ویرئنٹ کے مقابلے اومیکرون کافی ہلکا ہے۔