Baaghi TV

Tag: کورونا

  • بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    نئی دہلی :بھارت میں کورونا مزید جان لینے کے درپے، ریکارڈ کیسز سامنے آگئے،اطلاعات کے مطابق بھارت میں عالمی وبائی مرض کورونا ایک بار پھر جان لینے کے درپے ہو گیا ہے، آج گزشتہ تین ماہ کے دوران ریکارڈ کیسز درج کئے گئے۔

    بھارتی محکمہ صحت نے آج ملک کی پانچ ریاستوں مہاراشٹر، کیرالہ، تلنگانہ، کرناٹک اور تامل ناڈو کی ریاستی حکومتوں کو خط لکھا ہے جس میں کورونا کے سدباب کا حکم دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آج 4,041 نئے کورونا کیسز کی اطلاع ملی ہے، جو 11 مارچ کے بعد سے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے کچھ حصوں میں ایک اور لہر کے پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس نے تقریبا تمام پابندیوں کو کم کردیا ہے۔

    بھارتی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں وبائی مرض کے آغاز سے اب تک 43.17 ملین کوویڈ انفیکشن اور 524,651 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں.

    حالانکہ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اموات کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یومیہ مثبت کیسز کی شرح، یا مجموعی ٹیسٹوں کے فیصد کے طور پر تصدیق شدہ کورونا کیسز، ہندوستان کے لیے 0.95% ہیں.جبکہ ڈیٹا کے مطابق ہفتہ وار مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

    مہاراشٹر، جو بھارت میں پچھلی وائرس کی لہروں کا ابتدائی مرکز تھا، کووڈ انفیکشنز میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اس ہفتے مثبتیت کی شرح 8 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ریاست کے دارالحکومت ممبئی میں پچھلے مہینے کے مقابلے مئی میں ہسپتالوں میں داخل ہونے والوں میں 231 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جبکہ مئی میں ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد صرف 215 تھی.

    کورونا کیسز میں اضافے کی اس رفتار نے ریاستی حکام کو پریشان کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ پچھلے موسم گرما میں بھارت میں جان لیوا ڈیلٹا کی لہر نے روزانہ کیسز کو 400,000 سے اوپر دھکیل دیا تھا۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • چینی کمپنی سائنوویک کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش آگئی

    چینی کمپنی سائنوویک کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش آگئی

    اسلام آباد: چینی کمپنی سائنوویک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دے دیا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس چینی کمپنی نے بیماریوں کی تشخیص، بچاؤ اور علاج کیلئے جوائنٹ وینچر بنانے میں اظہار دلچسپی کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سائنوویک کے وفد کی ملاقات ہوئی ، جس میں سائنوویک کی طرف سے پاکستان کو فراہم ویکسین پر شہباز شریف کو بریفنگ دی گئی۔

    چینی کمپنی سائنوویک نے بیماریوں کی تشخیص، بچاؤ اور علاج کیلئے جوائنٹ وینچر بنانے میں اظہار دلچسپی کیا۔جس پر وزیراعظم نے چینی کمپنی کی طرف سے سرمایہ کاری کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا پیشکش کےحوالے سے ہر قسم کا تعاون فراہم کریں گے۔

    وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیر صحت کو پیشکش سے متعلق فوری ٹاسک فورس بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بڑھانا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کوویڈ19کے دوران چینی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    سائنو فارم ویکسین کیسی ہے؟

    سائنو فارم چین کی ایک سرکاری دوا ساز کمپنی ہے۔ یہ کمپنی کووڈ 19 سے بچاؤ کی دو ویکسین تیار کر رہی ہے۔ اس کی ویکسین بھی سائنوویک کی طرح ان ایکٹیویٹڈ ویکسین ہیں اور اسی طرح کام کرتی ہیں۔

    سائنو فارم نے 30 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ اس کی ویکسین کے تیسرے مرحلے کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ 79 فیصد موثر ہے۔ تاہم یہ شرح فائزر اور موڈرنا کی تیارکردہ ویکسین سے کم ہے۔

  • اکشے کمار کا ایک بار پھر کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    اکشے کمار کا ایک بار پھر کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    نئی دہلی: بھارتی اداکار اکشے کمار کا ایک بار پھر کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آ گیا۔

