Baaghi TV

Tag: کوہستان

  • ڈانس کی تصاویر وائرل ،جرگے کے حکم پر لڑکی قتل،لڑکا فرار

    ڈانس کی تصاویر وائرل ،جرگے کے حکم پر لڑکی قتل،لڑکا فرار

    کوہستان میں غیرت کے نام پر خاتون قتل کر دی گئی، لڑکے کے ساتھ ڈانس کی ویڈیو وائرل ہونے پر والد اور چچا نے خاتون کو گولیاں ماری دیں

    واقعہ کوہستان کے علاقے شریال میں پیش آیا جہاں لڑکی کی ڈانس کی تصویر اور ویڈیو لڑکے کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو جرگے نے لڑکی کو قتل کرنے کا حکم دیا، لڑکی کو والد اور چچا نے گولیاں مار دیں، دوسری لڑکی کو عدالت پیش کیا گیا،عدالت نے یقین دہانی پر لڑکی والوں گھر والوں کے ساتھ بھیج دیا،

    پولیس حکام کے مطابق لڑکی کو خاندان کے افراد کی مشاورت کے بعد قتل کیا گیا، پولیس نے لڑکی کے والد کو گرفتار کر لیا ہے، ڈی ایس پی مسعود خان کا کہنا ہے کہ شریال کے مقام پر کچھ دن پہلے مقتولہ اور ایک لڑکی کی تصاویر وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد جرگے نے فیصلہ سنایا تو ایک لڑکی کو قتل کر دیا گیا، دوسری عدالت پیش ہو گئی،ڈی ایس پی مسعود خان کا کہنا ہے کہ واقعہ کا مقدمہ درج کر کے لڑکی کے والد کو گرفتار کر لیا ہے،دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کیا جائے گا،

    دوسری لڑکی جس کی ڈانس کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، عدالت پیش ہوئی اور بیان دیا کہ اسکی جان کو اس کے گھر والوں سے خطرہ نہیں،لڑکی کے بیان کے بعد عدالت نے لڑکی کو گھر بھیج دیا، جس لڑکے کی ڈانس کی تصاویر وائرل ہوئی تھین وہ ابھی تک روپوش ہے،

    مجرموں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109 (جرم میں اکسانا)، 302 (قتل عمد یا پہلے سے سوچے سمجھے قتل کی سزا) اور 311 (قصاص کی چھوٹ کے بعد سزا) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

    واقعہ پر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی ترجمان زوبیہ خورشید راجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کوہستان میں جرگہ کے فیصلہ پر نوجوان لڑکی کا قتل نا صرف جہالت ہے بلکہ اسلام کے بھی سخت منافی ہے ۔ آخر یہ لوگ زمانہ جہالت کی پسماندہ اور بوسیدہ ذہنیت سے کب چھٹکارہ پائیں گے اور کب خواتین باعزت اور محفوظ ہو پائیں گی ۔ انتظامیہ کیا کر رہی ہے یہ بھی توجہ طلب بات ہے

    کوہستان میں جرگے کی ایما پر لڑکی کے مبینہ قتل کا واقعہ، نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس نے لیا، نگران وزیراعلیٰ نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کو واقعے کی فوری انکوائری کیلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کر دی.وزیراعلی نے تمام ملوث افرا د کی گرفتاری کی بھی ہدایت کی.

    دوسری جانب کہا جا رہا ہے کہ فوٹوز میں مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی سمیت دو لڑکیوں کو مقامی لڑکوں کے ساتھ رقص کرتے دکھایا گیا ہے جو جعلی ہیں، تصاویر فیس بک پر وائرل ہوئی تھیں،

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

  • کوہستان:5نوجوانوں کی بےبسی کےواقعےپروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےانکوائری کمیٹی بنادی

    کوہستان:5نوجوانوں کی بےبسی کےواقعےپروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےانکوائری کمیٹی بنادی

    پشاور:کوہستان میں سیلابی ریلے میں ڈوبنے والے پانچ دوستوں کے واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی،کمیٹی غفلت برتنے والوں کی نشاندہی کرے گی اور 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

