Baaghi TV

Tag: کورونا

  • کورونا کا پھیلاؤ: بغیر ماسک مویشی منڈیوں میں داخلے پر پابندی عائد

    کورونا کا پھیلاؤ: بغیر ماسک مویشی منڈیوں میں داخلے پر پابندی عائد

    لاہور: بغیر ماسک مویشی منڈیوں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں کورونا کے پھیلا ؤ کے پیش نظر ماسک کے استعمال کی پابندی سخت کر دی گئی پنجاب بھر میں بغیر ماسک مویشی منڈی میں داخلے پر پانبدی عائد کر دی گئی ہے-

    سیکرٹری صحت پنجاب علی جان خان کا کہنا ہے کہ مویشی منڈیوں میں داخلے کے لئے ماسک پہننا لازم ہے۔مویشی منڈیوں کی انتظامیہ بیوپاریوں اور خریداروں کے لیے ماسک کا استعمال اور سینیٹائزر کی فراہمی یقینی بنائیں۔

    سیکرٹری صحت کا کہنا ہے کہ تمام شہری عوامی مقامات، دفاتر، پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہننے کے پابند ہوں گے۔عوام الناس سے درخواست ہے کہ عید الاضحی کے موقع پر سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں کورونا، بخار وغیرہ کی علامات کے ساتھ لوگ اجتماع میں شرکت نہ کریں-

    قبل ازیں ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث این سی او سی نے عید الاضحٰی کے لیے گائیڈ لائن جاری کردی ہے این سی اوسی کا کہنا ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز کھلی جگہوں پر ادا کی جائے۔اجتماعات مسجد کے بجائے کھلے میدانوں میں منعقد کیے جائیں۔

    کورونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اپنا ضروری ہیں۔نماز عید کے اجتماع ایک ہی جگہ پر رکھنے کے بجائے دو یا تین جگہوں پرکیے جائیں این سی اوسی نے علمائے کرام سینیٹائزر کے استعمال کی تلقین کرنے اور نماز کے خطبہ مختصر رکھنے کی ہدایت کی ہے-

  • کورونا کے کیسزمیں تیزی سے اضافہ:سرکاری دفاتر کے لئے کرونا ایس او پیز جاری

    کورونا کے کیسزمیں تیزی سے اضافہ:سرکاری دفاتر کے لئے کرونا ایس او پیز جاری

    اسلام آباد:کورونا کے کیسزمیں تیزی سے اضافہ:سرکاری دفاتر کے لئے کرونا ایس او پیز جاری،اطلاعات کے مطابق این سی او سی کی جانب سے سرکاری دفاتر کے لئے کرونا ایس او پیز جاری کردئیے گئے ہیں۔

    این سی او سی کےمطابق سرکاری دفاترمیں کام کرنے والے تمام اسٹاف کو کرونا ایس او پیز کے حوالے سے آگاہی دی جائے گی۔تمام اسٹاف اپنےعلاوہ اپنے اہل خانہ کو بھی ایس او پیز پرعمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔اس کے علاوہ دفاتر میں ماسک کا استمعال لازمی اورسماجی فیصلہ برقرار رکھا جائے گا۔دوران نماز سماجی فیصلہ کو یقینی بنایا جائے گا اور دفاتر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سینی ٹائز استعمال کیا جائے گا۔

    یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ دفاتر کی انتظامیہ اس بات کا خاص خیال رکھے گی کہ تمام اسٹاف ویکسین شدہ ہوں۔این سی او سی نے کہا ہے کہ سرکاری دفاتر میں مصافحہ کرنے سےگریز کیا جائے اور عمارت کے داخلی راستے میں تمام اسٹاف کا درجہ حرارت چیک کیا جائے گا۔کوئی بھی علامت ظاہر ہونے پر کسی اسٹاف کو دفاترمیں داخلے کی اجازت نہ دی جائے گی اور ماسک کے بغیر اندر جانا ممنوع ہوگا۔

     

    کسی بھی اسٹاف میں کھانسی،نزلہ اور بخارکی علامات ظاہر ہونے پر رپورٹ کیا جائے اور فوری کرونا کے تمام ٹیسٹ کروائے جائیں۔کرونا سے متاثرہ کسی بھی شخص کا دفتر واپس آنے سے قبل کرونا پی سی آر ٹیسٹ نیگٹو آنا لازمی ہوگا۔