    باغی ٹی وی :بالی ووڈ اداکار اکشے کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کورونا وائرس میں مبتلا ہونے سے آگاہ کیا اداکار نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ کینز 2022 میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے خواہشمند تھے لیکن بہت افسوس کے ساتھ بتانا پڑ رہا ہے کہ ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    بھارت:کورونا وائرس نے پھرسراُٹھا لیا:ہلاکتوں میں تیزی


    اکشے کمار نے کہا کہ وہ اس ایونٹ میں شریک نہیں ہو پائیں گے تاہم بھارت کی نمائندگی کرنے والوں کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا ۔ اس سے قبل بھی سال 2021 میں اکشے کمار کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن بھی کورونا میں مبتلا

    واضح رہے کہ ہندوستان میں کورونا نے پھر سر اٹھا لیا ہے 14 مئی کو 24 گھنٹوں کے دوران 2,858 نئے کوویڈ 19 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ 11 افراد کورونا وائرس کی وجہ ہلاک ہوئے تھے CoVID-19 کی وجہ سے نئی اموات کے اضافے کے ساتھ، ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 14 مئی تک 5,24,201 تھا وزارت صحت نے کہا کہ ملک گیر ویکسینیشن مہم کے تحت اب تک کل 191.15 کروڑ ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں-

    یورپ:کوویڈ سے اموات کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کرگئی

  • نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن بھی کورونا میں مبتلا

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن بھی کورونا میں مبتلا

    ویلنگٹن: چند علامتیں ظاہر ہونے پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کورونا ٹیسٹ کرایا گیا جو کہ مثبت آگیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس پر انھوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا اور تمام سرکاری مصروفیات معطل کردیں۔

    گزشتہ ہفتے ان کے ساتھ رہائش پذیر ان کے دوست کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ دونوں کی بیٹی کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا جس کے بعد وزیراعظم جسینڈا نے خود کو آئیسولیٹ کرلیا تھا۔احتیاطی تدابیر کے طور پر گھر والوں سے علیحدہ رہنے کے باوجود وزیراعظم جسینڈا آرڈرن میں بھی علامتیں ظاہر ہوئیں جس پر ایک روز قبل کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا۔

    وزیراعظم ہاؤس کے مطابق کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے جب کہ پیر کے روز پارلیمنٹ کے اہم اجلاس اور جمعرات کو بجٹ پیش کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہوں گی۔

    وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کی جگہ نائب وزیر اعظم پارلیمنٹ میں اہم اجلاس میں شرکت کریں گے اور جمعرات کو ملک کا بجٹ بھی پیش کریں گے۔

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں کورونا سے 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے تاہم بہتر صحت کے نظام کے باعث ہلاکتیں 900 کے قریب ہوئیں اور وبا پر کافی حد تک قابو پالیا گیا تھا لیکن گزشتہ 24 گھنٹوں میں ساڑھے سات ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    ادھر شمالی کوریا نے کورونا کے باعث 6 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق کورونا وبا کی ملک میں موجودگی سے انکارکرنے والی شمالی کوریا کی حکومت نے وائرس سے 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔شمالی کوریا حکام کے مطابق ہلاک افراد میں ایک شخص اومیکرون میں مبتلا تھا جبکہ ساڑھے 3 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہیں۔ ان افراد میں نزلہ، بخار سمیت کورونا کی دیگرعلامات پائی گئی ہیں۔

    کورونا سے متاثر افراد مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ شمالی کوریا نے 12 مئی کوپہلی مرتبہ کورونا وائرس کیسز کی تصدیق کی تھی۔شمالی کوریا کورونا ویکسین مہیا کرنے کی عالمی ادارہ صحت، چین اوردیگرممالک کی پیشکش کو مسترد کرچکا ہے۔

  • بھارت:کورونا وائرس نے پھرسراُٹھا لیا:ہلاکتوں میں تیزی

    بھارت:کورونا وائرس نے پھرسراُٹھا لیا:ہلاکتوں میں تیزی

    وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے ہفتہ کو بتایا کہ ہندوستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2,858 نئے کوویڈ 19 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ 11 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ CoVID-19 کی وجہ سے نئی اموات کے اضافے کے ساتھ، ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی کل تعداد اب 5,24,201 ہے۔

    وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 3,355 بازیافتیں ہوئیں، جس سے صحت یابی کی کل شرح 98.74 فیصد ہوگئی۔ صحت یاب ہونے والوں کی کل تعداد 4,25,76,815 تک پہنچ گئی۔ وزارت نے کہا کہ ملک میں کوویڈ 19 کے کل فعال کیس کم ہو کر 18,096 ہو گئے ہیں۔ ہفتہ کو یومیہ مثبتیت کی شرح 0.59 فیصد تھی جبکہ ہفتہ وار مثبتیت کی شرح 0.66 فیصد تھی۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کل 4,86,963 ٹیسٹ کیے گئے جس سے مجموعی ٹیسٹوں کی تعداد 84.34 کروڑ ہو گئی۔ وزارت نے کہا کہ ملک گیر ویکسینیشن مہم کے تحت اب تک کل 191.15 کروڑ ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں۔

    ادھر شمالی کوریا نے کورونا کے باعث 6 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق کورونا وبا کی ملک میں موجودگی سے انکارکرنے والی شمالی کوریا کی حکومت نے وائرس سے 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔شمالی کوریا حکام کے مطابق ہلاک افراد میں ایک شخص اومیکرون میں مبتلا تھا جبکہ ساڑھے 3 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہیں۔ ان افراد میں نزلہ، بخار سمیت کورونا کی دیگرعلامات پائی گئی ہیں۔

  • کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    بیجنگ :کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں،اطلاعات کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس کی وبا سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019 میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور اب انکشاف ہوا ہے کہ آغاز میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے والے 50 فیصد سے زیادہ افراد کو 2 سال بعد بھی بیماری کی کم از کم ایک علامت کا سامنا ہے۔

    یہ انکشاف کووڈ کی اب تک کی سب سے طویل ترین فالو اپ تحقیق میں سامنے آیا۔یہ طبی جریدے دی لانیسٹ ریسیپیٹری میڈیسین میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے 2 سال بعد بھی کورونا وائرس کے متعدد مریضوں کی صحت خراب اور معیار زندگی عام آبادی کے مقابلے میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    چائنا جاپان فرینڈ ہاسپٹل کی اس تحقیق میں شامل پروفیسر بن کاؤ نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مخصوص افراد 2 سال بعد بھی مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ابھی تک کووڈ 19 کے طویل المعیاد طبی اثرات کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں ہوسکا اورمختلف تحقیقی ٹیموں کے کام کا دورانیہ ایک سال تک رہا تھا۔

    اس نئی تحقیق کے لیے محققین نے کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں پر مرتب ہونے والے طویل المعیاد نتائج کی جانچ پڑتال کی اور پھر اس کا موازنہ بیماری سے محفوظ رہنے والے افراد کے ڈیٹا سے کیا۔اس مقصد کے لیے انہوں نے 7 جنوری سے 29 مئی 2020 کے دوران ووہان کے ہسپتال جن ین ٹان میں کووڈ کے باعث زیرعلاج رہنے والے 1192 مریضوں کی صحت کی جانچ پڑتال کی۔

    ان افراد کی صحت کا معائنہ پہلے 6 ماہ بعد، دوسری بار 12 ماہ بعد اور پھر 2 سال بعد کیا گیا ، جس کے دوران ان کے 6 منٹ کے چہل قدمی کے ٹیسٹ، لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے اور علامات کو جاننے کے لیے سوالنامے بھروائے گئے۔ابتدائی بیماری کے 6 ماہ بعد 68 فیصد مریضوں نے لانگ کووڈ کی کم از کم ایک علامت کو رپورٹ کیا ، جبکہ 2 سال بعد بھی 55 فیصد سے زیادہ نے کسی ایک علامت سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔

    تھکاوٹ یا مسلز کی کمزوری سب سے عام علامات رپورٹ ہوئیں جبکہ یہ بھی دریافت ہوا کہ 2 سال بعد بھی 11 فیصد مریض اپنے کام پر واپس نہیں لوٹ سکے تھے۔تحقیق کے مطابق 31 فیصد مریضوں نے تھکاوٹ یا مسلز میں کمزوری اور 31 فیصد نے نیند کے مسائل کو رپورٹ کیا جبکہ کووڈ سے محفوظ رہنے والے افراد میں یہ شرح بالترتیب 5 اور 14 فیصد دریافت ہوئی۔

    کووڈ کے مریضوں کی جانب سے متعدد دیگر علامات بشمول جوڑوں میں تکلیف، دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہونا، سر چکرانا اور سر درد وغیرہ کو بھی رپورٹ کیا گیا۔محققین نے تسلیم کیا کہ ان کی تحقیق محدود ہے اور کسی ایک جگہ کے نتائج کا اطلاق وائرس کی دیگر اقسام سے متاثر مریضوں پر نہیں کیا جاسکتا۔

  • نیٹو سربراہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    نیٹو سربراہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ اسٹولٹن برگ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسٹولٹن برگ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ نیٹو سربراہ مکمل ویکسینیشن کرواچکے ہیں، ان کا کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے تاہم اسٹولٹن برگ میں کورونا کی معمولی علامات ہیں اور وہ ٹھیک ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    نیٹو ترجمان کا کہنا ہےکہ اسٹولٹن برگ بیلجیئم کی حکومت کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں گے اور گھر سے ہی تمام امور سرانجام دیں گے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق رواں ہفتے کے آخر میں نیٹو وزرائے خارجہ کی جرمنی میں غیر رسمی ملاقات ہونا ہے جس میں اسٹولٹن برگ بذریعہ ویڈیو کانفرنس شریک ہوں گے۔

    کوورنا قوانین کی خلاف ورزی: دبئی سول ایوی ایشن کا پی آئی اے پر بھاری جرمانہ عائد

    واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا تھا کہ وزیرخارجہ انٹونی بلنکن میں کورونا کی معمولی علامات ہیں انٹونی بلنکن نے مکمل ویکسین کے ساتھ بوسٹر شاٹس بھی لگوائے تھے-

    نیڈ پرائس نے بتایا تھا کہ انٹونی بلنکن قرنطینہ میں ہیں اور گھر سے ہی کام سر انجام دیں گے-

    بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

  • پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    اسلام آباد:پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے رد عمل میں قومی وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات تصدیق شدہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور اضافی اموات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    قومی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کورونا اموات سے متعلق کسی طرح کا سسٹم اور نظام درست ہو ہی نہیں سکتا، تاہم پاکستان کا نظام قدرے معیاری اور مستند تھا۔

    بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی ہر موت کو پہلے ضلعی، پھر صوبائی سطح پر تصدیق کیا گیا جب کہ قبرستانوں سے بھی ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    قومی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات حکومت کے بتائے گئے اور تصدیق کیے گئے اعداد و شمار جتنی یا اس کے قریب ترین ہیں، اضافی اموات کا امکان نہیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا کے دوران پاکستان میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوا اور کیسز میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی مگر کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

    بیان کے مطابق پاکستان میں اموات کی رپورٹنگ کے لئے با قاعدہ نگرانی کے متعدد نظام موجود ہیں، معاون ڈیٹا کے ساتھ رپورٹ کردہ ہر نمبر کا موثر اور قابل اعتماد میکانزم کے ساتھ بیک اپ لیا گیا، اس کی ضلعی اور صوبائی سطح سے بھی تصدیق کی گئی۔

    ساتھ ہی بیان میں واضح کیا گیا کہ قبرستانوں میں رپورٹ ہونے والی اضافی اموات کورونا سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں تاہم ان کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے مختلف نہیں۔

    وزارت صحت کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان 97 فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ہے، جہاں کورونا کے باعث جاں بحق افراد کی اکثریت کی مخصوص قبرستانوں یا قبروں میں تدفین کی گئی، جس کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔

    وزارت صحت کے بیان سے قبل عالمی ادارہ صحت نے 5 مئی کو اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کورونا سے بلواسطہ یا بلاواسطہ 62 لاکھ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ اموات ہوئیں۔

    رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک میں ہونے والی ممکنہ اموات کا ڈیٹا دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ امریکا اور بھارت سمیت کئی ممالک نے کورونا سے ہونے والی اموات کو کم کرکے بتایا۔

    رپورٹ میں کئی ممالک کے حوالے سے اندازوں کے مطابق ڈیٹا فراہم کیا گیا تھا، جس کے مطابق پاکستان میں حکومتی سطح پر تسلیم شدہ اموات سے 8 گنا زیادہ اموات ہوئیں، جنہیں ممکنہ طور پر ظاہر ہی نہیں کیا گیا مگر حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا اموات کی حکومتی تعداد درست ہے۔

    پاکستان میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے آغاز سے 7 مئی کی شام تک ملک بھر میں اموات کی تعداد 30 ہزار 369 تھی۔

  • بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

    بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

    نئی دہلی :بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے نئے اعدادو شمار جاری کردیے۔

    عالمی ادارہ صحت کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں اندراج کردہ اموات سے 3 گنا زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے نے جمعرات کو کہا کہ 2021 کے آخر تک کورونا سے ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد اموات ہوئیں جبکہ جنوری 2020 سے دسمبر 2021 کے آخر تک اس عرصے میں کورونا سے ڈبلیو ایچ او کو رپورٹ کی جانے والی اموات کی سرکاری تعداد تقریباً 54 لاکھ تھی۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ کچھ ممالک میں اموات کا صحیح طریقے سے اندراج نہیں کیا گیا۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک جن اموات کو شمار نہیں کیا گیا ان میں سے تقریباً نصف بھارت میں تھیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وبائی امراض کے نتیجے میں بھارت میں 47 لاکھ افراد کی موت ہوئی۔رپورٹ کے مطابق اموات کے اصل اعداد و شمار بھارتی حکومت کے بتائے ہوئے اعداد و شمار سے دس گنا زائد ہے۔

    دوسری جانب بھارتی حکومت نے کورونا سے اموات پر دیے گئے ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار مسترد کردیے۔بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کووڈ 19 سے اموات پونے پانچ لاکھ ہوئی ہیں۔

  • چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا

    چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا

    چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ،اطلاعات کے مطابق چین کے شہر شنگھائی میں حکومت کی جانب سے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    شنگھائی میں لاک ڈاؤن کے تحت کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اب تک کے سب سے بڑے کوویڈ پھیلنے کے درمیان ان کے پاس کھانا ختم ہو رہا ہے۔

    رہائشی اپنے گھروں تک محدود ہیں، یہاں تک کہ اشیائے خورد و نوش کی خریداری جیسی ضروری وجوہات کی بنا پر بھی باہر جانے پر پابندی ہے۔چین کے سب سے بڑے شہر میں جمعرات کو تقریباً 20,000 نئے ریکارڈ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے.

    شنگھائی کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کو “مشکلات” کا سامنا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لیکن شہریوں میں سخت غصہ اور بے چینی بھی ہے ، جیسا کہ بچوں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان کو والدین سے الگ کیا جا رہا ہے۔

    شہریوں کے ردعمل کے بعد شنگھائی کے حکام نے بعد میں ان والدین کو بھی ان کے بچوں کے ساتھ تنہائی کے مراکز میں جانے کی اجازت دے دی ہے۔

    تاہم ایک بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اب بھی والدین سے الگ ہونے والے بچوں کے بارے میں شکایات موجود ہیں جو کوووڈ پازیٹو نہیں تھے۔

    حکومت نے شنگھائی شہر میں ہر معاملے کی شناخت اور الگ تھلگ کرنے کے لیے بدھ کو لازمی بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹنگ کا ایک اور دور شروع کر دیا ہے۔

    شنگھائی کے وہ شہری جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے وہ اپنے گھروں میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتے چاہے کورونا کی علامت ہلکی ہوں یا مہلک ہوں۔

    شنگھائی میں اس وقت قرنطینہ مراکز پر بھی سخت دباؤ ہے، اور حکومت نئے قرنطینہ مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