قومی کوہ پیما ساجد سد پارہ نے پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت کو بغیر آکسیجن سر کر کے تاریخ رقم کر دی پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت کو بغیر آکسیجن کے سر کرنے کا کارنامہ ساجد سدپارہ نے انجام دے دیا ہے،،، 8 ہزار 126 میٹر کی بلندی چوٹی کو بغیر آکسیجن سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما بن گئے ہیں، ساجد اب تک 6 بلند ترین چوٹیاں بنا مصنوعی آکسیجن سر کر چکے ہیں۔ وہ 3 دن اور 18 گھنٹے میں کے ٹو، گیشر برم ون، گیشر برم ٹو، مناسلو اور انا پورنا سر کرنے کا بھی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں،،،
Tag: کوہ پیما

لاہور،اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
لاہور، اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
باغی ٹی وی: اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ سوات اور گردونواح میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے ،مانسہرہ، ایبٹ آباد، اٹک ،کھاریاں ، نارووال ،پھالیہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-
رائیونڈ اور مانانوالہ میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا جہلم، حافظ آباد، سوات، باغ آزاد کشمیر، وادی نیلم، شکر گڑھ، ظفر وال اور گرد و نواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں زلزلے سے لوگوں میں خو ف و ہراس پھیل گیا کلمہ طیبہ کا ورد کرتے یوئے دفاتر اور گھروں سے باہر نکل آئے-
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.6 جبکہ گہرائی 10 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی، زلزلے کا مرکز مقبوضہ کشمیر میں تھا زلزلے کا مرکز کشمیر کے مشرق میں تھا جب کہ اس کی زیر زمین گہرائی 10 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
بھارتی خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ کشمیر، نئی دہلی سمیت دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیئے گئے ہیں۔

کوہ پیما شہروز کاشف نے ایک اور چوٹی سر کر لی
پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی ایک اور چوٹی سر کر لی۔
باغی ٹی وی : لاہور سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ شہروز کاشف نے 8035 میٹر بلند گیشر برم ٹو آج سر کی، شہروز کاشف کی یہ 8 ہزار میٹر سے بلند نویں چوٹی ہے شہروز کاشف اس سے قبل ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سمیت 8 چوٹیاں سر کر چکے ہیں۔
شہروز کاشف نے دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کر لی
شہروز کاشف چند روز میں جی ون سر کرنے کی مہم کا آغاز کریں گے، شہروز کاشف کی جی ون دسویں 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹی ہو گی شہروز کاشف مہم میں کامیاب ہوئے تو وہ 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی 10 چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین کوہ پیما ہوں گے۔
واضح رہے کہ شہروز کاشف پہلے ہی 5 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے پاکستان کے کم عمر ترین کوہ پیما ہیں شہروز کاشف 2 گینز ورلڈ ریکارڈ کے سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر چکے ہیں جبکہ انہیں 2 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے پر سرٹیفکیٹ دیئے گئے تھے۔
قبل ازیں ایک انٹرویو میں کوہ پیما شہروز کاشف نے حکومتی رویے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا شہروز کاشف کا کہنا تھا کہ ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنےکے موقع پر صدر نے آنر شپ لینے کا کہا لیکن ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد کسی نے میری کال نہیں اٹھائی جب کہ صدر پاکستان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کمائی کا ذریعہ پوچھا۔
پاکستانی کوہ پیما نے شمالی امریکا کی بلند ترین چوٹی سرکرلی
انہوں نے کہا تھا کہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے پر 50 لاکھ روپے ملتے تھے لیکن 10 لاکھ بھی نہیں ملے، میں ادھارکے پیسوں سے ملک کے لیے کوہ پیمائی میں ورلڈ ریکارڈ بنا رہا ہوں، میرے والد نے گھر اور پلاٹ بیچ دیے ہیں، اب والد نے بھی مالی تعاون کرنے سے انکار کردیا ہے۔
شہروز کاشف کا کہنا تھا کہ حکومت کے ہر دروازےپر دستک دے چکا ہوں، جواب نہ ملنے پر مایوس ہوں اور اب اپنے لیے لوگوں سے فنڈز مانگنے پر مجبور ہوں جبکہ وزارت بین الصوبائی رابطہ میں میرے لیے اعلان کردہ رقم کاکیس پھنساہواہے جب کہ مجھے زبانی کہاگیا میں ایتھلیٹس کے ایلیٹ پول میں شامل ہوں۔
خیرسگالی کا سفیر بننا میرے لیے اعزاز ہے،کوہ پیما شہروز کاشف

