Baaghi TV

Tag: کوہ پیما

  • برفانی تودہ گرنے سے 4 افراد ہلاک ہوگئے

    برفانی تودہ گرنے سے 4 افراد ہلاک ہوگئے

    پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی کے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا کہ انہوں نے اور سرباز خان نے پہاڑ شیشاپنگما کی چوٹی کو سر کرنے کی کوشش اس وقت ترک دی جب اس کے قریب برفانی تودہ گرنے سے چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ تبت میں سطح سمندر سے 8,027 میٹر بلندی پر واقع دنیا کے 14ویں بلند ترین پہاڑ شیشاپنگما پر ایک بڑے برفانی تودے نے اوپر جانے کے راستے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی خاتون کوہ پیما اینا گٹو اور ان کے گائیڈ منگمار شیرپا ہفتے کی دوپہر برفانی تودہ گرنے سے ہلاک ہو گئے۔

    امریکہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور کوہ پیما جینا میری اور ان کے گائیڈ ٹینجین (لاما) شیرپا کی اس واقعے کے بعد لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم کیانی کے فیس بک اکاؤنٹ سے ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ جینا میری کی بھی ہلاکت ہوئی ہے علاوہ ازیں کیانی کے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک طویل بیان میں کہا گیا کہ ہم انتہائی صدمے کے ساتھ خبر دیتے ہیں کہ شیشاپنگما کی چوٹی کے قریب 2 برفانی تودے گرنے سے 4 کوہ پیماؤں کی موت واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے نائلہ اور سرباز کا مشن ختم ہو گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاگل کتوں کے کاٹنے کے 22 واقعات رپورٹ

    شمالی وزیرستان؛ سکیورٹی فورسز نے دہشتگرد عظیم اللہ عرف غازی کو ہلاک کردیا

    پی ٹی آئی پی تقریب؛ شریک جماعت اسلامی کے رکن کا کھڑے ہوکر انوکھا انکار
    واضح رہے کہ پوسٹ میں مزید کہا گیا، وہہ دونوں اب کیمپ 1 میں واپس آچکے ہیں۔ برفانی تودے سے اپنے ہی دوستوں جینا میری اور اینا گٹو کی جانیں جاتے ہوئے دیکھنے کے بعد وہ بہت لرزیدہ اور صدمے کا شکار ہیں۔ کیانی اور خان جمعہ 6 اکتوبر کو شیشاپنگما کے لیے روانہ ہوئے۔ کامیابی سے چوٹی سر کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ خان دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزاری چوٹیوں کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما بن جاتے اور کیانی اپنی 11ویں چوٹی کو سر کرنے والی پہلی خاتون بن جاتیں، تاہم ہفتے کی صبح برفانی تودہ گرنے سے پہلے کیانی کے ایکس اکاؤنٹ نے بتایا کہ وہ اور خان چوٹی سے "چند سو میٹر دور تھے، ان کے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا تھا۔ شیشاپنگما پر سبز پرچموں کے ساتھ ہمارے ہیروز کے لیے دعائیں! پیر کو کیانی اور خان سطح سمندر سے 8,188 میٹر بلند دنیا کے چھٹے بلند ترین پہاڑ چو اویو کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما بن گئے۔

  • نائلہ کیانی نے ایک اور اعزاز  اپنے نام کرلیا

    نائلہ کیانی نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا

    پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی: نائلہ کیانی چین میں ماؤنٹ چو ایو کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں نائلہ کیانی نے اب سے کچھ دیر قبل 8188 میٹر بلند چوٹی کو سر کیا، 8188 میٹر بلند ماؤنٹ چو ایو دنیا کی چھٹی بلند چوٹی ہے،پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا نائلہ کیانی چین میں ماؤنٹ چو ایو کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں۔

