Baaghi TV

Tag: کورٹ

  • پنجاب میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات،خصوصی کمیٹی تشکیل

    پنجاب میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات،خصوصی کمیٹی تشکیل

    لاہور: پنجاب میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کے پیش نظر محکمہ صحت نے خصوصی کمیٹی قائم کر دی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر محکمہ صحت پنجاب نے خصوصی کمیٹی قائم کی۔ اسپیشل سیکرٹری محکمہ صحت پنجاب کو کمیٹی کی سربراہی سونپ دی گئی جبکہ ڈی جی ہیلتھ، لائیو اسٹاک، ضلعی انتظامیہ، انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے نمائندگان کمیٹی کاحصہ ہوں گے۔

    مراسلے کے مطابق کمیٹی صوبے بھر میں کتے کے کاٹنے کے واقعات کا جامع ڈیٹا مرتب کرے گی، اور آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے انتظامیہ کی کارروائیوں اور ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا،سرکاری اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے سے بچاؤ کی ویکسین کی دستیابی اور ترسیل کا معائنہ ہو گا جبکہ آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی، واقعات کی روک تھام کے لیے فنڈز کا ریکارڈ تیار کیا جائے گا، کتے کے کاٹنے کے علاج کی سہولیات کی صورتحال پر رپورٹ مرتب کی جائے گی۔ اور 8 رکنی کمیٹی 10 فروری تک اپنی رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروانے کی پابند ہو گی۔

  • بچے کا نام رکھنے پر شدید اختلاف، بیوی طلاق لینے عدالت  پہنچ گئی

    بچے کا نام رکھنے پر شدید اختلاف، بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی

    بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک جوڑا اپنے بچے کا نام رکھنے پر شدید اختلاف کے بعد طلاق لینے عدالت پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹک میں ایک جوڑے نے اپنے بچے کا نام رکھنے پر جھگڑے کے بعد طلاق مانگ لی تنازع اس وقت شروع ہوا جب 26 سالہ شخص نے اپنے لڑکے کا نام رکھنے کی تقریب میں شرکت نہیں کی جس کی پیدائش 2021 میں ہوئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق اس تقریب کا اہتمام ان کی 21 سالہ بیوی نے کیا تھا اور وہ اس لیے شامل نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ بیوی کے دیئے گئے نام سے متفق نہیں تھے، بیوی نے بچے کا نام عدی رکھنے کا مشورہ دیا تھامہینوں کی بحث کے بعد خاتون نے علیحدگی اور کفالت کے لیے عدالت سے رجوع کیا اس کے بعد انہوں نے ججوں کی طرف سے دی گئی متعدد تجاویز کو بھی مسترد کر دیا۔

    سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    تاہم گذشتہ ہفتے والدین کو میسور کی سیشن کورٹ کے جج نے بلایا اور تین سالہ لڑکے کا نام آریا وردھن رکھنے کا خوش اسلوبی سے فیصلہ کیا گیا، جوڑے نے تنازع ختم کر دیا ہے اور اب وہ اپنے بچے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    واضح رہے کہ پچھلے سال کیرالہ ہائی کورٹ نے ایک تین سالہ بچے کا نام اس وقت رکھا جب اس کے اجنبی والدین اس بات پر اتفا ق رائے پر نہیں پہنچ سکے کہ وہ اس کا کیا نام رکھیں، جج نے اپنے حکم میں کہا کہ ماں کی طرف سے تجویز کردہ نام کو مناسب اہمیت دی جائے گی، جب کہ ولدیت پر کوئی تنازع نہ ہونے کی وجہ سے والد کا نام بھی شامل کیا جائے۔

    کرنٹ لگنے سے بچے کی ہلاکت ، کے الیکٹرک کو 1.93 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

  • فرانس: بیوی کو نشہ آور مشروب پلا کر جنسی زیادتی کروانیوالے شوہر کو سزا سنا دی گئی

    فرانس: بیوی کو نشہ آور مشروب پلا کر جنسی زیادتی کروانیوالے شوہر کو سزا سنا دی گئی

    فرانس کی عدالت نے جزیل پیلی کوٹ کے 72 سالہ شوہر اور دیگر 50 ساتھی ملزمان کو اجتماعی عصمت دری کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے 20 سال قید کی سزا سنائی ہے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کے اس کیس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جس میں شوہر نے اپنی بیوی کو بے ہوشی کی دوا کھلا کر 50 سے زائد اجنبیوں سے جنسی زیادتی کروائی، شوہر 72 سالہ ڈومینیک پیلیکوٹ نے اس شرم ناک حرکت کی 20 ہزا ر سے زائد ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائیں اور انھیں اپنے لیپ ٹاپ میں محفوظ رکھا تھا۔