    ادھرکورونا کے وار دوبارہ تیزی سے بڑھنے لگے ہیں، پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 2 افراد چل بسے جبکہ مثبت کیسز کی شرح 3.41 فیصد ریکارڈ کی گئی۔قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 18 ہزار 813 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 641 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کی شرح 3.41 فیصد رہی اور 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق عالمی وباء کورونا وائرس میں مبتلا 119 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ادھر کوئٹہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 6 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، بلوچستان میں کورونا واٸرس کے پھیلاؤ کی شرح 2.71 ہو گئی۔

    محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 35 ہزار 546 ہو گئی، اب تک 15 لاکھ 39 ہزار 545 افراد کی سکریننگ میں سے 5 لاکھ 14 ہزار 760 کی رپورٹس منفی آئی ہیں۔35 ہزار 141 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں، بلوچستان میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 27 ہے، وائرس سے جاں بحق ہونے والوں تعداد 378 ہے۔

  • 110 سے زائد ممالک مین کورونا پھرتیزی سے پھیلنے لگا ہے:سخت احتیاط کی ضرورت ہے:عالمی ادارہ صحت

    110 سے زائد ممالک مین کورونا پھرتیزی سے پھیلنے لگا ہے:سخت احتیاط کی ضرورت ہے:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک:دنیا میں کورونا وائرس نے مختلف شکلوں کی صورت میں پھرسراٹھا لیا ہے ، اسی سلسلے میں خبردار کرتےہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 110 ممالک میں COVID-19 کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جو وائرس کی BA.4 اور BA.5 مختلف شکلوں سے چل رہے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریئس نے جنیوا میں ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں اس کا انکشاف کیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ مختلف حالتوں میں مجموعی طور پر 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔دنیا کے چھ میں سے تین خطوں میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    انہوں نے صحافیوں کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی شخصیت مجموعی طور پر "نسبتاً مستحکم” ہے، لیکن کسی کو بھی اس وہم میں نہیں رہنا چاہیے کہ کورونا وائرس ختم ہونے والا ہے۔”یہ وبائی بیماری بدل رہی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہم نے ترقی کی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوا ہے۔”

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ "صرف حکومتوں، بین الاقوامی ایجنسیوں اور پرائیویٹ سیکٹر کے ٹھوس اقدامات سے ہی ہم بدلتے ہوئے چیلنجوں کو حل کر سکتے ہیں۔”انہوں نے متنبہ کیا کہ وائرس کو ٹریک کرنے کی ہماری صلاحیت خطرے میں ہے کیونکہ رپورٹنگ اور جینومک سیکونسز کم ہو رہے ہیں۔

    تمام ممالک کے لیے اپنی کم از کم 70 فیصد آبادی کو ویکسین پلانے کے لیے پرامید سال کی آخری تاریخ کا امکان کم نظر آرہا ہے، کم آمدنی والے ممالک میں اوسط شرح 13 فیصد ہے۔ گزشتہ 18 مہینوں میں، دنیا بھر میں 12 بلین سے زیادہ ویکسین تقسیم کی جا چکی ہیں، اور دنیا کے 75 فیصد ہیلتھ ورکرز اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو اب ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

    انہوں نے تمام خطرے والے گروپوں سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد ویکسین لگائی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔”عام آبادی کے لیے، قوت مدافعت کی اس دیوار کو مضبوط بناتے رہنا بھی سمجھ میں آتا ہے، جس سے بیماری کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور طویل یا بعد میں کووِڈ کی حالت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 70 فیصد کوریج کا ہدف اب بھی مطلوبہ ہے، اس اصول کی بنیاد پر کہ اگر ہم ویکسین کو مساوی طور پر شیئر نہیں کرتے ہیں، تو ہم اس فلسفے کو کم کرتے ہیں کہ تمام زندگیاں برابر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایجنسی کے سولیڈیریٹی ٹرائلز کے ذریعے نئی ویکسین کی عالمی سطح پر آزمائشیں ہو سکتی ہیں تاکہ ان کی حفاظت اور افادیت کو تیزی سے قائم کیا جا سکے۔”اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری محکمہ صحت کے لیے ٹیسٹ اور اینٹی وائرل کو کلینکل کیئر میں ضم کریں، تاکہ جو لوگ بیمار ہیں ان کا جلد علاج کیا جا سکے۔

  • سنگاپورمیں مہنگائی 13 سال میں بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