    سیلابی ریلے میں پھنسنے والے 5 دوست کئی گھنٹے انتظار کے بعد تیز موجوں کی نذر ہوگئے تھے، واقعہ 26 اگست کو کوہستان میں پیش آیا تھا۔پانچوں نوجوان کوہستان میں سیلابی ریلے میں پھنس گئے تھے اور ایک اونچے ٹیلے پر بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

    اطلاعات کے مطابق پانچوں نوجوان تقریباً تین گھنٹے مدد کا انتظار کرتے رہے اور ہیلی کاپٹر کی مدد سے انکی زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں۔

    اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں جس پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی شخصیات اور حکومتی وزراء کے دوروں کیلئے تو ہیلی کاپٹر استعمال کیے جاتے ہیں لیکن عوام کو سیلاب میں مرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پانچوں نوجوان لوئر کوہستان کے علاقے سناگئ دوبیر نالہ میں جیپ کے ذریعے نالہ عبور کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ اس دوران پانچوں افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے۔

    پانچوں افراد نے بڑے پتھر پر چڑھ کر جان بچانے کی کوشش کی تاہم سیلابی ریلے کے بہاؤ میں اضافے سے درجوں لوگوں کے سامنے بے بسی کے عالم میں سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے جبکہ ایک شخص کو مقامی لوگ رسیوں کی مدد سے بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

    سیلابی ریلا گاڑی بھی بہا کر لے گیا، پولیس کے مطابق مرنے والوں میں بلال ولد رشید انور ولد آمیز ریاض ولد سمندر آور فصل ولد اکبر شاملِ تھے۔

  • خورشید شاہ کا داسوڈیم منصوبے میں مقامی ملازمتوں کا کوٹہ 100 فیصد کرنے کا اعلان

    خورشید شاہ کا داسوڈیم منصوبے میں مقامی ملازمتوں کا کوٹہ 100 فیصد کرنے کا اعلان

    وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ نے داسو ڈیم متاثرین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین واپڈا سے کہا ہے چھوٹی ملازمتیں 100 فیصد مقامی لوگوں کودی جائیں

    وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے داسوڈیم منصوبے میں مقامی ملازمتوں کا کوٹہ 100 فیصد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوہستان کے لیے ایک ارب روپے کی ترقیاتی گرانٹ اسی بجٹ میں رکھی جائے گی کوہستان کی ہر تحصیل میں ٹیکنیکل کالج قائم ہو گا، صحت کا نظام بہتر بنایا جائے گا،کوہستان کی ہر تحصیل میں بی آئی ایس پی،نادرا کے دفاتر قائم ہوں گے، اسلام آباد میں ایک اجلاس صرف کوہستان کے مسائل پر ہی رکھوں گا بجٹ کے بعد کوہستان عملی اقدامات کر کے آؤں گا،

    قبل ازیں وفاقی وزیرِ آبی وسائل خورشید شاہ نے داسو ڈیم پراجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا ہے اور منصوبے کا فضائی جائزہ بھی لیا ہے۔اس موقع پر چیئرمین واپڈا نوید اصغر چوہدری، پیپلز پارٹی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری فیصل کریم کنڈی و دیگر حکام ان کے ہمراہ تھے۔

    وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ کو داسو ڈیم پراجیکٹ سائٹ پربریفنگ میں بتایا گیا کہ داسو منصوبے پر کام کی رفتار مارچ سے تیز ہوئی ہے منصوبے کی مجموعی لاگت 510 ارب ہے منصوبے کی لاگت بڑھنے کی توقع ہے سمبر تک پانی کی دونوں ڈائیورشنز ٹنل مکمل ہو جائیں گی جس کے بعد مین ڈیم کی تعمیر شروع ہو گیا اس وقت منصوبے تک رسائی کی سڑکوں پر کام تیزی سے مکمل ہو رہا ہے منصوبے کا پاور ہاؤس ایک کلومیٹر انڈر گرائونڈ ہے جس کی کھدائی تقریبا ًمکمل ہو چکی ہے مین ڈیم کی تکمیل مئی 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے بجلی کی پیداوار کے پہلے تین یونٹ جون 2026 تک شروع ہونے کا ہدف ہے بجلی کی مکمل پیداوار جنوری 2027 تک شروع کرنے کا نظرثانی شدہ ہدف ہے یہ منصوبہ پہلے 2023 تک مکمل ہونا تھا۔داسو ڈیم منصوبے میں تاخیر کی بڑی وجہ لینڈ ایکوزیشن بروقت نہ ہونا ہے داسو ڈیم 4320 میگا واٹ کا منصوبہ ہے بھاشا ڈیم بننے کے بعد داسو ڈیم سے بجلی پیداوار 5400 میگا واٹ تک لے جا سکتے ہیں

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

    سینیٹ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر بارے رپورٹ پیش ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج

    سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کا تذکرہ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟

    کالا باغ ڈیم ضروری،نئے ڈیمز نہ بنے تو صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے ،چیئرمین ارسا

    عدالت کیا کرے جو ڈیم بنا رہے ہیں وہی ان معاملات کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

  • سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم،7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

    سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم،7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

    نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ظفر نصراللہ کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ صوبائی سیکرٹریزعلی سرفراز، اسد گیلانی اور اے آئی جی فاروق مظہر کمیٹی کے رکن ہوں گے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی کے ٹی او آرز بھی طے کرلیےگئے ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی سانحہ مری سے متعلق سرکاری محکموں کے ذمہ داروں کا تعین کرے گئی اور تحقیقات کرےگی کہ مری میں سیاحوں اور گاڑیوں کوکنٹرول کرنےکےکیا قدامات کیے؟

    کمیٹی تحقیق کرےگی کہ محکمہ موسمیات کی وارننگ پر اداروں نےکیا لائحہ عمل اختیارکیا؟ کیا میڈیا پر مری آنے سے روکنے کیلئے کوئی وارننگ جاری کی گئی؟

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تحقیقات کرے گی برفانی طوفان کی اطلاع کےبعدکیاحفاظتی اقدامات کیےگئے؟یہ کمیٹی 7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    دوسری جانب پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سانحہ پر انکوائری کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا، انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کےبعد ذمہ داران کا تعین اوران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    ان کا کہنا تھاکہ سانحے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے، عوام کی بھی غلطی ہے انھیں انتظامیہ کی وارننگ کوسنجیدہ لینا چاہیے تھا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز مری میں برفانی طوفان اور رش کے باعث 23 افراد اپنی گاڑیوں میں انتقال کرگئے تھے، انتقال کرجانے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے۔

  • سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام

    سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام

    مری :سانحہ مری کی ذمہ دار مری انتظامیہ:کس کی وفادار اور کس کو کیا خوار:ایمپلائمنٹ سٹیٹمنٹ جاری کی جائے:عوام نے حکومت وقت سے تحقیقات کا مطالنبہ کردیا ،اطلاعات ہیں کہ سانحہ مری کی ذمہ دارموجودہ مری انتظامیہ نوازشریف دورحکومت سے بڑی طاقتور اور خودمختارانتظامیہ ہے جس کے بڑے بڑے عہدوں پرتبادلے اور تقرریاں نوازشریف،مریم نواز اورشہبازشریف کی خواہش پر کئے گئے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس انتظامیہ کی مری اور مضافات کے علاقوں میں گرفت کو کنٹرول کرنے کی بڑی کوششیں کی مگراس دوران بڑے بڑے لوگوں نے اس کوشش کو بریک لگائے رکھی یا پھرگھوم گھما کے وہی لوگ مختلف علاقوں میں تعینات کرواتے رہے اور اس میں پنجاب حکومت کی اپنی بھی غلطی اورسُستی ہے کہ وہ اس لابنگ کو سمجھ نہ سکی ،