    تین ماہ سے جاری سماعت میں ڈومینک پیلی کوٹ نے اپنی بیٹی اور بیوی کا سامنا کیا کمرۂ عدالت میں متعدد بار جذباتی لمحات دیکھنے میں آئےشوہر ڈومینک پیلی کوٹ کے اقبال جرم کے بعد آج عدالت نے انھیں 20 سال قید کی سزا سنا دی جب کہ پیرول پر رہائی کے لیے انہیں 13 سال لازمی قید کاٹنا ہوگی،ڈومینک پیلی کوٹ کے وکیل نے سزا سننے کے بعد کہا کہ ان کے مؤکل سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

    جنسی زیادتی کرنے والے 50 ملزمان کے لیے 4 سے 18 سال قید کی درخواست کی گئی،جنسی زیادتی کرنے والوں کی عمریں 27 سے 74 سال کے درمیان ہیں جن میں سے کچھ نے اقبال جرم کیا اور اکثر نے کہا کہ وہ سمجھے یہ سب رضامندی ہو رہا ہےعدالت نے ان 50 ملزمان میں سے 47 کو عصمت دری اور 2 کو عصمت دری کی کوشش کا مجرم قرار دیتے ہوئے قید کی سزائیں سنائیں۔

    72 سالہ جزیل پیلی کوٹ نے عدالت سے انصاف ملنے پر اپنی حمایت کرنے والے ایک ایک شہری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ناانصافی کی شکار خواتین کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

    سماعت کے آغاز پر جزیل پیلی کوٹ سیاہ چشمہ پہن کر عدالت آتی تھیں تاکہ ان کی شناخت نہ ہوسکے تاہم آخر میں انھوں نے اس کیس کا بہادری سے سامنا کرنے کا فیصلہ کیا جزیل پیلی کوٹ نے عدالت میں جنسی زیادتی کی ویڈیوز اور تصاویر دکھانے اور کھلی سماعت کی بھی اجازت دی تاکہ اس مکروہ جرم کا پردہ فاش ہو 72 سالہ جزیل پیلی کوٹ نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا انھیں اب ان کے شادی سے پہلے والے نام سے پکارا جائے فرانس سمیت دنیا بھر میں جزیل پیلی کوٹ کے دلیرانہ طور پر سامنے آکر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا کیس لڑنے پر تعریف کی گئی ہے۔

  • ہتک عزت مقدمہ میں روف کلاسرا پر فرد جرم عائد

    ہتک عزت مقدمہ میں روف کلاسرا پر فرد جرم عائد

    اسلام آباد: معروف صحافی رؤف کلاسرا پر وزیراعظم شہباز شریف وزیر داخلہ محسن نقوی اور خواجہ آصف سمیت سیاسی رہنماؤں کیخلاف سوشل میڈیا پر ہتک آمیز موا د شئیر کرنے کیخلاف درخواست پر فرد جرم عائد کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : مقدمے کے مدعی مرزا بیگ کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی ،جس پر اسلام آبا کی مقامی عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کر دی گئی فر دجرم اسلام آبا کی مقامی عدالت کے سینئیر جج محمد اعظم خان کی جانب سے عائد کی گئی-

    مجسٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق شکایت کنندہ پاکستان کا ایک قانون پسند شہری ہے جس نے سال 1997 میں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آف پاکستان سے اپنی چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کی ہے اور اس کے بعد اس نے ایم بی اے مکمل کیا ہے زندگی بھر بے داغ ریکارڈ قائم کیا اور وہ تین بار پی ٹی وی کے ایم ڈی رہے اور کئی میڈیا آرگنائزیشنز کے سربراہ بھی رہے جن کی تفصیلات ذیل میں دی جارہی ہیں۔


    رواں سال 24 مارچ کو تقریباً 4:52 بجے اور شام 5:1 بجے آپ نے الزام لگایا ہے کہ رؤف کلاسرا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ "x کے ذریعے شکایت کنندہ کے خلاف درج ذیل توہین آمیز ٹویٹس پوسٹ کیں جس سےشکایت کنندہ مرزا بیگ کی ساکھ اور سالمیت کو نقصان پہنچا، یہ ماننا کہ اس طرح کے الزامات سے شکایت کنندہ کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