    سنگاپورمیں مہنگائی 13 سال میں بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

    سنگاپور:سنگاپورمیں مہنگائی 13 سال میں بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ،سنگاپورمیں معاشی درجہ بندی نوٹ کرنے والے اداروں نے خبردارکیا ہےکہ مئی میں سنگاپور کی بنیادی افراط زر 13 سال سے زائد عرصے میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جس کی وجہ خوراک اور استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جس میں رہائش اور نجی نقل و حمل کے اخراجات شامل ہیں، مئی میں سال بہ سال 3.6 فیصد ،جو کہ اپریل میں 3.3 فیصد کے پچھلے 10 سال کی بلند ترین سطح سے زیادہ ہے، جمعرات (23 جون) کو جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوا .

    آخری بار سنگاپور نے دسمبر 2008 میں سال بہ سال زیادہ ترقی کی اطلاع دی تھی، جب بنیادی افراط زر 4.2 فیصد تھا۔ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انڈیکس، یا مجموعی افراط زر، مئی میں سال بہ سال 5.6 فیصد تک بڑھ گیا، جو اپریل اور مارچ دونوں میں رپورٹ کردہ 5.4 فیصد سے زیادہ ہے۔

    سنگاپور کی مانیٹری اتھارٹی (MAS) اور وزارت تجارت و صنعت (MTI) نے ایک مشترکہ میڈیا ریلیز میں کہا کہ خوراک کی مہنگائی اپریل میں 4.1 فیصد کے مقابلے مئی میں 4.5 فیصد تک پہنچ گئی، کیونکہ خوراک کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ .

    خوردہ اور دیگر اشیا کی مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا، جو کہ مئی میں 1.8 فیصد پر آ گیا جو کہ اپریل میں 1.6 فیصد تھا، کیونکہ کپڑے اور جوتے، ذاتی اثرات اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ایسے ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مئی میں افراط زر کی شرح 19.9 فیصد تھی جو اپریل میں 19.7 فیصد تھی۔

    خدمات کی افراط زر بھی اپریل میں 2.5 فیصد سے تھوڑا سا بڑھ کر 2.6 فیصد ہو گئی، چھٹیوں کے اخراجات اور پوائنٹ ٹو پوائنٹ ٹرانسپورٹ سروسز کے اخراجات میں تیز رفتار اضافے کی وجہ سے۔

    مکانات کے کرایوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے رہائش کی افراط زر مئی میں 0.1 فیصد بڑھ کر 4 فیصد تک پہنچ گئی۔ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی افراط زر اپریل میں 18.3 فیصد سے بڑھ کر 18.5 فیصد ہو گئی، عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں کے مقابلہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ عالمی سطح پر اجناس کی بلند قیمتوں کے ساتھ ساتھ روس-یوکرین تنازعہ اور علاقائی COVID-19 دونوں کی وجہ سے جاری سپلائی چین رگڑ کے درمیان بیرونی افراط زر کا دباؤ بدستور مضبوط ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "قریب قریب میں، بڑھے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات اور سخت سپلائی کے حالات خام تیل کی قیمتوں کو بلند رکھیں گے۔””دیگر اجناس کی قیمتیں، جیسے کہ خوراک، کی سپلائی اور ڈیمانڈ میں مماثلت کے ساتھ ساتھ عالمی نقل و حمل اور علاقائی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے درمیان بھی بلند رہنے کی توقع ہے۔”

    گھریلو محاذ پر، لیبر مارکیٹ کے "تنگ رہنے کی توقع ہے، جو اجرت میں اضافے کی مضبوط رفتار کو سپورٹ کرے گی”۔MAS اور MTI نے کہا، "مطالبہ کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ، صارفین کی قیمتوں میں کاروباری لاگت کو جمع کرنے کا ایک بڑا پاس تھرو ہونے کا امکان ہے، اس طرح بنیادی افراط زر کو سال بھر کے دوران اس کی تاریخی اوسط سے نمایاں طور پر اوپر رکھا جائے گا،”

    MAS اور MTI نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں بنیادی افراط زر میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، اگرچہ یہ سال کے آخر تک معتدل رہنے کی توقع ہے کیونکہ "بعض بیرونی افراط زر کے دباؤ میں کمی آئی”۔ "نجی نقل و حمل اور رہائش کی افراط زر کے قریب مدت میں مستحکم رہنے کی توقع کے ساتھ، ہیڈ لائن افراط زر میں اس سال بنیادی افراط زر سے زیادہ اضافہ ہوگا۔”