آئیس لینڈ کےکوہ پیما کےخاندان کی طرف سےریسکیو آپریشن پرپاک فوج ،قوم اور حکومت وقت کا شکریہ:
اسلام آباد :گذشتہ سردیوں میں کے ٹو چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران اپنے دیگر کوپیماء ساتھیوں پاکستان کے علی سدپارہ اور ر جوان پابلوکے ہمراہ اپنی جان سے ہاتھ بیٹھنے والے آئس لینڈ کے کوہ پیماء جان سنوری کی فیملی نے ریسکیو آپریشن پرپاکستانی فوج ، حکومت اورقوم کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا ہے کہ فروری 2021 ءمیں رونما ہونے والے واقعات ہمارے لیے بطور خاندان اور علی سدپارہ اور جوان پابلو کے خاندانوں کے لیےبہت مشکل تھے۔

جان کے کھونے کے بعد سے میں اور بچے جس دکھ کے سفر پر تھے اس کی وضاحت کرنا آسان نہیں ہے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جان سنوری کی بہنوںکیرن،کرسٹین ، بیٹی ہللا کیرن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جان سنوری کی اہلیہ لینا موٹ کا کہنا تھا کہ جان اسنوری اور پاکستان کے کوہ پیمائی کے ہیرو اور لیجنڈ مسٹر علی سدپارہ کے درمیان دوستی اتنی مخلص اور مضبوط تھی کہ ہم نے بطور خاندان پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ذاتی طور پر ان لوگوں کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے پیشہ ورانہ اور ذاتی طور پر ہمارا ساتھ دیا۔ پاکستان کے حصوں کا دورہ کرناجا ن سنوری کو اتنا ہی پیار اتھا جتنا کہ آئس لینڈ میں اپنے خاص مقامات سے۔ ہم نے یہاں اس امید پر سفر کیا کہ اگر جان کو K2 کی چوٹی کی طرف جانے والے راستے سے اس کے دوست اور کوہ پیمائی کے ساتھی علی اور ان کے کوہ پیمائی ساتھی جوآن پابلو کے قریب ایک آرام گاہ پر لے جانے کا موقع ملے گا۔

اس طرح کی کارروائی میں حصہ لینے والوں کی حفاظت ہمیشہ ہمارے لیے انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ تاہم آج ہمیں خبر ملی کہ منگما جی کی قیادت میں چار کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم K2 کی چوٹی پر دو گھنٹے گزارنے کے بعد اپنی کوشش میں ناکام رہی ہے۔ ہمارے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر پہاڑ پر کچھ نئی برف پڑنے سے برفانی تودے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہم بطور خاندان اس بات کو اجاگر کرنا چاہیں گے کہ جان کو صرف اس انداز میں منتقل کیا جانا چاہیے جو اس میں شامل افراد اور پہاڑ پر دیگر کوہ پیماؤں کے لیے محفوظ ہو۔کو ہ پیماؤں کے طور پر ان کی زندگیاں اور کارنامے منفرد اور ایسے ہیں کہ دونوں قومیں، پاکستان اور آئس لینڈ دونوں ممالک کی کوہ پیمائی اور سرخیل تاریخ کے ذریعے انہیں یاد رکھیں گے۔ ہم ایک خاندان کے طور پر بہت سے لوگوں کی طرف سے زبردست حمایت اور گرمجوشی کے اظہار کے لیے شکر گزار ہیں۔

ہم حکومت پاکستان، پاک فوج کے سربراہ اور 10 کور کے کمانڈر، پاکستان کے دفتر خارجہ، صوبہ گلگت بلتستان کی مقامی حکومت، جناب خالد خورشید وزیر اعلیٰ، جناب راجہ ناصر وزیر سیاحت کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، جیسمین ٹورز میں مسٹر اصغر، علی سدپارہ کے اہل خانہ اور دوست، پاکستان کے اچھے لوگ، مقامی اور بین الاقوامی میڈیا ان کی مسلسل حمایت کے لیے۔ ہم اسکردو کے مقامی فوجی کمانڈروں اور پائلٹوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے تلاشی مشن کی قیادت کی،پاکستان ہمیشہ میرے دل میں اور ہمارے بچوں کے دلوں میں رہے گا اور اس طرح ہم چند سالوں میں واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب بچے بڑے ہو جائیں گے اور K2 بیس کیمپ تک ایک خاندان کے طور پر ساتھ چلیں گے۔

پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ سمیت سات کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کر لی
پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ نے دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو کر سر کرلی
ثمینہ بیگ کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں ثمینہ بیگ نے آج صبح پونے 8 بجے کے ٹو کی چوٹی پر پاکستانی پرچم لہرایا، ثمینہ بیگ کے ہمراہ دیگر کوہ پیما ؤں عید محمد ،بلبل کریم ،احمد بیگ ،رضوان داد ،وقار علی اور حسین سدپارہ نے بھی کے ٹو سر کرلیا۔ ثمینہ بیگ نے 2013 میں دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کی تھی اور پہلی خاتون کوہ پیما کا اعزاز حاصل کیا تھا

وزیراعظم شہباز شریف نے کے ٹو سر کرنے والی پاکستانی خواتین کوہ پیما ثمینہ بیگ اورنائلہ کے اہلخانہ کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ ثمینہ بیگ اورنائلہ پاکستانی خواتین کے عزم و ہمت اور بہادری کی علامت بن کر ابھری ہیں دونوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی خواتین کوہ پیمائی کے صبر آزما کھیل میں مردوں سے پیچھے نہیں،امید ہے ثمینہ بیگ اورنائلہ دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم اسی جذبے سے لہراتی رہیں گی،
وفاقی وزیر، پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحما ن کا کہنا ہے کہ ثمینہ بیگ اور نائلہ کیانی کوکے ٹوکی چوٹی سرکرنے کی کامیابی پر مبارکباد دیتی ہوں،اوپر پہنچنے کے لیے غیر معمولی عزم اور حوصلہ رکھنا چاہیے،
شیریں مزاری نے کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہِ پیما ثمینہ بیگ کو مبارکباد دی اور کہا کہ کے ٹوسرکرنا خواتین کی طرف سے ایک بار پھر ایک عظیم کارنامہ ہے
دوسری جانب ایک کوہ پیما کی موت کی بھی اطلاعات ہیں، کے ٹو مہم جوئی کے دوران غیر ملکی کوہ پیما کی ہلاکت ہوئی ہے، غیر ملکی کوہ پیما کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے افغانی کوہ پیما علی اکبر سخی کی موت واقع ہوئی ہے افغانی کوہ پیما علی اکبر سخی کے ٹو سر کرنے کے مہم کے دوران کیمپ 4 پر دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے فوت ہوگئے ہیں مذکورہ کوہ پیما افغانستان کے پہلے کوہ پیما تھے جو پہلی مرتبہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کی اونچائی 8 ہزار 611 میٹر ہےاسے پہلی بار 31 جولائی 1954ء کو دو اطالوی کوہ پیماؤں لیساڈلی اور کمپانونی نے سر کیا۔ اسے ماؤنٹ گڈون آسٹن اور چوگو ری(چھوغو ری) یعنی بڑا پہاڑ بھی کہتے ہیں، کے ٹو یا گاڈون آسٹن کی چوٹی قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی وہ بلند ترین چوٹی ہے جو پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے
یوم پاکستان پریڈ،کوہ پیما سدپارہ کو خراج تحسین،پاک فضائیہ، بحریہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ
پاکستانی نوجوان نے کم عمر ترین کوہ پیما کا اعزاز حاصل کر لیا
کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیںمانی ؟تہلکہ خیز انکشافات
محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات
کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق
کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

کوہ پیما شہروز کاشف لاہور پہنچ گئے
کوہ پیما شہروز کاشف لاہور پہنچ گئے
علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر پہنچنے پرشہروز کاشف کا بھر پور استقبال کیا گیا، شہروزکاشف جی ون اور جی ٹو کی مہم جوئی پر جانا چاہتے تھے شہروزکاشف عید کے بعد دوبارہ جی ون اور جی ٹو کی مہم جوئی پر روانہ ہوں گے شہروز کاشف نانگا پربت سر کرنے والے کم عمر ترین کوہ پیما بنے تھے نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر موسم خرابی کے باعث بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوا شہروزکاشف اور فضل علی اپنی مدد آپ کے تحت خود کو ریسیکیو کرتے کیمپ ون تک پہنچ گئے تھے کیمپ ون سے آرمی کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹر نے ریسیکیو کرکے گلگت پہنچایا تھا



نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کیا گیا تھا تو اسوقت شہروز کاشف کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں
شہروز کاشف کا کہنا ہے کہ ایک وقت پر سوچ لیا تھا کہ اب زندگی ختم ہوگئی نانگا پربت سے واپسی پر موسم خراب ہونے سے بہت زیادہ مشکلات پیش آئیں 7500 میٹر بلندی پرمنفی 45 میں برف کھود کر اس کے اندر تھوڑا لیٹ کر میں نے اور فضل علی نے رات گزاری برف کے اندر منہ کرکے یہ سوچ کر لیٹے تھے کہ اب اس کے بعد زندگی نہیں ہے تاہم صبح ہونے پر جب اٹھے تو یوں لگا کہ معجزہ ہوگیا ہےپاکستانی کوہ پیماؤں نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی
یوم پاکستان پریڈ،کوہ پیما سدپارہ کو خراج تحسین،پاک فضائیہ، بحریہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ
پاکستانی نوجوان نے کم عمر ترین کوہ پیما کا اعزاز حاصل کر لیا
کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیںمانی ؟تہلکہ خیز انکشافات
محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات
کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق
کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

نانگا پربت میں پھسنے ہوئے کوہ پیماؤں کوپاک آرمی ایوی ایشن نے ریسکیو کرلیا گیا
راولپنڈی:نانگا پربت میں پھنسے دونوں کوہ پیماؤں کوپاک فوج کے ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو کرلیا ہے ۔اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے نانگا پربت میں پھنسے ہوئے دونوں کوہ پیماؤں کو کامیابی سے ریسکیو کرلیا۔
اس سے قبل ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ نانگا پربت پر پھنسے 2 کوہ پیماؤں کو بچانے کیلئے ہائی رسک ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں خراب موسم کے باوجود آرمی ایوی ایشن کے پائلٹس نے 2 پروازیں کیں۔
ریسکیو آپریشن میں آرمی ایوی ایشن کے دستے کے علاوہ انتہائی بلندی پر موجود پورٹرز اور ریسکیورز نے بھی حصہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کوہ پیما 21 ہزار فٹ کی بلندی پر کیمپ 3 میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ شہروز کاشف اور فراز علی نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر لاپتا ہوگئے تھے۔ جس کے بعد دونوں کوہ پیماؤں کی لوکیشن ٹیلی اسکوپ پر ٹریس کی گئی۔ اس وقت دونوں کیمپ نمبر چار سے تین کی طرف گامزن تھے۔ دونوں کوہ پیما اپنی مدد آپ کے تحت رات گزارنے کے بعد کیمپ تھری پر پہنچ رہے تھے۔
یاد رہے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے شہروز کاشف اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے فوری ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا تھا کہ ریسکیو آپریشن میں آرمی ایوی سے بھی مدد طلب کی جائے۔ محکمہ داخلہ گلگت کو کنٹرول روم قائم کرنے کی بھی ہدایت بھی کی۔
شہروز کاشف نے منگل کی صبح ہی نانگا پربت کی چوٹی سر کی تھی اور ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے تھے، شہروز کاشف کے والد نے اپنے بیٹے کو ریسکیو کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی تھی۔
ویڈیو پیغام میں ان کے والد نے مزید کہا تھا کہ شہروز نے کنچن جنگا دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کے بعد یہ کامیابی فوج کے شہدا کے نام کی تھی۔ وہ صرف 20 سال کی عمر میں اتنے بڑے بڑے کارنامے سر کر کے پاکستان کا نام روشن کر چکا ہے، آپ لوگ پلیز اسے ریسکیو کرنے کا آپریشن کریں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ ‘براڈ بوائے’ کے نام سے جاتے ہیں، 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔
وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔
اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔
اسی سال مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔
دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ‘پروجیکٹ 345’ کا نام دیا تھا۔

نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا
شہروزکاشف، فضل علی کو پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر میں بیس کیمپ سے گلگت پہنچا دیا گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نانگا پربت میں خراب موسم کے باعث پھنس جانے والے کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور فضل علی کو پاک آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر میں بیس کیمپ سے گلگت پہنچا دیا گیاڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا، دونوں کوہ پیماوں کو پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کیا گیا، پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گلگت کے قریب جگلوٹ لینڈ کرگیا،
ڈپٹی کمشنر دیامر کا کہنا ہے کہ نانگا پربت میں پھنسے 2 پاکستانی کوہ پیماوں کو آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کر لیا گیا کوہ پیما شیروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر پھنسے تھے،دونوں کوہ پیماوں کو کیمپ 1 سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر پر گلگت پہنچا دیاگیا ہے،
پاک فوج بدھ کے روز سے نانگا پربت میں پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور فضل علی کو نکالنے کے لیے ہائی رسک ریسکیو آپریشن کو مربوط کر رہی تھی۔کوہ پیماوں کوریسکیوکرنے کے لیے آرمی ہیلی کاپٹر اور ایک گراونڈ سرچ ٹیم کام کررہی تھی ،آرمی ایوی ایشن پائلٹ نے جرات کے ساتھ خراب موسمی حالات کے باوجود گزشتہ روز ہیلی کاپٹر اڑائے گہرے بادلوں اور اونچائی زیادہ ہونے کی وجہ سے کوہ پیماوں کو نکالا نہیں جاسکا تھا تاہم اب انکو نکال لیا گیا ہے
قبل ازیں گزشتہ روزنانگا پربت سے لاپتہ کوہ پیما شہروز کاشف کے والد نے آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی تھی، شہروز کاشف کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے گزشتہ روز نانگا پرپت سر کی تھی اب اس کو ریسکیو آپریشن کرکے تلاش کیا جائے بیٹے سے ٹریکر کے ذریعے 7350 فٹ کی بلندی تک رابطہ تھا شہروز 20 سال کی عمر میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے کر پاکستان کا نام روشن کرچکا ہے اس نے کنچن جنگا چوٹی سر کرکے فوجی شہداء کے نام کی تھی آپ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جلد آپرشن کرکے میرے بیٹے کو تلاش کیا جائے
کوہ پیما شہروز کاشف نے منگل کی صبح نانگا پربت چوٹی سر کی تھی جبکہ موسم کی خرابی کے دوران وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ واپس آرہے تھے دوسری جانب براؤٹ پیک سر کرنیوالے شریف سدپارہ بھی انتہائی بلندی سے گر کر لاپتہ ہوگئے ہیں، ان کے اہل خانہ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرچ آپریشن کا مطالبہ کیا ہے
محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا
دنیا کے سب سے خوبصورت سٹیڈیم میں پہلا کرکٹ میچ علی سدپاہ کے نام
پاکستانی کوہ پیماؤں نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی
یوم پاکستان پریڈ،کوہ پیما سدپارہ کو خراج تحسین،پاک فضائیہ، بحریہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ
پاکستانی نوجوان نے کم عمر ترین کوہ پیما کا اعزاز حاصل کر لیا
کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیںمانی ؟تہلکہ خیز انکشافات
محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات
کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق
کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

اٹلی میں برفانی تودہ گرنے سے 6 کوہ پیما ہلاک اور 8 زخمی
اٹلی میں برفانی تودہ گرنے سے 6 کوہ پیما ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی سہ پہر کو اٹلی میں موجود یورپ کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلے اٹالین ایلپس میں برفانی تودہ گرنے سے کم از کم 6 کوہ پیما ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ 5 ہیلی کاپٹر اور درجنوں ریسکیو اہلکار امدادی کاموں میں مدد کے لیے جائے وقوعہ پر بھیجے گئے،ڈولومائٹس کے سب سے اونچے پہاڑ مارمولڈا پر گرنے کے بعد کم از کم ایک درجن افراد اب بھی لاپتہ ہیں-
مقامی ایمرجنسی سروس کے مطابق تودہ گرنے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی، تاہم خیال کیا جارہا کہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ حادثے کا سبب ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب حادثے کے وقت پہاڑ سر کرنے والے کوہ پیماؤں کی مکمل تعداد ابھی معلم نہیں ہوسکی تاہم ریسکیو حکام کا کہنا ہے شاید 15 افراد لاپتہ ہو سکتے ہیں۔
الپائن ریسکیو سروس نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ برف کا ایک اہم حصہ، جسے سیرک بھی کہا جاتا ہے، چوٹی پر چڑھنے کے ساتھ ہی مارمولڈا گلیشیر پر گر گیا تھا علاقے میں تمام الپائن ریسکیو سٹیشنز کو فعال کر دیا گیا ہے، جن میں کینائن یونٹس اور کم از کم پانچ ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
ایک مقامی سرائے Castiglioni Marmolada Refuge کے ایک عملے نے سیرک کے گرنے کا مشاہدہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ اس نے ایک تیز آواز سنی، جو کہ ایک تودہ گرنے کی طرح ہے، پھر ہم نے برف اور برف پر مشتمل ایک قسم کا برفانی تودہ دیکھا اور وہاں مجھے احساس ہوا کہ کچھ سنگین ہوا تھا۔
یہ گرنا ریکارڈ مقامی درجہ حرارت کے درمیان بھی ہوا، Skytg24 نے رپورٹ کیا، پہاڑ کی چوٹی پر تقریباً 10 ڈگری سیلسیس (50 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا اٹلی سمیت مغربی یورپ کے کئی حصوں میں گزشتہ ایک ماہ سے ہیٹ ویو کا سامنا ہے۔
دوسری جانب کراچی اور اسلام آباد کی خواتین پر مشتمل ٹیم نے گلگت میں روپال پیک سر کرلی ذرائع کے مطابق پارس علی کی قیادت میں ٹیم نے 5 ہزار 642 میٹر اونچی چوٹی کو سر کیا، روپال پیک گلگت بلتستان نانگا پربت کے جنوب میں ہمالیہ سلسلے میں واقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین کی ٹیم میں سونیا بابر، ثناء جمیل، حفصہ عادل، سونیا نساء شامل تھیں اس کے علاوہ 8 رکنی ٹیم میں عمارا اور ندا عامر بھی شامل تھیں۔