    جاری نوٹس میں کہا گیا کہ صحافی نے نہ صرف مرزا بیگ کے حوالے سے ایکس پر توہین آمیز مواس پوسٹ کیا بلکہ وزیر اوعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیرد فاع خواجہ آصف کے حوالے سے بھی ہتک آمیز پوسٹیں شئیر کیں جس سے تمام سیاسی شخصیات کی ساکھ نقصان پہنچایا گیا-

  • الیکشن ٹربیونل میں ریٹائرڈ ججوں کی تقرری کیخلاف درخواست  سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن ٹربیونل میں ریٹائرڈ ججوں کی تقرری کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور: الیکشن ٹربیونل میں ریٹائرڈ ججوں کو مقرر کرنے سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا صدارتی آرڈیننس کے خلاف 3 جون کو سماعت کریں گے اور یہ درخواست ایک شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہےدرخواست میں وفاقی حکومت اور وزارت قانون سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، ٹربیونل مقرر کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور اس آرڈنینس کا اطلاق الیکشن 2024پر نہیں ہوسکتا۔

    درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ مذکورہ صدارتی آرڈیننس کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے اور درخواست پر حتمی فیصلے تک صدارتی آرڈیننس کا اطلاق روک دیا جائے۔

  • علی زیدی کی درخواست ضمانت دائر

    کراچی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی زیدی کے وکلا نے درخواست ضمانت دائر کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی رہنماعلی زیدی کے خلاف 18کروڑ کے فراڈ اور دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج ہے جبکہ فوری سماعت کی استدعا پر مدعی مقدمہ کو نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں۔

    صرف 4 گھنٹے دیں آٹے کی قیمت 150 سے 110 تک لے آؤں گا،گورنر سندھ

    علی زیدی کے وکیل کا کہنا ہے کہ درخواست کی سماعت آج ہی ہوگی اور علی زیدی کا جسمانی ریمانڈ آج ختم ہوجائے گا اور کل دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما علی زیدی کو کراچی میں 15 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا،ترجمان کا کہنا تھا کہ علی زیدی پی ٹی آئی سندھ سیکریٹریٹ میں تنظیمی عہدیداران سے ملاقات کررہے تھے کہ اس دوران سول اور یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں نےعلی زیدی کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا تھا۔

    مبینہ آڈیو لیک : اعجاز چوہدری کا ردعمل سامنے آگیا

  • سپریم کورٹ نے نیب سے آج تک ریکور کی گئی رقومات کی تفصیلات طلب کرلیں

    سپریم کورٹ نے نیب سے آج تک ریکور کی گئی رقومات کی تفصیلات طلب کرلیں

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب سے آج تک ریکور کی گئی رقومات کی تفصیلات طلب کرلیں-

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کئی رکنی بنچ کے روبرو سماعت ہوئی۔

    وزن کم کرنے کیلئے ڈائٹ پلان فروخت کرنا ڈاکٹر کو مہنگا پڑگیا

    عدالت نے نیب سے آج تک ریکور کی گئی رقم کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے اب تک کتنی ریکوری ہوئی اور پیسہ کہاں گیا؟کس صوبے اوروفاقی حکومت کو کتنا پیسہ جمع کرایا تفصیلات دی جائیں عدالت نے ساتھ ہی سرکاری اداروں، بینکوں اور عوام کو واپس کیے گئے پیسے کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کا حکم دیا۔

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حکومت یا ادارے کی خورد برد کردہ رقم ریکوری کے بعد اسے ہی دی جاتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ
    تمام تفصیلات آئندہ سماعت تک جمع کرائیں پھر جائزہ لیں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ نیب ترامیم سے اب بے نامی اور آمدن سے زائد اثاثے ثابت کرنا نیب کی ذمہ داری ہے،نیب ترامیم کے مطابق بےنامی کی مالی ادائیگی کا ثبوت بھی نیب نے دینا ہے۔