    ادھر جب سے سانحہ مری رونما ہوا ہے اس وقت سے سوشل میڈیا پر ایک سوال بڑی تیزی سے گردش کررہا ہے ،جس میں عوام پوچھ رہےہیں کہ بار بار مری انتظامیہ کی بات ہورہی ہے ہے پہلے یہ تو بتایا جائے کہ یہ مری انتظامیہ کیا چیز ہے ، اس انتظآمیہ کے شعبے کون کون سے ہیں اور ان اداروں کے سربراہان کون ہیں اور ان کو کن کی خواہش پر وہاں تعینات کیا گیا

     

    اس حوالے سے عوام الناس خصوصا مری ، ہزارہ اورایبٹ آباد ، گلیات اور دیگرعلاقوں کے لوگ اپنے سوشل میڈیا پیجز پریہ رونا رو رہے ہیں کہ یہ وہی پرانی انتظآمیہ ہے سوائے چندنئے لوگوں کے جن کونوازشریف ، مریم نواز اور شہبازشریف کی خواہش پرتعینات کیا گیا تھا اور آج بھی وہی ان علاقوں میں بااختیار اور بااثرہیں

    بعض نے بڑے دعوے کے ساتھ لکھا ہے کہ مری انتظآمیہ میں 80 فیصد سے زائد موجودہ اور سابق ن لیگی وزرا ، ارکان اسمبلی اور دیگربااثرشخصیات کی خواہش پر تعینات ہیں اور وہ اپنے محسنوں کے وفادار بھی ہیں‌

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نااہلی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جس کو آج تک یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ مری انتظامیہ ایک خاص فکراورایک خاص گروہ سے تعلق رکھتی ہے

    ادھر اسی حوالے سے ایک اہم شخصیت نے فیس بک پرایک اشارہ دیا ہے جوکہ بہت اہم ہے ،یہ ہیں ظفر حجازی جوکہ کہتےہیں کہ مری انتظامیہ میں وہی ہیں جو ایوان اقتدار میں بیٹھے ہیں اور ان کا ہی یہاں ہولڈ ہے اوراثر ہے ، مری انتظآمیہ میں شامل انہیں میں سے کسی کے بھتیجے ، بھانجے،بیٹے اوربہت قریبی وفادار ہیں جواس وقت مری پرقابض ہیں اور اپنی بے رحمانہ طرز زندگی سے لوگوں کو مار ررہے ہیں

    عوام الناس کا کہنا ہے کہ حکومت ساری مری انتظامیہ کی جاب ہسٹری اور سٹیٹس قوم کے سامنے لائے

  • سانحہ مری:کیا واقعی جانبحق ہونے والوں کی موت کی ذمہ دار حکومت ہے؟رپورٹ نےحقیقت کھول دی

    سانحہ مری:کیا واقعی جانبحق ہونے والوں کی موت کی ذمہ دار حکومت ہے؟رپورٹ نےحقیقت کھول دی

    سانحہ مری:سانحہ مری:کیا واقعی جانبحق ہونے والوں کی موت کی ذمہ دار حکومت ہے؟رپورٹ نےحقیقت کھول دی ،اطلاعات کے مطابق سانحہ مری کے حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گاڑیوں میں بیٹھے افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے

     

    دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مری جانے والوں کو اس بات کی آگاہی ہوتی کہ گاڑی کے دھوئیں والے پائپ کو ہرصورت کھلا رکھنا اور اس پربرف یا کوئی اور چیز نہیں آنے دینی تو گاڑیوں میں سوار لوگ جومری میں غلطی کی ہے وہ نہ کرتے

     

     

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سانحہ مری کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی گئی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق7 جنوری کو مری میں 16گھنٹے میں4 فٹ برف پڑی،3 جنوری سے7 جنوری تک ایک لاکھ 62 ہزارگاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ گاڑیوں میں بیٹھے 22 افرادکاربن مونو آکسائیڈ سے جاں بحق ہوئے، 16 مقامات پر درخت گرنے سے ٹریفک بلاک ہوئی، مری جانے والی 21 ہزارگاڑیاں واپس بھجوائی گئیں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ٹریفک لوڈمینجمنٹ نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا ہے۔