    نائلہ کیانی نے اب سے کچھ دیر قبل 8188 میٹر بلند چوٹی کو سر کیا، 8188 میٹر بلند ماؤنٹ چو ایو دنیا کی چھٹی بلند چوٹی ہے،نائلہ کیانی اور کوہ پیما سرباز آج چو ایو سر کرنے والی ٹیم میں ساتھ شامل تھے نائلہ کیانی اس سے قبل ایوریسٹ، کے ٹی، گیشربرم ون ، گیشر برم ٹو اور براڈ پیک سر چکی ہیں پاکستانی خاتون نے نانگا پربت ، اناپورنا ، لوٹسے اور مناسلو کو بھی سر کیا ہے۔

    میکسیکو میں چرچ کی چھت گرنے سے 10 افراد ہلاک

    دوسری جانب پاکستان کے کوہ پیما سرباز خان 8 ہزار میٹر سے بلند 13 چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں سرباز خان نے اب سے کچھ دیر قبل دنیا کی چھٹی بلند چوٹی چو ایو کو سر کیا اور تاریخ رقم کردی چین میں واقع چو ایو کی اونچائی 8,188 میٹر ہے، سرباز نے بغیر مصنوعی آکسیجن کے چو ایو کو سر کیا، کوہ پیما سرباز خان 10 "ایٹ تھاوزنڈرز” کو بغیر آکسیجن سر کرنے والے واحد پاکستانی ہیں۔

    سرباز نے گزشتہ شب کیمپ ون سے پیش قدمی شروع کی تھی، پاکستانی کوہ پیما اب سے کچھ دیر قبل چو ایو کے ٹاپ پر پہنچے تھےسرباز کو ‘مشن 14’ مکمل کرنے کے لیے اب صرف ایک چوٹی سر کرنا باقی ہے، سرباز خان رواں سیزن میں ہی شیشاپنگما سر کرلیں گے۔

    50 ملین سے زائد امریکی ڈالرز گھروں میں چھپائے جانے کا انکشاف

  • 18 سالہ کوہ پیما فرید حسین فروسٹ بائٹ کا شکار

    18 سالہ کوہ پیما فرید حسین فروسٹ بائٹ کا شکار

    پاکستانی کوہ پیما 18 سالہ فرید حسین کے ٹی مہم جوئی کے دوران 8200 میٹر بلند کیمپ فور کے قریب فروسٹ بائٹ کا شکار ہوگئے ہیں جس سے ان کا ہاتھ متاثر ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے 18سالہ کوہ پیما فرید حسین کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران فروسٹ بائٹ کا شکار ہوگئے ہیں، اور ان کا ہاتھ بری طرح زخمی ہوا ہے۔

    کوہ پیما فرید حسین نے انتظامیہ سے ریسکیو کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں بر وقت ریسکیو نہ کیا گیا تو ان کا ہاتھ خراب ہو سکتا ہے۔ لہذا انہیں فلفور یہاں سے نکالا جائے تاکہ ان جان کو کسی حادثے سے بچایا جاسکے اور فوری علاج ممکن ہوسکے.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    تاہم دوسری جانب فروسٹ بائٹ کا شکار ہونے والے اٹھارہ سالہ کوہ پیما کو ان کے ساتھی کوہ پیماؤں نے ریسکیو کرکے کنکورڈیا پہنچا دیا ہے۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کوہ پیما فرید حسین کا کہنا تھا کہ بروقت ریسکیو کے لئے ساتھی کوہ پیماؤں کا شکر گزار ہوں، تاہم مجھے جلدی اسپتال منتقل نہیں ہوا تو ہاتھ خراب ہوں گے۔ فرید حسین کا کہنا تھا کہ ٹریک کرکے سکردو پہنچنے میں 6 دن لگ سکتے ہیں، میری اپیل ہے کہ فورس کمانڈر ہیلی کاپٹر کے ذریعے مجھے ریسکیو کرے۔