    چین سے مزید 50 کروڑ ڈالر کے حصول کیلئے دستاویزی کارروائی مکمل ہو گئی ہے،اسحاق …

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بے نامی جائیدادیں بنانے والے کی مالی ادائیگی کا ریکارڈ ثابت کرنے ہی کے لیے کیس بنایا جاتا ہے، نیب قانون کے مطابق بے نامی دار میں صرف خاوند یا اہلیہ، رشتہ دار یا ملازم ہو سکتے ہیں، نیب ترامیم نے قانون کا دائرہ بڑھانے کے بجائے محدود کر دیا ہے، پراسیکیوشن کسی صورت بے نامی پراپرٹیز کو ثابت نہیں کر سکتی جب تک متاثرہ فریق ثبوت نا دے۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدول علی خان نے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ نیب کسی پر بے وجہ الزامات عائد کر کے کارروائی نہ کرے، ترامیم کے بعد نیب کو کسی پر الزامات عائد کرنے سے پہلے ٹھوس ثبوت دینا ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب تمام تفصیلات آئندہ سماعت تک جمع کرائے پھر جائزہ لیں گے، یہ کہا جاتا ہےکہ نیب نےگزشتہ برسوں میں رکارڈ ریکوریاں کی ہیں۔

    بعدازاں کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود …

  • عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے اسلام آباد روانہ

    عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے اسلام آباد روانہ

    اسلام آباد: چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے عدالت روانہ ہوگئے-

    باغی ٹی وی: عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی عدالتوں میں آج 4 مختلف کیسز کی سماعت ہوگی۔

    عمران خان انسداد دہشتگردی عدالت اور بینکنگ کورٹ سمیت سیشن عدالت کے 2 کیسز میں پیش ہوں گے۔

    چیئرمین عمران خان آج بینکنگ کورٹ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں جج رخشندہ شاہین کے سامنے پیش ہوں گے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت اقدام قتل کیس جج راجہ جواد عباس کے سامنے پیش ہوں گے جبکہ توشہ خانہ کیس میں جج ظفر اقبال کے سامنے پیش ہوں گے​-

    دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اسلام آباد روانگی کا پروگرام تبدیل کردیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما میاں اسلم اقبال کے مطابق عمران خان کا آج اسلام آباد روانگی پروگرام تبدیل ہوگیا ہے،وہ طیارے کے بجائے موٹروے سے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ عمران خان لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے صبح ساڑھے 7 بجے روانہ ہوں گے،سابق وزیر اعظم کے ساتھ پی ٹی آئی کارکن بھی اسلام آباد جائیں گے۔

  • صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    لاہور کی مقامی عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ خارج کردیا۔

    باغی ٹی وی :جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور غلام مرتضیٰ ورک نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کو لاہور میں مقدمہ درج ہی نہیں کرنا چاہیے تھا 14 برس قبل بچیوں زینب اور زنیرہ کے اغوا کا مبینہ واقعہ کراچی میں ہوا تو کارروائی بھی وہیں ہونی چاہیے تھی۔

    عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہ نہیں ہے اس لیے اس کیس کی فائل تمام انکلوژرز اور شواہد کے ساتھ استغاثہ کو واپس کر دی جاتی ہے تاکہ اسے مناسب فورم پر دائر کیا جا سکے۔

    عدالت میں عمر ظہور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ 2013 میں حل ہوچکا، صوفیہ مرزا نے 10 لاکھ لے کر کیس نمٹا دیا تھا۔

    ایف آئی اے نے مقدمے میں لائبیریا کے سفیر عمر فاروق، صدف ناز اور محمد زبیر کو نامزد کیا تھا،مجسٹریٹ کے فیصلے کے بعد تفتیشی عمل مکمل کرنے کیلئے کیس ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    عمر فاروق ظہور نے شکایت کی درج کرائی تھی کہ ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر (مرحوم) ڈاکٹر رضوان کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور اغوا کے جعلی مقدمات درج کرائے تاکہ ان پر ایف آئی اے کو سزا دی جائے۔