     

    اس رپورٹ کے بعد پراپیگنڈہ کرنے والوں کے سارے الزامات دم توڑ گئے ہیں جو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار حکام کوقرار دے رہے ہیں

     

     

    یاد رہے کہ کل سے  پاکستان کی ایک بڑی شخصیت کا آڈیو پیغام وائرل ہورہا ہے جس میں مری میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق ایسے حقائق پیش کئے گئے ہیں اگریہ حقائق پہلے بیان ہوجاتے تو یقینا اس طرح حادثہ نہ ہوتا ،

    یاد رہے کہ قوم اس وقت ایک سانحے سے گزررہی ہے جس میں مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کے باعث برفانی طوفان میں پھنسے کئی شہری اپنی گاڑیوں میں موت کے منہ میں چلے گئے۔

     

    <img class=”alignnone wp-image-452983″ src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2022/01/560f6c6a-b9eb-456c-a8a4-0d7ed22a19e2-158×300.png” alt=”” width=”559″ height=”1061″ />

    گاڑی برف میں پھنس جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس انعام غنی کا بیان سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ کاربن مونوآکسائیڈمیں بونہیں ہوتی، اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے، کاربن مونو آکسائیڈ جلد موت کا سبب بن سکتی ہے۔

    مری میں برفباری اور سیاحوں کے رش کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگر گاڑی برف میں پھنس گئی ہے اور انجن چل رہاہے تو کھڑکی ہلکی سی کھولیں، گاڑی کے ایگزاسٹ سائلنسرپائپ سے برف صاف کریں۔

    &nbsp;

    <img class=”alignnone size-medium wp-image-452984″ src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2022/01/635929_11496233-2-300×200.jpg” alt=”” width=”300″ height=”200″ />

    ان کا کہنا تھا کہ ہیٹرچلانے سے پہلےچیک کر لیں کہ سائلنسر برف کی وجہ سےبند تو نہیں ہو چکا،ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سائلنسر بند ہوا تو "کاربن مونو آکسائیڈ” گیس گاڑی میں جمع ہو سکتی ہے، انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس گیس کا کوئی رنگ یا بُو نہیں ہوتی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ گیس چند منٹ میں انسان کی جان لےلیتی ہے

    خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

  • صوبہ ہزارہ تحریک کے وفد کی چئیرمین سینٹ سے ملاقات ،بڑا مطالبہ کر دیا

    صوبہ ہزارہ تحریک کے وفد کی چئیرمین سینٹ سے ملاقات ،بڑا مطالبہ کر دیا

    صوبہ ہزارہ تحریک کے وفد کی چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی سے ملاقات اور صوبہ ہزارہ کے بل کو جلد پاس کروانے کا مطالبہ

    چیئرمین سینیٹ آف پاکستان صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ وہ صوبہ ہزارہ کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان سے بات کریں گے۔اور یہ خوشی کی بات ہے کہ صوبہ کا مطالبہ سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ میں آ گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چئیرمین صوبہ ہزارہ تحریک کے چئیرمین سردار محمد یوسف اور سینیٹر طلحہ محمود کی قیادت میں تحریک کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ جس میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی، سینیٹر طلحہ محمود، پروفیسر سجاد قمر، سابق ایم پی اے میاں ضیاء الرحمن، سابق ایم پی اے عبدالستار، سید ریاض علی شاہ،سید گل بادشاہ،پرنس فضل حق،مولنا عبدالمجید ہزاروی، انجنیئر افتخار احمد، قاری محبوب الرحمن، سید رفیع اللہ شیرازی شیرازی،ملک سجاد اعوان، سید تبارک شاہ،سردار اویس،حسنین شاہ،سردار زاہد منان،محمد صادق سمیت دیگر شامل تھے۔
    چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے وفد کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ وہ ہر ممکن تعاون کریں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ امر خوشی کا باعث ہے کہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ میں آگیا ہے۔یہ پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمنٹ پر اعتماد کی علامت ہے۔اور آپ نے اپنے نمائندوں پر مزید ذمہ داری ڈال دی ہے۔انھوں نے کہا کہ جیسا کہ مرتضی جاوید عباسی نے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کے اراکین کی طرف سے آئینی بل جمع ہو گیا ہے۔اور شہباز شریف اور پیپلز پارٹی بھی اس سے متفق ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے اس پر بات کریں گے۔وزیر اعظم کھلے دل کے آدمی ہیں وہ بات سنیں گے۔اور پھر میں صوبہ ہزارہ تحریک کے وفد کی بھی ملاقات کرواوں گا۔تا کہ آپ کے سامنے بات ہو۔