کوہ پیما شہروز کاشف کو ایوان صدر کی جانب سے دعوت نامہ موصول
لاہور:پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف کو ایوان صدر نے مدعو کرلیا۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ک کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف کے والد سلمان کاشف نے تصدیق کی ہےکہ 13 جون کو صدر عارف علوی سے ملاقات کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔
پاکستانی کوہ پیما نے شمالی امریکا کی بلند ترین چوٹی سرکرلی
شہروز کاشف حال ہی میں تین ہفتوں میں تین چوٹیاں سر کرکے نیپال سے لاہور لوٹے ہیں، انہوں نے اب تک 8 ہزار میٹر سے بلند 7 چوٹیاں سر کرچکے ہیں –
شہروز کاشف براڈ پیک، ماونٹ ایوریسٹ، کے ٹو، لوہٹسے اور کنچن جونگا کی چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔شہروز 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کرنے والے چوتھے پاکستانی ہیں دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما سے قبل محمد علی سدپارا، حسن سدپارا اور سرباز علی بھی 8، 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کرچکے ہیں-
قبل ازیں شہروز کاشف کے والد نے حکومتی سپورٹ نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کامیابیوں کا کریڈٹ سب لیتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے جو سپورٹ ملنی چاہیے، وہ کوئی نہیں کرتا۔
پاکستان کے 2 کوہ پیماوں نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی سرکرلی
گزشتہ برس بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں شیروز کاشف کے والد کا کہنا تھا کہ میں بہت تھک گیا ہو اور شاید اب شہروز کو مزید کوئی اور پیک نہ کروا سکوں کاشف سلمان موبائل گیم ڈویلپمنٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور شہروز کے علاوہ ان کے تین اور بیٹے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ ایورسٹ مہم پر ان کا کتنا خرچہ آیا، کاشف سلمان بتا یا تھا کہ اس میں ان کے کل ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے لگے اور یہ تمام رقم انھوں نے اپنی جیب سے ادا کی ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی نے اتنی کم عمری میں اور اپنے پیسوں سے ایورسٹ کو سر کیا –
شہروز کاشف نے دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کا اعزاز پاک فوج شہدا کے نام کر…
تو کیا انہوں نے کوئی فنڈنگ مہم چلانے کا نہیں سوچا یا کسی نے سپانسر کرنے کی پیشکش نہیں کی؟ جس پر شہروز کاشف کے والد نے کہا تھا کہ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا یہ میرا پروجیکٹ ہے، یہ پاکستان کا پراجیکٹ ہے اور میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں لیکن آج تک ان کے سیکریٹری نے فون تک نہیں اٹھایا۔
کاشف سلمان کا کہنا تھا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک بچہ جس نے 17 سال کی عمر میں براڈ پک اور اب 19 سال کی عمر میں ایورسٹ سر کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے اسے کوئی سپانسر کرنے کو تیار نہیں۔
پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما اگلے ماہ "کے ٹو” سرکرنے کی مہم پر نکلیں گی


