  • ناروے کوہ پیما نے نیا ریکارڈ  بنا ڈالا

    ناروے کوہ پیما نے نیا ریکارڈ بنا ڈالا

    ناروے کی ایک خاتون اور ان کے نیپالی شیرپا گائیڈ 8 ہزار میٹر (26,246 فٹ) سے اوپر کی تمام چوٹیوں کو سر کرنے والی دنیا کی تیز ترین کوہ پیما بن گئیں۔ دونوں نے آج پاکستان میں کم ترین وقت میں K2 کو سر کیا، جو کہ صرف تین ماہ میں ان کا 14 واں بلند ترین پہاڑ ہے۔
    نیپالی آرگنائزنگ کمپنی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نارویجن خاتون کرسٹن ہریلا، 37، اور نیپال کے 35 سالہ ٹینجین (لاما) شیرپا نے K2 کا پیمانہ طے کیا، جو آٹھ دیگر گائیڈز کے ساتھ 8,611 میٹر (28,251 فٹ) پر دنیا کا دوسرا سب سے اونچا ہے تاشی نے کہا کہ چند مہینوں میں تمام 14 بلند ترین چوٹیوں پر چڑھنا ایک مشکل کارنامہ ہے، جو عام طور پر کئی کوہ پیما سالوں میں کرتے ہیں۔
    انہوں نے نیپال سے تعلق رکھنے والے نرمل پورجا کو ہرا کر تیز ترین کوہ پیمائی کا ریکارڈ قائم کیا جس نے 2019 میں تمام چوٹیاں چھ ماہ اور ایک ہفتے میں مکمل کیں۔ ان کے تازہ کارنامے کی تصدیق پہاڑ پر موجود دیگر کوہ پیماؤں نے بھی کی لیکن اس کی تصدیق گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈسے ہونا باقی ہے۔

  • قومی خاتون کوہ پیما نائلہ کیا نی کا ایک اور کارنامہ

    قومی خاتون کوہ پیما نائلہ کیا نی کا ایک اور کارنامہ

    قومی خاتون کوہ پیماء نائلہ کیانی نے پاکستان میں موجود تمام 5 ‘ایٹ تھاوزنڈرز( 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں)’ سر کرنے کا کارنامہ انجام دے دیا
    نائلہ کیانی نے پاکستان میں موجود تمام 5 ‘ایٹ تھاوزنڈرز( 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں)’ سر کرلیں، اس اعزاز کے ساتھ وہ پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما بن گئی ہیں ،نائلہ کیانی نے دنیا کی بارہویں بلند چوٹی براڈ پیک جو کہ 8051 میٹر بلند تک پہنچ کر یہ سنگ میل عبور کیا ۔ براڈ پیک دنیا کی بارہویں بلند چوٹی ہے، قومی کوہ پیما اس سے قبل پاکستان میں کے ٹو، نانگا پربت ، گیشربرم ون اور گیشربرم ٹو سر کی تھی،،، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ نائلہ کیانی نے نیپال میں ماؤنٹ ایوریسٹ، لوٹسے اور اناپورنا کو بھی سر کیا ہے۔ وہ نانگا پربت ، لوٹسے، اناپورنا اور گیشربرم سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بھی ہیں

  • پاکستانی کوہ پیماء ساجد سدپارہ نے بغیر آکسیجن کے ایک اور چوٹی  سر کرلی

    پاکستانی کوہ پیماء ساجد سدپارہ نے بغیر آکسیجن کے ایک اور چوٹی سر کرلی

    پاکستانی کوہ پیماء ساجد سدپارہ نے پورٹر سپورٹ اور مصنوعی آکسیجن کے بغیر دنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی’براڈ پیک‘ کو بھی سر کرلیا۔ ساجد سدپارہ نے بغیر مصنوعی آکسیجن کے اپنے کیرئیر میں 8 ہزار میٹر سے بلند آٹھویں چوٹی سر کی ہے۔براڈ پیک کی بلندی 8 ہزار 51 میٹر ہے جبکہ اسے دنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی شمار کیا جاتا ہے۔ساجد سدپارہ پاکستان کی تمام پانچ، "8 تھاؤزینڈرز” مصنوعی آکسیجن کے بغیر سر کر چکے ہیں۔ اس سے قبل ساجد سدپارہ ایوریسٹ، کے ٹو، نانگا پربت، اناپورنا، مناسلو، جی ون اور جی ٹو بھی مصنوعی آکسیجن کے بغیر سر کر چکے ہیں۔