    انھوں نے کہا کہ سینیٹر طلحہ محمود صاحب نے کافی دفعہ مجھے سے بات کی اور یہ بل سینٹ میں بھی لے آئیں۔میں ایڈوائزری کمیٹی میں سردار یوسف،طلحہ محمود اور مرتضی صاحب کو بھی بلا لوں گا۔انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے استحکام کی علامت ہے اور پاکستان کا ہر خطہ وسائل سے مالا مال ہے۔ہمیں اپنے وسائل اپنے بھائیوں سے بھی شئیر کرنے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ترکی میں 82 اور ایران میں 32 صوبے ہیں۔ایک بڑے صوبے کا وزیر اعلی پانچ سالوں میں پورے صوبے کا دورہ بھی نہیں کر سکتا۔اس سے قبل چئیرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے چئیرمین سینٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک ہر حوالے سے ایک آئینی اور قانونی جدوجہد ہے۔ہمارے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں اور سات لوگوں شہید ہوئے ۔ہم اپنا حق مانگتے ہیں۔یہ واحد خطہ ہے جہاں صوبے کے مطالبے پر سب کا اتفاق ہے۔انھوں نے کہا کہ چئیرمین سینٹ نے ایوان بالا کو بہت اچھے طریقے سے چلایا ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ ہزارہ کے لوگوں کا مطالبہ منوانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    سینٹر طلحہ محمود نے کہا کہ یہ چئیرمین سینٹ کی شفقت ہے کہ انھوں نے ہمیں وقت دیا اور ہماری بات سنی۔صوبہ ہزارہ کا مطالبہ عوام کا مطالبہ ہے۔اور کسی علاقائی ،لسانی یا نسلی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہے ۔صوبہ ہزارہ کے قیام سے معاشی خوش حالی آئے گی ۔ یہ خطہ شاہراہ ریشم اور سی پیک کا گیٹ وے ہے۔ہمارا صوبہ ٹور ازم کا ایک بہترین مرکز بن سکتا ہے۔داسو ڈیم،دیامر بھاشا ڈیم اور سکھی کناری ڈیم ہزارہ میں بن رہے ہیں۔اس سے پاکستان میں معاشی خوشحالی آئے گی اور ہمیں آئی ایم ایف سے نجات ملے گی۔

    ممبر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ طے ہوا تھا کہ قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کا بل اتفاق رائے سے جمع ہو گا۔لیکن حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے الگ الگ جمع کرایا۔اس موقع پر ایوان میں اتفاق رائے سے یہ بل کمیٹی کو بھیجا گیا۔اس پر دونوں اطراف سے ذمہ دارا لوگوں کے دستخط ہیں۔لیکن اس پر کافی تاخیر ہو گئی ہے۔میں چئیرمین صاحب سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس مسئلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔اور اس اہم قومی مسئلے پر ہم ہر جگہ اور ہر وقت مل بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔اس موقع پر کوہستان کے وفد نے مطالبہ کیا کہ کوہستان کے تین اضلاع پر مشتمل الگ ڈویژن بنایا جائے۔اور یہ کہ وہ ہر حال میں صوبہ ہزارہ کے ساتھ ہیں

    @MumtaazAwan

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    موٹرسائیکل پر گھر چھوڑنے کے بہانے ملزم کی خاتون سے زیادتی

    88 قبحہ خانوں پر چھاپوں کے دوران 417 ملزمان گرفتار

    لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ

    13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