  • کورونا وائرس سے نمٹنے صورتحال کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے:عبدالقادر پٹیل

    کورونا وائرس سے نمٹنے صورتحال کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے:عبدالقادر پٹیل

    اسلام آباد:کورونا وائرس سے نمٹنے صورتحال کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے،ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاو کیلئے بھر پور عملی اقدامات کیے جارہے ہیں،ان کا کہنا تھاکہ کورونا کی تازہ ترین صورت حال سےہرلمحے باخبر ہیں اوراحتیاطی تدابیر اختیارکرنےکے حوالے سے ایس او پیز تیارکررہےہیں

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے این سی او سی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ادارے کی کارکردگی سے متاثر ہیں اور اس ٹارگٹ کے حصول پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کورونا کی پھر سے آنےوالی لہر سے بچنے کےلیے صورت حال کی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگرملکوں کی طرح پاکستان میں بھی پچھلے چند دنوں میں کورونا کیسز میں معمولی اضافہ ہوا ہے،
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کی 85 فی صد اہل آبادی کی ویکسی نیشن مکمل ہو چکی ہے،اجلاس میں ملک بھر میں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا گیا

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ تعاون کیلئے شانہ بشانہ کھڑی ہے ،ملک بھر میں ویکسینیشن اور ٹیسٹنگ نظام کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے، عبدالقادر پٹیل نے مزید کہا کہ وفاق اور صوبے مل کرکورونا سے بچاو کیلئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں،

    این سی او سی کے اس اہم اجلاس میں عبدالقادر پٹیل کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی، اس اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کی

    یاد رہےکہ دنیا بھر کی طرف پاکستان میں بھی کورونا کیسز میں اضافہ شروع ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں حفاظتی اقدامات بھی تیز کردیئے گئے ہیں،پاکستان کے ہمسائے ممالک چین ، افغانستان ، ایران اوربھارت میں کورونا کیسز میں بڑھتے ہوئے اضافے نے پاکستان کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے اس لہر سے نمٹنے کیےلیے حفاظتی اقدامات تیز کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں‌

  • دنیا میں کوروناپھرسراٹھانےلگا:بھارت میں 24 گھنٹوں میں‌ 12ہزارسےزائدکورونا کیسز

    دنیا میں کوروناپھرسراٹھانےلگا:بھارت میں 24 گھنٹوں میں‌ 12ہزارسےزائدکورونا کیسز

    نئی دہلی :دنیا بھر میں کورونا نے پھر سے تباہیاں مچانی شروع کردی ہیں ، اوراب تو اپنے ماضی کی طرح بڑی تیزی سے حملہ آور ہورہا ہے ، پاکستان کے ہمسائے میں بھارت میں ایک دن میں کورونا وائرس کے تقریباً 13 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے ملک میں وائرس کی زد میں آنے والے افراد کی مجموعی تعداد 4 کروڑ 32 لاکھ 70 ہزار 577 ہوگئی ہے۔

    پاکستان کے دورے پر موجود جرمن وزیرخارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    بھارت کی وفاقی وزارت صحت سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں لگاتار دوسرے دن 12 ہزار سے زائد کووڈ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں گزشتہ روز 12 ہزار 213 اور آج 12 ہزار 847 نئے کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔پڑوسی ملک میں یومیہ مثبت کیسز کی شرح 2.47 فیصد ہے جبکہ ہفتہ وار مثبت کیسز کی شرح2.41 فیصد ہے۔

    بھارت میں جمعرات کی صبح سے اب تک 14 افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 24 ہزار 817 ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک میں 7 ہزار 985 افراد صحتیاب بھی ہوئے۔

    اس وقت بھارت میں 63 ہزار سے زائد فعال کیسز موجود ہیں اور 24 گھنٹے کے دوران فعال کیسز کی تعداد میں 4 ہزار 848 کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔

    اس دوران سب سے زیادہ متاثر دارالحکومت نئی دہلی ہوا ہے جہاں گزشتہ 10 دن کے دوران 7 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے اور 15 جون تک مثبت کیسز کی شرح بھی 7 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ملک میں بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود محکمہ صحت کے حکام نے وائرس کی ایک اور لہر کے امکانات کو مسترد کردیا ہے۔

  • موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

    واشنگٹن :موڈرنا کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین سے دل کے ورم  جیسے مضر اثر کا خطرہ فائرر۔ بائیو این ٹیک ویکسین کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے۔یہ بات امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) نے حالیہ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتائی۔مگر امریکی ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں ویکسینز کے استعمال کے بعد جوان افراد میں دل کے ورم کی مختف اقسام پیری کارڈائی ٹس (دل کی جھلی کے ورم) اور مائیو کار ڈائی ٹس (دل کے پٹھوں کا ورم) کی شرح امریکا بھر میں زیادہ دریافت نہیں ہوئی اور بہت کم افراد میں یہ مضر اثر دیکھنے میں آیا۔

     

    امریکا میں 5 سے 11 سال کے بچوں کو کورونا ویکسین لگانے کا آغاز

    سی ڈی سی کا یہ تجزیہ اور رپورٹ اس وقت سامنے آئی  ہے جب یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے 6 سے 17 سال کی عمر کے گروپ کے لیے موڈرنا ویکسین کے استعمال کی منظوری پر غور کیا جارہا ہے۔سی ڈی سی کا تجزیہ ویکسین سیفٹی ڈیٹا لنک سسٹم کے ڈیٹا پر مبنی تھا۔

    جعلی ویکسین کارڈزفروخت کرنے کیلئے 90 بار کورونا ویکسین لگوانے والا شخص

    اس ڈیٹا میں 18 سے 39 سال کی عمر کے مردوں میں موڈرنا کی ہر 10 لاکھ خوراکوں کے استعمال سے اوسطاً دل کے ورم کے 97.3 کیسز کو دریافت کیا گیا جبکہ یہ شرح فائرر ویکسین کی ہر 10 لاکھ خوراکوں میں 81.7 کیسز رہی۔سی ڈی سی نے بتایا کہ دستیاب ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ ایم آر این اے ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا سامنے کرنے والے افراد وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

    حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

  • چین میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا ،حکام پریشان

    چین میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا ،حکام پریشان

    بیجنگ:چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک بار پھر کورونا کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی حکومت کے ترجمان نے ہفتے کے روز بتایا کہ شہر میں 61 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ کیسز ان لوگوں سے آئے ہیں جو بار میں گئے یا ان سے رابطے میں آئے۔ ایسے میں بیجنگ میں نئی ​​پابندیاں لاگو کر دی گئی ہیں۔

    چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    بیجنگ میں کورونا کے حوالے سے نئی پابندیاں نافذ ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ آبادی والے شہر چاویانگ میں کئی تفریحی مقامات بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شنگھائی کے ایک مشہور بیوٹی سیلون سے سامنے آنے والے کورونا کے کیسز کو لگام دینے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم چین میں انفیکشن کی شرح دنیا کے معیارات سے کم ہے۔

    ساری تدبیریں ناکام : چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شہروں میں سخت لاک ڈاون

    چین میں کورونا کی صورتحال پر صدر شی جن پنگ نے کورونا کیسز کی روک تھام کے لیے زیرو کوویڈ پالیسی کے تحت کام کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اسی وقت، بیجنگ میونسپل حکومت کے ترجمان سو ہیجیان نے کہا کہ ہیون سپر مارکیٹ بار سے متعلق کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس میں متاثرہ افراد کی شناخت مشکل ہے۔

    چین میں کورونا ویکسین کی لاکھوں افراد میں کامیاب آزمائش،ہرقسم کے منفی اثرات سے پاک

    ہیجیان نے کہا کہ یہ تشویشناک بات ہے کہ اب تک بار سے متعلق 115 کیسز سامنے آئے ہیں اور 6,158 لوگ اس سے رابطے میں آئے ہیں۔ ایسے میں اب بیجنگ کی 22 ملین کی آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔

  • عالیہ بھٹ کی مصروفیات نے انکو بچا لیا

    عالیہ بھٹ کی مصروفیات نے انکو بچا لیا

    کرن جوہر کی برتھ ڈے پارٹی لے بیٹھی بہت سارے شوبز ستاروں کو۔ان کی سالگرہ میںشرکت کرنے والا ہر دوسرا سٹار کورونا میں مبتلا ہو گیا ہے اس حوالے سے عالیہ بھٹ خوش قسمت رہیں وہ کورونا سے بچ گئیں ۔ کرن جو ہر کی سالگرہ کی تقریب سے قبل عالیہ اپنے پہلے ہالی وڈ پراجیکٹ ”ہارٹ آف سٹون“ کی شوٹنگ کےلئے بیرون ملک روانہ ہوگئیں ۔ان کی بہت کوشش تھی کہ وہ صرف ایک دن کے لئے انڈیا چلی
    جائیں اور سالگرہ میں شرکت کرکے واپس شوٹنگ پر آجائیں لیکن انہیں اجازت نہ مل سکی اور وہ سالگرہ میں شریک نہ ہو سکیں۔بین الاقوامی شوٹنگ کے قواعد و ضوابط شاید مختلف ہیںایک بار کہیں کوئی ٹیم شوٹنگ کے لئے پہنچ جائے تو پھر وہ اس لوکیشن کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا ۔عالیہ بھٹ نے اس کے باوجود ہاتھ پاﺅں مارے کہ ان کو صرف ایک دن کا ریلیف مل جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ عالیہ کا سالگرہ میں نہ آنے کو اب ان کی خوش قسمتی کہا جا رہا ہے کیونکہ وہاں پہنچے بہت سارے ستارے کورونا جیسے مرض میں مبتلا اپنے گھروں میں قید ہیں اور عالیہ صحت مند ہیں اور اپنی شوٹنگ کرہی ہیں ۔
    یاد رہے کہ راج کپور خاندان کی بہو اور رنبیر کپور کی اہلیہ عالیہ کپور اپنی پہلی ہالی وڈ فلم کی شوٹنگ کےلئے آج کل لندن میں موجود ہیں عالیہ اپنے پہلے ہالی وڈ پراجیکٹ کو لیکر کافی خوش ہیں انہوں نے اس فلم کی شوٹنگ کے لئے روانہ ہونے سے قبل ایک پوسٹ لگائی جس میں انہوں نے لکھا کہ میں بہت زیادہ نروس ہو ں ۔

  • کرن جوہر کی سالگرہ کی تقریب نے کردیا سب کو بیمار۔

    کرن جوہر کی سالگرہ کی تقریب نے کردیا سب کو بیمار۔

    فلم میکرکرن جوہر کی پچاسویں سالگرہ یش راج سٹوڈیو میں پچیس مئی کومنائی گئی ۔ تقریب میں تقریبا بالی وڈ کے تمام ستارے موجود تھے۔ تمام ستارے بھرپور تیاری سے اس تقریب کو منانے پہنچےلیکن وہاں ہوا کچھ یوں کہ یہ سالگرہ سب کے لئے بیماری کا باعث بن گئی۔ تقریب کے بعد تقریب کے شرکا میں نزلہ، زکام ،بخار کھانسی جیسی علامات ظاہر ہوئیں تو سب اپنے ڈاکٹرز کے پاس گئے ڈاکٹرز نے ان سب کو کورونا ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا۔ سب نے کورونا ٹیسٹ کروایا تو معلوم پڑا کہ ان میں سے پچاس سے پچپن لوگ کورونا میں مبتلا ہو چکے ہیں جو فنکار کورونا میں مبتلا ہوئے ہیں ان میں شاہ رخ خان، کترینہ کیف، ادیتیہ رائے کپور،کارتیک آریان، کے نام قابل زکر ہیں۔

    تقریب میں ان کے علاوہ سیف علی خان ،اکشے کمار ، کاجول ،اجے دیوگن ، ہرتیک روشن، ایشوریا رائے ،امیتابھ بچن ، رانی مکھرجی، سلمان خان، عامر خان ، جھانوی کپور، کیارا ایڈوانی ، سدھارتھ ملہوترا، ورون دھون ، منیش ملہوترا ، شاہد کپور ،میرا کپور ، اننیا پانڈے ، رنبیر کپور ، رنیویر سنگھ ،نیتو سنگھ ، تبو ، روینہ ٹنڈن جوہی چاولہ ، سوزین خان، پریتی زینٹا ، سارا علی خان ، ابراہیم علی خان، ملائکہ اروڑا ، ارجن کپور ، کرینہ کپور ،کرشمہ کپور و دیگر نے شرکت کی۔ تقریب کی تیاری بڑے پیمانے پر کی گئی تھی کرن جوہر کا کہنا تھا کہ اس تقریب کو وہ یادگار بنانا چاہتے ہیں تقریب تو یادگار بن گئی لیکن وہاں موجود شرکا کورونا جیسے مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