    انتقام کی مہم اور آج کے آرڈر آف لرنڈ مجسٹریٹ نے اپنے موقف کی توثیق کی ہے کہ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے لاہور کو اس حقیقت کے باوجود کہ ایف آئی اے لاہور کے دائرہ اختیار میں کمی کے باوجود ایف آئی اے لاہور کو اپنے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر مجبور کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدف ناز کی درخواست کے مطابق کراچی میں 2009 میں ہونے والے مبینہ جرم کی ایف آئی آر کے اندراج میں 10 سال سے زائد کی غیر وضاحتی تاخیر ہوئی ہے اور استغاثہ نے 9 گواہ پیش کیے ہیں لیکن وہ جرم کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے خلاف مواد صدف ناز نے استدعا کی تھی کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے "جعلی اور فرضی” کیس میں گھسیٹا گیا اس لیے ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ جج غلام مرتضیٰ ورک کے فیصلے کے بعد کیس اب باقی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    اس حوالے سےعمر فاروق ظہورکا کہنا تھا کہ سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے جون 2020 میں نےانتقامی کارروائی کیلئےجعلی مقدمہ درج کرکے ایف آئی کو ملوث کیا تھا، مقدمہ درج کرانے کیلئے صوفیہ مرزا کو سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر رضوان کی معاونت حاصل تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ایف آئی اے کو غلط مقدمہ درج کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ سال جون میں جیو اور دی نیوز نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ صوفیہ مرزا کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر مبینہ فراڈ اور 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کیلئے صوفیہ مرزا کو شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا، شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ تک پہنچی تاہم کابینہ نے عمر فاروق ظہور اور ان کے عزیز کے خلاف 16 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی اجازت دی۔

    ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عمر فاروق ظہور کے خلاف دو کیسز درج کیے، تحقیقات کے مطابق عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم نے ناروے اور سوئٹزرلینڈ میں فراڈ کیے، اوسلو میں 2010 میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ اور برن میں 12 ملین ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا۔

    ایف آئی اے کو شکایت میں خوش بخت مرزا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بطور اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے نام سے معروف ہیں، صوفیہ مرزا نے شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا کہ عمر فاروق ظہور ان کے سابق شوہر ہیں۔

    شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور نےکئی ممالک میں فراڈ کیا اور ناروے میں سزا یافتہ اور مطلوب ہے،عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر 9.37 ملین ترک لیرا کا بھی فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کا مشکوک معاہدہ بھی کیا، عمر فاروق ظہور کے پاس کالے دھن کے کئی ملین ڈالر اور پاکستان و دبئی میں کئی جائیدادوں کا الزام بھی لگایا گیا۔

    صوفیہ مرزا نے سابق شوہر پر سونے کی اسمگلنگ، مہنگی گاڑیاں اورگھڑیوں کی ملکیت اور سونا و رقم گھر میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔

    ماڈل صوفیہ مرزا نے ایف آئی سے استدعا کی کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے والے شخص کے خلاف تحقیقات کرے، کابینہ میں شہزاد اکبر کی طرف سے پیش کی گئی سمری کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا تھا کابینہ کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی کہ خوش بخت مرزا ہی اصل میں صوفیہ مرزا ہیں،کابینہ کو عمر فاروق ظہور کے خوش بخت کا سابق شوہر ہونے اور جڑواں بچیوں کی تحویل کی لڑائی سے بھی لا علم رکھا گیا۔

    جوڑے کی 2008 میں طلاق کے بعد بچیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں، کابینہ کو اس بات سے بھی لاعلم رکھا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی اعلیٰ عدالتوں میں بچیوں کی تحویل کا معاملہ طے ہوچکا ہے۔

    صوفیہ مرزا نے بدعنوانی کے دو مقدمات سے قبل سابق شوہر پر بچیوں کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا، والدین پر اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نہ بننے کے قانون کے باوجود شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمہ بنا، کابینہ میں سمری کی منظوری کے بعد عمر فاروق ظہور کا نام ایگزٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا، قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر ناقابل ضمانت وارنٹس کے اجرا کے علاوہ پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بلیک لسٹ کردیے گئے، انٹرپول کے ذریعے عمر فاروق ظہور کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے۔

    عمر فاروق ظہور نے لائبیریا کے سفیر کے طور پر ایف آئی اے کے اقدامات کو ختم کرانے کیلئے کارروائی شروع کی، عدالتی کارروائی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹس اور ریڈ وارنٹس منسوخ ہوئے۔

    عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ اشتہاری قرار دینے سے قبل مجوزہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ 2019 سے لائبیریا کا سفیر ہونے کی حیثیت سے عمر فاروق ظہور کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

    عمر فاروق ظہور کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس جاری کیا، عمر فاروق کو استثنیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کرائےگئے۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس کی اجازت کے حوالے سے انٹرپول سے جھوٹ بولا، ایف آئی اے کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کیلئے عمر فاروق نے جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک سے رابطہ کیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ دونوں کیسز میں نہ تو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیےگئے اور نہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی، عمر فاروق ظہور کا نام سرخیوں میں اس وقت آیا جب سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمران خان کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کا انکشاف کیا۔