  • نانگا پربت میں پھنسے پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی کو انکے  ساتھی کیمپ 3 تک لے آئے

    نانگا پربت میں پھنسے پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی کو انکے ساتھی کیمپ 3 تک لے آئے

    نانگا پربت کیمپ 4 پرموسم کی خرابی کے باعث پھنسے والے کوہ پیما آصف بھٹی بیس کیمپ پہنچ گئےاسلام آباد یونیورسٹی کے پروفیسر اور پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی گزشتہ روز نانگا پربت سر کرنے کی مہم کے دوران برف کوری کا شکار ہوکر کیمپ 4 پر 7500 میٹر کی بلندی پر پھنس گئے تھے۔
    کوہ پیما آصف بھٹی کو انکے آذربائیجان کے ساتھی نے بیس کیمپ تک لانے میں مدد کی۔ اطلاعات کے مطابق اٹلی اور آذربائیجان کے دو کوہ پیما کیمپ فور پر آصف بھٹی کی مدد اور ان کا ساتھ دینے رک گئے تھے اور وہ آہستہ آہستہ انہیں کیمپ تھری کی جانب لا کر کیمپ تھری پر ہی پہنچ چکے ہیں ، کل مزید نیچے لانے کا کام ہوگا، آج رات وہ کیمپ تھری پر ہی قیام کریں گے۔واضح رہے کہ 8126 میٹر بلند نانگا پربت دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے جسے گزشتہ چند روز قبل پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی سر کرتے ہوئے پہلی پاکستانی کوہ پیما بن گئیں ہیں۔

  • پا کستانی کوہ پیما آصف بھٹی کو  نانگا پربت سر کرنے میں مشکلات کا سامنا

    پا کستانی کوہ پیما آصف بھٹی کو نانگا پربت سر کرنے میں مشکلات کا سامنا

    پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی دنیا کی نویں بلند ترین 8 ہزار 126 میٹر بلند نانگا پربت میں پھنس گئے۔ خراب موسم کے باعث چوٹی کو سر کرنے میں انکو مشکلات کا سامنا آرہا ہے،الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے سیکریٹری جنرل کرار حیدری نے بتایا کہ آصف بھٹی برف کی وجہ سے کم نظر آنے پر کیمپ 4 میں پھنس گئے ہیں جو 7 ہزار 500 سے 8 ہزار میٹر بلندی پر ہے، اور اس وقت انہیں مدد کی ضرورت ہے۔
    آصف بھٹی جنکا تعلق اسلام آباد سے ہے اوے شعبے کے لحاظ سے پروفیسر ہے،کرار حیدری کے مطابق کئی امدادی تنطیمیں چوٹی کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے چند ارکان نے پیغام بھیجا ہے کہ آصف بھٹی کو برف کی وجہ سے کم نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہوگی لیکن اس کے لیے انہیں 6 ہزار 500 سے 6 ہزار کی بلندی پر نیچے آنا ہوگاپاکستان میں سیاحت کے لیے کام کرنے والی تنظیم قراقرم کلب نے کہا کہ شمشال میں قراقر ایکسپڈیشن سے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ تیاری کر رہا ہے کہ آصف بھٹی کو نکالنے کے لیے امدادی کام شروع کریں۔تنظیم نے کہا کہ وہ اس وقت انہیں دوسرے کیمپ میں منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع

    کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع

    اسلام آباد یونیورسٹی کے پروفیسر اور پاکستان کے کوہ پیما آصف بھٹی نانگا پربت چوٹی سر کرنے کے مشن کے دوران برف کے اندھے پن میں مبتلا ہو گئے جبکہ کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع کردیا گیا ہے، آصف بھٹی نامی کوہ پیما 7500 میٹر کی بلندی پر نانگا پربت پر پھنسے ہیں۔ وہ برف کے اندھے پن کا شکار ہوئے اور خود نیچے اترنے سے قاصر ہیں۔

    شمشال میں قراقرم مہم کے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ اس کی مدد کے لیے ایک ریسکیو مشن کی تیاری کر رہا ہے جبکہ وہ فی الحال انہیں اعلیٰ کیمپوں تک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم خیال رہے کہ اسی مہم کے دوران دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنےکی کوشش میں ہسپانوی سیاح چل بسا ہے۔ ہسپانوی سیاح کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری
    جبکہ واضح رہے کہ 8126 میٹر بلند نانگا پربت دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے جسے گزشتہ روز پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے سر کیا ہے، وہ نانگا پربت سر کرنے والی پہلی پاکستانی کوہ پیما بن گئی ہیں۔ نائلہ کیانی کے علاوہ ثمینہ بیگ اور دیگر پاکستانی کوہ پیماؤں نے بھی نانگا پربت سر کیا۔

  • دس پاکستانیوں سمیت دس دیگر غیرملکی کوہ پیماؤں نے بھی دنیا کی نویں چوٹی نانگا پربت سر کی

    دس پاکستانیوں سمیت دس دیگر غیرملکی کوہ پیماؤں نے بھی دنیا کی نویں چوٹی نانگا پربت سر کی

    دس پاکستانیوں سمیت 40 سے زائد غیرملکی کوہ پیماؤں نے نانگا پربت کو سر کرنے کی مہم میں حصہ لیا، جن میں ثمینہ بیگ، نائلہ کیانی، واجد اللہ نگری کے علاوہ رضوان داد، عید محمد، احمد بیگ، وقار علی، سعید کریم، لیاقت کریم، سوزین اور شاہ دولت اپنی مہم میں کامیاب رہے۔
    الپائن کلپ آف پاکستان کے مطابق آج صبح 11 بجے تمام کوہ پیماؤں نے نانگا پربت کو سر کیا۔
    مشہور خاتون کو پیماہ ثمینہ بیگ آج صبح 11 بجکر 8 منٹ پر نانگا پربت پہاڑ کی بلندی پر پہنچیں وہ اس سے قبل کے ٹو اور ماؤنٹ ایوریسٹ بھی سر کر چکی ہیں۔ثمینہ بیگ کو 8 ہزار میٹر بلند پہاڑ سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیماہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس کے علاوہ نائلہ کیانی نے بھی نانگا پربت کی چوٹی پر کامیابی سے پہنچ کر ناقابل یقین کارنامہ سر انجام دیا۔
    نائلہ دنیا کی سات بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے والی پاکستانی خاتون بھی ہیں۔
    کوہ پیما نائلہ کیانی کا کہنا ہے کہ اس مہم کے حوالے سے وہ تھوڑی خوفزدہ تھیں، تاہم پھر بھی اپنے اس مشن کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم تھی۔
    نائلہ کیانی کی اس مہم میں بارڈ فاؤنڈیشن نے مکمل طور پر معاونت فراہم کی ہے۔
    مینیجنگ ڈائریکٹر بارڈ فاؤنڈیشن مہرین داؤد نے کہا کہ کوہ پیمائی میں خواتین کیلئے محدود مواقعوں کے باوجود نائلہ ایک بہترین مثال بن کر سامنے آئیں، ہم ایسے باصلاحیت افراد کی معاونت اور ہمت افزائی کرتے رہیں گے۔