    بشیر میمن پر مارچ 2022 میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمر فاروق کو پاکستان کے دورے کرنے کی غیر قانونی اجازت دی، سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو تصدیق کےشواہدکی کمی اور ٹائم بار کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا گیا۔

    ترک باشندے کی طرف سے لگائےگئے فراڈ کے الزام کی نیب نے انکوائری کی، کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اگست 2013 کو احتساب عدالت نے عمر فاروق کو کلین چٹ دی تھی۔

    مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کردیا تھا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر کیسز ختم ہوتے ہی ان پر پاکستان میں عجلت میں کیسز بنائےگئے۔

  • فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    حکمران اتحاد اورپی ڈی ایم کے قائدین کا ہنا ہے کہ اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے قبل حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم قائدین کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

    مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورت کے مطابق وزیراعظم ہاﺅس میں حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین کا مشاورتی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری ، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، اے این پی کے قائدین بھی اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مریم نواز اور پارٹی کے دیگر قائدین نے بھی اجلاس میں شرکت کی.

    اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب سے متعلق کیس فل کورٹ سنے، موجودہ بینچ کا فیصلہ جانبدارانہ فیصلہ تصور کیا جائے گا،انصاف کی بالادستی کیلئے فل کورٹ کی تجویز دی تھی، اب فیصلہ تین بینج پر مشتمل یہی ججز کریں گے،اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،انہوں نے بتایا کہ حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا مطالبہ فل کورٹ کا ہے،یہ مطالبہ آئین، جمہوریت اور عدلیہ کے وقار کیلئے کیا تھا،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سپریم کورٹ میں سماعت کا بائیکاٹ کریں گے، سپریم کورٹ کو پارلیمان سے متعلق بار بار فیصلے دینے پڑ رہے ہیں،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سماعت کا بائیکاٹ کریں گے،ہم سمجھتے ہیں عدالت کا بھی فل بینچ بیٹھے اور فیصلہ دے،حکومتی اتحادی جماعتوں نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے.

     

    فل بینچ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی کابائیکاٹ کریں گے،رانا ثناء اللہ

     

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے،قانون کا تقاضا ہے کہ کسی جج یا بینچ پر انگلی اٹھ جائے تو وہ خود کو وہاں سے ہٹا دے، ہم نے صرف فل کورٹ کی استدعا کی تھی، مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر احسن اقباک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باعث 20 اراکین اسمبلی کے ووٹ نہیں گنے گئے، اس کیس پر نظرثانی کی درخواست اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے،نظرثانی درخواست کا فیصلہ آئے بغیر یہ معاملہ غلط سمت میں جا رہا ہے،عمران نیازی کی ہدایت محترم تھی تو چودھری شجاعت کی ہدایت بھی اتنی ہی محترم ہونی چاہئے، ایک سربراہ کی ہدایت پر 20 اراکین کو نااہل کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کی ہدایت کو تسلیم نہیں کیا جاتا،ہیں چاہتے کہ کسی سیاسی تنازع پر سپریم کورٹ پر لوگ انگلیاں اٹھائیں،عام تاثر ہے کہ عمران خان عدلیہ کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں،ہم نے صرف سپریم کورٹ کا فل بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی،سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنی تیزی اس مقدمے کی سماعت کیوں کی جا رہی ہے،فل کورٹ اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ تھا.

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کی استدعا مسترد کرنے کے فیصلے کو سمجھ سے بالاتر قرار دے دیا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنتا تو تمام سیاسی جماعتیں مطمئن ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا فیصلہ نہ مان کر پارلیمانی پارٹی کو جواز بنانا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ 25 ارکان کی نااہلی کے پیچھے پارٹی سربراہ کے احکامات تھے۔اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے مسترد شدہ ووٹوں کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے، مرحوم حاصل بزنجو کے ووٹ مسترد ہوئے تو اس پر بھی عدالت خاموش رہی۔ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر کے 52 ہزار ووٹ جعلی نکلے، اس معاملے پر بھی عدالت 3 سال تک فیصلہ نہ دے سکی۔

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی گئی، تمام قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کو آج کی سپریم کورٹ کی کارروائی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

     

    فل
    کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد ،کیس 3 رکنی بینچ ہی سنےگا